Muhammad Asif Raza 2 weeks ago
Muhammad Asif Raza #education

غریب کا جیون مشکل کیوں ہے؟

Storytelling is an important tool because it builds emotional connections, helps people remember information, and fosters empathy. Fiction is defined as any creative literary or narrative work that portrays imaginary characters, settings, and events. The life of a poor man is hard because it is characterized by constant survival mode, where basic needs like food, shelter, and healthcare are perpetually uncertain. This write up "غریب کا جیون مشکل کیوں ہے؟" is a fictional story about poor individuals facing exponential difficulties in performing daily tasks and secure life essentials.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


غریب کا جیون مشکل کیوں ہے؟


شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور ہندواڑہ کی پرانی لکڑی سے بنے مال روڈ کے اس تاریخی چائے خانے کی پیلی روشنیوں نے مال روڈ کے فٹ پاتھ پر ایک اداس سا ہالہ بنا دیا تھا۔ چائے خانے کا ماحول ماضی اور حال کے سنگم پر کھڑا تھا—دھوئیں سے سیاہ پڑی دیواریں، پرانے پنکھے کی دھیمی گراہٹ، اور پیتل کے بڑے سماوار سے ابلتے ہوئے پانی کی دھیمی دھیمی سسکاریاں، جو باہر آتی سردی کی پہلی برستی ہلکی بوندا باندی کے شور میں مکس ہو رہی تھیں۔

کونے والی اس میز پر، جہاں لوہے کا رنگ اکھڑ چکا تھا، ہمیشہ کی طرح تین سر سفید ہو چکے دوست بیٹھے تھے—احمد، شکیل اور ضمیر۔ ان کی دوستی 1960 کی دہائی کے اسکول کے دنوں سے چلی آ رہی تھی؛ کیونکہ وہ ایک ہی جماعت میں پڑھتے رہے تھے۔

احمد نے سوتی واسکٹ کے اوپر پہنی پرانی اونی شال کو کندھوں پر ذرا اور کسا۔ اس کے چہرے کی جھریاں صرف عمر کی نہیں، بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد اسکول کی فیسوں اور بجلی کے بلوں سے لڑی جانے والی جنگوں کی گواہ تھیں۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے چائے کا کپ اٹھایا۔

اس کے بائیں جانب شکیل بیٹھا تھا، جس کے باریش چہرے پر سنجیدگی اور آنکھوں میں ماضی کی کسی پرانی فلم کی مانند یادیں تیر رہی تھیں۔ اس کی عینک کا ایک شیشہ کونے سے ہلکا سا چٹخا ہوا تھا، جسے بدلنے کی مہلت اسے کئی مہینوں سے نہیں ملی تھی۔

میز کے تیسرے کونے پر ضمیر تھا، جو اپنے وقت کا ایک کڑک صحافی اور اب ایک تھکا ہوا سفید پوش بوڑھا تھا۔ اس کے بال مکمل چاندی ہو چکے تھے، اور اس کی انگلیوں کے درمیان دبا ہوا قلم اب صرف ڈائری کے کور پر بے مقصد لکیریں کھینچ رہا تھا۔


چائے کے پیالوں سے دھواں اٹھ رہا تھا، لیکن میز پر پھیلی خاموشی چائے کی پتی کی خوشبو سے زیادہ بھاری اور کڑوی تھی۔

"یار شکیل! کبھی سوچا تھا کہ زندگی کی اس شام میں ہم اس جگہ کھڑے ہوں گے؛ تو ہمارے درمیان ایسی خاموشی ہوگی؟" احمد نے چائے کا چمچ ہلاتے ہوئے دھیمی، لرزتی آواز میں کہا۔ "ہم جب گورنمنٹ اسکول کے طالب علم تھے، تو گھر کے بڑے ہمیشہ 'ہائے مہنگائی، ہائے مہنگائی' کا رونا روتے تھے۔ لیکن اب سمجھ آتی ہے کہ وہ تو محض ایک معصوم سا شکوہ تھا، اصل معاشی سیاپا تو اب شروع ہوا ہے۔ یہ مہنگائی اب آنکھوں سے صرف پانی نہیں بہاتی ضمیر، یہ تو بہتے آنسوؤں کے ساتھ انسان کے اندر کا کئی قطرہ خون بھی خشک کر دیتی ہے۔ یہ لوگوں کی روحوں کو اضمحلال کی دلدل میں دھکیل رہی ہے، انہیں اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔"۔۔


ضمیر نے ایک گہرا سانس لیا، عینک اتار کر اپنی قمیص کے دامن سے صاف کی اور بولا، "احمد بھائی! ہماری پوری نسل ہمیشہ سے ایک عجیب مخمصے اور شناخت کے بحران کا شکار رہی ہے۔ پاکستان کا عام شہری ہر دور میں صرف ایک تجربہ گاہ کی طرح استعمال ہوا۔ انسان نہ ہوئے، گویا کسی سنگدل سائنسدان کی لیبارٹری کے بے زبان جانور ہو گئے! جس کا جب جو جی چاہا تجربہ کر لیا، جیسا چاہا بیانیہ تھوپ دیا اور ہم پر زبردستی مسلط کر دیا۔ ہم تو صرف اس لیبارٹری کے گنی پگ (تجرباتی چوہے) بن کر رہ گئے۔"۔۔۔

شکیل نے چائے کا ایک کڑوا گھونٹ بھرا اور ماضی کی دھندلی کھڑکی کھول دی، "مجھے یاد ہے، ہمارے پرائمری اسکول کے دن تھے جب صدر ایوب خان اپنے اقتدار کے دس سالہ 'جشنِ ترقی' کی تیاریاں کر رہے تھے۔ عین اسی وقت چینی کی قیمت میں محض ایک آنے کا اضافہ ہوا تھا—صرف ایک آنے کا! اس ایک آنے پر پوری قوم کی غیرت جاگ اٹھی تھی اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ ایسا عوامی طوفان اٹھا کہ ایوب خان کا پورا جشنِ ترقی دھول میں مل گیا اور اقتدار فنا ہو گیا۔ وہ دور معیشت کی غیرت کا امتحان تھا اور ایک آج کا دور ہے جہاں روحیں مر چکی ہیں..."۔۔۔

"اور پھر وہ راشن کارڈ کا دور..." احمد نے سرد آہ بھرتے ہوئے شکیل کی بات کاٹی۔ "ہماری مسیں بھی نہیں بھیگی تھیں کہ 1971 میں سقوطِ ڈھاکہ کا وہ عظیم سانحہ ہو گیا۔ قائدِ اعظم کے پاکستان کو خدا حافظ کہہ کر جب بھٹو صاحب کا 'نیا پاکستان' بنا، تو ہم جوان ہونے سے پہلے ہی آٹے، گھی اور چینی کے لیے راشن کارڈ بنوانے کی لمبی لائنوں میں کھڑے پائے گئے۔ وہ ہمارے بچپن اور لڑکپن کی سب سے تلخ اور بے بس یاد تھی۔"۔۔

"اور ہماری جوانی؟ اس کا تو پوچھو ہی مت،" شکیل تپک کر بولا، اس کی آواز میں پرانا جلال جاگ اٹھا تھا، "ہماری جوانی تو 'مردِ مومن، مردِ حق' جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کی نذر ہو گئی۔ افغان جنگ کے ڈالرز کی جو مصنوعی ریل پیل ہوئی، اس نے امیر اور غریب کے فرق کو ایک ایسی گہری خلیج میں بدل دیا جو اب کبھی نہیں بھر سکتی۔ اسی دور کے ہتھوڑا گروپ کے وار، کلاشنکوف کلچر اور گلی محلوں میں منشیات کی 'پڑیا' کی سپلائی نے ہماری نسل کا رہا سہا امن و سکون بھی نچوڑ لیا۔"۔۔۔

ضمیر کچھ دیر خاموش رہا، پھر اس نے ایک دوسری میز پہ رکھے ہوئے اخبار کو اٹھایا " یہ عالمی بینک (ورلڈ بینک) کی ایک رپورٹ کی بات کیوں نہ کریں؟ جس میں لکھا ہے کہ اس خطے میں یومیہ 3 ڈالر سے کم کمانے والے غریبوں میں سے تقریباً نصف—یعنی 48 فیصد—صرف پاکستان میں رہتے ہیں؟ اور ہمارا موازنہ افغانستان، شام اور یمن جیسے جنگ زدہ ممالک سے کیا جا رہا ہے؟"۔۔۔

ضمیر نے تلخی سے ہنستے ہوئے اخبار کا ٹکڑا میز پر پٹخ دیا، "یہ رپورٹ کسی 'بابو' نے ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھ کر لکھی ہوگی۔ حقیقت اس کاغذی عدد سے کہیں زیادہ لرزہ خیز ہے۔ کل شام میں اپنے محلے کی سبزی کی دکان پر کھڑا تھا، اور آپ جانتے ہو کہ وہ کوئی مفلوک الحال لوگوں کا علاقہ نہیں؛ کوئی جھونپڑ بستی نہیں ہے؛ عام مڈل کلاس اور کچھ مزدور طبقے کا محلہ ہے۔ وہاں میں نے پرسوں غربت کو سسکتے اور سفید پوشی کا جنازہ نکلتے دیکھا۔"۔۔

احمد اور شکیل کے ہاتھ کپ تھامے فضا میں رک گئے۔

"وہاں ایک تیس پینتیس سال کا ہٹا کٹا جوان آیا،" ضمیر کی آواز رندھ گئی اور اس کی آنکھیں نم ہو گئیں، "اس نے صرف ایک گوبھی خریدی اور دکاندار سے التجا کرنے لگا کہ بھائی! اس میں ایک پیاز، دو ٹماٹر اور تھوڑا سا دھنیا اس طرح ڈال دو کہ پورا بل صرف 100 روپے بنے، کیونکہ میری جیب میں اس سے زیادہ کا نوٹ ہی نہیں۔ اس کی آنکھوں کی شرمندگی میں دیکھ نہیں سکا۔"۔۔۔

"یا اللہ رحم..." شکیل نے بائیں ہاتھ سے اپنی داڑھی کو چھوا۔۔۔۔


"ابھی میں یہ دیکھ ہی رہا تھا،" ضمیر نے بات جاری رکھی، "کہ ایک نقاب پوش خاتون اپنی نو دس سالہ بچی کا ہاتھ تھامے آئیں۔ انہوں نے ایک کلو آلو اور چند بینگن کا حساب جوڑا۔ دکاندار بولا 'باجی! 130 روپے بنتے ہیں، آپ بیس روپے اور دیں'۔ اس خاتون نے اپنی چادر کے پلو کی گرہ کھولی، وہاں سے دس روپے کا ایک مچڑا ہوا آخری نوٹ نکالا اور بے بسی سے بولیں، 'بھائی، خدا کی قسم کل ملا کر یہی ایک سو دس روپے ہیں، اتنے میں ہی دے دو، اور نہیں ہیں میرے پاس'۔

ان کے بعد ایک بوڑھے باریش بزرگ آئے، شاید میرے آس پاس کی عمر ہی کے تھے؛ انہوں نے بھی کئی سبزیوں کے ریٹ پوچھے اور آخر میں سستے ترین آلو پر قناعت کر کے سوا سو روپے میں ایک وقت کی ہانڈی کا معاملہ پورا کیا۔"۔۔


چائے خانے کی میز پر ایک بار پھر گہرا، دم گھٹتا ہوا سکوت طاری ہو گیا۔ سماوار سے اٹھتی بھاپ اب چائے خانے کی چھت پر اداسی کے بادل بن کر پھیل رہی تھی۔

ضمیر نے میز پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا، "حکومتوں اور عالمی بینک کو کیا معلوم کہ یہاں عام آدمی کی قوتِ خرید اب تین ڈالر نہیں، بلکہ ایک سے دو ڈالر یومیہ رہ گئی ہے۔ یہ لوگ بھیک نہیں مانگ رہے، چوری نہیں کر رہے، بس دکاندار کے سامنے اپنی عزتِ نفس کا سودا کر رہے ہیں۔"۔۔

احمد نے تپک کر کہا، "اور کمال دیکھو ضمیر! ادھر یہ حال ہے اور ادھر ٹی وی پر حکومتی زعماء اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ 'نو ہزار روپے ماہانہ کمانے والا غریب نہیں ہے'۔ یعنی 300 روپے روزانہ! عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ کہاں کہاں سے یہ 'جوکر' تلاش کر کے اقتدار کی کرسیوں پر لا بٹھائے جاتے ہیں، جنہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ایک عام پاکستانی غریب کس جہنم سے گزر رہا ہے اور 300 روپے میں تو اب ایک دن کا مناسب طریقے سے سبزی کا سالن بھی نہیں بنتا"۔۔۔

احمد نے مایوسی سے سر ہلایا اور پھر اس نے وقت کے حالات کے عین مطابق استاد ذوق کا ایک شعر داغ دیا کہ:۔

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے


اب جزباتی ہونے کی باری ضمیر کی تھی؛ "لیکن ریاست تو ماں کے جیسی ہوتی ہے؛ کیا ہم ریاست کی رعایا نہیں ہیں"؟

شکیل نے جواب دیا کہ "ہیں تو صحیح مگر سوتیلی اولاد اور ماں اب ڈائن بن چکی ہے؛ اپنے ہی بچے کھا رہی ہے"۔۔۔

ضمیر نے حالات حاضرہ کو ماضی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ " ہمارا مسئلہ یہ حکمران اشرافیہ ہے؛ جسے انگریز نے پالا اور بعد از آزادی اسے تقویت دی اور پتلیوں کی طرح استعمال کیا۔۔۔۔ یہ اشرافیہ کہنے کو مغرب کی غلام ہے مگر عمل پیرا بابر کے شعر پہ ہیں"بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست"۔۔۔ خوب لوٹ مار کرتے ہیں اور اسے نام عوام کی بہبود کا دیتے ہیں"۔۔۔

اس نے بات جاری رکھی اور بولا " پاکستان کا سنگین ترین بحران اب محض معاشی نہیں رہا۔ سرکاری مالیات کی بگڑتی ہوئی صورتحال بتدریج معیارِ زندگی کو گرا رہی ہے، شہریت کے وعدے کو کمزور کر رہی ہے اور معاشرے کو ایک گہری اور ممکنہ طور پر خطرناک دراڑ کی جانب دھکیل رہی ہے"۔۔۔

اس نے دکھ سے کہا " ہم ایک ریاست بن چکے ہیں جو بنیادی خدمات کی مالی اعانت نہیں کر سکتی، اور حکمران اپنی ناکامی کا سارا بوجھ عوام کے کندھوں پہ منتقل کر رہے ہیں۔ غریب خاندان بجلی، گیس، اسکولنگ، صحت کی دیکھ بھال، ٹرانسپورٹ اور سیکیورٹی کے لیے اپنی بساط سے زیادہ ادائیگی کررہے ہیں، جبکہحکومتی اشرافیہ اجرت اور نوکری کے مواقع کی رفتار کو برقرار رکھنے میں ناکام ہیں۔ یہ مسلسل معاشی اصلاحات اور معاشی مشکلات اب مستقبل میں وقار، صبر اور ایمان کا نقصان بنتے جارہےہیں"۔۔۔

وہ ذرا خاموش ہوا تو احمد بول پڑا کہ "جب معیارِ زندگی سال بہ سال گرتا ہے تو معاشرہ ساکت نہیں رہتا۔ مایوسی سخت ہو جاتی ہے، اعتماد ختم ہو جاتا ہے اور عوام کا غصہ اپنے اہداف کی تلاش میں رہتا ہے"۔۔۔۔

اس پہ شکیل بولا کہ " لیکن یہ کٹھن معاشی ایڈجسٹمنٹ بنیادی طور پر صرف ان لوگوں پر پڑتی ہے جو اسے برداشت کرنے کے بالکل قابل نہیں ہیں، تو ملک کو ایک ایسے سماجی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے سنگین ناخوشگوار نتائج برآمد ہوں گے۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان دھیرے دھیرے غریبوں اور کمزوروں کے لیے ایک سخت اور طاقتور حکمران اشرافیہ کے لیے ایک قابلِ رشک ریاست بن گیا ہے"۔۔۔۔

کچھ خاموشی ہوئی تو احمد بولا؛ " یہ صورتحال کسی طرح بھی خوشگوار دنوں کے پیشن گوئی نہیں کررہی؛ ہم صرف سیاپا ہی کرسکتے ہیں"۔۔۔

چائے خانے کا بیرام خالی کپ اٹھانے آیا۔ احمد نے بٹوے سے کچلے ہوئے نوٹ نکالے اور بیرام کو دیتے ہوئے، چائے خانے کے دروازے سے دور آسمان پر اڑتے ہوئے کسی سرکاری تقریب کے عشایے کے غباروں کو دیکھا۔

اس نے دور خلا میں گھورتے ہوئے اپنے دوستوں سے وہ آخری سوال پوچھا، جس کا جواب شاید کسی عام آدمی کے پاس نہیں تھا: "جب ہماری ہانڈی میں پیاز اور ٹماٹر بھی پورے نہیں ہو پا رہے، جب بچوں کے منہ سے نوالہ چھن چکا ہے اور ان کے نزدیک 300 روپے کمانے والا غریب نہیں، تو یارو! مجھے صرف اتنا بتاؤ کہ ہمارے حکمران جشن کس کا منا رہے ہیں؟"۔۔ اور ہم سفید پوش زندہ کیسے ہیں اور کیوں ہیں؟۔۔۔۔۔

تینوں دوست اٹھے، چادریں سنبھالیں اور چائے خانے کے دھندلے اندھیرے سے نکل کر مال روڈ کی بھیگی اور تیز رفتار گاڑیوں کے شور میں سڑک پر غائب ہو گئے۔

0
160

CrownX.com.pk: Exploring Android Games, Mobile Apps, and Digital Enter...

CrownX.com.pk: Exploring Android Games, Mobile Apps, and Digital Entertainment in Pakistan

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocL4RBl0Kl5Snp6FjS2lL_-xxwmJr_AAiEoRRcUteUwxXC-ZbA=s96-c
Seo Agency
15 minutes ago

Etihad Airways Gaborone Office

defaultuser.png
charlottehayes9923
2 hours ago

A Level Chemistry Tuition

A Level Chemistry Tuition

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocK7or_G87XYbOcCBPIzAbzE2NCQ5r5Q77EhObW1o5Vhl1dJqQ=s96-c
Twig
4 hours ago
British Airways Paris Office

British Airways Paris Office

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocI5fcKdmhEi8P38-_ctJodLIIM3u8MYzelilrmXjH-IvJxLUw=s96-c
Elisha Parker
4 hours ago

Folding Box Board Paper Price Trend 2026 | Q3 Forecast, Chart, Prices...

1787734945.png
Lakshay Choudhary
5 hours ago