Mohaimina... @mohaimina-yasmeen 1 year ago Amazing explanation
Muhammad A... @Muhammad Asif Raza 1 year ago @mohaimina-yasmeen Thanks
Allama Dr Muhammad Iqbal was the great mystic Poet of the Sub Continent India. Iqbal is also the philosopher of East and national poet of Pakistan. This write up in Urdu "فِطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے; کبھی کرتی نہیں ملّت کے گُناہوں کو معاف" is an explanation of the Iqbal's verse with the help of various verses of Iqbal, keeping the main theme is focus.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
فِطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملّت کے گُناہوں کو معاف
مندرجہ بالا شعر علامہ محمد اقبال کی کتاب " ضربِ کلیم" کی نظم " دِین و تعلیم" سے لیا گیا ہے۔ لیکن اس پر گفتگو کرنے سے پہلے ذرا دیکھیں تو سہی کہ آج کا فرد اور ملت کس صورتحال سے نبرد آزما ہے؟
ہماری بصارت میں جو یہ کائنات ہے، زمین وہ واحد سیارہ ہے جہاں زندگی بسی ہوئی ہے۔ زندگی کی نیرنگی حیران کن ہے اور اس حیرت کدہ میں ہم انسان بطور اشرف المخلوقات آباد ہیں۔ اے وطنِ عزیز کے لوگو؛ علامہ محمد اقبالؒ نے ایک صدی قبل غلام ہندوستان کے مسلمان کے لیے "مثنوی پس چه باید" کی نظم " فقر، " میں کہا تھا کہ "اس ملک کا مسلمان اپنے آپ سے نا امید ہے — عمر گذر گئی اس نے کوئی باخدا مرد نہیں دیکھا"۔ مزید کہا ہے کہ " لا محالہ وہ دین کی قوت سے بدظن ہے— وہ خود ہی اپنے کاروان کے لیے رہزن بنا ہوا ہے"۔ حکیم نے بیماری کا سبب بیان کیا کہ " تین سو سال [اب چار سو سال ہوگئے] سے یہ امت زبوں حال ہے — اور بغیر اندرونی سوز و سرور کے دن بسر کر رہی ہے"۔ اور پھر وجہ بھی بتا دی کہ " مسلمان پست فکر ، کم ہمت اور کور ذوق ہو چکا ہے — اس کے تعلیمی ادارے اور علما سب شوق سے محروم ہیں"۔
علامہ اقبالؒ نے سارا کلام غلام ہندوستان میں رہتے ہوئے سارے عالمِ اسلام کے دگرگوں حالات کے مشاہدے سے وجود پذیر ہوا تھا مگر کیا آج تقریبا" اقبال کی رحلت کے ستاسی سال بعد بھی عالم اسلام اُسی حالت غلامی میں مگن مسرور اورمست ہیں۔ فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ پہلے غلام تھے اب آزاد ہیں مگر غلاموں سے بھی بدتر زندگی جی رہے ہیں۔ کیا یہ درست نہیں ہے؟ اب چلتے ہیں اپنے نفسِ مضمون شعر پر جو اقبال کی نظم "دین و تعلیم" سے لیا گیا ہے؛ جو انکی کتاب ضربِ کلیم میں موجود ہے۔
فِطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملّت کے گُناہوں کو معاف
علامہ اقبالؒ کے اس شعر میں ملتوں کے عروج و زوال کا ایک آفاقی اور ابدی اصول بیان ہوا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ فطرت (یعنی قدرت یا نظامِ الٰہی) کسی انفرادی ذات کی لغزش، کمزوری یا گناہ سے چشم پوشی کر لیتی ہے؛ کیونکہ ایک شخص کی خطا سے کائنات کے توازن پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑتا۔ مگر جب پوری ملت اجتماعی طور پر اپنی روحانی، اخلاقی اور فکری قدروں سے انحراف کر لیتی ہے، جب ایمان، اخلاص، دیانت اور عدل اس کے اجتماعی کردار سے مفقود ہو جاتے ہیں، تو فطرت اسے معاف نہیں کرتی۔ اس وقت زوال، غلامی اور رسوائی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ اقبالؒ کے نزدیک فرد کی توبہ نجات کا ذریعہ بن سکتی ہے، مگر ملت کی توبہ اجتماعی بیداری اور خودی کی ازسرِ نو تعمیر سے ہی ممکن ہے۔ یہ شعر دراصل اس حقیقت کا اعلان ہے کہ قوموں کی بقا یا فنا ان کے اجتماعی کردار اور دینی شعور پر منحصر ہے، نہ کہ محض چند افراد کی نیکی یا پرہیزگاری پر۔
مندرجہ ذیل شعر کے پیغام پر بغور توجہ کی ضرورت ہے۔ اقبال کے نزدیک اس کی بہت اہمیت ہے اوراس موضوع کو بہت شدت سے بیان کیا ہے اور متعدد طریقوں سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
اسلام مسلمانوں کو ایمان، اتحاد اور نظم وضبط کے ساتھ اجتماعی زندگی گذارنے کی تعلیم دیتا ہے۔ جہاں ہر شخص اپنے عمل کا خود جوابدہ ہے اور کسی دوسرے کے لیے پوچھ گچھ نہیں ہوگی؛ مگر اس دنیا میں اپنی ذات کے سوا ایک اجتماعی گروہی زندگی کا سبق پڑھایا گیا جس کا مصداق ہے کہ ابن آدم کو اس زمین پر خلیفہ بنایا گیا ہے۔ جو حاکمیت خداوندی کے تحت اس زمین پر امن کا دور قائم کرنا ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو۔ اور ایسا کرنا کوئی ناممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ سبحان تعالی نے اپنے محبوب رسول صلى الله عليه وسلم کے ذریعے ایک کلمہ کی بنیاد پر ریاستِ مدینہ میں ایسا کردکھایا تھا۔ اس امن و محبت کے سمندر میں کیسے کیسے گوہر نایاب برآمد ہوئے کہ پھر تاریخ نے ان سا کوئی دوسرا نہیں دیکھا۔
آقا محمد کے تحت ایک ایسی ریاست قائم ہوئی تھی جہاں امیر و غریب، عام و خواص، خواہ وہ مکہ یا یثرب والے تھے؛ سب کو متحد کردیا تھا؛ اور ایک ایسا معاشرہ ترتیب پاگیا تھا؛ جہاں سارے باسی ایک دوسرے کے مونس وہمدرد اور غمگسار بن گئے تھے اور اللہ تعالی کی راہ میں ایک دوسرے پر برتری کی جستجو میں لگے ہوئے تھے۔ مگر امت کی وحدت کو قائم رکھنے والے تھے۔ سو اسے کے سبب انہوں نے قیصر و کسری کے چمن اجاڑ دئیے اور اللہ کا علم بلند کردیا۔ وقت نے ایران اور شام کو اسلامی ریاست کا حصہ بنتے دیکھا۔
اللہ تعالی نے خود قرآن الحکیم میں فرمایا ہے کہ وقت کا بہتا ہوا دھارا گواہ ہے کہ انسان خسارے میں ہے؛ سو انسانوں نے ایک شاندار بستی بسائی اور خود اپنے ہاتھوں سے تباہ بھی کردی۔ اس تباہ ہونے والی ریاست میں ایک نہیں کئی روشن ستارے تھے مگر اجتماعی طور پر معاشرہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر قائم نہیں رہا۔ امتداد زمانہ دکھاتا ہے کہ ہر معاشرے میں ہر آدم ذات ہر لمحے اپنی خودی میں گم اچھے اور برے کاموں میں مصروف ہوتا ہے۔ مگر کوئی دوسرا نہیں جانتا کہ کیا چل رہا ہے؛ اور اس کا مشاہدہ ہر لمحے ہر شخص خود کرسکتا ہے کہ ہر آدمی اپنے کمزور لمحوں اور گناہوں کا خود گواہ ہوتا ہے۔ مگر کسی عام شخص کے کردار سے کسی قوم کے اجتماعی معاملات میں زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ اور اللہ تعالی نے جس مقصد سے کسی قوم کی اٹھان کی ہوتی ہے؛ وہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔ مگر جب قوم کا اجتماعی شعور بگڑجاتا ہے تو وہ قوم اللہ کی بے آواز لاٹھی کا شکار ہوجاتی ہے۔
امت مسلمہ پچھلے تین سو سال سے مسلسل زوال کا شکار ہے؛ کیونکہ اس کے دامن میں ایسا کوئی شعلہ جوالہ نہیں جو اس کے مقدر کا ستارہ بن جائے۔ آج مسلمان اپنے نفس کا بندہ ہے جسے صرف مادی ترقی کی فکر ہے۔ اقبال خود ہی کہہ گئے ہیں کہ
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
علامہ اقبال نے کتاب ضربِ کلیم کی نظم "اجتہاد" میں آج کے مسلمان کی اشرافیہ کا مسئلہ کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سِکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق!
علامہ اقبال نے کہا ہے کہ ان غلاموں کے طور طریقے دیکھیں جائیں تو دل پہ یہ اثر پڑتا ہے ، گویا ان کے نزدیک قرآن حکیم 'پناہ بخدا' اس وجہ سے ناقص ہو گیا و ناتمام ہو گیا کہ اس نے مسلمانوں کو غلامی کے طریقے نہ سکھائے۔ حالانکہ قرآن حکیم غلامی و محکومی نہیں ، صرف حکمرانی اور فرماں روائی سکھانے کے لئے آیا تھا۔ ان لوگوں میں اپنی حالت بدلنے کی توفیق ہوتی تو غلامی سے نکل کر حکمرانی کے طور طریقے اختیار کرتے۔ انہوں نے قرآن سے محکومی اور غلامی کے لئے جواز کی سندیں ڈھونڈ نکالیں اور اس کی حقیقت ہی بدل ڈالی۔
ہمیں یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ یہ ترقی یافتہ دور جس میں ہم جی رہے ہیں اور جس کی طلب میں ہم بھاگے جارہے ہیں ؛ وہ محض ایک بیکار خواہش ہے اور جس کا حصول ملنے کے بعد بھی لاحاصل تشنہ رہ جاتا ہے۔ علامہ اقبال نے مثنوی پس چه باید، تمہید میں کہا ہے کہ
عصر تو از رمز جان آگاه نیست
دین او جز حب غیر الله نیست
تیرا زمانہ روحانی رموز سے آگاہ نہیں
اس کا مذہب صرف غیر اللہ سے محبت ہے۔
ہم آج جس دور میں جی رہے ہیں اسے انسانی ترقی اور عقل [ سائنس اور ٹیکنولوجی] کے عروج کا زمانہ کہا جارہا ہے۔ اور اس ہی عقل کے تحت انسان نے اللہ تعالی کے وجود سے انکار کردیا؛ سو اقبال نے کتنی فراست سے اس طرف اشارہ کردیا۔
صُبحِ ازل یہ مجھ سے کہا جِبرئیل نے
جو عقل کا غلام ہو، وہ دِل نہ کر قبول
باطل دُوئی پسند ہے، حق لا شریک ہے
شِرکت میانۂ حق و باطل نہ کر قبول!۔
جب کائنات پیدا کی گئی اور حضرت آدم کو وجود عطا کیا گیا تو اللہ نے یہ بات آدم کی گھٹی میں رکھ دی جو مجھ تک جبریل کے واسطے سے پہنچی ہے کہ دیکھنا ایسا دل پیدا نہ کرنا جو عقل کا غلام ہو جو عقل کے پیچھے چلنے والا ہو کیونکہ بہت سے مرحلے زندگی میں ایسے آتے ہیں جہاں عقل کے پیچھے چلنا خوار ہونا اور عشق کی پیروی کرنا با اعتبار اور معزز ہونا ہوتا ہے ۔
باطل اور کفر ایک خدا کے بجائے زیادہ خداؤں کو پسند کرتا ہے ۔ جب کہ سچائی یا حق صرف ایک خدا کو پسند کرتا ہے اور اس کے ساتھ کسی اور کی شرکت گوارا نہیں کرتا ۔ اس لیے اے مسلمان تو بھی حق اور باطل کے درمیان شرکت اور میل جول پسند نہ کر اور حق کو باطل سے الگ رکھ ۔ دنیا میں ہمیشہ حق کا ساتھ دے ۔ چاہے عقل تجھے لاکھ کہے کہ اس میں یہ نقصان ہے اور وہ نقصان ہے اور باطل کے پیچھے کبھی نہ لگنا چاہے عقل تجھے لاکھ کہے کہ اس میں فائدہ ہے اور وہ فائدہ ہے عقل کے بجائے ہمیشہ عشق کو پیش نظر رکھنا کہ اسی میں حقیقی زندگی ہے
علامہ محمد اقبال نے فرد کی اہمیت سے انکار نہیں کیا کہ کہا ہے کہ "افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر؛ ہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارا"۔ مگر وہ فرد ہو کیسا؟ آج کی دنیا میں ایسا کون ہو؛ جو ملت کے مقدر کا ستارہ بن جائے؟ ایک حقیقی مسلم ؛ ایک مومن ہی ایک زندہ اور فعال معاشرے کی تخلیق کرسکتا ہے۔ اور ایک زندہ و فعال معاشرہ ایک سے زیادہ ستاروں کی ضو سے روشنی پاتا ہے۔ اقبال نے اس مومن کی نشاندہی کتاب "ضربِ کلیم " میں کی ہے کہ ایک مومن اس دنیا میں اور کل کی جنت میں؛ جو اس کا اصل مقام ہوگا کیسا ہوگا؛
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
کہتے ہیں فرشتے کہ دِل آویز ہے مومن
حُوروں کو شکایت ہے کم آمیز ہے مومن
علامہ محمد اقبال نے " بابگِ درا کی مشہور نظم "جواب شکوہ" میں فرمایا ہے کہ
کشتیِ حق کا زمانے میں سہارا تُو ہے
عصرِ نَو رات ہے، دھُندلا سا ستارا تُو ہے
یہاں "کشتیِ حق" سے مراد حق، دینِ اسلام، یا الٰہی نظامِ عدل و صداقت ہے جو زمانے کے طوفانوں میں گھرا ہوا ہے۔علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ اے مسلمان نوجوان! زمانے کے اس ہنگامے میں، جہاں باطل قوتیں طاقتور اور سرگرم ہیں، حق کی کشتی کا سہارا تُو ہے۔دنیا میں اگر دینِ حق کو استقامت، تحفظ اور سربلندی نصیب ہونی ہے تو وہ تیرے وجود اور تیرے ایمان سے وابستہ ہے۔
اقبال نوجوان کو یہ احساس دلا رہے ہیں کہ وہ محض ایک تماشائی نہیں، بلکہ اللہ کے نظامِ حق کا محافظ اور علمبردار ہے۔یہ تصور براہِ راست اقبال کے فلسفۂ خودی سے جڑا ہے وہ خودی جو اپنے رب سے جڑ کر کائنات میں اثر انداز ہوتی ہے، اور جو کمزور نہیں بلکہ خالقِ کائنات کی مرضی کی مظہر بن جاتی ہے۔
عصرِ نَو رات ہے، دھُندلا سا ستارا تُو ہے۔"عصرِ نَو" یعنی جدید زمانہ کو اقبال نے رات سے تشبیہ دی ہے اور اسی رات میں مسلمان نوجوان کو اقبال "دھندلا سا ستارا" کہتے ہیں یعنی اس کے اندر روشنی موجود ہے۔ ایمان کی، فکر کی، اور قوتِ عمل کی مگر وہ دھندلا چکا ہے، اپنی اصل سے غافل ہے۔یہ مصرع ایک طرف افسوس کا اظہار ہے کہ نوجوان نے اپنی روشنی کھو دی،اور دوسری طرف امید اور پیغامِ بیداری ہے کہ اگر وہ چاہے تو اسی دھندلکے سے نکل کر پوری امت کا رہنما ستارہ بن سکتا ہے۔اقبال اس شعر میں زمانے کے بحران اور امت کی ذمہ داری دونوں کو بیان کرتے ہیں۔جدید دنیا اگر اندھیری رات ہے تو نوجوان اس کا ممکنہ منور ستارہ ہے۔
اور پھر علامہ اقبال نے فرد سے قوم بننے کا راستہ بھی دکھایا کہ ملت کا حصہ بن جا۔ کسی نظم کا حصہ بن کر اجتماعی کوشش کو فروغ دے۔ اچھے دن اجتماعی نظم سے ایک بہتر ریاست کے قیام سے ممکن ہو سکیں گے؛ علامہ اقبال نے فرمایا کہ
ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ
علامہ اقبال ہر مسلمان کو عزم کا راستہ دکھایا اور اپنی کتاب بانگِ درا کی نظم "طلوعِ اِسلام " میں فرد اور قوم کی ذمہ داری کے ضمن میں کیا خوب فرمایا ہے کہ
تُو رازِ کن فکاں ہے، اپنی انکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا راز داں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جا
ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو
اُخُوّت کا بیاں ہو جا، محبّت کی زباں ہو جا
یہ ہندی، وہ خُراسانی، یہ افغانی، وہ تُورانی
تُو اے شرمندۂ ساحل! اُچھل کر بے کراں ہو جا
غبار آلودۂ رنگ و نَسب ہیں بال و پر تیرے
تُو اے مُرغِ حرم! اُڑنے سے پہلے پَرفشاں ہو جا
خودی میں ڈوب جا غافل! یہ سِرِّ زندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحَر سے جاوداں ہو جا
مَصافِ زندگی میں سیرتِ فولاد پیدا کر
شبستانِ محبّت میں حریر و پرنیاں ہو جا
گزر جا بن کے سیلِ تُند رَو کوہ و بیاباں سے
گلستاں راہ میں آئے تو جُوئے نغمہ خواں ہو جا
ترے علم و محبّت کی نہیں ہے انتہا کوئی
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر سازِ فطرت میں نَوا کوئی
یہ اللہ سبحان تعالی کا احسان ہے کہ ہمیں آقائے دوجہاں، شافع محشر، امام المرسلین، رحمت اللعالمین محمدﷺ کا امتی بنایا، اور یہ احسان بھی کیا کہ ہمیں آزادی کی نعمت کے ساتھ ریاست اسلام کا شہری پیدا کیا۔ اب ضرورت صرف اس ریاست کو اللہ تعالی کی حاکمیت اعلی یعنی قرآن اور سنتِ رسولﷺ کے تابع کرنا ہے۔ اللہ رب کریم ہمیں آقا محمدﷺ کی کامل غلامی عطا فرمائے؛ ہمیں اغیار کی فکری اور معاشی غلامی سے نجات عطا فرمائے؛ اور اس قابل فرمائے کہ کل روز قیامت اللہ تعالی کےحضور آپنے آقا محمدﷺ کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔ اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین ثم آمین
اللهم صل على محمد و على آل محمد كما صليت على ابراهيم و على آل ابراهيم انك حميد مجيد 🌹
اللهم بارك على محمد و على آل محمد كما باركت على ابراهيم و على آل ابراهيم انك حميد مجيد 🌹
NOTE: یہ تحریر آزاد ویب نیٹ پر موجود مختلف ذرائع سے دستیاب مواد کی مدد سے مرتب کی گئی