Muhammad Asif Raza 2 months ago
Muhammad Asif Raza #education

غلام یا باغی

Allama Iqbal in one verse said that the insight of slaves cannot be relied upon; only free men—those possessing honor and self-respect, and liberated from intellectual, mental, and spiritual bondage—can truly possess the eye that sees. Slavery weakens a person's thinking and insight, and destroys their sense of self and capacity for independent thought. This write up in Urdu is discussing the causes and remedy for mental slavery.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


غلام یا باغی


"بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر

کہ دنیا میں فقط مردانِ حُر کی آنکھ ہے بِینا"۔

علامہ محمد اقبال کے مندرجہ بالا شعرکا مفہوم یہ ہے کہ غلاموں کی بصیرت قابل بھروسہ نہیں ہوسکتی؛ اور دنیا میں صرف مردانِ حُر(آزاد، غیرت مند، خوددار انسان جو فکری، ذہنی اور روحانی غلامی سے پاک) ہی کے پاس دیکھنے والی آنکھ ہوسکتی ہے۔ یہاں اقبال نے بصارت کی بات نہیں کی ہے بلکہ بصیرت کہا ہے؛ یعنی چشمِ ظاہر کی بات نہیں ہے بلکہ چشمِ باطن کا ذکر کیا ہے۔ بصارت ظاہری آنکھوں کی بینائی کا نام ہے جبکہ بصیرت دل اور عقل کی گہرائی، شعور اور حقائق کے ادراک کو کہتے ہیں۔

مردانِ حُر کے برخلاف انسان کیسا ہوتا ہے؟ مردان علم کہتے ہیں ایسا انسان "غرض کا بندہ": مفاد پرست، مطلبی یا ذاتی فائدہ کار ہوتا ہے اور "ہوس کا مارا ہوا": شدید خواہش، لالچ یا نفسانی بھوک کا غلام جو مال، طاقت یا جنسی خواہشات کی اندھی ہوس میں اخلاقی قدریں اور انسانیت سے عاری ہوتا ہے۔ اور "نفس کا غلام": بری خواہشات اور بے ضمیر ہوتا ہے۔

قرآن پاک کی سورۃ الفرقان (آیت 43) اور سورۃ الجاثیہ (آیت 23) کا مفہوم اس کو واضع کرتا ہے، جس میں اللہ تعالی نے ایسے انسان کا ذکر کیا ہے۔

سورۃ الفرقان (آیت 43):"کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے؟ تو کیا آپ اس پر نگہبان بنیں گے؟"۔

سورۃ الجاثیہ (آیت 23):"بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا بنا لیا اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا، تو اللہ کے بعد اسے کون سیدھا راستہ دکھا سکتا ہے؟ کیا تم پھر بھی غور نہیں کرتے؟"۔


غلامی انسان کی سوچ اور بصیرت کو کمزور کر دیتی ہے اور حق و باطل کو دیکھنے کی اصل صلاحیت صرف آزاد اور غیرت مند لوگوں کے پاس ہوتی ہے۔ غلامی انسان کی خودی اور آزادانہ سوچنے کی صلاحیت کو ختم کر دیتی ہے۔ صرف آزاد روح اور بیدار ضمائر والے لوگ ہی دنیا کی حقیقت کو درست طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ اور جو ذہنی غلامی کا شکار ہوں، ان کی عقل اور دانش پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

یہاں دو اصحاب کا ذکر بطور مثال کرتے ہیں؛ ایک حضرت بلال حبشیؓ اور دوسرے وحشی بن حرب؛دونوں کا تعلق حبشہ سے تھا اور وہ مکہ میں قریش کے غلام تھے۔ تاہم، دونوں کی زندگی اور کردار کا سفر اسلام میں بالکل مختلف رہا۔

حضرت بلال بن رباحؓ کے والد کا نام رباح اور والدہ کا نام حمامہ تھا۔ آپ مکہ میں پیدا ہوئے اور امیہ بن خلف کے غلام تھے۔ آپکی استقامت اور عظمت کا عالم یہ ہے کہ آپ سابقون الاولون میں سے ہیں ۔ اسلام لانے پر آپ کو تپتی ریت پر لٹا کر ظلم کیا گیا، مگر آپ "أَحَدٌ أَحَدٌ" پکارتے رہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے آپ کو خرید کر آزاد کیا۔ آپ کو اسلام کے پہلے مؤذن (مؤذنِ رسول) ہونے کا عظیم شرف حاصل ہوا۔

وحشی بن حرب حبشی نژاد تھے اور مکہ میں جبیر بن مطعم یا طویفہ کے غلام یا لونڈی کے تحت تھے۔ قبولِ اسلام سے پہلے جنگِ احد میں ہند بنت عتبہ کے کہنے پر انہوں نے حضرت حمزه بن عبد المطلبؓ (نبی کریم ﷺ کے چچا) کو شہید کیا تھا۔ فتحِ مکہ کے بعد انہوں نے اسلام قبول کیا اور بعد میں جھوٹے نبوت کے دعوےدار مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ (جنگِ یمامہ) میں مسیلمہ کو قتل کیا۔

حضرت بلالؓ نے اسلام کی خاطر شدید ترین جسمانی تشدّد برداشت کیا۔ تپتی ریت پر بھاری پتھر رکھ کر انہیں تڑپایا گیا، مگر وہ توحید پر قائم رہے۔ حضرت بلالؓ آقا کریم رسول اللہ ﷺ کے مقرب ترین صحابی، سفری ساتھی اور مؤذنِ رسول بنے۔ حضور ﷺ نے زندگی میں ہی انہیں جنتی ہونے کی بشارت دی۔

وحشی بن حربؓ نے 9 ہجری میں اسلام لایا توحضور ﷺ نے ان کا اسلام قبول فرما لیا اور ماضی معاف کر دیا، مگر چچا کی شہادت کے صدمے کی وجہ سے وحشیؓ سے فرمایا کہ وہ آپ ﷺ کے سامنے نہ آیا کریں تاکہ زخم تازہ نہ ہو۔ وحشی بن حربؓ نے اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت حمزہؓ کی شہادت کے غم کو دل میں محسوس کیا۔ انہوں نے بعد میں جنگِ یمامہ میں نبوت کے جھوٹے دعویدار مسیلمہ کذاب کو اسی نیزے سے قتل کر کے اپنے ماضی کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کی کوشش کی، اور وہ اس میں کامیاب رہے۔

غلامی کسی انسان کی مکمل ملکیت اور جبری ماتحت کا نام ہے، جبکہ بغاوت اسی جبر، قید یا ناجائز اقتدار کے خلاف اٹھنے والی مزاحمت اور حکم عدولی کو کہتے ہیں۔ اپنے وقت میں حضرت بلالؓ نے بغاوت کی تھی حالانکہ غلام تھے۔ دوسری طرف وحشی بن حربؓ بھی غلام ہی تھے؛ اور اپنی حالت میں مگن اور خوش تھے۔ اس لیے جب آقا کریم محمدﷺ نے اللہ تعالی کی وحدت کا پیغام دیا تو اس وقت کے مکہ کے سرداروں کے خوف سے وحشی بن حربؓ نے اسلام قبول نہ کیا۔ یہاں بصیرت کو سمجھنا ہوگا کہ کیسے جو بصیرت حضرت بلال حبشیؓ کو ملی؛ وحشی بن حربؓ اس سے کیوں محروم رہے؟


بصیرت (باطنی سمجھ) کی تعریف دل کی آنکھ سے دیکھنا اورعقل و فہم سے حقائق کو سمجھنا ہے۔ اس سے معاملات کی تہہ تک پہنچنا اور نیتوں یا نتائج کا ادراک کرنے کا ہنر بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ انسانی خاصیت اس لیےخاص ہے کہ اس سےانسان کو درست فیصلہ کرنے اور سچائی کو پہچاننے کی صلاحیت ملتی ہے۔ بصیرت کی آنکھ تب بند ہوجاتی ہے جب بندہ "خواہشِ نفس" کا غلام بن جاتا ہے۔ ایسےانسان کے "کان اور دل پر مہر" لگا دی جاتی ہے اور اس کی "آنکھوں پر پردہ" ڈال دیا، جاتا ہے۔

ایسے آنکھ، دل و دماغ سے بند انسان کو اللہ سبحان تعالی کے سوا اورکون سیدھا راستہ دکھا سکتا ہے؟ تم پھرغور و فکر بھی کیسے ہو؟ ایسے انسان دل کے کالے اور ذہنی غلام ہوتے ہیں اور پھر "خالی دماغ شیطان کا گھر" بنکر دلیل پہ دلیل گھڑتا ہے تو وہ اپنے مخالف کو باغی قرار دیتے ہیں۔ بصیرت سے محروم اور فہم و ادراک سے عاری انسان معاشرے کا ناسور ہوتے ہیں۔ اللہ ایسے افراد کو شیطان لعین کے حوالے کردیتا ہے۔ اور تاریخ انکو فرعون، نمرود، ہامان؛ قارون اور شدّاد کے روپ میں پیش کرتی ہے۔

عام لوگوں کے لیے یہ لوگ ترقی اور خوشحالی کا نشان کہلاتے ہیں۔ شدّاد بن عاد نے تکبر میں آ کر زمین پر ایک مصنوعی جنت ("ارم") بنائی، اور جب وہ اس میں داخل ہونے لگا تو دروازے پر ہی عزرائیل علیہ السلام (ملک الموت) نے اس کی روح قبض کر لی تھی۔

قرآنِ پاک میں واضح طور پر مذکور ہے کہ جب قارون اپنے پورے ٹھاٹ باٹ اور خزانے کے ساتھ باہر نکلتا تھا، تو دنیا دار لوگ اس کی دولت دیکھ کر رشک کرتے تھے۔ قرآنی آیت ہے کہ "پھر وہ اپنی قوم کے سامنے پورے ٹھاٹھ باٹھ (زینت) میں نکلا۔ جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے، بول اٹھے: کاش! ہمیں بھی ویسا ہی ملتا جیسا قارون کو دیا گیا ہے، بے شک وہ بڑے نصیب والا ہے۔ اور جو لوگ علم والے تھے انہوں نے کہا: تمہارا ناس ہو، اللہ کا ثواب بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اور یہ بات صرف صبرو استقامت والوں ہی کو ملتی ہے۔پھر ہم نے اس کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، تو اللہ کے سوا کوئی جماعت اس کی مدد کرنے والی نہ ہوئی اور نہ وہ خود اپنا بچاؤ کر سکا۔" (سورہ القصص آیات 79-81)۔۔

اپنے اردگرد پھیلے آج کے نمرود، شدّاد، ہامان اور قارون کو مت دیکھو؛ انکی آن بان اور شان ابلیس کا بچھایا جال ہے اور متاع الغرور کا ساز و سامان ہے۔ بصارت کا دھوکہ ہے؛ بصیرت کی آنکھ سے دیکھو تو اصل پتہ چلےگا۔

خرد کو غلامی سے آزاد کر

اے بندہ حُر؛ اپنی بصیرت یعنی عقل اور سوچ کو زمانے اور خود کے نفس کی تقلید اور فکری غلامی سے آزاد کرلے۔ فرنگ (مغرب) کی چالیں اور راز اب کھل چکے ہیں۔ سیاست و سرمایہ دارانہ نظام کساد بازاری اور زوال کا شکار ہیں اور یہ رنگ ڈھنگ اب زیادہ دیر چلنے والے نہیں ہیں۔ مگر قوم مسلم کیا کرے؛ وہ تو گراں خوابی کا شکار ہے اورقرآن کو پسِ پشت کررکھا ہے۔ زمانہ کی چالیں بدل رہی ہیں اور قوم مسلم بے خبر غلامِ غلامانِ مغرب بنے خوش ہیں۔ کہیں کوئی بغاوت کی جنگاری بھڑکے بھی تو دوسرے اسکے درپے ہوجاتے ہیں۔ اے بندگانِ خدا؛ اٹھو اپنی خرد کو غلامی سے آزاد کرو۔ اٹھو کہ پھر صبح کب ہوگی اور نجانے فصل گل کا ترنگ ائے کہ نہیں۔

پلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوز

کہ آتی نہیں فصل گل روز روز

وہ مے جس سے روشن ضمیر حیات

وہ مے جس سے ہے مستی کائنات

وہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازل

وہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازل

علامہ محمد اقبال

ایک حدیث پاک صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے آقا کریم محمدﷺ کا بیان کردہ تین افراد کا ایک غار کا واقعہ مروی ہے۔ تین افراد بارش سے بچنے کے لیے غار میں رکے، ایک بڑی چٹان نے راستہ بند کر دیا۔ پھر انہوں نے خوب کوشش کی مگر وہ پتھر نہ ہلا تو ان تینوں نے آپس میں طے کیا کہ صرف اپنے وہ اعمال جو خالص اللہ کی رضا کے لیے کیے گئے ہوں، ان کا واسطہ دے کر دعا کی جائے۔ جب انہوں نے اپنے خالص نیک اعمال کا وسیلہ دے کر دعا کی تو وہ چٹان ہٹ گئی۔

وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَآتَاهُمْ تَقْوَاهُمْ(سورۃ محمد۔۱۷)

"اور جن لوگوں نے ہدایت پا لی ہے، اللہ ان کی ہدایت کو اور زیادہ فرما دیتا ہے اور انہیں ان کا تقویٰ عطا کرتا ہے"۔

اے قوم مسلم؛ اللی تعالی کی طرف سے رہنمائی قرآن و سنت مہیا ہوچکی ہے۔ اب صحیح راہ پہ چلنا ہماری ذمہ داری ہے؛ آئیے خود کو اغیار کی غلامی سے آزاد کریں تو پروردگارِ عالم ہماری ہدایت حاصل کرنے کی استعداد بڑھا دےگا اور ہمیں اس قابل کردے کہ رسول اللہ محمدﷺ کے بتائے ہوئے راستے و قوانین کے مطابق تقوی کی زندگی بسر کر سکیں۔ یاد رکھیں کہ خالص اللہ تعالی کی رضا کے لیے گذاری زندگی کے واسطے سے کامیابی ممکن ہوگی۔ ہمیں خود کو آزاد کرنا ہے؛ ہر نوع کی غلامی سے؛ یہ دنیا آج شیطان لعین کے بچھائے جال کا کاروبار ہے اور صیہونی یہود و ہنود دجالی نظام جمائے بیٹھے ہیں۔

اختتامی کلمات

اے برادرانِ اسلام؛ دنیا میں آج جسمانی غلامی کا دور نہیں ہے؛ مگر ابلیس نے ایک ایسا دجالی نظام کا جال بچھا رکھا ہے کہ انسان فکری غلامی کا شکار ہوکر اپنے نفس کا غلام بن گیا ہے اور اس کاروان حیات میں لذّات دنیا کی طلب میں سرکرداں ہے؛ جسے اللہ تعالی نے متاع الغرور یعنی دھوکے کا سامان قرار دیا ہے۔ فکری غلامی اور نفس پرستی آج کے دور کا سب سے بڑا فکری اور روحانی مسئلہ ہے۔ اس جدید اور مادہ پرست نظام نے انسان کو ظاہری آزادی کا دھوکہ دے کر اندرونی طور پر زنجیروں میں جکڑ دیا ہے۔

سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے خیالات کو کنٹرول کیا جارہا ہے اور مسلمان بغیر سوچے سمجھے مغربی یا مادہ پرست طرزِ زندگی کو اپنانے مین مگن ہے۔ اور ستم یہ ہے کہ ایمان اور وقت کی قیمت صرف دنیا کے حصول اور دولت کی طلب تک محدود کر دیا ہے۔ حلال و حرام کی تمیز ختم ہو کر صرف ذاتی خواہشات مقدم ہوگئی ہیں۔ دین اور روحانی اقدار کو پچھلے درجے پر دھکیل دیا گیا ہے۔

اے بندگان خدا؛ اپنے روزمرہ کے اعمال میں ذرا ٹہر کر سوچو اور غور کرو کہ میڈیا اور انٹرنیٹ کے بےجا بے مہابا استعمال سے خود کو کیسے بچانا ہےاور اللہ کی یاد اور قرآنی تعلیمات سے کیسے رشتہ جوڑنا ہے؟ یہ دیکھو کہ کس کے غلام ہو اور کیا اس ظلم کے نظام سے بغاوت فرض نہیں ہے؟ مجھ سے پوچھتے ہوتو اس زمین پہ رائج دجالی نطام کے باغی بن جاو اور اللہ سبحان تعالی کی بندگی کرو اور آقا محمد ﷺ کی غلامی کا طوق پہن لو۔ آئیے نیت کریں؛ تو اللہ تعالی اپنے حبیب پاکﷺ کے صدقے اس کوشش کو ہمارے لیے آسان کردینگے۔ ان شاء اللہ۔


مجھے ڈرا نہيں سکتي فضا کي تاريکي

مري سرشت ميں ہے پاکي و درخشاني

تو اے مسافر شب! خود چراغ بن اپنا

کر اپني رات کو داغ جگر سے نوراني

علامہ محمد اقبال


0
197
PP Sheets for Lightweight Construction and Creative Design Projects

PP Sheets for Lightweight Construction and Creative Design Projects

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocIC2mTh_lGgtHa-kEeRHm4zjucU2sfwURbXFswudKyF9A9dng=s96-c
Singhal Industries
4 minutes ago
Maha Durga Yagya During Navratri: Spiritual Protection & Strength

Maha Durga Yagya During Navratri: Spiritual Protection & Strength

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocI1IKhMdQhTVJ4BNRiCFK-xT6zQmC-ApteQuIzGfDGVKR60nQ=s96-c
khati bhai
21 minutes ago

Luxury Flower Delivery in Delhi NCR | Fresh Artisan Blooms

Discover the art of luxury floral gifting with expert tips on maintaining an unbroken cold...

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocJBZ4NQ8Zze6lYteCdwdexcC-ckv96SLmQgWYO4UYo4TNxJU6U=s96-c
saiflower03
28 minutes ago
Primavera P6 Interview Questions and Answers for Freshers and Experienced Professionals

Primavera P6 Interview Questions and Answers for Freshers and Experien...

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocJ6LJieVMeQT6mc3KLQbHnEFNGowhGjY8Nei2nq6hdoZVSuMw=s96-c
suhana Verma
29 minutes ago

ICSI vs IVF Difference: Understanding Fertility Treatment

ICSI vs IVF Difference: Understanding Fertility Treatment Many couples exploring fertil...

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocLJcTJDwi7ZE9mLu9e8iYQBUIPnR2xgaQq4AK0CmGDsUhnI1io=s96-c
Sanya Bansal
47 minutes ago