The history of the world is a civilizational story of events associated with lives of humans listed in time lines. Life is a journey; it is pleasant, beautiful and enjoyable too, but it offers its bounty to only those who undertake this journey as per some principles and time tested methods This write up in Urdu "چوہدراہٹ، کمّی پن یا انسان؟" is a discussion about the human behaviour in pursuit of success in the world.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
چوہدراہٹ، کمّی پن یا انسان؟
انسانی تاریخ بادشاہوں، سپہ سالاروں، جنگجوؤں اور محکوم رعایا کی داستان ہے۔ مگر اس ساری کہانی میں ہمیشہ ایک کردار ابھرتا ہے؛ ایک شخص، جو جری، دلیر، قسمت کا دھنی اور ضد کا پکا ہوتا تھا؛ اور اپنی تقدیر کا خود راقم بنتے ہوئے، کسی علاقے کا حکمران بن جاتا تھا۔ ایسا شخص زیادہ تر حقیقت پسند ہوتا تھا اور حالات حاضرہ پر گہری نظر رکھتا تھا۔ اس جنگجوانہ صلاحیتوں کا حامل شخص کو اخلاقی تقویٰ، اور مضبوط انصاف کے امتزاج کو برقرار رکھنا ہوتا تھا۔ وہ شخص جنگ میں ہمت دکھاتا تھا اور بین الریاست سفارتی مہارت دکھاتا تھا؛ اور ان سب کے ساتھ ساتھ اپنی رعایا کی وفاداری کو قائم رکھنے کے لیے سخاوت پر عمل پیرا ہونا پڑتا تھا۔ اسے اپنی مملکت میں امن اور امان اور معاشرتی و معاشی بہبود اور بھلائی قائم رکھنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی تھی۔ تب کہیں جاکر بنتا تھا وہ "ظلِ الٰہی"۔ ظلِ الٰہی پر مزید گفتگو کے لیے مندرجہ ذیل لنک کو کھولیے:-۔
https://blogs.bangboxonline.com/posts/thl-aly-apka-akbal-blnd-o
انسانی تاریخ میں انصاف پسند اور عادل بادشاہ و حکمران "ظلِ الٰہی" آئے ہیں؛ اور ظالم و جابر اور تکبر و گھمنڈ میں ڈوبے ہوئے فرعون اور نمرود بھی ظہور پذیر ہوتے رہے ہیں۔ دور پر دور گزرتے گئے اور وقت کا پہیا چلتا ہوا ترقی یافتہ ہوگیا ہے۔ اب جادو کا دور نہیں رہا اور آنکھ میں دھول نہیں جھونکی جاسکتی۔ آج کا انسان زیادہ باشعور یا تعلیم یافتہ نابھی ہو؛ تب بھی معلومات کا سمندر اس کے ہتھلیوں پر موجود ہوتا ہے؛ جو اس کی رائےکومتاثر کرتی ہے اور اس طرح رائےعامہ بھی تشکیل پاتا ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود انسان ویسا ہی انسان ہے، جیسا اس کے باپ دادا تھے؛ اس کے پاس موجود زندگی کو برتنے کا آلہ اور انداز بدل گیا ہے، مگر انسان نہیں بدلا؛ کیونکہ زمین پر موجود انسان کے ماحول میں تبدیلی آئی ہے؛ مگر انسان کی فطرت نہیں بدلی؛ بدل ہی نہیں سکتی۔ انسان اشرف المخلوقات کے درجات کا حامل بھی نظر آتا ہے اور اسفل سافلین کا مظہر گھٹیا ترین بھی اسی معاشرے میں چلتا پھرتا ہے۔
کیا ہم جانتے ہیں کہ فطرت کیا ہے؟ فطرت لفظ ’فطر‘ سے وجود میں آیا ہے جس کے معنی ہیں "اندر سے پُھوٹنا"۔ یعنی فطرت دراصل انسان کے اندر پھوٹنے والا عنصر ہے؛ جو اسکے مجموعی اوصاف، صفات اور داعیات کو واضع کرتے ہیں؛ کیونکہ فطرت ہر انسان کے وجدان کا جوہر ہے۔ ماضی میں انسانوں کی فطرت میں شاید قناعت پسندی، عاجزی، صلہ رحمی اور انسانیت کا جزبہ زیادہ موجزن تھا؛ چنانچہ ایک واضع فرق حکمران اور رعایا کے درمیان رہتا تھا۔ متمول اپنی موج میں رہتا تھا اور غریب اپنی دھن میں مگن تھا اور دونوں طرح کے افراد ایک طرح کی برابری کی سطح پر زندہ رہتے تھے۔ اور کشمکش و تنازعات کا رواج کم کم تھا۔ اور اس کی ایک وجہ شاید کم آبادی اور وسائل کی فراوانی بھی تھا۔
زندگی آگے بڑھتی گئی اور آج انسان جدید ترقی یافتہ ڈیجیٹل دور میں جی رہا ہے؛ اور کل کے حاکم و رعایا اور امیر و غریب کا جھگڑا اپنا رنگ بدل گیا ہے۔ آج کا چوہدری؛ وڈیرہ اور امیر ایک نئے روپ میں سامنے آیا ہے؛ اس کی رہائش الگ ہے؛ سواری الگ ہے، طعام و قیام اور موج مستی کے مقامات الگ ہیں؛ مگر جہاں اسے کمترانسانوں کے ساتھ جگہ اور وقت اکھٹا گذارنا پڑتا ہے وہاں اعزاز و تکلفات کی جنگ میں چوہدراہٹ اور کمی کمین کا گمان بہت گدلا گیا ہے۔ اور اس کا سب سے زیادہ ظہور سرکاری مقامات [دفاتر و اجتماعات] پر ہوتا ہے۔ ماضی کے بادشاہ سلامت کے دربار کا "ظلِ الٰہی" ایک نئے روپ میں زندہ ہوگیا ہے۔ یہ رویہ زیادہ تر ایشیائی ممالک اور خاص طور پر برصغیر ہند وپاک میں عمل پذیر ہوا ہے۔
تاجِ برطانیہ کے غلام ہندوستان میں ذات پات کا نظام تھا؛ تفریق تھی اور "ظلِ الٰہی" کا نظام تھا؛ مگر عام انسان باہم جنگ و جدل نہیں تھا۔ لیکن انگریز جاتے جاتے وہ غلام چھوڑ گیا ہے کہ عام آدمی یعنی عوام کو ہر روز ایک حادثائے"ظلِ الٰہی" سے گذرنا پڑتا گیا۔ ایک عجب گورکھ دھندے کی دنیا بسی ہوئی ہے؛ کہ ہر سو، کو بہ کو، قریہ قریہ، کیا گاوں کیا دیہات، اور شہر شہر حکومت؛ ادارے؛ محکمے؛ کمپنیوں سمیت تمام طبقات زنددگی میں "ظلِ الٰہی" (خدا کا سایہ) کا نظام کارفرما ہے۔ یہ کھیل تماشہ تو کبھی ختم ہی نہیں ہوتا؛ صرف شکل بدلتا رہتا ہے؛ چہرے اور کردار بدلتے رہتے ہیں۔
احساس برتری یا برتری کمپلیکس ایک نفسیاتی عمل ہے جو ماہرین نفسیات کے مطابق ایک طرز کا دفاعی طریقہ کار ہوتا ہے؛ جہاں ایک شخص تکبر، گھٹیا پن، یا گھمنڈ سے کام لیتا ہے تاکہ اپنی ذات کی ناکافی یا کم خود اعتمادی کے گہرے جذبات کو چھپا سکے۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ احساس برتری کے ذریعہ خود میں دوسروں سے بہتر، ہوشیار، یا زیادہ اہم ہونے کا مبالغہ آمیز، غیر حقیقت پسندانہ احساس اجاگر کیا جاتا ہے۔
ایسے لوگ اکثر ایسا سلوک دکھاتے ہیں؛جیسے مسلسل شیخی مارنا، دوسرے کی سننے سے انکار کرنا، تنقید کو قبول کرنے سے قاصر رہنا، اور دوسروں کو نیچا دکھانا وغیرہ۔ اور نفسیاتی ماہرین کی رائے میں اس کی بنیادی وجہ اندرونی گہرا دفن عدم تحفظ کا خیال ہوتا ہے؛ چنانچہ کسی طور پر معاشرے میں ابھرتا فرد خود اپنی ذات کو اور دوسروں پر اہمیت پر قائل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ عمل تب بھی ابھرتا ہے جب کوئی نااہل کسی مقام پر بٹھا دیا جائے تو اس کی ذات کے اندر کہیں گہری بیٹھی ہوئی کمتری کمپلیکس اس طرح کے ردعمل کا اظہار کرتا ہے۔
احساس کمتری یا کمتری کمپلیکس بھی ایک نفسیاتی عمل ہے جو ماہرین نفسیات کے مطابق ایک گہرا بیٹھا ہوا، خود کی ذات کا ناکافی پن، اورعدم تحفظ اور ذاتی بے کاری کا مستقل احساس ہوتا ہے؛ جو حقیقت پر مبنی ہوسکتا ہے مگر اکثرخیالی کمیوں / خامیوں، یا بچپن کی ابتدائی زندگی کے تجربات سے پیدا ہوسکتا ہے۔ ایک ماہر کی رائے میں یہ احساس کسی فرد میں دوسروں کے مقابلے میں کم قابل یا صلاحیت کی کمی کو محسوس کرنے کا باعث پیدا ہوتا ہے۔ احساس کمتری میں مبتلا فرد خود کو سماج سے تنہا کرلیتا ہے؛ یا پھر ڈھونگ زدہ کمال پسندی کی طرف جاتا ہے؛ یا پھر جارحیت یا حد سے زیادہ مسابقت کی دوڑ میں لگ جاتا ہے۔
احساس کمتری کے مارے لوگ ایک طرح کا عقیدہ پال لیتے ہیں؛ جو انکی ذات کا ایک دائمی عنصر بن جاتا ہے؛ اورایسا ہوتا ہے کہ وہ خود کو ذہانت، مہارت، یا اہمیت میں دوسروں سے "کم" گرداننے لگتے ہیں۔ ایسے لوگ چونکہ مقابلہ نہیں کرپاتے؛ تو ہار کی ذلت کے خوف کی وجہ سے آگے بڑھنے کےچیلنجوں، سماجی مسابقت یا مقابلے سے بچ کر زندگی بسر کرتے ہیں۔ لیکن زندہ تو ہر کسی نے ہوتا ہے تو اگر زندگی ایسے افراد کو کسی محفل یا تنظیم کا حصہ بنادے تو یہ جارحانہ انداز میں کام کرتے ہیں، شیخی مارتے ہیں؛ یا عدم تحفظ کو چھپانے کے لیے انتہائی کمال پسندی کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ذات میں موجود کم خود اعتمادی تنقید کے لیے انتہائی حساسیت کو پیدا کردیتی ہے، نتجتا" صحیح تعریف بھی قبول نہیں کرپاتے۔
تاجِ برطانیہ نے ہندوستان کو آزاد تو کیا مگر ایک خرابی کا شکار چھوڑ گیا۔ غلاموں کو طاقت کا نشہ کرادیا چنانچہ کل کا غلام جب صاحب بنا اور باوقار شہری بنایا گیا تو وہ اپنی اوقات سے باہر ہوگیا۔ نتیجتا" احساس برتری اور اسکا جڑواں احساس کمتری آزاد پاکستان میں آشوب کی طرح پھیل گیا۔ طاقت کی خرابی یہ ہے کہ انسان کی دماغ پر قبضہ کرلیتی ہے اور مٹی کے ابن آدم کو خدا بننے کے خواب آنے لگتے ہیں؛ وہ خود کو زمین پر خدا کی شان کے مطابق باجبروت سمجھنے لگتا ہے۔ اور تکبر اور نخوت کا مارا باقی سارے انسانوں کی حقیر دیکھتا ہے؛ "ظلِ الٰہی" (خدا کا سایہ) سے خدائی قوت کا حامل بن جاتا ہے۔ تاریخ نے ایسے طاغوت کی نشاندہی کی اور انکے عبرتناک انجام سے سبق حاصل کرنے کی دعوت دی۔ لیکن مملکت خداداد میں چوہدری اور کمی پن کا ناٹک عجب روپ اور رنگ میں چلتا ہے۔ ایک مشہور جملہ "اوئے تو مینوں جاندا نہی" کی تان"مولے نو مولا نہ مارے تو مولا مردا نہی" پرٹوٹتی ہے۔ کہنے والا چوہدری بھی ہوسکتا ہے اور کمی بھی۔ معاملہ کچھ دیر بعد کھلتا ہے؛ جب تھانہ کچہری تک پہنچتا ہے۔ جس کے جیب میں فاطمہ کے بھائی "قائد اعظم" کی پرچی زیادہ بڑی ہوتی ہے وہ چوہدری ثابت ہوتاہے۔
معاشرہ کوئی بھی ہو اور کسی بھی ملک اور ریاست کا حصہ ہو؛ ہمیشہ کچھ طاقتور افراد پر مشتمل ہوتا ہے اور زیادہ تر افراد عام "رعایا" کی زندگی جیتے ہیں۔ اور ہمارے معاشرے کی مطابق کچھ ہی لوگ چوہدری ہوتے ہیں؛ اور باقی کمی کمین بن کے رہتے ہیں۔ انسانوں کا "کمی کمین" یا "ایک پست زندگی کو اپنانا" کی آسان تشریح ایک آسان، کم مادہ پرست، یا سست رفتار کاہل یا کام چور وجود کے انتخاب کا رویہ اپنانا ہوتا ہے۔ جدید معاشرے کے بناوٹ میں ایسا اکثر شدید معاشی دباؤ، طبقاتی و خاندانی مسابقت اور طاقتورں کے ماتحت مستعمل کا ردعمل ہوتا ہے۔
زندگی کی اس دوڑ میں یہ کم تر انسان [کمی کمین] خوماشد یا چاپلوسی کو اپناتے ہیں؛ کسی طاقتور [بڑی کرسی پر قابض] شخص کو محض وقتی فائدہ حاصل کرنے کے لیے خوشامندانہ انداز میں غیر حقیقی برتاؤ کرنے کا عمل کیا جاتا ہے۔ ایک لمحاتی بقا اور ترقی کی حکمت عملی کے طور پر کیا جاتا ہے؛ جو نفسانی غلامی، غیر یقینی مستقبل کا خوف اور مادیت پرست عزائم کے تحت کی جاتی ہے۔ ایسا اکثر عدم تحفظ کے خیال کو مستحکم کرنے پر اکساتا ہے؛ اور طبقاتی معاشرتی درجہ بندی کے ماحول میں راستہ بنانے میں ایک منظم "سیکھے ہوئے اضطراری" عمل کے طور پر روبہ عمل کیا جاتا ہے؛ پھر اطاعت گذاری کو میرٹ پر بطور انعام بخش دیا جاتا ہے۔
صدیوں سے فلسفیوں، حکیموں، دانشورں اور ادباء نے انسانوں کو مختلدف طریقوں سے "کمی کمین" یا "ایک پست زندگی کو اپنانا" کے رویے کے خلاف اعلی انسانی زندگی گزارنے کی تلقین اور ترغیب دی ہے۔ دیکھیے؛ ایک ایسی ہی روایت یوں بیان کی جاتی ہے کہ"عربوں میں ایک روایت مشہور تھی" کہ جب ان کے گھوڑوں کی تعداد بہت زیادہ ہو جاتی اور نسلوں کی پہچان مشکل ہو جاتی، تو وہ تمام گھوڑوں کو ایک جگہ جمع کر لیتے۔ پھر کچھ عرصے کے لیے ان کا کھانا پینا بند کر دیتے اور انہیں سخت مار پیٹ کرتے۔ اس کے بعد دوبارہ ان کے سامنے چارہ اور پانی رکھا جاتا تب منظر حیران کن ہوتا۔
کچھ گھوڑے فوراً دوڑ کر کھانے کی طرف لپکتے، انہیں کوئی پرواہ نہ ہوتی کہ مارنے والا کون تھا اور کھلانے والا کون ہے۔ اور پھر وہ گھوڑے ہوتے جو نسل دار کہلاتے تھے۔ وہ ان ہاتھوں سے کھانا کھانے سے انکار کر دیتے جو تھوڑی دیر پہلے ان کی توہین کر چکے ہوتے۔ ان کے لیے عزتِ نفس بھوک سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتی۔ آج انسانی معاشرے بھی اسی آزمائش سے گزر رہے ہیں فرق بس یہ ہے کہ بدقسمتی سے، بدنسلوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔
دیوانه و دلبسته ی اقبال خودت باش!۔
سرگرم خودت عاشق احوال خودت باش!۔
پاگل ہو جاؤ اور اپنی قسمت سے منسلک ہو جاؤ!؛؛؛ اپنے آپ میں مصروف رہیں اور اپنے حالات سے پیار کریں!۔
نامور ادیب ممتاز مفتی نے الکھ نگری میں "اشفاق احمد کا خاکروب سے مکالمہ " درج کیا ہے:-۔
بات چھیڑی، کہنے لگا، اے میاں، تم چوڑے ہو کیا؟ چوڑے لگتے تو نہیں ہوـ
وہ رک گیا، بولا باؤ جی ـ میں عیسائی ہوں ـ چوڑا نہیں ہوں ـ
بس جی مجبوری ہے ـ
بس جی میں دفتر میں چپڑ اسی تھا، پھر میرے مرشد کا حکم ہو گیا کہ فضل مسیح جھاڑو کا کام کروـ
مجھ سے ایک غلطی ہو گئ تھی ـ مرشد نے سزا دے دی ـ بولا فضل مسیح تین سال گندگی اٹھاؤ، پھر تین سال جھاڑو لگاؤـ چھ سال کے بعد آ کر ہم سے بات کرناـ
صاحب جی، وہ بولا، یہ تو بندے بندے کی بات ہے، کوئی مرشد مان لیتا ہے، کوئی نہیں مانتاـ کوئی زبردستی نہیں صاحب جی ـایسے بھی ہیں جو مرشد مان کر بھی حکم نہیں مانتےـ
حکم تو حکم ہوتا ہے جی ـ اس میں نہ نہیں ہوتاـ کس لیۓ نہیں ہوتاـ پچھنا نہیں ہوتا جی ـ پچھنا حجت ہےـ
بابو جی، وہ بولا، جو سخت نہ ہو تو پھر وہ حکم ہی کیا ہواـ
صاحب جی ۔ مرشد مان کر جو حکم نہ مانے وہ مرد نہیں۔۔۔
بس جی اس لیۓ مسلمان رل رہے ہیں ـ کوئی قدر نہیں، کوئی مان نہیں، وکھو وکھ ہو رہے ہیں، انگلاں ہی انگلاں مٹھ نہ بنےـ
صاحب جی صرف مسلمان کی گل نہیں ـ مسلمان ہو، عیسائی ہو، سکھ ہو، ہندو ہو کوئی بھی ہوـ اس سے فرق نہیں پڑتاـ بس شرط اک ہی ہے حکم منےـ اگوں بولنا نہیں ـ پچھنا نہیں ـ بس سر جھکا دینا ہے جس قوم نے حکم منیا وہ چڑھ گئ، نہ منیا تورل گئی ـ
نوٹ۔۔یہی فضل مسیح والا کردار اشفاق احمد صاحب نے تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اپنا مشہور ڈرامہ من چلےکا سودا میں فردوس جمال سے ادا کروایا تھا جو کہ انہوں نے نہایت خوبصورتی سے ادا کیا تھا۔۔۔
انسان اللہ سبحان تعالی کا خاص مخلوق ہے اور خدا پرست آزاد انسان ہوتے ہیں؛ مگر ہائےانسان کہ ایک بڑی تعداد اللہ تعالی کے وجود کے منکرہیں۔ چنانچہ انسان مختلف مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔؛ جن میں چوہدراہٹ اور کمی پن بھی ہے۔ جو اصل میں ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔ احساس برتری دراصل احساس کمتری بوجہ عدم تحفظ یا کم خود اعتمادی ہوتی ہے۔ احساس کمتری کی نشوونما بچپن میں پائی جانے والی ناکافی یا شدید، دائمی احساسات سے ہوتی ہے، جو اکثر والدین کے دبنگ سلوک، نظر اندازی، یا مسلسل ناموافق موازنہ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ جسمانی، ذہنی، یا سماجی نقصانات کی وجہ سے "کافی اچھا نہیں" ہونے کے گہرے بیٹھے، اکثر لاشعوری عقائد سے پیدا ہوتا ہے۔
آئیے اپنے بچوں کی پرورش آزاد انسان کے طور پر کریں؛ جوانکے بچپن کے تجربات کے ذریعے مستحکم شخصیت کو فروغ دے؛ ناکہ شدید نظر اندازی/ بدسلوکی روا رکھی جائے (جو طاقتور محسوس کرنے کی ضرورت کو متحرک کرتا ہے) یا ضرورت سے زیادہ لاڈ پیار دکھایا جائے (جوغیر حقیقی استحقاق کو فروغ دیتا ہے)۔ باہم خاندانی اور سماجی موازنہ کو روکیں، چھوٹے، قابل حصول اہداف کے ذریعے خود اعتمادی پیدا کریں۔ ہمدردی، صلہ رحمی اور ایثار و قربانی کو فروغ دیں، انفرادی صلاحتیوں کے ارتقاء، اظہار اور بقا پر توجہ مرکوز کرائیں، حدود قائم کریں، اور انفرادی اور قومی ترقی کی ذہنیت کا ابلاغ کریں۔ اگر ہم ایسا کرپائیں تو یقینا" ایک صحتمند معاشرہ تخلیق کرپائیں گے۔ ایک باشعور اور ترقی یافتہ قوم چوہدریوں یا کمیوں پر مشتمل نہیں ہوتی بلکہ آزاد انسانون کی شان ہوتی ہے۔
اللہ سبحان تعالیٰ اس کائنات کا اور ان میں موجود تمام مخلوقات کا خالق اور مالک ہے۔ یہ بات سارے عقل والے جانتے ہیں مگر مانتے نہیں۔ رب جل جلال نےہر انسان کو ایک خاص فطرت پر پیدا کیا ہے۔ قرآن الحکیم کی سورة الشمس آیت 7،8 میں ارشاد کیا ہے کہ
"اور [نفس] جان کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک معتدل بنایا۔ پھر اس میں"الہام" کیا کہ[ فجور] نافرمانی کیا ہے اور [تقوی] پرہیزگاری کیا ہے کی سمجھ اس میں ڈالی۔
اللہ سبحان تعالیٰ نےقرآن مجید کی سورۃ الروم کی آیت 30 میں [تقوی] صحیح راستہ اپنانے کی راہ سمجھاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے " سو تو ایک طرف کا ہو کر دین پرسیدھا منہ کیے چلا جا، اللہ کی دی ہوئی قابلیت پر جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بناوٹ میں ردو بدل نہیں، یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے"۔ (الروم 30:30)
حضوراکرم آقا کریم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ " ہر بچہ فطرت ( یعنی اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں".(صحیح بخاری)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید ایک جگہ ارشاد فرمایا ہے کہ "جب تم کسی پہاڑ کے بارے میں سنو کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہےتواسے سچ مان لو،لیکن جب تم کسی شخص کے بارے میں سنو کہ اس کی فطرت اور جبلت بدل گئی ہےتو اس کا اعتبار نہ کرو، اس لیے کہ انسان اسی کی طرف جاتا ہے جس پر وہ پیدا کیاگیا ہے"۔ (مسند أحمد)
اللہ سبحان تعالیٰ نے حضرت انسان کو اپنی عبادت اور خلافت ارضی کے لیے بھیجا تھا، چوہدراہٹ یا کمی پن نبھانے کے لیے نہیں پیدا کیا گیا۔ انسان کو ارادہ و اختیار کی خاص صلاحیت عطا ہوئی ہے، یہ صلاحیت استعمال کر کے وہ چاہے تو سلیم الفطرت بنا رہے اور چاہے تو فطری خوبیوں کو دفن کر کے اپنی انسانیت کو مسخ کر ڈالے۔ مولانا تقی عثمانی اسے یوں بیان کیا ہے ”اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں یہ صلاحیت رکھ دی ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک کو پہچانے، اس کی توحید کا قائل ہو، اور اس کے پیغمبروں کے لائے ہوئے دین کی پیروی کرے"۔
اے ابنِ آدم "کچھ اور بن نہ بن، انسان تو بن"؛ یعنی کہ کاغذی ڈگریوں، اعلیٰ عہدوں، یا مادیت پرستی کی خواہشوں کے پیچھے بھاگنے سے پہلے انسانیت، اخلاق اور ہمدردی سیکھو۔ اے بندے؛ شخصیت میں خود غرضی چھوڑ کر اخوت اور اپنائیت پیدا کرلے، کیونکہ اصل کامیابی " سُچا " انسان بننے میں ہے۔
پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
تُو جھُکا جب غیر کے آگے، نہ من تیرا نہ تن
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تُو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن
Monopoly GO Tycoon Club access, Sticker Drop rewards, and Bounty Barrels event notes, plus...