Muhammad Asif Raza 3 weeks ago
Muhammad Asif Raza #entertainment

دھندلے ماضی کی روشن یاد: دادی کی پیٹی

The story beautifully captures the shared past of East and West Punjab, filled with deep emotion. Inside an old, dusty room of a haveli, an elderly grandmother sits beside her open wooden trunk, which holds cherished keepsakes like traditional phulkari fabric, old photographs, and a prayer bead. This story in Urdu "دھندلے ماضی کی روشن یاد: دادی کی پیٹی" is more than just a picture; it is a vivid reflection of the poignant, heartfelt memories from the era of pre and post Partition.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


دھندلے ماضی کی روشن یاد: دادی کی پیٹی


چڑھدا پنجاب ہو یا لہندا پنجاب؛ ایسی کہانی آپ کو اکثر ایک چھوٹے اور گرد آلود قصبے میں ایک خاص گلی سے ملے گی۔ وہاں آپ کو قلعہ نما دروازے والی ایک حویلی ملے گی۔ اس سے کچھ آگے ایک معمولی سا دروازہ ہے؛ قد میں چھوٹا، مضبوط مگر شان و شوکت میں کم۔ یہ دروازہ حویلی کے اندر ایک ایسے کمرے میں کھلتا ہے جو اس بڑے گھر کے گودام کا کام دیتا ہے۔ اناج کے گودام کا۔

ایک لمبا چوڑا سکھ پیڑی کا بندہ اپنے کندھے پر گندم کی بوری اٹھائے ہوئے ہے۔ وہ ایک ایسی خاتون کی طرف دیکھتا ہے جن کی آنکھوں کا رنگ ’بلوری‘ (ہلکے سنہری مائل) جیسا ہے؛ وہ اس کے پہلو میں قد میں تو چھوٹی لگتی ہیں مگر اپنی آواز کے رعب سے اس پر حاوی ہیں۔ "دلیپ سنگھ، یہ دو کلو کم ہے۔" اور واقعی، ایسا ہی ہوتا ہے۔

گورے چہرے پر سجی وہ بلوری رنگی آنکھیں بخوبی جانتی تھیں کہ وہ کیا دیکھ رہی ہیں۔ وہ حویلی ان کی ملکیت تھی، اور وہ آنکھیں میری دادی کی تھیں۔


اندر، گودام ایک بہت بڑے کمرے میں کھلتا تھا جس کی اونچی چھت اسٹیل کے شہتیروں (گرڈرز) پر ٹکی ہوئی تھی۔ کمرے میں دو فرنیچر کے ٹکڑے نمایاں حیثیت رکھتے تھے، اور ہر ایک کا اپنا الگ ہی انداز تھا۔ ایک تو دادی کا چارپائی نما پلنگ (چار پایہ) تھا—وسیع و عریض اور کشادہ—جس پر دوپہر اور رات کے وقت ہم سب ان کے ساتھ سمٹ کر لیٹ سکتے تھے۔ دوسری چیز اس کے پہلو میں رکھی لکڑی کی وہ ’پیٹی‘ تھی؛ نقاشی سے مزین ایک دیو ہیکل صندوق جس میں گہرے خانے بنے ہوئے تھے۔

اسے ذرا سی جگہ سے ہلانے کے لیے بھی بیل جیسی طاقت درکار ہوتی تھی۔ جب بھی اسے کھولنا ہوتا، کھیتوں میں کام کرنے والے دو آدمی یہ کام انجام دیتے۔ اس میں سے نکلنے والی چیزوں کو دیکھنا ایک کرشمے جیسا لگتا تھا: برسوں کی محنت کا نچوڑ۔ ان کی ہاتھ کی بنی پنکھیاں، ہاتھ کی بُنی دریاں, لحاف اور کپڑے وغیرہ۔ کبھی کبھار ’گھر گھر‘ کھیلنے کے لیے کوئی خاص رنگ کا دوپٹہ نکل آتا، جسے کزنوں میں سب سے بڑی لڑکی ساڑھی کی طرح اوڑھ کر گھر کی دلہن بن جاتی۔ ہر سال کچھ نیا۔ کوئی نئی تخلیق، شامیں گزارنے کا کوئی نیا ڈھنگ۔ وہ کوئی ہنر سکھانے والی استانی تو نہیں تھیں، مگر ہمیں مصروف رکھنا خوب جانتی تھیں۔ وہ تمام امکانات اسی ’پیٹی‘ نامی کنویں میں پوشیدہ تھے۔

ہم پیٹی کھلنے کے وقت کا بے تابی سے انتظار کرتے۔ اس وقت تک، وہ بستر سے پیٹی تک چھلانگ لگانے کے مقابلے کے لیے بہترین جگہ ہوتی تھی۔ ایک بار، میرا نشانہ چوک گیا۔ میں گر پڑا اور میرے بازو پر چوٹ لگ گئی۔ ایک روایتی ہڈی جوڑنے والے نے اسے ٹھیک کیا۔ میں نے کسی کو نہیں بتایا، لیکن میں جانتی تھی کہ یہ سب اس 'پیٹی' (بڑے صندوق) کی وجہ سے ہوا تھا۔ میں نے بہت زیادہ اچھل کود کر اسے تکلیف پہنچائی تھی، اور اس نے بدلے میں مجھے چوٹ پہنچائی تھی۔ میں نے دل ہی دل میں اس سے معافی مانگی۔ وہ مان گئی۔

اگلی بار جب دادی نے اسے کھلوایا تو اس میں سے لکڑی کا ایک لٹو نکلا۔ میں اسے ایک ہاتھ سے گھما سکتی تھی اور اس کے ساتھ کھیل سکتی تھی۔ میں اپنی مخملی لحاف کے نیچے دبک کر بیٹھتی اور اسے تب تک گھماتی رہتی جب تک مجھے نیند نہ آ جاتی۔


وہ لکڑی کا ایک سادہ سا لٹو تھا۔ نہ اس پر کوئی چمکدار روغن تھا اور نہ ہی کوئی جدید ڈیزائن۔ اس کے نچلے حصے پر دھات کی ایک نوکدار کیل لگی تھی، جسے ہم سب "آر" کہتے تھے، اور اس کے ساتھ لپٹی ہوئی سوت کی موٹی رسی—جسے "لاتی" کہا جاتا تھا۔ وہ لٹو کسی ایک کا نہیں تھا۔ وہ گرمیوں کی ان طویل، سنسان دوپہروں کا سچیار گواہ تھا جب گھر کے بڑے سو رہے ہوتے تھے اور صحن کے ایک کونے میں، یا گلی کے موڑ پر، خاندان کے تمام لڑکے لڑکیاں اکٹھے ہو جاتے تھے۔ وہ لٹو ہم سب کا ایک مشترکہ راز تھا۔

جب رسی کو لٹو کے گرد مضبوطی سے لپیٹا جاتا، تو ایسا لگتا جیسے ہم اپنے بچپن کے سارے ارمان اس ایک وجود میں سمیٹ رہے ہیں۔ پھر ایک جھٹکے سے اسے زمین پر پھینکا جاتا۔ لٹو جب زمین پر گھومتا، تو اس کی آواز گلی کے سناٹے کو چیر دیتی۔ ہم سب سانس روکے اسے دیکھتے۔

• کبھی وہ ایک ہی جگہ پر ایسا جم کر گھومتا کہ لگتا بالکل ساکن کھڑا ہے، جسے ہم "سادھو ہو جانا" یا "نیند میں چلے جانا" کہتے تھے۔

• کبھی وہ لڑکھڑاتا، تو خاندان کا کوئی بچہ اپنی ہتھیلی آگے کر دیتا اور وہ گھومتا ہوا لٹو زمین سے اٹھ کر ننھی ہتھیلی پر ناچنے لگتا۔ اس وقت جو سنسناہٹ اور خوشی دل میں اترتی تھی، اسے دنیا کا کوئی مہنگا ترین کھلونا بھی نہیں خرید سکتا تھا۔


سال گزرتے گئے، ہم سب اپنے اپنے راستوں پر چل پڑے۔ وہ لٹو کہیں کھو گیا، یا شاید کسی پرانے صندوق کی تہہ میں سو گیا۔ لیکن آج بھی، جب زندگی بہت تیز رفتار ہو جاتی ہے، یا جب ماضی کا کوئی پرانا جھروکا کھلتا ہے، تو نظریں لاشعوری طور پر اسی لٹو کو تلاش کرتی ہیں۔ وہ لٹو دراصل وقت کی وہ گردش تھا جو ہمیں بتا رہا تھا کہ زندگی گھومتی رہے گی، پر یادوں کا وہ مرکز (کیل) ہمیشہ ایک ہی جگہ مضبوط رہے گا، جہاں ہمارا پورا خاندان اور بچپن جڑا ہوا تھا۔

مجھے یاد نہیں کہ اور کتنے ایسے ہوں گے جنہوں نے ایسے لٹو استعمال نہیں کیے ہوں گے؟ بعد کی نسل مگر اس سے محروم رہی۔ خود میرے بچے چائنا کے بے بلیڈ کھیلتے رہے ہیں؛ یہ بچے اس لکڑی کے لٹو کے جادو کو جان ہی نہیں سکتے۔


جواہرِ یادداشت کی اس پٹاری کو دیکھ کر شاید کچھ پڑھنے والوں کے ذہنوں میں دادی کا 'پاندان' بھی یادداشت کے کناروں سے جھانک رہا ہو، لیکن پنجاب کے آنگنوں میں دادی کی پیٹی تو ملے گی، پاندان نہیں ملے گا۔ پاندان تو لکھنؤ یا دہلی کی دادیوں کی خاص نشانی ہوتی تھی، مگر وقت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ اس کا حال بھی آج وہی ہوا، جو میری دادی کی پیٹی کا ہوا۔

جیسے جیسے میں بڑی ہوتی گئی، میرا ٹھکانہ بھی اوپر کی طرف منتقل ہو گیا۔ میں کتاب لے کر اس کے اوپر بیٹھ جاتی، اور سر کے نیچے تکیہ رکھ لیتی۔ مجھے محسوس ہوتا کہ لکڑی میرے لیے مزید مانوس اور آرام دہ ہوتی جا رہی ہے؛ میرے مسلسل بیٹھنے اور لیٹنے سے اس کی سطح ہموار ہو رہی تھی۔ پھر وہاں ایک ٹرانزسٹر ریڈیو کی بھی جگہ بن گئی۔ ’بچوں کا پروگرام‘ سب سے زیادہ پسندیدہ تھا۔

پلنگ دادی کا تھا، لیکن پیٹی میری تھی۔


دادی کے انتقال کے بعد، مجھے صرف وہی پلنگ اور پیٹی چاہیے تھے مگر وہ اتنے بڑے اور بھاری تھے کہ انہیں منتقل کرنا ممکن نہ تھا۔ ہمیں انہیں چھوڑنا پڑا۔ دادی کی تین بیٹیاں یعنی میری تین پھوپیاں ہیں اور میری ماں سمیت تین بہوئیں ہیں، لیکن کوئی ان جیسا نہیں۔ ان سب کو شہری زندگی کھا گئی۔ ان کے پاس نہ تو وہ حویلیاں ہیں اور نہ ہی وہ پیٹیاں۔

اب میرا اپنا گھر ہے: ٹائلوں کی جڑائی والا چار پایوں والا پلنگ اور ایک چھوٹی سی پیٹی۔ دادی والی پیٹی میں میری جیسی بیس پیٹیاں سما سکتی تھیں۔

اب اسے پرکھنے والی وہ ’بلوری' جیسی آنکھیں‘ نہیں رہیں، نہ ہی اسے بھرنے والے وہ ہنرمند ہاتھ۔ اب اس میں میرے صاف ستھرے کپڑے رکھے ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار، جب میں اسے کھولتی ہوں تو میری نظریں اب بھی اس لٹو کو تلاش کرتی ہیں۔ وہ لٹو نہیں تھا۔۔۔ میرا اور میرے خاندان کے لڑکے لڑکیوں کے بچپن کا ایک مشترکہ اثاثہ تھا۔۔۔

قارئین؛ آپکو کسکی تلاش ہے؟ کچھ تو ہوگا آپکی دادی کےآنگن کا جسے آپ آج یاد کرتے ہونگے تو آنکھیں بھیگ جاتی ہونگی؟

یہاں ذکر کیجیے؛ ہوسکتا ہے کہ ایک کہانی اس کی بھی ہو؛ جو سنائی جائے۔

0
157

A well designed Lead towards Adult PC Cafes through Sejong: Privacy, A...

A well designed Lead towards Adult PC Cafes through Sejong: Privacy, Activities, not to me...

defaultuser.png
btgvbrf
2 minutes ago

Where to Buy a Glute Kickback Machine Online in Mexico: A Guide for Gy...

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocJNv6zokIW7lNVA5KLwk7CwS97A_fO_J0zq9lbynUb6mMSgAA=s96-c
ETE Maxico
23 minutes ago

Main Adult PC Cafes through Sejong: Information towards Rates Igaming...

Main Adult PC Cafes through Sejong: Information towards Rates Igaming not to mention Priva...

defaultuser.png
btgvbrf
34 minutes ago
مسلم ریاستیں ناکام کیوں؟

مسلم ریاستیں ناکام کیوں؟

1714584133.jpg
Muhammad Asif Raza
59 minutes ago
Twinspin77 dan Kemudahan Menjelajahi Menu Website

Twinspin77 dan Kemudahan Menjelajahi Menu Website

defaultuser.png
Jimmy
1 hour ago