Human beings are special creation and both men and women are the basic unit for propagation and evaluation of society and civilization. Our world today is considered to be modern and technological advanced and role of both the sexes man and woman has assumed profound importance. This write up in Urdu "ہے دیکھنے کی چیز، اسے بار بار دیکھ" is an opinion instigated by a clip as shared in here to educate all thinking minds.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
ہے دیکھنے کی چیز، اسے بار بار دیکھ
یہ دنیا جس میں ہم بستے ہیں، بہت خوبصورت ہے؛ اور اس میں پھیلے ہوئے قدرت کے عجائبات کسی بھی دیکھنے والی آنکھ کو متحیر کردیتی ہے۔ مندرجہ بالا مصرع شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی شہرہ آفاق کتاب بانگِ درا کی ایک غزل کا ہے۔ اس شعرمیں علامہ اقبال کہتے ہیں کہ اس کائنات کو ایک اجنبی کی طرح نہیں بلکہ گہری نظر سے دیکھو؛ یہ انتہائی حسین دلکش اور مسحور کن ہے مگر اے بندہ خدا اس گلزارِ ہست و بود (ہست و بود ایک فارسی مرکب، مطلب "موجود ہونا، قیام و وجود، یا گزر اوقات کرنا" ہے اور گلزار بمعنی باغ یعنی یہ ہماری زمین) یعنی اس دنیا کو غیروں یا اجنبیوں کی طرح لاتعلق ہو کر مت دیکھو۔ بلکہ اس کی خوبصورتی، تخلیق اور رازوں پر غور و فکر کرو۔ اس میں ایک سبق آموز مشورہ بھی ہے کہ انسان اس سے جتنا بھی لطف اندوز ہونا چاہے، کم ہے۔
گلزارِ ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چیز، اسے بار بار دیکھ
فنا و بقا سے مربوط اس دنیا کو ہر باشعور انسان اجنبیوں اور بیگانوں کے انداز میں نہیں دیکھتا؛ کیونکہ یہ تو ایک ایسا عالم رنگ بو ہے جسے بار بار دیکھنے کی ضرورت ہے اور جو لوگ اور قوم اس حقیقت کو جان کر بصارت اور بصیرت کی سہولت کو استعمال کرتے ہیں؛ دنیا پر حکومت کرتے ہیں۔ (کل کے افیونی اور آج کے چینی قوم کو دیکھ لیجے)۔ اور اس دنیا میں ایسے بھی لوگ بستے ہیں جو اس کے جملہ عناصر پر غور و خوض سے لطف و مسرت کا سبب ڈھونڈ لیتے ہیں۔ یہ دنیا دل لبھانے والی چیز بھی ہے کہ اللہ سبحان تعالی نے ابلیس کو اسی کام کے لیے اس زمین کی حد تک آزاد چھوڑ رکھ ہے؛ اور وہ خوب کھیل رہا ہے۔
اس امر میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ آج کی دنیا گذرے ہوئے وقت کے مقابلے میں بہت تیز رفتار اور سائنسی ترقی کی معراج پر نظر آتی ہے؛ اور جن انسانوں کے لیے یہ دنیاوی زندگی ہی سارا کھیل تماشہ ہے؛ اور"عالم دوبارہ نیست" ہے؛ انکے لیے اس دنیا کے جلوہَ کو محبوب کا نظارہ سمجھ کر آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے اس زمین پر آباد اےانسان1 اگر یہ دنیا اور لذاتِ نفس تیری چاہت ہیں تو اپنے دید کے ذوق کو زندہ رکھ اور کھلی آنکھ سے اپنے محبوب کو ہر رہ گذر پر دیکھ؛ دیکھ کہ ہر گلی کوچے میں نقش کف پائے یار نظر آ جائے؛ یعنی جگہ جگہ تیری دید کے ذوق کی آبیاری کا اہتمام ہوا ہے۔
کھولی ہیں ذوقِ دید نے آنکھیں تری اگر
ہر رہ گزر میں نقشِ کفِ پائے یار دیکھ
علامہ اقبال اس شعر میں عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی دونوں کے حوالے سے فلسفیانہ نکتہ بیان کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انسان اپنے اندر محبوب (یا اللہ) کے دیدار کا سچا شوق اور تڑپ پیدا کر لے، تو اسے ہر طرف اسی کے جلوے نظر آئیں گے۔ ہر راستے اور کائنات کے ہر ذرے میں اسے اپنے محبوب کی موجودگی کا احساس اور اس کے قدموں کے نشان ملیں گے۔
جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سو نمونے
مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ و بو نے
کبھی غور سے بھی دیکھا ہے تو نے
جو معمور تھے وہ محل اب ہیں سونے
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے
انسان ایک عجب ورطہ حیرت ہے؛ کبھی ایسا کام کرتا ہے کہ عالم غیر بشریت بھی ششدر رہ جاتی ہے؛ مگر انسانوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہوتا ہے جو دنیا کی ظاہری خوبصورتی، عیش و آرام اور مادی لذتوں میں اتنا کھو جاتا ہے کہ اسے حقیقت نظر نہیں آتی۔ حالانکہ اس دنیا میں ہر طرف سبق حاصل کرنے اور گزرے ہوئے لوگوں کی ناکامیوں کے نشانات موجود ہیں (جیسے بڑی بڑی سلطنتیں اور بادشاہ مٹی میں مل گئے)۔ اوپر کے مشہور مسدس کے خالق خواجہ عزیز الحسن مجذوب ہیں؛ اور اس کا پیغام ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے، لہٰذا اس سے دل لگا کر بیٹھ جانا عقلمندی نہیں ہے۔ یہ زندگی ہنسی مذاق اور صرف تماشہ نہیں ہے، بلکہ ہر قدم پر ہمارے لیے نصیحت اور عبرت کے سامان موجود ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے سکندر اور بادشاہ بھی یہاں سے خالی ہاتھ چلے گئے۔
بار بار دیکھو، ہزار بار دیکھو؛ کہ دیکھنے کی چیز ہے ہمارا دلرباء۔۔ ایک فلمی نغمہ تھا۔ اسے سنیں اور پھر آگے بڑھیں۔۔۔
آج کی دنیا کی معلوم انسانی تاریخ خود ایک دلچسپ کہانی ہے؛ اور اس کا ہر رنگ ششدر کردیتا ہے؛ اور مشاہدہ کرنے والی آنکھ اس دنیا میں جو کچھ دیکھ رہی ہے (تبدیلیوں کی شدت، حالات کا رخ) وہ اتنی حیران کن ہیں کہ اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ علامہ اقبال نے ایک شعر میں مستقبل کی غیر یقینی اور تیزی سے بدلتی ہوئی حالت کے بارے میں تعجب کا اظہار کرتے ہوئے؛ یوں کہا ہے کہ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
بلاشبہ! آج کے دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی نے حیرت انگیز ترقی کی ہے اور انسان نے ایسے کمالات کر دکھائے ہیں جو ماضی میں محض ایک خواب لگتے تھے۔ سڑکوں پر بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیاں اور ماحول دوست الیکٹرک گاڑیاں عام ہو چکی ہیں۔ جینیاتی انجینئرنگ اور دیگرٹیکنالوجیز کی مدد سے لاعلاج بیماریوں کے علاج پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ خلائی جہاز اب مریخ اور دیگر سیاروں تک پہنچ رہے ہیں۔ ناسا کی جدید دوربینیں کائنات کے گہرے رازوں اور کہکشاؤں کی حیرت انگیز تصاویر زمین تک بھیج رہی ہیں۔ کمپیوٹرز اب انسانوں کی طرح سوچنے، فیصلہ کرنے اور پیچیدہ مسائل حل کرنے کے قابل ہو چکے ہیں۔ واقعی، انسان کی یہ سائنسی اور تکنیکی ترقی انسانی عقل کی بلندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لیکن کیا انسان بدلہ ہے؟
صدیوں پہلے انسانی معراج والی یونان کی تہذیب اور آج کے انسانوں کے درمیان موازنہ کرتے ہیں۔ قدیم یونان میں انسانوں، فنون اور کھیلوں کے شاندار میلے ہوا کرتے تھے، جنہیں آج کی جدید دنیا کی بنیاد بھی کہا جا سکتا ہے۔ ڈیلفی میں ہونے والے پیتھین کھیل اور نیمیئن کھیل بھی انہی بڑے میلوں کا حصہ تھے، ان میلوں میں سب سے نمایاں اولمپیا میں ہونے والے کھیل تھے۔ یہ ۷۷۶ قبل مسیح میں شروع ہوئے، جن میں پورے یونان سے کھلاڑی دیوتاؤں کے اعزاز میں دوڑ، کشتی اور گھڑ دوڑ کے مقابلوں میں حصہ لیتے تھے۔
یہ محض کھیل نہیں ہوتے تھے بلکہ یہ بڑے مذہبی تہوار، موسیقی، شاعری اور ڈرامے کے مقابلے بھی ہوا کرتے تھے جن میں دور دراز سے لوگ شرکت کرتے تھے۔ وہ سب کچھ یونانیوں اور آج کے یورپ کی مشترکہ ثقافت اور فنونِ لطیفہ کے عروج کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ اور آج تمام مغرب اسے اپنا تہذیبی سرمایہ قرار دیتا ہے۔ آج کے جدید اولمپکس اور ثقافتی میلے اسی قدیم یونانی روایت کا تسلسل ہیں، جہاں آج بھی دنیا بھر کے انسان ایک اسٹیج پر اکٹھے ہوتے ہیں۔ اور پچھلے سوا سو سال میں اس نے بہت سی شکلیں بدل لی ہیں۔ اور ایک واضع تبدیلی خواتین یا عورتوں کی کھیل اور مشاغل ہیں۔
قدیم اولمپک کھیلوں میں خواتین براہ راست حصہ نہیں لے سکتی تھیں، اور مرد کھلاڑی مکمل طور پر برہنہ ہو کر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ تاہم، عورتیں دولت مند گھڑ سواروں کے مالکان کے طور پر دیوی ہیریئن گیمز کا حصہ بنتی تھیں۔ دیوی ڈیمیٹر کی اعلیٰ پجاری بالغ، شادی شدہ خاتون کو باضابطہ طور پر مردوں کے اولمپک کھیلوں عزت کے مقام کے ساتھ بطور تماشائی شرکت کی اجازت تھی۔ اس وقت ایتھنیائی خواتین زیادہ تر گھر تک محدود تھیں، جبکہ سپارٹا میں خواتین جسمانی تربیت، دوڑ اور کشتی میں مصروف تھیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ صحت مند، مضبوط بچے پیدا کرنے کے لیے کافی فٹ رہیں۔
ہر چار سال بعد اسی اولمپیا اسٹیڈیم میں دیوی ہیرا کے اعزاز میں صرف نوجوان، غیر شادی شدہ خواتین کے لیے کھیل منعقد ہوتے تھے۔ حریف دائیں کندھے اور چھاتی کو بے نقاب کرتے ہوئےایک ٹیونک (چائٹن) پہنے ہوئے، عمر کے تین زمروں میں منقسم پیدل ریس میں دوڑتی تھیں۔ پادری کے علاوہ، شادی شدہ خواتین کو اولمپک کے اہم مقابلوں میں شرکت سے سختی سے منع کیا گیا تھا، پکڑے جانے پر انہیں سخت سزا کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ تاہم، غیر شادی شدہ خواتین اور غیر ملکیوں کو عام طور پر تماشائی سٹینڈز میں جانے کی اجازت تھی۔
صدیوں سے مردوں کی دنیا نے عورت کو ایک جسم کے طور پر لیا ہے۔ قرونِ اولی ہی سےدنیا کے بیشتر معاشروں میں، عورت کو انسان اور ایک برابر کے فکری ساتھی کے بجائے محض ایک "جسم" اور خوبصورتی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس دقیانوسی سوچ نے عورت کی صلاحیتوں، اس کی ذہنی قابلیت اور اس کی انفرادیت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ اس مضمون کی وجہ اوپر کا کلپ ہےاور اس کو سمجھنا کیوں ضروری ہے؟ یہ معاشرتی انسانی تہذیب کے لیے اہم ہے۔
انسانی تاریخ نے کروٹ بدلی اور جدید اولمپک کھیلوں کا آغاز ہوا تو خواتین کو بھی شمولیت دی گئی۔ 1900 میں، خواتین کو صرف مٹھی بھر کھیلوں میں حصہ لینے کی اجازت تھی جنہیں "معاشرتی طور پر قابل قبول" سمجھا جاتا تھا، جیسے کہ ٹینس، گولف، کروکیٹ اور سیلنگ۔ دیگر کھیلوں کو خواتین حریفوں کے لیے کھلنے میں کئی دہائیاں لگیں۔
ابتدائی خواتین ایتھلیٹک یونیفارم کو جسمانی مشقت کی سہولت کے بجائے سخت وکٹورین شائستگی کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ شروع میں خواتین نے بھاری کارسیٹ، پیٹی کوٹ اور فرش کی لمبائی والی اسکرٹس میں مقابلہ کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ابتدائی بلومر اور جم لپس متعارف کرائے گئے تھے، لیکن وہ بڑے پیمانے پر بیرل کی شکل کے تھے، ترقی پذیر خواتین کی شکل کو چھپانے اور ایتھلیٹزم کو چھپانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
آج ایکسویں صدی میں خواتین کے کھیلوں کے یونیفارم پابندی والے، پدرانہ لباس سے کارکردگی پر مبنی، بااختیار بنانے والے لباس میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ جیسے جیسے کھیل ٹیلیویژن کے بڑے تماشے بن گئے، بیانیہ عملییت سے جنسیت کی طرف منتقل ہو گیا۔ ناظرین کی تعداد کو بڑھانے کے لیے یونیفارم چھوٹی، ننگے پن اور زیادہ گھماؤ والی ہو گئی۔ کھیلوں کے انتظامی ادارے فعال طور پر اس کی طرف مائل ہیں۔ مثال کے طور پر، فیفا کے صدر سیپ بلاٹر نے 2004 میں تجویز کیا کہ خواتین فٹ بال کھلاڑی اسپانسرز اور ناظرین کو راغب کرنے کے لیے مختصر شارٹس پہنیں۔ سنہ 2021 میں، ناروے کی خواتین کی بیچ ہینڈ بال ٹیم کو یورپی ہینڈ بال فیڈریشن نے ریگولیشن بکنی بوٹمز کے بجائے فنکشنل لائکرا شارٹس میں کھیلنے کا انتخاب کرنے پر جرمانہ کیا تھا۔
آج پھر طاقتور لوگوں نے عورت کو اشتہار کی کمائی کے نام پر خوبصورتی کا سودا کرلیا ہے۔ آج بھی عورت کا جسم ہی بیچا جارہا ہے اور خود عورت بھی خود کو اسی مقام پر پہنچا رہی ہے۔ حالانکہ قدرت کی اس تخلیق میں ایک اہم عنصر روح بھی ہے۔ قدرت کی اس لاجواب تخلیق—یعنی "عورت"—میں روح اور جذبے کا عنصر ہی اسے کائنات کی سب سے توانا، مضبوط اور خوبصورت ترین ہستی بناتا ہے۔ یہ وہی طاقتور روح ہے جو زندگی کی تمام تر صعوبتوں، قربانیوں اور آزمائشوں کے باوجود نہ صرف خود کو سنبھالتی ہے، بلکہ اپنے اردگرد کے ماحول اور خاندان کو بھی محبت، صبر اور استقامت کے ساتھ پروان چڑھاتی ہے۔ اس کی یہی روحانی اور جذباتی توانائی معاشرے کی بقا اور ترقی کی بنیاد ہے۔
آج کے دور میں، تعلیم اور شعور کی بیداری کے ساتھ اس فرسودہ سوچ میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔ خواتین اب زندگی کے ہر شعبے—سائنس، سیاست، معیشت اور ادب—میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں اور معاشرے میں اپنی حقیقی اور برابر کی انسانی شناخت منوا رہی ہیں۔ تاہم، اس نظریے کو مکمل طور پر بدلنے اور معاشرے کو ایک حقیقی مساوی مقام بنانے کے لیے ابھی بھی ایک طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔ اس کے لیے مرد اور عورت کی بچپن ہی سے تربیت کی ضرورت ہے۔ ایک پُرامن دنیا مرد و خواتیں کے باہم اشتراک ہی سے حاصل ہوسکے گی۔ کیونکہ ایک مرد اور عورت مل کر ایک خاندان بناتے ہیں اور پھر اس سے قبیلے او قومیں بنتی ہیں۔ باہم شیر شکر خاندان اور قومیں باہم پُرامن دنیا تخلیق کرسکیں گے۔