Muhammad Asif Raza 3 weeks ago
Muhammad Asif Raza #entertainment

جب سنہرے مستقبل کا بیج بویا گیا

Storytelling is an important tool because it builds emotional connections, helps people remember information, and fosters empathy. Fiction is defined as any creative literary or narrative work that portrays imaginary characters, settings, and events. The biggest problem in today's world is the horrific development that man has become a slave to the world and desires. This write up in Urdu "جب سنہرے مستقبل کا بیج بویا گیا" is a fictional story about a discussion between college friends about books, knowledge and the secret of man's life.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


جب سنہرے مستقبل کا بیج بویا گیا


گورنمنٹ گورڈن کالج شہر کی سوا سو سال پرانی تعلیمی درسگاہ ہے اور اس کی پہچان اس علاقے کی سیاسی شعور اور سیاستدانوں کی نرسری کے طور پر رہی ہے۔ تاریخ، فلسفہ اور پولیٹیکل سائنس کے مضامین کی تدریس اور حصول کے لیے یہ ہمیشہ سے اساتذہ اور طالب علموں کا پسندیدہ مرکز رہا ہے۔ ابھی سردیوں کے دن شروع ہو رہے تھے اور کالج کے تاریخ کے مضمون کے ہال کے ماربل کے فرش پر بوٹوں کی چاپ گونج رہی تھی۔ اسلامی تاریخ کا یہ آخری لیکچر ختم ہو چکا تھا، لیکن کلاس روم نمبر 206 میں اب بھی ایک عجیب سا فکری ارتعاش باقی تھا۔ پروفیسر صدیقی اپنی عینک سنبھالتے ہوئے اور ضخیم کتابیں بغل میں دبائے کمرے سے باہر نکل چکے تھے۔

کلاس میں اب صرف تین ہم جماعت باقی رہ گئے تھے:-۔

زید، جو تاریخ اور اقبالیات کا دلدادہ تھا؛ کاشف، جو ہر واقعے کو جدید نفسیات کی عینک سے دیکھنے کا عادی تھا؛ اور رافع، جو جنریشن زی کا نمائندہ، ہاتھ میں آئی پیڈ لیے ہر چیز کو ڈیجیٹل دنیا اور مستقبل کے زاویے سے پرکھتا تھا۔


پروفیسر کے جاتے ہی زید نے گہرا سانس لیا اور بلیک بورڈ پر لکھی علامہ اقبال کی نظم "دین و سیاست" کی سطروں کو دیکھتے ہوئے کہا:۔

"یار کاشف! پروفیسر صدیقی نے آج سچ مچ ہلا کر رکھ دیا۔ جب وہ امل چترجی کی کتاب "پریزنرس آف ایمپائر" / "ایمپائر کے قیدی" کا حوالہ دے رہے تھے کہ کس طرح آج کی اسلامی دنیا بظاہر آزاد ہونے کے باوجود ذہنی طور پر استعمار کی قیدی ہے، تو مجھے اقبال کا وہی بنیادی شعر یاد آ رہا تھا:۔

ہوئی دین و دولت میں جس دم جدائی

ہوس کی امیری، ہوَس کی وزیری


کیا ہم آج خود اپنے ملک میں نہیں دیکھ رہے کہ کیسے اس کتاب کے اصول جوں کے توں نافذ ہیں؟"۔۔

رافع نے بات درمیان میں ہی اچک لی اور اپنے آئی پیڈ کی اسکرین چمکاتے ہوئے کہا:۔

"بالکل زید! اقبال پر جانے سے پہلے ہمیں امل چترجی کی اس کتاب کو ذرا تفصیل سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس میں اصل میں کیا تحقیق کی گئی ہے اور ہمارے اپنے ملک کا نقشہ اس میں کیسے فٹ بیٹھتا ہے۔ دیکھو، میرا ٹیبلٹ یہ بتاتا ہے کہ امل چترجی نے اس کتاب میں استعمار کے پانچ ایسے خوفناک اور ٹھوس اصول وضع کیے ہیں جو آج بھی ہماری ریاست کی رگوں میں لہو بن کر دوڑ رہے ہیں:۔


1 ۔۔ زمین کی ملکیت اور زراعت (جائیداد کا نوآبادیاتی فن تعمیر): چترجی نے اس بات کا پردہ فاش کیا ہے کہ کس طرح نوآبادیاتی حکام نے ہمارے روایتی، فرقہ وارانہ زمینی طریقوں کو سخت، ریاست کے زیر کنٹرول ٹائٹل ڈیڈز میں تبدیل کیا جو مکمل طور پر غیر ملکی حکمرانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے بنے تھے۔ جائیداد کے اس نوآبادیاتی فن تعمیر نے وسیع خطوں کو ایک چھوٹی مقامی اشرافیہ کے ہاتھوں میں مرکوز کر دیا، جس نے زراعت کو مقامی رزق کے بجائے نقد فصل کی برآمد کے لیے ہتھیار بنایا۔ آزادی کے طویل عرصے بعد بھی یہ گہرے قانونی اور ساختی فریم ورک برقرار ہیں۔ ہماری جدید ریاستیں آج بھی ان متزلزل املاک کے حقوق کا احترام کرتی چلی آ رہی ہیں، جس سے زمین کی ملکیت غیر مساوی طور پر تقسیم ہے اور دیہی آبادی نظامی غربت کے چکروں میں پھنسی ہوئی ہے۔


2 ۔ وسائل کو نکالنا اور کان کنی (دولت کو کیسے نکالا جاتا ہے): چترجی نے تفصیل بتائی ہے کہ کس طرح نوآبادیاتی سلطنتوں نے وسائل کے اخراج اور کان کنی کے قانونی اور فزیکل انفراسٹرکچر کو احتیاط سے تیار کیا تاکہ مقبوضہ قوموں کو ان کی قدرتی دولت سے محروم کیا سکے۔ مقامی آبادیوں کو امیر بنانے کے بجائے، معدنیات اور خام مال کو منظم طریقے سے براہ راست غیر ملکی منڈیوں تک پہنچایا گیا۔ آج یہ درست ساختی انتظامات ہمارے اپنے ہاں جدید کارپوریٹ ریاستی معاہدوں کے ذریعے برقرار ہیں۔ ملٹی نیشنل کارپوریشنز اور بدعنوان ملکی اشرافیہ ان موروثی قانونی خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہمارے تیل، گیس اور کان کنی سے حاصل ہونے والے مالی منافع، عوامی ترقی کو نظرانداز کرتے ہوئے ملک سے باہر نکلتے رہیں۔


3 ۔ ٹرانسپورٹ اور تجارتی نیٹ ورکس (بنیادی ڈھانچہ برآمد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، مقامی ترقی کے لیے نہیں): چترجی کا استدلال ہے کہ نوآبادیاتی نقل و حمل اور تجارتی نیٹ ورک کبھی بھی داخلی اقتصادی اتحاد یا مقامی ترقی کو فروغ دینے کے لیے نہیں بنائے گئے تھے۔ اس کے بجائے، ریل لائنوں، سڑکوں، اور جہاز رانی کی بندرگاہوں کو انتہائی احتیاط کے ساتھ سخت 'ٹرانزٹ کوریڈورز' کے طور پر بچھایا گیا تھا، جو خام دولت کو اندرون ملک سے براہ راست عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے بنے تھے۔ مابعد نوآبادیاتی قومیں جسمانی طور پر اس یک طرفہ بنیادی ڈھانچے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ چونکہ یہ ٹرانزٹ روٹس اب بھی بیرونی برآمدات کو گھریلو رابطوں پر ترجیح دیتے ہیں، اس لیے یہ علاقائی تجارت کو روکتے ہیں اور آزاد معیشتوں کو مکمل طور پر غیر ملکی کارپوریٹ خریداروں پر انحصار کرنے پر مجبور رکھتے ہیں۔


4 ۔ تعلیم اور ثقافتی کنٹرول (نوآبادیاتی درجہ بندی کیسے برقرار رہتی ہے): نوآبادیاتی طاقتوں نے اپنے تسلط کو مستحکم کرنے کے لیے تعلیم اور ثقافتی کنٹرول کو نفسیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ غیر ملکی حکمرانوں نے دیسی علمی نظام کو ختم کر کے ایسے ادارہ جاتی نصاب تیار کیے جو سلطنت کے انتظام کو چلانے کے لیے ایک مخصوص 'مقامی اشرافیہ' کو تربیت دینے کے لیے بنے تھے۔ آزادی کے طویل عرصے بعد بھی یہ یورو سینٹرک تعلیمی اور ثقافتی فریم ورک تبدیل نہیں رہے۔ تاریخی سماجی درجہ بندی کو محفوظ رکھ کر اور طلباء کو ان کے اپنے ورثے سے دور کر کے، یہ نظام عدم مساوات کو معمول بناتے ہیں، تنقیدی گھریلو سوچ کو دباتے ہیں، اور جدید حکمران طبقوں کی طرف سے اختیار کردہ طاقت کی حرکیات کی حفاظت کرتے ہیں۔


5 اخلاقیات اور قانونی ڈھانچہ (جدید اشرافیہ کے ذریعہ تیار کردہ نظامی قوانین): چترجی نے انکشاف کیا کہ کس طرح نوآبادیاتی اخلاقیات اور قانونی ڈھانچے کو انصاف فراہم کرنے کے لیے نہیں، بلکہ مقامی آبادیوں کو 'پولیس' کرنے اور غیر ملکی حکمرانی کو محفوظ بنانے کے لیے وضع کیا گیا تھا۔ عوامی اسمبلی، ریاستی رازداری، اور جائیداد کے حقوق کے بارے میں سخت قوانین واضح طور پر اختلاف رائے کو مجرم بنانے کے لیے بنائے گئے تھے۔ آزادی کے بعد، ہماری آنے والی گھریلو اشرافیہ کو یہ قانون سازی کی مشینری وراثت میں ملی، اور انہوں نے اسے جوں کا توں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔"۔۔


رافع نے آئی پیڈ میز پر رکھتے ہوئے گہرا سانس لیا اور زید اور کاشف کی طرف دیکھا۔

اس پر زید تڑپ کر گویا ہوا: "کاشف! رافع! یار، کیا ہم جس تعلیمی نظام سے جڑے ہیں، وہ بذاتِ خود ہمیں ان فرنگی آقاوں کا غلام نہیں بنا رہا؟ امل چٹرجی نے آگے چل کر یہی تو ظاہر کیا ہے کہ سیاسی آزادی خود بخود معاشی یا سماجی خودمختاری کی ضامن نہیں ہوتی۔ چونکہ مابعد نوآبادیاتی اقوام نے غیر ملکی سلطنتوں کے ذریعہ تیار کردہ قانونی، بنیادی ڈھانچے اور انتظامی مشینری کو جوں کا توں برقرار رکھا، اس لیے وہ استحصال کے عالمی چکروں میں بری طرح پھنس کر رہ گئیں۔"۔۔۔

زید نے ہال کی کھڑکی سے باہر تاریخی گورڈن کالج کے پرانے در و دیوار کو دیکھتے ہوئے بات جاری رکھی:۔

"امل چٹرجی کی اس بنیادی تھیوری سے کئی اہم اور چونکا دینے والے نتائج نکلتے ہیں، جنہیں ہمیں اپنے حالات کے تناظر میں سمجھنا ہوگا:۔

• گھریلو ناکامی پر نظامی ڈیزائن : آج کل سابقہ کالونیوں اور ہمارے جیسے ممالک میں جو غربت، بدعنوانی اور عدم استحکام نظر آتا ہے، وہ کوئی موروثی ثقافتی خرابی یا گورننس کی عام ناکامیوں کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ ان نظاموں کے براہ راست اور مطلوبہ نتائج ہیں، جنہیں ڈیزائن ہی دولت نکالنے اور مقامی آبادی کو ہمیشہ دبا کر رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

• جدید اشرافیہ کی ملی بھگت: آزادی نے صرف اتنا کیا کہ نوآبادیاتی مشینری کا کنٹرول غیر ملکی گورنروں کے ہاتھوں سے چھین کر گھریلو اشرافیہ کو منتقل کر دیا۔ یہ جدید رہنما ان جابرانہ قانونی اور معاشی فریم ورک کو فعال طور پر محفوظ رکھتے ہیں کیونکہ وہ خود ان سے براہ راست فائدہ اٹھاتے ہیں۔

• عالمی سرمایہ داری ہی اصل نوآبادیاتی نظام ہے: جدید کثیر القومی کارپوریشنز اور بین الاقوامی تجارتی نیٹ ورکس بالکل اسی طرح کے یک طرفہ نقل و حمل کے راستوں، زمینی قوانین اور کان کنی کے معاہدوں پر انحصار کرتے ہیں جو نوآبادیاتی دور کے دوران قائم کیے گئے تھے تاکہ گلوبل ساؤتھ کے وسائل کو بے دردی سے سمیٹا جا سکے۔

• ترقی کے لیے طرزِ کہن ختم کرنا ضروری ہے: حقیقی ترقی، مساوات اور انسانی حقوق صرف موجودہ بوسیدہ اداروں میں سطحی اصلاحات سے حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ اگر ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کرنی ہے، تو ان ممالک کو وراثت میں ملنے والے نوآبادیاتی طرزِ حکومت کی مکمل تشخیص کرنی ہوگی، اور اس جابرانہ ڈھانچے کو جڑ سے ختم کر کے ایک نئی تعمیرِ نو کرنا ہوگی۔"۔۔۔

رافع نے، جس کی جنریشن زی کی عملی سوچ اب پوری طرح بیدار ہو چکی تھی، اپنے آئی پیڈ کو لاک کیا اور دونوں دوستوں کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں گہرا عزم تھا۔

کاشف نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا:۔۔۔

"یار، علامہ اقبال ارمغانِ حجاز میں اسی میکانکی، مادی اور بے روح بگاڑ پر نوحہ کناں ہیں جہاں مسلمان اپنی باطنی خلافت کو بھول کر بیرونی بتوں کا غلام بن چکا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:۔۔

تو ظاہر و باطن کی خلافت کا سزاوار

کیا شعلہ بھی ہوتا ہے غلامِ خس و خاشاک؟

باقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیری

اے کشتۂ سلطانی و ملّائی و پیری!


اقبال انسان کو جھنجھوڑتے ہیں کہ تو کائنات کا 'شعلہ' (ایمانی حرارت) تھا، تو 'خس و خاشاک' (مادی چمک دمک اور امل چترجی کے بیان کردہ نو آبادیاتی نظاموں) کا غلام کیسے ہو گیا؟ کارل جنگ جسے 'میکانکی طور پر صوفیانہ متن دہرانا' کہتا ہے، اقبال اسی کو 'ملّائی اور پیری' کا جمود کہتے ہیں"۔۔۔


زید نے کاشف کی تائید کرتے ہوئے جوش سے کہا:۔

"بے شک کاشف! علامہ اقبال نے انتہائی خوبصورتی اور بے باکی سے اسلامی معاشروں میں غلامی کو رائج، راسخ اور مستحکم کرنے والے ان تین طاقتور عناصر کی نشاندہی کر دی تھی۔ یہاں 'سلطانی' سے مراد وہ سارا جابر و ظالم حکمران طبقہ ہے جو کسی آئین یا اخلاق کے بجائے بزورِ بندوق اور مادی طاقت کے عوام پر مسلط ہوتا ہے۔ جب اس جابرانہ ملوکیت (سلطانی) کو بے مغز مذہبی پیشواؤں (ملّائی) اور عمل سے دور کرنے والے خانقاہی چکروں (پیری) کی فکری حمایت حاصل ہو جائے، تو یہ تینوں مل کر انسان کی 'آئینہ ضمیری'—یعنی دل کا وہ صاف آئینہ یا باطنی بصیرت، جو سچ اور جھوٹ، اچھائی اور برائی میں تمیز کرتی ہے—اور خودی کا قتل عام کر دیتے ہیں، اور معاشرہ مستقل غلامی کی دلدل میں دھنس جاتا ہے"۔۔۔۔


کاشف نے کرسی پر آگے ہوتے ہوئے کہا:۔

"ملوکیت کا تاریخی آغاز اور معرکۂ کربلا کا متبادل رخ دیکھو! تاریخ کا سب سے گہرا سچ یہ ہے کہ یہ جابرانہ ملوکیت صرف نو آبادیاتی غلامی کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ اس کا آغاز خود اسلامی تاریخ کے اندر سے ہوا۔ یہ نظامِ ملوکیت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دربار سے شروع ہوا اور یزید بن معاویہ کے دربار میں عجلت اور عروج پر پہنچا، جہاں خلافت راشدہ کے جمہوری و اخلاقی اصولوں کو پامال کر کے موروثی بادشاہت قائم کی گئی۔ اسی ملوکیت اور ظلم کے ردِ عمل میں تاریخ کا عظیم ترین معرکہ، معرکۂ کربلا برپا ہوا، جو دراصل 'دین اور سیاست کی علیحدگی' کے خلاف نواسۂ رسول ﷺ کی آخری اور اصولی جنگ تھی۔

لیکن بدقسمتی سے، نو آبادیاتی استعماری دور میں، اس انقلابی پیغام کو دبانے کے لیے ایک گہرا کھیل کھیلا گیا۔ عرب دنیا میں وہابیت کے ابھار اور برصغیر ہند و پاک میں دیوبندیت (اور دیگر ملائی مکاتبِ فکر) کے پھیلاؤ کے ذریعے، معرکۂ کربلا کے اس عظیم انقلابی اور بیدار کن فلسفے کو پسِ پشت ڈال کر اسے صرف فرقہ بازی کی نذر کر دیا گیا، یا پھر محض رونے دھونے اور رسمِ عزاداری تک محدود کر دیا گیا۔

ملّائیت کے پروان چڑھے اس مائنڈ سیٹ نے پورے اسلام کو محض چند ذاتی اعمال, دعاؤں اور بے روح اذکار میں الجھا دیا، اور عام مسلمان کو صرف روٹی، کپڑا اور مکان کی مادی دوڑ کا اسیر بنا دیا۔ پھر انہی کے ذریعے 'دیوانہ بہ کارِ خویش ہوشیار!' کا وہ عیارانہ انداز پھیلایا گیا، جہاں بظاہر یہ مذہبی پیشوا انگریز استعمار کے خلاف کھڑے دکھائی دیتے تھے، مگر اندرونی طور پر انہی مقتدر قوتوں اور جابروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کیے ہوئے تھے، جس کا شکار ہو کر ہمیشہ عام جذباتی مسلمان اپنی جانیں گنواتا رہا۔ یہ استحصالی سلسلہ آج تک جاری ہے، جہاں کربلا جیسا ملوکیت شکن توڑ موجود ہونے کے باوجود اسے فرقہ واریت کی چادر اڑھا کر دفن کر دیا گیا ہے"۔۔۔


زید نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بات جوڑی:۔

"خودی سے فرار: کارل جنگ کا نفسیاتی اِکتشاف بھی تو یہی ہے نا! دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مادی بگاڑ، الہامی حقائق سے بے پروائی اور فکری و تاریخی غلامی کی جڑیں انسان کے اندرونی نفسیاتی فرار میں چھپی ہوئی ہیں۔ مشہور سوئس ماہرِ نفسیات کارل جنگ نے اس انسانی رویے کی گہری تشخیص کرتے ہوئے لکھا تھا:۔

'لوگ اپنی جانوں (روح) کا سامنا کرنے سے بچنے کے لیے کچھ بھی کریں گے، چاہے وہ کتنا ہی مضحکہ خیز ہو۔ وہ ہندوستانی یوگا اور اس کی تمام مشقوں پر عمل کریں گے، سخت طرزِ عمل یا غذا کا مشاہدہ کریں گے، دل سے تھیسفی سیکھیں گے، یا پوری دنیا کے ادب سے میکانکی طور پر صوفیانہ متن کو دہرائیں گے— سب اس وجہ سے کہ وہ اپنے ساتھ نہیں چل سکتے اور انہیں ذرا بھی اعتماد نہیں ہے کہ کوئی بھی مفید چیز کبھی ان کی اپنی جانوں سے نکل سکتی ہے'۔


عصرِ حاضر کی 'روحانیت کی مارکیٹ' اور ملوکیت کے پروردہ عقائد کارل جنگ کے اس قول کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ مادی ترقی اور ملوکانہ ملّائیت کا پجاری بننے کے بعد انسان اپنے حسد، منافقت، خوف اور اندرونی کھوکھلے پن کا سامنا کرنے سے ڈرتا ہے۔ وہ اس کٹھن ذاتی احتساب اور 'رسمِ شبیری' ادا کرنے سے بچنے کے لیے مضحکہ خیز بیرونی راستے اور بے روح وظائف ڈھونڈ نکالتا ہے تاکہ اسے اپنے باطن کو بدلنا اور ظلم کے خلاف کھڑا نہ ہونا پڑے"۔۔۔


کاشف نے سرد آہ بھرتے ہوئے بلیک بورڈ کی طرف دیکھا:۔

"اور یہی ہے مردِ حق کا زوال اور آسمان کا نوحہ... جب ایک کلمہ گو یا حق پرست انسان ملوکیت کی زنجیروں میں جکڑ کر، استعماری طاقتوں سے مرعوب ہو کر الہامی حقائق کو بھول جاتا ہے اور حق گوئی کے بجائے دنیا کے جابروں، بندوق برداروں اور امیروں سے ڈرنے لگتا ہے، تو یہ کائنات کا سب سے بڑا زوال ہوتا ہے۔ اقبال کے الفاظ میں:

سینۂ افلاک سے اٹھتی ہے آہِ سوز ناک

مردِ حق ہوتا ہے جب مرعوبِ سلطان و امیر


لیکن یار، اس زوال کا علاج: اپنے من میں ڈوبنا ہی ہے۔ کارل جنگ کا 'اپنی جان کا سامنا کرنا'، امل چترجی کا 'استعماری قید سے ذہنی آزادی' اور اقبال کا 'خودی میں ڈوبنا' اصل میں ایک ہی سچائی کے الگ الگ رخ ہیں۔ اقبال انسان کے مادی، ملوکانہ اور ملّائی فرار کے تمام راستے بند کرتے ہوئے اسے واپس اس کے باطن کی طرف بلاتے ہیں:

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی

تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن!۔


جب تک انسان مادی اشیاء کی پوجا، بندوق کا خوف اور بے روح ملّائیت کو چھوڑ کر اپنے اندر کے اندھیروں کا بہادری سے سامنا نہیں کرتا، دل میں ایمان کا سوز اور نظر میں پاکیزگی پیدا نہیں کرتا، وہ کبھی خواہشاتِ نفس اور جابر حکمرانوں کے سامنے بے باک اور فاتح نہیں ہو سکتا:۔

دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے

پھر اس میں عجب کیا کہ تو بے باک نہیں ہے

عالم ہے فقط مومنِ جانباز کی میراث

مومن نہیں جو صاحبِ لولاک نہیں ہے"۔


رافع نے، جو اب تک خاموشی سے اپنے آئی پیڈ کی اسکرین پر امل چترجی، کارل جنگ اور اقبال کے ان اصولوں کا ایک فلو چارٹ بنا رہا تھا، آگے بڑھا اور چاک اٹھا کر بلیک بورڈ پر لکھے اشعار کے نیچے، بڑے اور واضح حروف میں وہ سطر لکھی جو گورڈن کالج کے اس کمرہ نمبر 206 میں ہونے والی پوری فکری جنگ کا حتمی نچوڑ تھی:۔۔


"اپنے مَن میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی"

کلاس روم میں سردی کی بڑھتی ہوئی شام کے درمیان ایک گہرا سکوت چھا گیا۔ زید، کاشف اور رافع، تینوں اس سطر کو دیکھ رہے تھے، جہاں تاریخ، نفسیات، سیاسی شعور اور مستقبل کا تانا بانا مل کر ایک نئے انقلابی عزم کا پتا دے رہا تھا۔ کالج کی آخری گھنٹی بجی، تو وہ تینوں اپنے بیگز سنبھال کر کمرے سے باہر نکل آئے، لیکن ماربل کے فرش پر اب ان کے بوٹوں کی چاپ میں ایک نئی خود اعتمادی اور بیداری کی گونج تھی۔

کسی مفکر نے کہا ہے کہ مستقبل کے خواب فلسفی دیکھتے ہیں اور شاعر اس میں رنگ بھرتے ہیں، اور تعلیمی درسگاہیں ان افکار اور خوابوں کی تعبیر کا بیج بوتی ہیں۔ اور شاید، سو سال پرانے تاریخی گورڈن کالج کے اس کمرے میں، سردیوں کی اس اترتی شام، یہی بیج بویا جا چکا تھا۔

2
169
USA Loverboy Hat for a Fresh and Stylish Identity

USA Loverboy Hat for a Fresh and Stylish Identity

defaultuser.png
Suicide boys Merch
48 minutes ago

Convenient Ways to Buy Wine Online Ontario

Exploring options to buy wine online Ontario helps wine enthusiasts discover selections fr...

defaultuser.png
Toonie
2 hours ago

Can Mobile App Gaming affect sleep quality?

defaultuser.png
Consultant
2 hours ago
When Safety Systems Matter Most: Understanding Industrial Protection Measures

When Safety Systems Matter Most: Understanding Industrial Protection M...

defaultuser.png
Ink Voyage
3 hours ago

H2 Chemistry tuition

H2 Chemistry tuition

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocK7or_G87XYbOcCBPIzAbzE2NCQ5r5Q77EhObW1o5Vhl1dJqQ=s96-c
Twig
3 hours ago