برطانوی سامراج اور امریکی ویمپائر

The Great Britain was a colonial power that colonized many countries in Asia and Africa and ruled through Pax Britanicca and gave away to Pax Americana under USA. These two countries have exchanged hand of powers and continued cooperation between each others. This write up is Urdu translated of "The Difference Between The US Empire And The British Empire" By Caitlin Johnstone; as "برطانوی سامراج اور امریکی ویمپائر".

Nov 26, 2025 - Muhammad Asif Raza

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

 

برطانوی سامراج اور امریکی ویمپائر

 

برطانوی سلطنت یا سامراج کی حمایت کرنے والے لوگوں اور امریکی ویمپائر کی حمایت کرنے والے لوگوں میں فرق یہ ہے کہ جنہوں نے برطانوی سامراج کی حمایت کی وہ جانتے تھے کہ وہ ایک سلطنت کی حمایت کر رہے ہیں۔ مگر کیا امریکہ ایک بادشاہی سلطنت ہے؟

 

کسی ایسے شخص نے جس نے دنیا بھر میں برطانوی سلطنت کے بڑے پیمانے پر فوجی قتل عام کی حمایت کی اس نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ وہ برطانوی بادشاہت اور ولی عہد کی حمایت کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ وہ بطور مہتمم، گمراہ، بے دین اور وحشیوں کو مہذب بنائیں اور پوری دنیا کو اپنی وفادار اور تمیزدار شاہی رعایا میں بدل دیں۔ دوسری جانب کوئی بھی شخص جو امریکی سلطنت کی جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ وہ ایسا اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ صدام ایک شیطان آمر تھا؛ کیونکہ قذافی ایک شیطان آمر تھا، کیونکہ مادورو ایک شیطان آمر تھا؛ کیونکہ حماس اور حزب اللہ اور حوثی دہشت گرد ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

 برطانوی سلطنت کے حامیوں کو سمجھایا گیا تھا کہ سلطنت کے دشمنوں کو مارا جا رہا ہے کیونکہ ان باغیوں نے اپنے آپ کو خدا کے نامزد کردہ بادشاہ اور اس کے عنان حکومت کی خواہشات کے تابع کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ (ہندوستان میں کمپنی کی خلاف جنگ کو غدر کہا گیا اور یہ تاریخ کاجبر ہے؛ جسے کوئی سمجھدار بیان نہیں کرسکتا)؛ بصورتِ دیگر امریکی سلطنت کے حامیوں کا خیال ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ہمیشہ آزادی اور جمہوریت کو پھیلانے کے لیے؛ انسانی آبادیوں کے بدکاروں پر حملہ کرتے رہتے ہیں، تاکہ عام معصوم لوگوں کو انکے ظلم سے نجات دلائیں۔ لیکن اگر ایسا پہلے سے موجود جیوسٹریٹیجک ایجنڈوں اور/ یا وسائل کے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے ہوتا ہوا دکھائی دے تو یہ محض اتفاق ہوتا ہے یا چند مفاد پرستوں کا پھیلایا سازشی مفروضہ ہوتا ہے۔

 

برطانوی سلطنت کے حامیوں نے سمجھا تھا کہ وہ ایک حقیقی سلطنت کے تحت رہ رہے ہیں: ایک طاقت کی چھتری جس میں کالونیوں، باوردی اسلحہ بردار محافظوں، تسلط، مینڈیٹ اور خطوں پر مشتمل ہے جو پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ امریکی سلطنت کے حامیوں کا خیال ہے کہ یہ مکمل طور پر باہم اتفاق سے بنا ہوا ہے؛ اور بااصول انسان دوست قوموں کا ایک بڑا جھرمٹ ہے؛ جو تمام خارجہ پالیسی کے ایجنڈوں پر قریب قریب کامل اتحاد اور غلبے کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اور ان قوموں کے خلاف آخری تباہی تک مسلسل جنگ کرتا ہے جو اس کلسٹر کا حصہ نہیں ہوتے ہیں یا اس کے مفادات کے خلاف کام کرنے کا سوچتے بھی ہیں۔

 برطانوی سلطنت اپنی ہیت اور طاقت کے بارے میں پوری طرح کھلی ہوئی تھی کہ وہ کیا ہے۔ اس لیے جب وہ کسی جگہ کو فتح کرتے تھے تو اس ملک کے باشندوں کو بتاتے تھے کہ وہ اب تاج برطانیہ کے رعایا ہیں، اور انہیں اپنے جھنڈے کے کھمبے پر یونین جیک کو لہرانا ہوگا؛ پسند سے نہیں تو مجبورا" کرنا ہوگا۔ مغربی امریکی سلطنت جو واشنگٹن کے ارد گرد ڈھیلے ڈھانچے پر مشتمل ہے، اپنے رکن ممالک کو اپنا جھنڈا رکھنے اور خودمختار قوموں کا دکھاوا کرنے کی اجازت دیتی ہے، لیکن دوسرے ایسے طریقے سے برتاؤ کرتی ہے جو برطانوی سلطنت کے مضامین سے نمایاں طور پر مختلف نہیں ہیں؛ بلکہ کچھ اشاریوں میں زیادہ ظالمانہ ہے؛ جیسے کٹھ پتلیوں کے ذریعے حکومت کرنا اور مقامی آبادیوں کو بزور مغلوب کرنا وغیرہ۔

 برطانوی سلطنت افریقی اور ایشیائی سیاہ فام آبادیوں سے وسائل چھیننے اور سامراجی مرکز میں لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنے کے بارے میں کھلی اور غیر معذرت خواہ تھی یعنی انہوں نے ان مراکز کو اپنی تسلط کے مراکز کا نام اور کام کھلے عام دیا ہوا تھا۔ دوسری جانب امریکی سلطنت میں؛ ان وسائل کو اسی طرح کے طریقوں سے نکالا جاتا ہے، لیکن اب انکو "مارکیٹوں کو کھولنا" اور "آزاد تجارت" اور "عالمگیریت" جیسے نعروں کی آڑ میں نیا نام دیا گیا ہے۔

برطانوی سلطنت سامراجانہ وحشیانہ طاقت اور کھلم کھلا تعصب کے ذریعے قائم تھی۔ لوگوں کو زبردستی محکوم بنایا گیا تھا اور پھر ان حکومتی سالوں کے دوران رعایا کو یہ ماننے کے لیے تعلیم دی جاتی تھی کہ وہ اقدامات بادشاہت اور ولی عہد کے تحت رہنے کے لیے ان کے مفادات کی خدمت کرتا ہے، اور اگر وہ خود مختار ہونے کی کوشش کرتے ہیں، تو انکو ڈرایا جاتا تھا کہ سرخ آندھی یعنی روس پہنچ جائے گا تو پھر وہ ظلم کریں گے کہ انھیں ملکہ عظمیٰ برطانیہ کی مہربانیوں کی یاد آئیں گی۔

 امریکہ کی مرکزیت والی سلطنت کو بھی کافی زیادہ طاقت کے ذریعے برقرار رکھا گیا ہے، لیکن اس کا بنیادی ہتھیار نفسیاتی ہیرا پھیری ہے۔ اس کے پاس اب تک کی تاریخ کا سب سے نفیس پروپیگنڈہ مشین موجود ہے، جو نیوز میڈیا، ہالی ووڈ پروڈکشنز، اور سلیکون ویلی ٹیک سروسز کی آڑ میں کرتی ہے؛ جس کے ذریعے سرمایہ داری، عسکریت پسندی، سامراج اور عالمی تسلط کو اپنے تمام مختلف ایجنڈوں کی حمایت سے ان قوموں کی رعایا کے ذہنوں کو خاموش اطعائت کی تربیت دی جاتی ہے۔ نافرمان قوموں کو نیشنل اینڈومنٹ فار ڈیموکریسی؛ اینڈ ری ایجوکیشن میڈیا کے ذریعے خصوصی معلوماتی ماحولیاتی نظام سے یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ ان کی موجودہ باغی طاغوتی حکومت غیر انسان دوست ہیں اور عوام کے مفادات کو پورا کیوں نہیں کرتی ہے؟ لیکن کسی وجہ سے یہ حربہ کام نہیں کرتا ہے تو وہاں ایک "انقلاب" لایا جاتا ہے؛ جو کئی دہائیوں بعد سی آئی اے تسلیم کرتا ہے اس انقلاب کو امریکہ کی مدد حاصل تھی اور انکو مسلح اور ہتھیار بند کیا گیا تھا۔

 

امریکی سلطنت ایک ویمپائر ہے؛ اور برطانوی سامراجی سلطنت کا ایک بڑا، زیادہ مضبوط، گھناونی سازشی، کم ایماندارانہ، اور زیادہ جوڑ توڑ والا ورژن ہے۔ برطانوی سامراجی سلطنت اپنی رعایا کو بتاتا تھا کہ وہ تاجِ برطانیہ کے بادشاہ کی ملکیت ہیں اور انہیں وہی کرنا ہوتا تھا جیسا کہ اس کی عظمت کا حکم ہوتا تھا۔ امریکی سلطنت وہ ویمپائر ہے جو لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ وہ آزاد ہیں؛ لیکن انہیں آزادانہ زندہ رہنے کا راستہ نہیں دیا جاتا۔ مگر یہ ان غلام قوموں اور ملکوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو خود اپنے آپ کو اس طرز زندگی کا عادی بنائے بیٹھے ہیں۔ اردو زبان کے شاعر جناب جگر مراد آبادی نے کیا خوب کہہ رکھا ہے کہ

زندگی ہے مگر پرائی ہے

مرگِ غیرت! تری دہائی ہے

اس نے "اپنا" بنا کے چھوڑ‌دیا

کیا 'اسیری' ہے؛ کیا رہائی ہے؟

 

لنک سے لیا گیا >>> https://thealtworld.com/caitlin_johnston/the-difference-between-the-us-empire-and-the-british-empire

More Posts