غزہ؛ طاغوت کا مقبرہ

The Palestine-Israel Conflict is almost a hundred years old, although it intensified with establishment of Zionist Jewish State in 1948. The Hamas Jihad - Israel War 2023 has exposed the ugliness of Zionist Jews. The world talks about two state solution; is that viable? This write up “غزہ؛ طاغوت کا مقبرہ” in Urdu is about the recent development in regards to Gaza peace plan announced by POTUS.

Oct 02, 2025 - Muhammad Asif Raza

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

 

غزہ؛ طاغوت کا مقبرہ

 

صیہونی یہودیت نے مغربی اقوام کی فوجی طاقتوں کے طفیل سنہ 1948 میں بنو اسرائیل کے لیے ایک ریاست اسرائیل قائم کی تھی۔ اس یہودی ریاست کا مقصد یورپی ممالک میں ظلم و ستم کے شکار یہودیوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ اور ایک قومی وطن بنانا تھا۔ اس دوران یہودی اور عرب مسلح گروپوں کے درمیان لڑائی جاری تھی اور اسرائیل کے قیام کے اعلان کے اگلے ہی دن پانچ عرب ممالک نے اس نئے ملک پر حملہ کر دیا۔ اس دوران لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بےدخل کر دیا گیا اور اس واقعے کو النکبہ یا ’تباہی‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

سنہ 1949 میں جب جنگ بندی کے نتیجے میں لڑائی ختم ہوئی تو اسرائیل نے زیادہ تر فلسطینی علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ اُردن نے اس علاقے پر قبضہ کیا جو غربِ اردن یا مغربی کنارے کے نام سے مشہور ہوا جبکہ مصر نے غزہ پر قبضہ کر لیا۔ بیت المقدس کے مغربی حصے پر اسرائیلی افواج اور مشرقی علاقے پر اردنی افواج کا کنٹرول تھا کیونکہ وہاں کبھی بھی امن معاہدہ نہیں ہوا تھا اس کے بعد کی دہائیوں میں مزید جنگیں اور لڑائیاں ہوئیں۔ سنہ 1967 میں ہونے والی جنگ میں اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس اور غربِ اردن کے ساتھ ساتھ شام کی گولان کی پہاڑیوں، غزہ اور مصری جزیرہ نما سینائی پر بھی قبضہ کر لیا۔

 زیادہ تر فلسطینی پناہ گزین اور ان کی اولادیں غزہ اور غربِ اردن کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک اردن، شام اور لبنان میں رہتی ہیں۔ اسرائیل نے نہ تو انھیں اور نہ ہی ان کی اولاد کو ان کے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت دی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس سے ملک مغلوب ہو جائے گا اور یہودی ریاست کے طور پر اس کے وجود کو خطرہ لاحق ہو گا۔ اسرائیل اب بھی مغربی کنارے پر قابض ہے اور پورے بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے، جبکہ فلسطینی مشرقی بیت المقدس کو اس فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں جس کے مستقبل میں قیام کے لیے وہ پرامید ہیں۔ امریکہ ان چند ممالک میں سے ایک ہے جنھوں نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا ہے۔ گذشتہ 50 برسوں میں اسرائیل نے غربِ اردن اور مقبوضہ بیت المقدس میں بستیاں تعمیر کی ہیں جہاں اب سات لاکھ سے زیادہ یہودی رہتے ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے تحت ان بستیوں کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے تاہم اسرائیل اسے مسترد کرتا ہے۔

مجاہدین حماس غزہ کا اسرائیل پر حملہ

 اسرائیل نے غزہ کو مکمل طور پر محاصرے میں رکھ کر ایک کھلا جیل بنایا ہوا تھا؛ جہاں آباد فلسطینی مشہورعالم دین شیخ یاسین سے متاثر ہوئے؛ جس سے انکی کردار سازی میں قوت اور استحکام آیا۔ چنانچہ فلسطینی مجاہدینِ غزہ حماس نے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر آپریشن طوفان الاقصیٰ کی شکل میں ایک ایسا حملہ کیا جس میں درجنوں مسلح فدائیں غزہ کی پٹی کے قریب آباد اسرائیلی آبادیوں میں داخل ہو گئے۔ اور یہ ساری کاروائیاں ہواوے فون پر ٹک ٹاک ایپ کی مدد سے ساری دنیا کو دکھایا۔ اس کارروائی میں کئی سو اسرائیلی جہنم رسید ہوئے؛اور فدائین نے 203 اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو یرغمال بنا کر غزہ لے گئے۔

  یہ اسرائیلی قبضے کے بعد ہونے والی سب سے حیرت انگیز کاروائی تھی جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی؛ یہ نا صرف صیہونی اسرائیل کے لیے حیران کن تھا بلکہ دنیا کو بھی یقین نہیں آتا تھا۔ اور اس کی وجہ پچھلے سو سال کی غاصبانہ چالاکیاں اور شاطرانہ پروپیگنڈا رہی ہیں۔ اس کے لیے فلسطین پر مسلسل ہونے والے مظالم کی تاریخ جاننا انتہائی اہم ہوگا اور یہاں قارئین سے ملتمس ہونگے کہ غیر مغربی دنیا کے ذرائع سے اس بارے میں ضرور جانکاری حاصل کریں۔ یہ خونچگاں کہانی عصبیت اور گھنونےپن کا بھونڈا مزاق لگتا ہے مگر غور کریں تو سفاکیوں سے پُر، آہوں، سسکیوں اور خدائے لم یزل کی عطا کردہ صبر اور ہمتوں کا سبق ہے جو کسی بھی مسلمان کے لیے قابل فخر ہوگا۔

اسرائیل ایک خوفاک طاقت ہے؟

اسرائیل خود کوئی خوفناک بلا نہیں ہے بلکہ امریکہ میں طاقت کے مراکز پر قابض صیہونیوں کا اڈا ہے۔ ان صیہونی یہودیوں نے نوآبادیاتی غلامی کے دور سے اسلام کی دنیا پر اپنے پھٹو جما رکھے ہیں۔ وہ ایسے نفس کی غلام مادہ پرستوں کو پالنے پوسنے میں کامیاب رہے ہیں؛ جو مسلمانوں کے درمیان اعلی درجے کے منافق ہوتے ہیں؛ اور اپنے آقاوں کے سامنے انکے عطاکردہ لباس فاخرہ میں دم ہلاتے ہیں۔ یہ طفیلیے نہ صرف ذہنی مفلس ہوتے ہیں بلکہ غیرت اور حمیت سے بھی عاری ہوتے ہیں۔ انکو پہچاننا بہت آسان ہے؛ مگر اس کے لیے انکے چہرے اور گفتار پر مت جائیے بلکہ انکے اعمال پر نگاہ ڈالیے؛ یہ بلکل الف ننگے دکھیں گے۔ یہ پینٹ کوٹ ٹائی والے بھی ہیں اور جبہ و دستار میں بھی ہیں۔ مسلمان دنیا انکی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ مسلم تاریخ میں کہیں میر جعفر ہے تو کہیں میر صادق؛ کہیں ترک پاشا ہیں تو کہیں عراق کا ننگِ وطن ابنِ علقمی اور پھر سقوطِ غرناطہ کا ابوعبداللہ۔

چاک کردی ترک ِ ناداں نے خلافت کی قبا

سادگی مسلم کی دیکھ ، اوروں کی عیاری بھی دیکھ

 علامہ محمد اقبال نے مندرجہ بالا شعر میں واضع کردیا کہ مسلم دنیا تو سادگی میں ماری جاتی ہے۔ اور غیر مسلم عیاریوں کا جال پھیلائے رکھتے ہیں۔ اور اس کا طریقہ بھی سادہ ہی ہے۔ اس واقعے سے سیکھیں کہ ایک شکاری نے تیتر کا شکار کیا اور گھر لایا۔ اس نے تیتر کو کھانے میں خوب کھلایا پلایا؛ یہاں تک کہ تیتر تندرست وتوانا ہوگیا؛ اس کی آواز دور دور تک جاتی تھی۔ شکاری نے اس تیتر کو خوشنما پنجرے میں لے جا کر جنگل میں رکھ دیا اور خود قریب کی ایک جھاڑی میں دبک کر بیٹھ گیا؛ اب شکاری کے اشارے پر تیتر نے بولنا شروع کیا، بہت سے تیتر اپنے ہم قوم کی بولی سن کر جمع ہوگئے شکاری نے ان تیتر وں کو پکڑا اور پالتو تیتر کو جدا کرکے بقیہ تمام تیتر وں کو بھون کر کھا گیا۔ دھیان دیجیے گا کہ نفس پرستی؛ پاپی پیٹ؛ حماقت اور ضمیر فروشی مسلم قوم کو ضائع کرارہی ہے۔

 

غزہ کے جنگ میں یہ کمال ہوگیا ہے کہ صیہونی یہودیت کا پھیلایا جھوٹ بینقاب ہوگیا؛ اور مذموم "خدا کی منتخب قوم" کو مٹھی بھر مجاہدین نے دھول چٹا دی۔ اس سے قبل عرب اقوام کی انگریز تربیت یافتہ فوجیں صرف چند دنوں میں صہونیت کے آگے سجدہ ریز ہوگئی تھیں۔ آب غزہ جنگ کے دو سال ہوگئے ہیں؛ طاغوت انکے حوصلے کو شکست نہیں دے سکا ہے۔ ساری کوششوں کے باوجود انکی صفوں مں دڑار نہیں ڈالی جاسکی ہے اور آج تک ایک بھی غدار نہیں ابھارا جاسکا ہے۔ یہ اللہ سبحان تعالی کا احسان ہے کہ مسلم دنیا کو غزہ سے امید کا ستارہ ابھرتا دکھ رہا ہے۔ یہ باقی دنیا کے مسلمانوں کو اپنے ایمان کو تازہ کرنےترغیب دے رہا ہے۔

غزہ حملہ؛ جرات کا اعلی مظاہرہ

حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد سے غزہ پر اسرائیلی فوج کے جوابی حملوں میں کئی لاکھ فلسطینی شہید اور متعدد ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج بھی غزہ کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ اسرائیل فوج کی غزہ کی پٹی کی مکمل ناکہ بندی نے ادویات، خوراک، پینے کے پانی، ایندھن اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قلت ہو چکی ہے۔ تاریخ نے ایسا ظلم پہلے نہیں دیکھا؛ جی ہاں تاتاریوں نے بھی ایسی بربریت کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ ایک بارود سے بھری میت حوالے کی گئی اور جب جنازہ لے کر جارہے تھے تو ریموٹ سے اڑا دیا گیا۔ انسانیت یہ ایسی توہین صرف صیہونی یہودی کرسکتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود غزہ کی مجاہدین حماس ڈٹے ہوئے ہیں۔ ذیل میں ایک تحریر اس کی عکاسی کرتا ہے۔ 

🔻غزہ اس کی فتوحات کا قبرستان ہے۔ 🔻

ایک برطانوی عسکری ماہر کہتاہے:

غزہ میں کوئی خفیہ طاقت ہے،جنگ کااتناطویل عرصہ صرف حماس کےجنگجوؤں کی وجہ سےجاری نہیں رہ سکتا۔

ایک امریکی عسکری ماہرکا کہناہے:

امریکہ اوریورپ کےکئی ممالک نےاسرائیل کواسلحہ فراہم کیاہے۔

جواسلحہ دیاگیا،وہ اتناہےکہ وہ غزہ جیسےعلاقےکودس بارصفحۂ ہستی سےمٹاسکتا ہے۔

یہ اسلحہ چھ نیوکلیئر بموں کےبرابرہے،جوزمین کوجھلسا کراسےہمیشہ کےلیےناقابلِ سکونت بنادیتاہے۔

وہ مزیدکہتاہے:

غزہ کی فضااسرائیلی، امریکی،برطانوی،فرانسیسی اورجرمن جاسوس طیاروں سےبھری ہوئی ہے،

جوزمین پرہونےوالی ہرحرکت کوانتہائی مہارت اوردرستگی سےریکارڈکررہےہیں۔

مگرحیرت کی بات یہ ہےکہ انہی حالات میں حماس کے مجاہدین نکل کراسرائیلی فوج کی گاڑیاں تباہ کرتے ہیں،فوجیوں کومارتےاور زخمی کرتےہیں،سنائپرزکا استعمال کرتےہیں،بارودی سرنگیں بچھاتےہیں،اور گھات لگاکرحملےکرتےہیں جن میں اسرائیلی فوج کی تقریباً ایک تہائی گاڑیاں تباہ ہو چکی ہیں،ہزاروں فوجی مارےاورزخمی ہوچکےہیں، جبکہ انکی جاسوسی طیارے ان مجاہدین کوبہت کم اور نایاب ہی دیکھ پاتےہیں۔

ایک اورماہرکہتاہے:

غزہ کارقبہ صرف365مربع کلومیٹرہےاوراسکا75فیصد حصہ گنجان آبادرہائشی علاقہ ہے۔

جہاں اسرائیل نےدسیوں ہزار میزائل،بم،توپوں کےگولے، سمندر،زمین اورفضا سےفائر کیے۔

ایف-15۔ ایف-3 اوراپاچی ہیلی کاپٹروں سمیت ہرقسم کے اسلحےکابےدریغ استعمال کیا گیا۔

کوئی ہتھیار ایسانہیں بچا جواستعمال نہ کیاگیاہو — اوروہ بھی نہایت بڑی مقدار میں۔

میں نےویڈیوزدیکھی ہیں جن میں غزہ کےبچےان میزائلوں سےکھیل رہےہیں جوپھٹےنہیں۔

 

ایک اورشخص کہتاہے:

عزیزو!یہ یقیناًایک معجزہ ہے، اوروہاں ایسےمجاہدین ہیں جونظربھی نہیں آتے۔یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مددہے۔

دیکھووہ مجاہدکس دلیری سےفوجی گاڑی کےپاس جاتا ہے،بم رکھتاہے،اورپیچھےہٹ جاتاہے۔وہ بہت بہادراور خوفناک مجاہدہے۔وہ مضبوط ارادےسےلڑرہاہےاوروہ کامیاب ہوکررہےگا۔

دیکھوکیسےبچےبغیرکسی خوف کےمیزائلوں سےکھیلتے ہیں۔اگریہ کسی اورملک میں ہوتا توخصوصی فورس، بم ڈسپوزل اسکواڈ اورماہرین فوراًموقع پرپہنچتےاورعلاقہ سیل کردیتے۔۔

بتاؤ،کون ان بچوں کی حفاظت کررہاہے؟یہ اللہ کی حفاظت ہے۔ان مجاہدین نے کچھ میزائلوں کودوبارہ قابلِ استعمال بناکرفوجی گاڑیوں پرحملےکیےاورانہیں تباہ کر دیا۔۔

یہ انسان عام انسانوں جیسے نہیں۔یہ تربیت انہوں نےکہاں سےلی؟۔۔

اسرائیل نےخود کوایسی جنگ میں پھنسالیاہےجس میں وہ جیت نہیں سکتا۔۔

اب اسرائیل کواپنافوجی نظام بحال کرنےکےلیےدہائیاں لگیں گی_جسمانی طور پر، نفسیاتی طورپر،اورجنگی جذبہ پیداکرنےمیں۔۔

لیکن ویساجذبہ ممکن نہیں جیساغزہ کےان افسانوی مجاہدوں میں ہے۔۔

اوررسول اللہ ﷺکا فرمان سچ ثابت ہورہاہے:-۔

"تم پرجہاد فرض ہے،اور بہترین جہاد سرحدوں کی حفاظت (رباط) ہے؛ اور سب سےافضل رباط عسقلان میں ہے۔" یہ حدیث صحیح ہے۔

غزہ امن امریکی معاہدہ اور ابراہام اکارڈ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو غزہ امن معاہدہ پیش کیا ہے؛ وہ محض ایک دھوکا ہے۔ بلکل اس طرح جیسا کہ 1990 کی دھائیوں میں بوسنیا کے مسلمانوں کو دیا گیا تھا۔ جو کام صہونی یہودی اور ساری طاغوتی طاقتیں نہیں کرسکیں؛ اب وہ اس کام کو کرائے کی فوجیوں؛ مسلم غداروں کے بندوق برداروں سے پورا کروانا چاہتے ہیں۔ اس مسلم فوج کی حالت ایسی ہی ہوگی جیسے اللہ سبحان تعالی نے قرآن کی سورۃ الحجرات آیت 14 میں فرمایا ہے کہ

"دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، آپ فرما دیجئے: تم ایمان نہیں لائے، ہاں یہ کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا، اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو تو وہ تمہارے اعمال (کے ثواب میں) سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا، بیشک اللہ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے"۔

 

آنے والے وقت کی پیشنگوئی نہیں کی جاسکتی مگر اللہ تعالی نے جو سمجھ دی ہے وہ بتا رہی ہے کہ غزہ کل کا عین جالوت جیسا لمحہ ہے؛ یہ دو صدیوں کی مسلم غلامی سے نجات کا آغاز ہے۔ انشاء اللہ۔ مسلمان امت کو صرف اللہ تعالی پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور ہر نوع کے دنیاوی سہارے سے دامن چھڑا لینا چاہیے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم مسلمان خواہ کیسے ہی کمزور ایمان کی حالت میں ہوں قرآن کی سورۃ النساء کی آیت 75 میں دی گئی اس ہدایت کو یاد رکھیں۔ تو انشاء اللہ غزہ؛ طاغوت کا مقبرہ بنے گا۔

" اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے جویہ دعا کررہے ہیں کہ اے رب ہمارے ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی حمایتی دے دے اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مددگار دے دے"۔

اللہ تعالی نے سورہ آل عمران آیت 139 میں خوشخبری بھی دے رکھی ہے کہ

وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔۔۔

اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ تمہیں غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو"۔


More Posts