Muhammad Asif Raza 1 month ago
Muhammad Asif Raza #education

درباری پیشوائیت: کربلا سے فلسطین تک

From Karbala to Palestine, there is a topic that reflects the conflict between vested religious leadership (pro-party scholars) and real Islamic principles in the political and religious landscape of Islamic history and present. The title highlights how the rulers of each era used the people (presentations) of religion to prolong their political goals and power. This write up in Urdu "درباری پیشوائیت: کربلا سے فلسطین تک" is about two major tragedies, the problem of Karbala and the current era of Palestine wrt to Muslim nations.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


درباری پیشوائیت: کربلا سے فلسطین تک


کربلا سے فلسطین تک ایک ایسا موضوع ہے جو اسلامی تاریخ اور موجودہ دور کے سیاسی و مذہبی منظرنامے میں مفاد پرست مذہبی قیادت (درباری علماء) اور حقیقی اسلامی اصولوں کے درمیان ٹکراؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ عنوان اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ کس طرح ہر دور کے حکمرانوں نے اپنے سیاسی مقاصد اور اقتدار کو طول دینے کے لیے مذہب کا لبادہ اوڑھنے والے افراد (پیشواؤں) کو استعمال کیا۔ تاریخ کے دو بڑے سانحات—معرکہ کربلا اور موجودہ دور کا مسئلہ فلسطین—اس درباری پیشوائیت کے کردار کو سمجھنے کے لیے واضح مثالیں ہیں۔


یہی شیخِ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھاتا ہے

گلیمِ بوذر و دلقِ اویس و چادرِ زہرا


حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے جہاں مسلمانوں کو خودی، بیداری اور انقلاب کا درس دیا، وہاں انہوں نے مسلم معاشرے کی زبوں حالی کے اسباب پر بھی گہری نظر رکھی۔ اقبال کے نزدیک مسلمانوں کے زوال کی ایک بڑی وجہ وہ نام نہاد مذہبی رہنما اور "شیخِ حرم" ہیں جو دین کو اخلاص اور عمل کے بجائے ذاتی مفاد، اقتدار اور کمائی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ زیرِ نظر عنوان اسی تلخ حقیقت کا ایک دردناک نوحہ ہے۔

علامہ محمد اقبال کے اس شعرکی تشریح اور تلمیحات کا پس منظر جانتے ہیں؛ کیونکہ یہاں شعر کو سمجھنے کے لیے اقبال کی استعمال کردہ تلمیحات (تاریخی حوالوں) کو سمجھنا ضروری ہے:۔

• گلیمِ بوذر: حضرت ابوذر غفاریؓ کی کمبل، جو انتہا درجے کے زہد، تقویٰ اور سرمایہ داری کے خلاف مہم کی علامت ہے۔

• دلقِ اویس: حضرت اویس قرنیؓ کی گدڑی، جو عشقِ رسولﷺ اور دنیا سے بے رغبتی کی انتہا ہے۔

• چادرِ زہرا: خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزہراؓ کی چادر، جو پاکدامنی، حیا، اور فقر و فاقہ میں بھی صابر رہنے کی علامت ہے۔


اقبال فرماتے ہیں کہ افسوس! آج کا "شیخِ حرم" (مذہبی پیشوا) ان عظیم ہستیوں کے نام، ان کی قربانیوں اور ان کے تقدس کو بازارِ دنیا میں بیچ کر اپنی دکان چمکا رہا ہے۔ وہ عوام کو ان بزرگوں کی زہد و قناعت کے قصے تو سناتے ہیں، لیکن خود عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں۔ یہ تضاد مسلم امہ کو فکری اور اخلاقی طور پر کھوکھلا کر رہا ہے۔

کربلا: ملوکیت کا آغاز اور درباری فتوے

کربلا کا میدان تاریخِ اسلام کا وہ عظیم موڑ ہے جہاں سے دینِ حق کے نظام کو ملوکیت (شاہی نظام) میں بدلنے کی کوشش کی گئی، اور بدقسمتی سے اسی دور سے مصلحت پسند اور درباری علما کا وہ طبقہ سامنے آیا جس نے حق کے بجائے تخت کا ساتھ دیا۔ جب یزید نے اسلامی خلافت کو ملوکیت اور ذاتی عیاشی کے نظام میں بدلنا چاہا اور دین کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا شروع کیا، تو اس وقت بھی دربارِ یزید میں ایسے نام نہاد علما اور قاضی موجود تھے جنہوں نے اس کے ناجائز اقتدار کو "شرعی جواز" دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے مصلحت کی چادر اوڑھ لی اور عوام کو اطاعت کا درس دیا۔ لیکن دوسری طرف سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام نے اس درباری اور منافقانہ نظام کے خلاف اس وقت "جہاد" کیا جب ظاہری اسباب بالکل سازگار نہیں تھے۔ امام عالی مقام کا یہ اقدام رہتی دنیا تک کے لیے یہ پیغام تھا کہ دینِ حق کبھی مصلحت پسندی اور ظالم کے سامنے جھکنے کا نام نہیں ہے۔


سقوطِ بغداد و غرناطہ: فکری جمود اور بے حسی

جب بھی امت پر زوال آیا، درباری ملاؤں نے مصلحت پسندی، فتووں اور خاموشی کے ذریعے ظالم کا راستہ آسان کیا:۔

• سقوطِ بغداد: جب ہلاکو خان کی فوجیں بغداد کے دروازوں پر دستک دے رہی تھیں، اس وقت بغداد کے منبر و محراب اور مدارس میں "جہاد" اور دفاعِ وطن کی تلقین کے بجائے غیر ضروری فروعی، فقہی اور کلامی بحثیں عروج پر تھیں۔ مقتدر مذہبی طبقہ وقت کے حکمرانوں کی خوشامدی سیاست میں مصروف تھا، جس کا انجام یہ ہوا کہ بغداد کی سڑکیں مسلمانوں کے خون سے سرخ ہو گئیں۔

• سقوطِ غرناطہ: اندلس (اسپین) میں مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکومت کے خاتمے کے پیچھے بھی یہی درباری سیاست اور مذہبی منافقت تھی۔ جب عیسائی افواج مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا رہی تھیں، تو مسلم دنیا کے سلاطین اور ان کے زیرِ اثر درباری علما ایک دوسرے کے خلاف فتوے بازیاں کر رہے تھے اور اپنی بقا کے لیے غیروں سے سمجھوتے کر رہے تھے، جس کا انجام اندلس سے مسلمانوں کے مکمل خاتمے کی صورت میں نکلا۔

تحریکِ بالا کوٹ اور سرفروش علماء کا کردار

جب برصغیر پاک و ہند پر انگریز اور سکھ راج مسلمانوں کی مذہبی و سیاسی آزادی کو کچل رہا تھا، تو مخلص علمائے دین خاموش نہ رہے۔ انہوں نے ہندوستان کو دار الحرب قرار دیا اور غیر ملکی غاصبوں کے خلاف جہاد کا علم بلند کیا۔ اسی تحریک کے عظیم قائد سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید نے میدانِ بالا کوٹ میں اپنے اسلاف کی لاج رکھتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی قربانیوں کا نتیجہ تھا کہ 1857ء کی جنگِ آزادی میں ہزاروں علمائے حق کو انگریزوں نے توپوں کے آگے رکھ کر اڑا دیا اور پھانسیوں پر لٹکایا، مگر انہوں نے حق کا سودا نہیں کیا۔


انگریز سرکار کا درباری متبادل اور اقبال کی فکری جنگ

سرفروش اور مجاہد علماء کی اس مزاحمت سے خوفزدہ ہو کر انگریز سرکار نے ایک نئی چال چلی۔ انہوں نے مال، جائیدادوں اور درباری القابات کے عوض ایسے "سرکاری ملا" پالنا شروع کیے جو مسلمانوں کو انگریز کی اطاعت کا درس دیں، جہاد کو حرام قرار دیں اور قوم کو فروعی بحثوں میں الجھا دیں۔ حکیم الامت علامہ اقبال نے ان درباری اور وظیفہ خوار ملاؤں کے اس بھیانک کردار کو پہچان لیا تھا۔ انہوں نے فرمایا:۔

ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت

ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد!۔


تحریکِ پاکستان اور کانگریسی ملاؤں کا کردار

جب قائدِ اعظم محمد علی جناح نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد وطن "پاکستان" کا مطالبہ کیا، تو یہی انگریز کے پالتو اور مصلحت پسند ملا ایک بار پھر متحرک ہو گئے۔ انہوں نے انگریز، گاندھی اور نہرو کے اکھنڈ بھارت کے نظریے کا ساتھ دیا اور مسلم لیگ کی مخالفت کی۔ انہوں نے قائدِ اعظم پر کفر کے فتوے لگائے، وہ اپنی عاقبت اور مسلم قوم کا مستقبل بھول کر ہندو بنیا اور انگریز حکمرانوں کی سیاسی شطرنج کے مہرے بن گئے۔ لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ فتح سچے عزم کی ہوئی اور درباری ملاؤں کا بیانیہ تاریخ کے کوڑے دان میں چلا گیا۔

کربلا و بالا کوٹ سے فلسطین تک — المیہ وہی، کردار وہی

تاریخ کا یہ دردناک سفر جب گھوم کر آج کے فلسطین، غزہ اور لبنان پر پہنچتا ہے، تو منظر نامہ ذرا بھی بدلا ہوا نظر نہیں آتا۔ آج جب غزہ کی سڑکیں معصوم بچوں اور ماؤں کے خون سے سرخ ہیں، پائلٹ اور ٹینک انسانیت کا قتلِ عام کر رہے ہیں، اور مسجدِ اقصیٰ خطرے میں ہے، تو امتِ مسلمہ کا وہی صدیوں پرانا زخم پھر سے ہرا ہو گیا ہے۔

آج کے اس بدترین انسانی المیے پر جہاں دنیا بھر کے عوام سراپا احتجاج ہیں، وہیں مسلم دنیا کے مقتدر سلاطین، حکمران اور ان کے زیرِ اثر "جدید درباری مفتی اور شیخِ حرم" مصلحت کی چادر اوڑھے بیٹھے ہیں۔ آج بھی منبر و محراب سے مظلوموں کے حق میں عملی جہاد اور ٹھوس اقدامات کی تلقین کرنے کے بجائے، حکمرانوں کی سیاسی مجبوریوں اور بین الاقوامی معاہدوں کو "شرعی جواز" فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اسلامی تعاون تنظیم اور مسلم ممالک کی افواج کے سربراہان خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، اور درباری ملا فروعی بحثوں یا حرمین کے نام پر سیاسی بیانیے چمکانے میں مصروف ہیں۔ یہ وہی کھیل ہے جو کبھی یزید کے دربار میں، کبھی بغداد و غرناطہ میں، اور کبھی انگریز کے دورِ حکومت میں رچایا گیا تھا۔

حاصلِ کلام (اختتامی کلمات)

علامہ محمد اقبال کا یہ لازوال شعر محض ماضی کا کوئی نوحہ نہیں، بلکہ ہر دور کے مصلحت پسند، خود غرض اور درباری مذہبی طبقے کے چہرے پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ کربلا سے لے کر بالا کوٹ تک، اور بالا کوٹ سے لے کر آج کے زخمی فلسطین تک—تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ دینِ حق کی بقا کبھی درباری فتووں اور وظیفہ خوار ملاؤں کی مرہونِ منت نہیں رہی۔ دین ہمیشہ سرفروشوں، مجاہدوں اور باکردار علماء کے خون سے زندہ رہا ہے جنہوں نے وقت کے یزیدوں اور غاصبوں کے سامنے کلمۂ حق بلند کیا۔

آج امتِ مسلمہ کو اگر اس فکری اور سیاسی زوال سے نکلنا ہے، تو اسے نام نہاد شعبدہ بازوں، درباری مفتیوں اور مصلحت پسند حکمرانوں کے سحر سے باہر نکلنا ہوگا۔ ہمیں اسلاف کے اس حقیقی فقر اور جہاد کی روح کو بیدار کرنا ہوگا جو حضرت ابوذر غفاریؓ، حضرت اویس قرنیؓ اور سیدہ فاطمہ زہراؓ کا اثاثہ تھی۔ جب تک منبر و محراب انگریز، گاندھی یا کسی بھی جدید دور کے غاصبوں کی غلامی سے آزاد ہو کر جرأتِ حسینیؑ کا آئین دار نہیں بنتا، تب تک مسلم امہ کی حقیقی بیداری اور فلسطین جیسے مظلوم خطوں کی آزادی ممکن نہیں ہے۔

اور مسلم قوم یا امت نفاق کی زندگی گذارتے رہیں گے۔ جو سوائے دین و دنیا دونوں کی تباہی اور کچھ نہیں ہے۔ اور ستم تو یہ ہے کہ یہ عذاب آج مسلمان قوموں پہ سایہ فگن ہے اور مجال ہے جو کسی کے سر پہ جوں بھی رینگی ہو۔ غفلتِ سود و زیاں کا یہ انداز تو آسمان نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

0
143

Choose Professional Driving Lessons for a Safer Driving Experience in...

defaultuser.png
northerndriving
1 minute ago

Discover Better Oral Care Savings with Laifen Black Friday Offers

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocI2ZN8xP6NYdrR8SlQXEuZoFX9lolDubLU4Zxtipz4dXrJQrQ=s96-c
Jdjjdhhxbb Jdjjdhhxbb
5 minutes ago
What SEBI's Market-Cap Classification Bands Mean for a Stock Like Bajaj Housing Finance

What SEBI's Market-Cap Classification Bands Mean for a Stock Like Baja...

1759475838.jpg
Puja Rawat
5 minutes ago

From Asia to Europe: Understanding Regional Differences in Global Plas...

Plastics markets remained uneven during September 2026.

1793274519_2qgtt20alj.png
Georgie Bill
11 minutes ago
Online Vehicle Tax in the UK: A Complete Guide for Drivers

Online Vehicle Tax in the UK: A Complete Guide for Drivers

defaultuser.png
Matthev Henry
15 minutes ago