دربان، قاضی اور کسان

Storytelling is the social and cultural activity of sharing stories, sometimes with improvisation, theatrics or embellishment. Such a story is a mean of education, entertainment, cultural preservation and instilling moral, ethical and societal values. This write up in Urdu "دربان، قاضی اور کسان" is also aiming the said purposes.

Jun 20, 2025 - Muhammad Asif Raza

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

 

دربان، قاضی اور کسان

 

پچھلے وقتوں میں ترکی میں ایک کسان تھا جس کا نام عبدل تھا۔ اس کے پاس تھوڑی سی زمین تھی مگر اس زمین کی پیداوار سے اس کا گزارہ نہیں ہوتا تھا۔ اس کی بیوی نے دو بھینیسں رکھی ہوئی تھیں، وہ ان کے دودھ سے گھی، مکھن اور پنیر بناتی۔ کسان وہ دودھ اور پنیر شہر لے جاتا اور وہاں سے اس کے بدلے شہد خرید لاتا۔ گاؤں میں شہد کی بہت مانگ تھی، واپس آکر وہ شہد بیچ کر رقم حاصل کر لیتا تھا۔ جس سے اس کی گزر بسر ہوتی تھی۔

لیکن کچھ عرصہ کے بعد ایک مسئلہ ہوگیا کہ جب عبدل اپنا سامان یعنی مکھن اور پنیر کے برتن لے کر شہر پہنچا تو دربان نے اسے روک لیا کہ تم قاضی کی اجازت کے بغیر شہر میں داخل نہیں ہو سکتے۔

عبدل نے اس کی بہت منت سماجت کی مگر دربان نے اسے شہر میں داخل ہونے نہ دیا۔ اس دوران اس نے دیکھا کہ کچھ دوسرے افراد دربان کی ہتھیلی گرما کر گذرجاتے تھے۔ تھوڑی دیر سوچنے کے بعد عبدل نے کہا کہ دربان بھائی تم ایسا کرو ان برتنوں میں سے ایک برتن تم رکھ لو۔ دربان کو برتن میں سے تازہ پنیر کی مہک آرہی تھی، اس نے برتن رکھ لیا اور عبدل کو شہر میں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔

عبدل کا مال بک گیا تو اس نے شہد خریدا اور واپس گاؤں کو چل دیا۔ واپسی پر شہر کے دروازے پر اسے پھر دربان نے روک لیا اور کہا کہ قاضی کی اجازت کے بغیر باہربھی نہیں جایا سکتا۔ چنانچہ عبدل نے دربان کو شہد سے بھری بوتل پیش کی۔ تب دربان نے اسے شہر سے باہر جانے دیا۔

گھر آ کر عبدل سوچتا رہا کہ اگر ایسے ہی دربان کو رشوت دیتا رہا تو بہت نقصان ہو جائے گا۔ چنانچہ اگلے دن وہ سیدھا قاضی کے پاس پیش ہو گیا تاکہ اجازت نامے کی درخواست کرے اور دربان کو رشوت دینے سے اس کی جان چھوٹ جائے۔ مگر قاضی اپنی کتابوں میں ایسے گم ہو گیا، جیسے اس کے سامنے کوئی موجود ہی نہ ہو۔ کچھ دیر بعد اس نے عبدل کو دیکھا اور کہا آج وقت نہیں ہے کل آنا۔ اگلے روز عبدل پھر پیش ہوا مگر قاضی نے اسے پھر ٹال دیا۔ عبدل کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ حکومت کا بڑا قاضی ایسا کیوں کر رہا ہے؟

گھر واپسی کے راستے پر اسے ایک بزرگ ملے انہوں نے بتایا کہ اس شہر کا حاکم بدل گیا ہے اور اب نئی تنظیم کے بعد کوتوالی، محافظ اور قاضی سمیت سب محکموں میں نئے منصب دار آگئے ہیں؛ اور حکومتِ وقت کی خصلت کی طرح اب رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا؛ چنانچہ تم قاضی صاحب کو جا کر نذرانہ پیش کرو گے تو تب تمہارا کام ہو جائے گا۔

عبدل دیہات کو رہنے والا تھا؛ اور اسے شہر کی خباثتوں کا علم نہ تھا؛ بزرگ کی بات سن کر اسے بڑا رنج ہوا اور اسے غصّہ بھی آیا کہ وہ اور اس کی بیوی محنت کرکے یہ سب سامان تیار کرتے ہیں اور وہ سڑکوں بازاروں پر پیدل پھر کر رقم جمع کرتا ہے جس میں سے یہ لوگ رشوت چاہتے ہیں۔

اس نے کچھ سوچنے کے بعد پنیر کے ایک برتن میں گوبر بھر لیا مگر اوپر کی تھوڑی سی جگہ خالی رکھی۔ اس پر اس نے پنیر ڈال دیا، دیکھنے سے یوں لگ رہا تھا جیسے سارا برتن پنیر سے بھرا ہوا ہے۔ اگلے دن وہ برتن لے کر قاضی کی خدمت میں پیش ہو گیا کہ حضور یہ ہمارے علاقے کی خاص سوغات ہے آپ اسے قبول فرمائیں۔

قاضی نے اس روز کچھ دیر نہ لگائی اور برتن لے کر ایک طرف رکھتے ہوئے پوچھا تمہاری درخواست کہاں ہے؟ عبدل نے درخواست سامنے رکھی تو قاضی نے اسے منظور کر کے اجازت نامے پر اپنی مہر ثبت کر دی۔ عبدل نے اجازت نامہ جیب میں رکھا اور پوچھا کہ حضور کیا پنیر لیے بغیر آپ میری درخواست پر دستخط نہیں کر سکتے تھے؟

قاضی نے کہا تمہارا کام ہو گیا، اب گھر جاؤ اور یاد رکھو معاملے کی گہرائی میں کبھی نہیں جانا چاہیے۔

عبدل نے قاضی کے دفتر سے باہر قدم رکھا اور اونچی آواز میں بولا: "قاضی صاحب؛ آپ بھی برتن کی گہرائی میں نہ جائیے گا"۔

کہنے کو یہ ایک حکایت ہے جو ایک حقیقی واقعے پر مبنی ہوسکتی ہے اور نہیں بھی؛ مگر انسان صدیوں سے معاشرہ اور تہذیب بنا کر رہ رہے ہیں۔ جس میں ریاست ایک حقیقی وجود رکھتا ہے۔ اور اس وجود کے عناصر ہوتے ہیں اور پھر فرائض اور حقوق بھی ہوتے ہیں۔ صدیوں کے تجربات کے بعد انسانوں نے جانا کہ ریاست کی تین ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ اپنی رعایا کو زندگی کا حق امن کے ساتھ دینا؛ انصاف فراہم کرنا؛ اور زندگی بسر کرنے کو روزگار اور محنت کی آزادی۔

اوپر کی حکایت میں ایک دربان اور قاضی کا ذکر کیا گیا ہے؛ جو دربان اور کوتوال بھی ہوسکتا تھا؛ جو کسی بازار میں سرکاری اعمالدار؛ سوداگر اور گاہک بھی ہوسکتا تھا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ جب حکمران بدنیت و بدخصلت ہوتے تھے تو اس کے اعمالدار بھی ایسی ہی بن جاتے تھے؛ اورخربوزہ سے خربوزہ رنگ پکڑتا ہے کے مصداق ایک دفتر سے نکلنے والی خرابی سارے دفتروں تک پھیل جاتی تھی؛ جس کے سبب اس ریاست کے باسیوں میں بے چینی پھیل جاتی تھی؛ جو کچھ عرصے بعد بغاوت میں بدل جاتی تھی۔ باغی خود یا کسی پڑوسی حکمران کے ساتھ مل کر اپنے حکمران اور اس کے اعمالداروں کو سبق سکھا دیتے تھے۔

ریاست کا اصل کام اپنے باسیوں کو قابو کرنا نہیں ہوتا اور نہ ہی لوگوں کو ڈرا دھمکا کر خوف و ہراس میں مبتلا کیے رکھنا؛ بلکہ ریاست کا بنیادی مقصد ہر انسان کے لیے تحفظ اور امن و امان کی صورتحال یقینی بنا کر شہریوں کو آزاد کرنا ہوتا ہے۔ ریاست امن و امان فراہم کرنے کے لیے شہریوں سے محصولات وصول کرتی ہے - تاکہ شہری تحفظ کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں اور اپنی روٹی روزی کے لیے انتظام دلجمعی کے ساتھ کر سکیں۔

ایک ریاست اپنے اعلیٰ قابل ذہنوں کے حامل عقلمند انسانوں اور عام انسانوں کو جنگلی جانوروں یا مشینوں میں تبدیل کرنا نہیں کرتی ہے بلکہ ایسا ماحولِ زندگی فراہم کرتی ہے جس میں وہ پوری آزادی کے ساتھ اپنی محنت کا پورا حق حاصل کرسکیں اور یوں زندگی کے محاسن سے لطف اندوز ہو سکیں۔ ناانصافی اور جبر بے چینی کو جنم دیتی ہے جس سے ذہنی افزودگی میں رکاوٹ کھڑی ہوجاتی ہے؛ اور سوچ اور فکر اگر آزادانہ نہ ہو تو نفرت یا غصہ جنم لیتا ہے؛ اور بزور طاقت بدلہ کی سوچ پید ہوتی ہے؛ جس سے افراد اپنے ساتھ ہونے والی بددیانتیوں اور نا انصافیوں کا بدلہ لینے پر اکسائے جاتے ہیں۔

اختتامی کلمات

ریاست کا اصل مقصد لوگوں کو امن انصاف اور آزادی جستجوئے زندگی کی ضمانت فراہم کرنا ہے۔ اوپر کی حکایت میں قاضی کو دیا گیا گوبر اس کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونی چاہیے تھیں؛ جس سےممکن ہے کہ اس کی غیرت و ضمیر جاگ گیا ہو۔ ظلم اور ناانصافی کا نظام زیادہ دیر نہیں چلتا کیونکہ اس کے خوفناک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کامیاب قومیں انصاف اور عدل پر مبنی امن اور آشتی کی بستیاں بساتی ہیں۔

آج کے دور جدید میں معلومات کو خفیہ رکھنا بہت دشوار ہوگیا ہے؛ چنانچہ ضروری ہے کہ حکومتیں اپنے شہریوں کو بےوقوف سمجھنا چھوڑ دیں اور اپنے اقدامات میں شفافیت لائیں اور وسیع تر عوامی مفاد میں فلاح و بہبود کے حقیقی اقدامات کریں۔


More Posts