چلیں توکٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ

Storytelling is the social and cultural activity of sharing stories, sometimes with improvisation, theatrics or embellishment. Such a story is a mean of education, entertainment, cultural preservation and stirring minds in a certain direction for enhancing societal values. This write up in Urdu چلیں توکٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ"؟" is also aiming the said purposes.

Sep 04, 2025 - Muhammad Asif Raza

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


چلیں توکٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ

 

یہ تصویر کہانی کا عنوان "چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ"؛ شاعر مصطفیٰ زیدی کی ایک غزل کے مطلع کا پہلا حصہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر سفر شروع کر دیا جائے تو آہستہ آہستہ ہی سہی، لیکن منزل تک پہنچنا ممکن ہو جائے گا۔ اس میں پیغام دیا گیا ہے کہ کسی بھی کام کو شروع کرنے میں ہچکچانا نہیں چاہیے، کیونکہ آہستہ آہستہ ہی سہی، لیکن سفر مکمل ہو جاتا ہے۔

 

یہ تصویرمحبت کی تیس سالہ سفر کی کہانی ہے جس میں سائیکل چلانے والا بوٹا سنگھ ہے؛ اور اسکے پیچھے اسکی پتنی / بیوی پریتم کور ہے۔ آج انکے ویاہ یعنی شادی کی تیسویں سالگرہ ہے اور حسبِ وعدہ بوٹا سنگھ اپنی پریتو تو سیر کرانے نکلا ہوا ہے۔ مگر یہ سیر محض ایک کچھ لمحات کا واقعہ نہیں ہے؛ بلکہ یہ ان تیس سالوں سے زیادہ کا وقت ہے جو داستان بن کر ان دونوں کے ذہن میں گردش کرہا ہے۔ آئیے اس داستان کا حصہ بنتے ہیں؛ کیونکہ اس داستان کا شاید سبق یہ ہے کہ"چلتے رہیں تو سفر کیسا ہی کیوں نہ ہو آسان ہوگا"۔

 

بوٹا سنگھ سردار سنگھ کے گھر میں پیدا ہوا جو پانچ دریاوں کی سرزمین کے ایک ہرے بھرے علاقے کا رہائش پذیر تھا۔ سردار سنگھ کا دادا گرو نانک کا بھگت تھا اور اس کے انگ انگ میں گرونانک دیوجی کی تعلیمات رچی بسی تھیں؛ وہ بھگت سنگھ کا نام سے مشہور تھا۔ بھگت سنگھ نے اپنے پریوار کو بتا رکھا تھا کہ "سکھ مت میں، زمین کی روحانی اور تاریخی اہمیت ہے؛ گرو نانک دیو جی نے ماحول کے لیے ایک مقدس وژن کی بنیاد رکھی تھی؛ "جس میں ہوا گرو ہے، پانی باپ ہے، اور زمین عظیم ماں ہے"۔ وہ کہتا تھا کہ " کرتارپور صاحب، جہاں گرو نانک نے اپنی زندگی کے آخری 18 سال گزارے، انسانیت کی زندگی میں اہمیت کی ایک بہترین مثال ہے۔ اس جگہ سے گرونانک نےعبادت، کام، اشتراک، اور اجتماعی کھانوں (لنگر) کے اصول قائم کیے تھے"۔

بھگت سنگھ کی کامیابی کا اندازہ لگائیے کہ اس کے پوتے سردار سنگھ نے یہ سبق اچھی طرح اپنے پرکھوں کی امانت سمجھکر اپنے پری وار کو پہنچایا۔ سردار سنگھ انگریز دور میں پیدا ہوا تھا اور ترقی کے اوزار اس کے گاوں تک بھی پہنچ گئے تھے۔ اُس ترقی سے کچھ اورنہ بدلا ہو؛ مگر زندگی میں تیزرفتاری اور جدیدیت کو ہوا ضرور ملی۔ سدراد سنگھ کو اس تیزی کی خرابی کا خوب احساس تھا؛ سو اس نے اپنے سارے پریوارکو یہ ازبر کرانا شروع کیا کہ " زندگی سفر ہے؛ جسے چلتے رہنا چاہیے؛ زمیں ماں ہے اور ہوا اور ماحول گرو ہے؛ اس طرح آہستہ آہستہ آگے بڑھو کہ پاوں زمین سے زیادہ اونچے نہ اٹھ جائیں؛ منزل تو وقت کے ساتھ پہنچیں ہی جائیں گے"۔

 

بوٹا سنگھ جب پیدا ہوا تھا تو اس کا نام اس کے دادا نے دلیر سنگھ رکھا تھا کہ انہیں لگتا تھا کہ انکا پوتا رج کے دلیر اور رانجھا ہوگا۔ مگر وہ جلد ہی پرلوک روانہ ہوگئے تھے تو انکی یاد میں سردار سنگھ نے دلیر سنگھ کو بوٹا سنگھ کہنا شروع کردیا کہ انکو اس میں اپنے باپو کی شبیہ دکھتی تھی۔ مگر بوٹا سنگھ اپنے دادا کی پیشنگوئی کے مطابق دلیر بھی ہوا اور رانجھا بھی اور اپنے دادا کی طرح ماحول دوست عاشق بھی۔ وہ اپنے لقب بوٹا سنگھ کا اسم بامسمی ہوا؛ کہ اسے کھیت کھلیان؛ پھول بوٹے؛ شجر اور باغات اچھے لگتے تھے۔

 

بوٹا سنگھ جب جوان ہوا تو اس کا نام پورے ضلع میں گونج اٹھا۔ وہ ایک ماہر گھڑ سوار بن گیا تھا۔ پورے ضلع کے سارے گھڑ دوڑ کے مقابلے وہ جیت گیا تھا۔ گاوں والوں نے دیکھا تھا کہ وہ بچپن ہی سے گھوڑے پر سوار بگٹٹ بھگاتا جاتا تھا۔ وہ گاوں کے پہلوان کے اکھاڑے میں خوب کسرت کرتا تھا اور کوئی اسے پچھاڑ نہ پاتا تھا۔ اور جب وہ مقابلہ جیت کر ڈھول پر بھنگڑا ڈالتا تھا تو دور دور کی کنواریاں اس کو دل بھر کے دیکھا کرتی تھیں۔ مگر اس کی گاوں والیاں جانتی تھیں کہ وہ صرف پریتو کا ہے۔

 

پریتو؛ بوٹا سنگھ کے چاچے کی بیٹی ہے؛ اور پیدائش کے دن ہی سے بوٹا سنگھ کی ماں نے اسے مانگ لیا تھا۔ پریتو بچپن ہی سے مختلف تھی اور خوب چنچل اور شوخ تھی مگر اس کا دل پڑھائی میں بھی خوب لگتا تھا۔ اسے فطرت کی کہانیاں بہت بھلی لگتی تھیں۔ کھیت کھلیان؛ بہتا پانی؛ درخت ؛ پھول بوٹے اور پرندے اس کے دل کو خوب بھاتے تھے۔ اسے قدرتی ماحول میں رہنا اور فطری عناصرکے ساتھ وقت گذارنا بہت اچھا لگتا ہے۔ اسی دوران وہ جوان ہوگئی تو اس کی سہلیاں اسے بوٹے سنگھ کے نام سے چھیڑنے لگیں تھیں۔ مگر وہ شرماتی نہیں تھی بلکہ فخریہ کہتی تھی "ہاں مجھے بوٹے سے عشق ہے؛ بوٹا میرا ہے"۔

 

ایک دن بوٹا سنگھ شہر سے گھوڑے کی ریس جیت کے آیا تو نہ جانے اس کے دل میں کیا آئی کہ وہ سیدھا چاچے کے گھر چلا گیا۔ پریتو اسے گھر کے باہر کے باغیچے میں نظرآئی تو بوٹے نے اسے بڑے لاڈ سے کہا " آجا؛ تجھے سیر کراوں؛ یہ بڑا تیز گھوڑا ہے"۔

لیکن اس دن پریتو نے اسے حیران کردیا جب اس نے کہا " میں گھوڑے پر بیٹھ کے سیر نہیں کروں گی کہ تیز رفتاری سے مجھے کیا حاصل ہوگا"؟

" نہ تو کیسے چلے گی سیر کو؟ پیدل جائے گی کیا"؟ بوٹے نے پوچھا۔

پریتو چہک کے بولی " میں سائیکل پہ جاوں گی؛ جسے تو چلائے گا؛ کبھی تیز اور کبھی آہستہ؛ جیسے میں بولوں"۔ بوٹے جو مجھے سیر کرانی ہے تو سائیکل لے کے آ۔ تو کب لائے گا تو سائیکل"؟

 

بوٹا اگلے ہی دن سائیکل لے آیا اور سیدھا پہنچا پریتو کے پاس۔ "یہ دیکھ میں سائیکل لے آیا ہوں"؛ " آجا تو بیجا سائیکل تے"؛ بوٹا بڑے خوش کن لہجے میں بولا۔ اور پریٹو بیٹھ گئی۔ اس دن بوٹا سنگھ نے ایک نیا گاوں دیکھا؛ بلکہ ایک نئی دنیا نظر آئی۔ اس دن کے بعد اس کی زندگی بدل گئی۔ اس دن اسے معلوم ہوا کہ زندگی تیزی سے گذرجانے کا نام نہیں بلکہ آہستہ آہستہ برتنے کی چیز ہے۔ زندگی کا مزہ جب ہے جب ہم ٹہر ٹہر کر لمحہ لمحہ جئیں۔ سائیکل کی سواری اس بات کا مزا دیتی ہے۔ اس دن جہاں جہاں اور جیسے جیسے پریتو اسے کہتی رہی وہ سائیکل چلاتا گیا۔ سب سے پہلے وہ گاوں کے لاڑی اڈے کی طرف گئے۔

 

وہاں اسے پریتو نے بتایا کہ " یہ وہ جگہ ہے جہاں سے ہم دوسری جگہ جانے کے لیے گاڑی لیتے ہیں۔ لیکن کیا ہم کسی بھی گاڑی میں بیٹھ جاتے ہیں؟ ہم اس گاڑی میں بیٹھتے جو ہمیں ہماری منزل تک لے جائے؛ کیونکہ ہمیں اپنی منزل کا پتہ ہوتا ہے اور پھر گاڑی ہمیں وہاں لیجاتی ہے۔ اپنی زندگی میں کسی مقصد کو حاصل کرنے یا منزل تک پہنچنے میں وقت اور محنت درکار ہوتی ہے، اور یہ کہ سفر کے راستے میں ہر خوبصورتی کی تعریف کرنا ضروری ہے۔ ہمیں مکمل طور پر منزل تک پہنچنے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے صبر، استقامت اور محنت سے لطف اندوز ہوناچاہیے۔

 

پھر وہ گاوں کے باہر سے گذرتی نہر کے پاس پہنچے۔ یہ قریبی دریائی بیراج سے نکلی کشادہ نہر ہے جہاں پانی کا بہاو تیز ہوتا ہے۔ وہاں دریا میں بہہ کر آتی مختلف ڈوبتی ابھرتی بہتی اشیاء نظر آئیں۔ پریتو نے کہا کہ " دریا کے بہاو سے لڑنے کے بجائے، ہمیں آرام اور مہارت سے بہنا سیکھ لینا چاہیے۔ دریا جانتا ہے کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔ اور اگر ہم کبھی سیلاب میں پھنس جائیں تو ہمیں اس کے سامنے ہتھیار ڈال دینا چاہیے، دریا کی سمت کو قبول کرتے ہوئے، ہم خوبصورتی سے نیچے کی طرف بڑھنا شروع کر دیں گے، پانی کے چٹانوں اور ملبے کے ساتھ پھسلتے ہوئے، یہاں تک کہ ہنگامہ ختم ہو جائے اور پرسکون پانی ہمیں واپس زمین کی جانب دکھیل دے۔

 

پھر وہ درختوں کے ایک جھنڈ کے پاس پہنچے۔ جہاں ایک بوڑھا برگد بیجوں بیج کھڑا تھا۔ وہ مسکن تھا نجانے کتنوں پرندوں کا؛ اور بوٹے کو یہ دیکھ کر حیران ہوئی کہ پریتو انکی سہیلی تھی۔ وہیں ایک درخت پر پریتو نے اپنے نام کے ساتھ بوٹے کا نام بھی لکھا ہوا تھا۔ پریتو نے پرندوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ " یہ دیکھو؛ یہ میرا میت ہے؛ میرا بوٹا سنگھ؛ کیا تمھیں پسند آیا؟" بھلا بوٹا سنگھ کیوں پسند نہیں آتا؟ بہت سارے پرندے بوٹا سنگھ کو پہلے ہی سے جانتے تھے۔ بوٹا سنگھ جب مقابلے جیت جاتا ہے تھا تو پرندوں کے مٹھیاں بھر بھر کر باجرا کھلاتا تھا۔ وہ کھیت میں کام کرتا ہوا کبھی پرندوں کو نہیں اڑاتا۔ اور جب بیٹھ کر روٹی کھاتا تھا تو پرندوں کو بھی ڈال دیتا تھا۔ اور فارغ ہوکر بانسری بجاتا تھا تو وہ پرندے اس کو سنتے تھے۔ بوٹا سنگھ کے لیے پرندوں نے خوب چہچہاہٹ کی اور کئی اڑ کر اس کے پاس آگئے۔

 

 اس کے بعد وہ ان زمینوں کی طرف گئے جو پہاڑوں کے نشیب میں تھی۔ راستے میں پریتو اسے پھولوں تتلیوں بھنوروں کی باتیں سناتی رہی۔ کہیں کہیں کوئی ریوڑ ملتے تو وہ اسے بتاتی رہی کہ کس کا کیا نام ہے؟ اور کون کون کتنا دودھ دیتی ہے؟ کون سا جانور کیا چارہ کھانا پسند کرتا ہے؟ گاوں کے بچے ملے تو اس نے انکے بابت بھی قصے سنائے۔ کوں پڑھائی میں اچھا ہے؛ کون کھیل کود میں لگا رہتا ہے؟ یہاں تک کہ اپنے مسیر کی زمینوں تک پہنچ گئے۔ جن کو پہاڑ کے چشموں سے سیراب کیا جاتا تھا۔

 

وہاں پہنچ کر پریتو نے پھر زبان کھولی اور کہا " پہاڑ ہمیں قدرت کے عناصر سے آشناء کرتا ہے۔ ہم متنوع خطوں سے گزرتے ہیں، پتلی ہوا میں پوشیدہ دہلیز کو عبور کرتے ہیں، تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے لڑکھڑاتے ہیں اور پہاڑ پر اوپر کی جانب بڑھتے چلے جاتے ہیں جب تک ہم اسکی بلندیوں تک پہنچ جاتے ہیں"۔ پہاڑ کے اوپر پہنچ کر ہمیں ایک ایسا نظارہ ملتا ہے جو شاندار اور نایاب ہوتا ہے۔ تکمیل کا ایک گہرا احساس اس سے قائم ہوتا ہے جو عارضی طور پر ہماری تھکن اور تکلیف کو دور کردیتا ہے"۔

 

اس کے بعد پریتو ایک پتھر پر بیٹھ گئی اور بوٹےکا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھایا۔ اور پھر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا؛ " دلیر سنگھ ! تم مجھے پسند کرتے ہو؛ یہ میں جانتی ہو اور مجھے تم سے پریم ہے یہ تم جانتے ہو۔ تم میرا مان ہو؛ مگر کیا ہم، ایک ساتھ، ایک اچھی زندگی گذارتے سکتے ہیں؟ کیا ہم جانتے ہیں کہ ایک اچھی زندگی کیا ہے؟ کیا زندگی کے نشیب و فراز اور خوشیاں اور غم ہم ساتھ ساتھ نبھا سکتے ہیں اور کیا تم ساری زندگی میرا مان رکھ سکتے ہو"؟

 

اس کے بعد بوٹا سنگھ بولا اور شاید اس کے بعد بوٹا سنگھ دوبارہ کبھی اس طرح نہیں بولا۔ اس نے کہا " میں زندگی کے نشیب و فراز سے نہیں گھبراتا؛ سارا پنڈ جانتا ہے کہ بوٹا کسی طوفان سے نہیں ڈرتا؛ کسی مقابلے سے نہیں ڈرتا؛ ''واہے گرو جی کا خالصہ''، ''واہی گرو جی کی فتح''۔

وہ ذرا دیر کو رکا اور پھر کہا کہ " مجھے یقین ہے کہ گرو جی کے کرپا سے میں ناکام نہیں ہونگا؛ زندگی میں غم و خوشی آتے ہیں؛ میں ہر صورت تیرے ساتھ ہونگا۔

اب زندگی چاہے تو پہاڑ کی چڑھائی پر لیجائے یا ہم نیچے اتر آئیں؛ یا پھر گھر کے ہموار راستے میں ٹھوکریں آجائیں؛ بوٹا سنگھ تیرے ساتھ ہوگا ہر جگہ"۔

 اب بوٹے نے اپنی پریتو کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور کہا " میری منزل تم ہو؛ یہ زندگی کا سفر ہمارا ہے؛ جدھر تم لیجاو گی؛ میں چلونگا؛ بغیر کسی سوال کے؛ بغیر کسی ڈر کے"۔

پریتو کی آنکھوں میں خوشی اطمینان اور فخر کی ڈورے پھر رہے تھے۔ اس کے رخسار تمتما رہے تھے اور اس کی پیشانی چمک رہی تھی۔ اس نے اپنا رانجھا فتح کرلیا تھا۔ اور اپنا دل ہار دیا تھا؛ ایک دیوتا کو؛ جس کی اس نے پھرعمر بھر داسی بن کر رہنا تھا۔

اس کے کچھ عرصے بعد انکی شادی ہوگئی۔ وہ شادی خوب دھوم دھام سے ہوئی تھی کہ لوگ اس دن بھی اس کی بات کررہے تھے جب بوٹا سنگھ اپنے بیٹے کی بارات لے کر گیا تھا؛[ جس کی کتھا پھر کبھی]؛ اس دن "دلیر سنگھ " اپنی دلہں " پریتم کور " کو رخصت کرا کر گھوڑے پر لایا تھا؛ اس وقت اس نے خوبصورت پگڑ باندھا تھا؛ کیونکہ وہ پریتو کی فرمائش تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ اس کے پرکھوں کی شان کا تقاضہ تھا۔

 بوٹا سنگھ نے ایک ایسی زندگی گذاری ہے کہ اپنے علاقے میں انتھک محنت؛ لگن؛ انسان دوستی اور ماحول دوستی کی پہچان ہے۔ وہ سارے علاقے کے دکھ درد کا ساتھی ہے۔ لوگ اس کی بہادری؛ ہمدردی اور فیاضی کی مثالیں دیتے ہیں۔ اسکے چار بچے ہیں جن میں دو بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ اس نے چاروں کو اعلی تعلیم دلائی ہے؛ لیکن خود کو اپنی زمین سے الگ نہیں کیا۔ اس کا بڑا بیٹا تعلیم سے فارغ ہوکر کروبار کررہا ہے۔ اس نے گاوں ہی میں کچے گھروندے بنائے ہیں اور شہر کے لوگوں کو چھٹیاں گذارنے کے لیے بطور ہوٹل مہیا کرتا ہے۔ اس کے اس کاروبار میں پورا گاوں شامل ہوگیا ہے۔ جس کی وجہ سے گاوں اکثر ویک اینڈ پر کسی تہوار کا منظر پیش کرتا ہے۔ گاوں والوں کے لیے انکی زندگی قابل فخر بن گئی ہے کہ نوجوان انکی فلمیں اور تصویریں بناتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ڈالتے ہیں۔ ماوں کے ہاتھ کی بنی روٹیاں ؛ "پرانٹھے"؛ لسی؛ پکوڑے برکت سمجھ کر کھائی جاتی ہیں۔

 

یہ تصویر بھی کسی شہری نوجوان نے اس وقت لی ہے جب بوٹا سنگھ اور پریتو کی جوڑی تیس سالہ جشنِ شادی منانے نکلے ہیں؛ اس سائیکل پر یہ دونوں اپنے مسیر کی اس زمین تک گئے ہیں جہاں چشموں کی سیرابی سے شکرکندی اگائی جاتی ہے اور ان دونوں کا خیال ہے کہ واہے گرو کی مہربانی سے ایسے میٹھے شکرکندی اور کہیں نہیں اگتے۔ سائیکل کے ہینڈل سے لگے تھیلے میں شکر کندی ہے جسے یہ دونوں اب گھر جاکر کوئلے کی راکھ میں پکائیں گے اور نمک مرچ کے ساتھ کھائیں گے۔ اور بوٹا سنگھ اپنی یہ ساری کہانی اپنے پوتے دلبر سنگھ کو سنائے گا اور اپنے ہاتھوں سے اسے گرما گرم شکرکندی کھلائے گا۔ بعد میں دلبر سنگھ اپنی دادی کے گلے میں بانہیں ڈال کر بولے گا "دادو آپ سے زیادہ سوہنی دنیا میں کوئی نہیں"؛ تو بوٹا سنگھ مسکرا کر بولے گا؛ "ہو ہی نہیں سکدی"۔

سفرِ حیات غیر متوقع چیلنجوں اور انعامات سے بھرا ہو سکتا ہے اور منزل انہیں کو ملتی ہے جو صبر اور سکون سے آگے بڑھتے ہیں۔ کوئی بھی پہلے سے تصور نہیں کر سکتا کہ کل اچھا ہوگا یا برا؛ مگر اگر ہم اچھے طریقے سے آج گذاریں تو کل انتم ضرور بہتر ہوگا۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ زندگی کا سفر خوشگوار حیرت اور تکلیف دہ لمحات سے بھر پور ہوسکتا ہے جس کا ہمیں پہلے سے کوئی اندازہ نہیں ہوتا۔ یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی کا سفر یوں طے کریں جیسا کہ یہ ہمارے سامنے آئے مگر آہستہ آہستہ؛ سکون اور اطمینان کے ساتھ۔

اب یہاں تک آہی گئے ہیں تو مصطفی زیدی کی پوری غزل بھی پڑھ لیجیے؛ یقین ہے کہ آپ کا مزا دوبالا ہوجائے گا۔

 

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ

ہم اس کے پاس جاتے ہیں مگر آہستہ آہستہ

 

ابھی تاروں سے کھیلو چاند کی کرنوں سے اٹھلاؤ

ملے گی اس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ

 

دریچوں کو تو دیکھو چلمنوں کے راز تو سمجھو

اٹھیں گے پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہ

 

زمانے بھر کی کیفیت سمٹ آئے گی ساغر میں

پیو ان انکھڑیوں کے نام پر آہستہ آہستہ

 

یوں ہی اک روز اپنے دل کا قصہ بھی سنا دینا

خطاب آہستہ آہستہ نظر آہستہ آہستہ


More Posts