"Smile; it makes you beautiful." It is a timeless truth that a genuine smile is the most elegant accessory a person can ever wear. While external fashion trends come and go, a warm, heartfelt smile possesses a universal charm that transcends language and culture, instantly enhancing one's personality far better than any cosmetic ever could. This write up in Urdu "گلہ موت سے نہیں ہے، مجھے زندگی نے مارا " is a comical explanation of a famous Urdu gazal from poet Anand Bakhshi.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
**گلہ موت سے نہیں ہے، مجھے زندگی نے مارا**
نفسِ مضمون کا مصرع جناب آنند بخشی کی ایک مشہور غزل کا ہے؛ جس پہ متعدد گلوکاروں نے مشق کررکھی ہے۔ یہ غزل بمعہ مطلع درج ذیل ہے:۔
کبھی خواہشوں نے لوٹا، کبھی بے بسی نے مارا
گلہ موت سے نہیں ہے، ہمیں زندگی نے مارا
کہاں تک فریب کھائیں یہاں کس کو آزمائیں
کیا اعتبار جس پہ اُسی آدمی نے مارا
نہ کمی تھی دوستوں کی نہ کمی تھی دشمنوں کی
کس کس کا نام لوں میں مجھے ہر کسی نے مارا
میری داستاں نہ پوچھو میرے زخم گن کے دیکھو
وہ غریب شہر ھوں میں جسے بے کسی نے مارا
اس پوری غزل کو پڑھنے یا سننے کے بعد جو سب سے زیادہ خیال پیدا ہوسکتا ہے وہ شاید مایوسی ہے۔۔۔ لیکن چچا غالب نے اسی لیے کہہ رکھا ہے کہ مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پہ کہ آساں ہوگئیں۔ جب پوری غزل کا استعارا؛ انسان بازار سے گذرے تو دو ہی کام ہوسکتے ہیں۔۔۔ ٹرک کے نیچے آجائے۔۔یا۔۔۔ بے اختیار کہہ اٹھے۔۔۔ "گلہ موت سے نہیں ہے، مجھے زندگی نے مارا"۔۔
اس لیے کچھ لوگ کہتے ہیں [جی ہاں؛ صرف کچھ ہی لوگ] کہ جب زندگی کی دھوپ میں پکوڑے تلنے لگے اور قسمت پیزا کی طرح گول گھوم کر بھی الٹا گرے، تو دل سے یہی آواز نکلتی ہے؛ گلہ موت سے نہیں ہے، مجھے زندگی نے مارا!۔
چلیں، آج اسی مایوسی کی فضا سے نکل کر زندگی کے ایک لمحےکو ذرا تفریح کے چشمے سے دیکھتے ہیں اور کارِ حیات کے ان قاتلانہ واروں کا ذکر کرتے ہیں جو یہ روزانہ ہمارے ساتھ کرتی ہے:-۔
🌟 1. موبائل کی بیٹری اور انٹرنیٹ کا دھوکہ [ آج کی زندگی میں روٹی سے بھی پہلے کی ضرورت]
ایک شخص پورے پانچ گھنٹے لوڈ شیڈنگ میں صبر کا دامن تھام کر بیٹھا رہا کہ لائٹ آئے گی تو چارجنگ کروں گا۔ لائٹ آئی اور ایک گھنٹے بعد پھر چلی گئی؛ بھاگ کر فون اٹھایا تو ڈیڈ؛ چارجر تو لگایا تھا، مگر پیچھے سے سوئچ ہی آن نہیں کیا تھا!۔
ایک آن لائن پیمنٹ کرنی تھی اس کا کیا ہوگا؟ اور جو آن لائن کھانا منگوایا تھا اس کی پیمنٹ؟
پھر شاعردماغ میں گھس کر کہے" کہاں تک فریب کھائیں، یہاں کس کو آزمائیں"؛
بندہ پوچھے، بندے کی اپنی بیٹری ہی ڈاون ہو تو کس سے گلہ کریں؟
💸 2. مہنگائی اور خالی جیب کی بے بسی
آج شہر میں رہنے والا ہرکوئی؛ ڈالر تو نہیں کما رہا ہوتا۔۔۔ تنخواہ دار بھی تو ہوتا ہے۔۔۔زیادہ تر تو یہ غریب اور بےچارہ تنخواہ دار ہی ہوتا ہے۔۔۔
مہینے کی پہلی تاریخ کو تنخواہ ملی تو ساتھ ہی خرچ بھی ہوگئی۔
پچھلا پورا مہینہ دفتر سے واپسی پہ بازار سے گذرا ۔۔ مگر خریدار نہیں رہا۔۔۔ یہ راز گلی کا دکاندار جانتا ہے۔۔ سو سامان پکڑا کر کہہ دیتا ہے جب تنخواہ ملے تو تب دے دینا۔۔۔
پھر وہی بندہ دکان دار سے ہر دوسرے دن کہتا ہے، "بھائی، رجسٹر پہ لکھ لو؛ ادھار کر لو۔" تب روح تڑپ کر کہتی ہے: کیا اعتبار جس پہ، اُسےتنخواہ نے مارا!۔
🚗 3. پبلک ٹرانسپورٹ اور سڑک کا بھرکس
گھر سے پرفیوم لگا کر، بال بنا کر بالکل ہیرو بن کر نکلیں [ پتہ نہیں کس گلی میں ان سے ملاقات ہوجائے] ۔۔۔ لیکن صرف پانچ منٹ بعد ہی کسی چنگچی رکشہ یا بائیکیا کے پیچھے بیٹھ جائیں۔ منزل پر پہنچتے پہنچتے جو حلیہ بنتا ہے، وہ کسی جنگِ عظیم کے غازی سے کم نہیں ہوتا۔ سڑک کا ہر گڑھا یاد دلاتا ہے کہ زندگی صرف امتحان نہیں لیتی، بلکہ ہڈیاں بھی توڑتی ہے۔ واپس گھر پہنچنے تک بندے کا بھرکس نکل چکتا ہے۔۔۔
یقین کیجیے کہ جب تانگے کا دور تھا تو ایسا نہیں ہوتا تھا۔۔۔
🤫 4. وہ غمخوار جن کا کام ہی "مارنا" ہے
نہ کمی تھی دوستوں کی، نہ کمی تھی دشمنوں کی… لیکن ان سب پر بھاری وہ غمخوار ہیں؛ ان کا کوئی نام نہیں ہوتا؛ یہ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔۔۔ لیکن یہ بہانے بہانے سے ایک سے بڑھ کے ایک ایٹمی سوال داغتے ہیں:۔
آج کیا ناشتہ کیا تھا؟ یا۔۔"رزلٹ کا کیا بنا؟۔۔۔
یا۔۔۔ تنخواہ کتنی ہے تمہاری؟
یا۔۔۔۔ "بیٹا! شادی کب کر رہے ہو؟" یا " ۔۔ خوشخبری کب سنا رہے ہو؟"۔۔۔
اور سب سے قاتل یہ بات کہ " او یار؛ تمھیں پتہ لگا کہ مسکان اپنے یار کے ساتھ بھاگ گئی ہے"؟ یقین کیجیے کہ کسی مسکان سے کوئی تعلق نہیں ہوتا مگر دل پہ چھری ایسے چلتی ہے کہ؟؟؟
لیکن ایسے سوالوں سے جو ذہنی کوفت ہوتی ہے، اس کا پوسٹ مارٹم بھی ممکن نہیں۔
😂۔۔۔ میری داستاں نہ پوچھو، میرے زخم گن کے دیکھو
آج شہر میں رہنے والے کسی بھی شخص سے پوچھیں تو یہ مصرع گنگنائے گا۔۔۔ اور بولے گا کہ "بھائی، مجھ سے میری کہانی مت پوچھو۔ اگر دیکھنا ہی ہے تو اس مہینے کے بجلی، گیس، انٹرنیٹ اور اسکول کالج اور یونیورسٹی فیس کے بل گن کر دیکھو۔ یہ وہ زخم ہیں جو بغیر چھری کے لگے ہیں اور ان سے میرے خون پسینے کی کمائی نچوڑی جاتی ہے"۔ اور شام کو جب بیگم خوب بن سنور کر پوچھتی ہے؛ "بازار چلتے ہیں" تو جان ہی چلی جاتی ہے"۔۔۔
پھر یہ وہ غریبِ شہر ہے جو صبح 9 سے شام 5 بجے تک باس کی جھڑکیاں سہتا ہے، رات کو بیگم کے طعنے سنتا ہے، اور اکیلے میں اپنا دل کھول کر کہتا ہے: "وہ غریبِ شہر ہوں میں، جسے بے کسی نے مارا"۔۔ گلہ موت سے کریں کیا، مجھےاس 'سیلری' نے مارا!۔
زندگی ہمیں روز مارتی ہے، کبھی یوٹیلٹی بلز کی شکل میں، کبھی صبح 7 بجے کے الارم کی شکل میں۔ لیکن خوبصورتی یہ ہے کہ ہم اگلے دن پھر چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑ کر کہتے ہیں، "چلو، دیکھتے ہیں آج زندگی کس طرح مارتی ہے!"۔ اگر اس غزل کو ہم گہرے تفکر اور تھوڑے سے طنزیہ چشمے سے دیکھیں، تو یہ ہمیں زندگی گزارنے کے تین بڑے اور عملی سبق سکھاتی ہے:-۔
:1 . توقعات کا جنازہ دھوم دھام سے نکالیں۔۔۔ 🤫
زندگی کا سب سے بڑا اصول یہ ہے کہ توقع صرف اللہ کی ذات سے رکھیں۔ جب آپ انسانوں سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں کہ "وہ میری مشکل میں کام آئے گا" یا "وہ میری تعریف کرے گا"، تو عین وقت پر مایوسی ہوتی ہے۔ اس لیے لوگوں پر اتنا ہی اعتبار کریں جتنا وائی فائی کے مفت سگنلز پر کیا جاتا ہے—آ جائیں تو واہ واہ، چلے جائیں تو گزارا۔۔
2. !دل کو 'اسپنج' نہیں 'واٹر پروف' بنائیں 🛡️
اگر آپ ہر ایک کی بات کو دل پر لگانا شروع کر دیں گے، تو آپ کا دل زخموں کی دکان بن جائے گا۔ لوگ باتیں کریں گے، تنقید بھی کریں گے، اور مفت کے مشورے بھی دیں گے۔ سبق یہ ہے کہ اپنی زندگی اصول کے تحت جئیں؛ اور غیر حقیقی مشورے ایک کان سے سنیں، دماغ میں اس کا ہاضمہ کریں، اور دوسرے کان سے باہر نکال دیں۔ ہم ہر کسی کو مطمئن نہیں کرسکتے۔
3. حالات جیسے بھی ہوں، مسکرانا نہ چھوڑیں ☕
بے کسی، لُٹ جانے کا احساس اور مشکلات زندگی کا حصہ ہیں۔ اصل بہادری یہ نہیں کہ انسان کونے میں بیٹھ کر روئے، بلکہ اصل جگر یہ ہے کہ بندہ اپنے زخم گننے کے بجائے اپنے پاس موجود چھوٹی چھوٹی نعمتوں کو گنے۔ جب زندگی آپ کو تپتی ہوئی دھوپ دے، تو آپ چادر تان کر سو جائیں یا چائے کا کپ بنا کر بیٹھ جائیں۔ اور حالِ موجود میں زندہ رہیں۔
☺️ ہمیشہ مسکراتے رہیں"۔۔ کیونکہ "مسکراہٹ؛ آپ کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے"۔" ☺️
یہ ایک لازوال سچائی ہے کہ ایک حقیقی مسکراہٹ سب سے خوبصورت خاصہ ہے جو کسی بھی شخص کو کبھی بھی میسر ہوسکتی ہے۔ بیرونی فیشن کے رجحانات آتے جاتے ہیں اور ایک گرم دلی مسکراہٹ میں ایک آفاقی دلکشی ہوتی ہے جو زبان اور ثقافت سے بالاتر ہوتی ہے؛ اور کسی بھی کاسمیٹک سے کہیں زیادہ بہترانسانی شخصیت کی جازبیت کو فوری طور پر بڑھا دیتی ہے۔
تاہم ، جب حقیقت پسندانہ — اور قدرے تھک جانے والے — روز مرہ کی زندگی کے لینس کے ذریعے دیکھا جاتا ہے تو ، یہ خوبصورت جملہ حیرت انگیز طور پر ستم ظریفی موڑ پر پڑتا ہے۔ ایسی دنیا میں جس میں اسکائی راکٹنگ یوٹیلیٹی بلوں، ابدی ٹریفک جام، غیر متوقع پبلک ٹرانسپورٹ مہم جوئی، اور لامتناہی "آپ کب شادی کر رہے ہو؟" رشتہ داروں سے تفتیش ، مسکراہٹ برقرار رکھنا خالص بہادری کا کام بن جاتا ہے۔ اب یہ صرف خوشی کی علامت نہیں ہے۔ یہ بقا کا طریقہ کار بن جاتا ہے۔ ہم پر ڈالے جانے والے روزانہ افراتفری والے منحنی خطوط کے خلاف یہ ہمارا خاموش ، طنزیہ احتجاج ہے۔
چاہے احسان پھیلانے کے گہرے ، روح سے چلنے والے فلسفے کے طور پر لیا جائے یا ختم ہونے والے بینک بیلنس کے درد کو چھپانے کے لئے؛ مسکراہٹ ڈھال کے طور پر ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہوتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب زندگی تعاون کرنے سے انکار کرتی ہے؛ تب بھی ہم مسکرا سکتے ہیں، اور اپنی داستان پہ اپنا کنٹرول جاری رکھ سکتے ہیں۔ اللہ سبحان تعالی سے دعاگو ہوں کہ ایک مسکان ہمیشہ آپ کے سنگ رہے۔