برسات میں بھیگتا من اور سرگم موسیقی

The monsoon is the rainy season in Sub Continent Indo Pak and is considered as a very romantic by all concerned. This write up in Urdu "برسات میں بھیگتا من اور سرگم موسیقی" is a collection of songs wrt rain.

Jul 16, 2025 - Muhammad Asif Raza

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


برسات میں بھیگتا من اور سرگم موسیقی


برسات صرف ایک موسم نہیں ہے کہ بارش ہوجائے اور آسمان سے پانی برسے اور کھیت، کھلیان، پہاڑ، وادیاں، نخلستان سب بھیک جائیں اور تر بتر ہوکر ندیاں نالے بھر جائیں تو دریا میں جاگریں اور سمندر کی جانب دوڑیں۔ برسات ماہِ جولائی کا سنگھار ہے؛ جب گرم تپتی زمین پر بوندیں گرتی ہیں تو فضاء سوندھی خوشبو سے مہک اٹھتی ہے۔ 

اور جب میگھا دھن دھنا دھن برستا ہے تو انسان کا تن شرابور ہوجاتا ہے؛ تب موہنا من بھی بھیگ جاتا ہے؛ ایک کسک، ایک خواہش ہوک بن کر جاگ جاتی ہے؛ ایسے ہی جیسے کہیں کوئل کوکتی ہے۔ برسات ماحول ہی کو نہیں نکھار دیتی بلکہ مٹی کے مادھو کے من کو بھی شفاف کردیتی؛ اور سجنی کے روپ کو آگ لگادیتی ہے۔ 

برسات کا بھیگا موسم؛ بجلی کی کڑک؛ اور بادل کی گرج سرسنگیت کے عاملین کو سرگم بھرے موسیقی کی دھنیں ترتیب دینے پر اُکساتی ہیں۔ اور برِصغیر پاک و ہند کی شعراء اور موسیقار اپنی زمین پر مون سون کی برسات کے حسن سے خوب متاثر ہوئے تو انہوں نے کیا جوت جگائی ہے؟ اور کیا کیا نغمے اور گانے تخلیق کئے ہیں کہ ایک دفعہ سن لیں تو ذہن میں کھب جاتی ہیں اور وقتا" فوقتا" یاد کے جھروکوں سے جھانکتے رہتے ہیں۔  

برسات کی بارش پر خوب گانے بنائے گئے ہیں۔ جیسے"ٹپ ٹپ برسا پانی"۔

ایسے گانے صرف دھنیں نہیں ہیں، بلکہ یادوں کی بھیگی الماریاں ہیں، جن میں ہر بارش کے ساتھ ایک نیا صفحہ جڑ جاتا ہے۔

بارش... موسم نہیں، ایک کیفیت ہے۔

چاہے گرمی کی ہو یا سردی کی؛ مگر برسات کا اپنا رنگ ہوتا ہے۔

یہ ایسی چیز ہے جو انسان کو لمحہ بھر میں بے خود کر دیتی ہے۔

سب کچھ بھول جاتا ہے — بارش ہر دل پر الگ اترتی ہے۔

بارش کا یہی تو کمال ہے — یہ کسی ایک جذبے کی محتاج نہیں؛

یہ ہر دل کا الگ ترجمہ ہے؛

اور ہر یاد کا نیا رنگ۔ بس ایک خوشی، ایک سکون، دل کے اندر اترتا جاتا ہے۔


 آئیے فیس بک پیچ "ادب سرائے" پر عبدالباسط خان / فلم والے کی ترتیب کردہ گانوں کو یاد کریں جن کے بغیر بارش ادھوری لگتی تھی۔

ان میں صرف آواز نہیں تھی، احساس بھی تھا۔

شاعروں نے، گلوکاروں نے، موسیقاروں نے بارش کو یوں گایا کہ ہر بوند ایک سُر لگتی تھی — اور ہر سُر ایک بوند!۔


 " برسات میں ہم سے ملے تم "

 فلم : برسات 1949

 " ساون کا مہینہ پون کرے شور "

 فلم : مِلن 1967

 " رم جھم کے گیت ساون گائے "

 فلم : انجانا 1969

 " اے ابر کرم آج اتنا برس "

پاکستانی فلم : نصیب اپنا اپنا 1969

" بھیگی بھیگی راتوں میں "

فلم : اجنبی 1974

" ساون آئے ساون جائے "

پاکستانی فلم : چاہت 1974

"ہائے ہائے یہ مجبوری "

فلم : روٹی کپڑا اور مکان 1974

 " رم جھم گرے ساون "

 فلم : منزل 1979 

 " ساون کے جھولے پڑے ہیں"

 فلم : جرمانہ 1979

" بوندیں نہیں ستارے ٹپکے ہیں کہکشاں سے "

فلم : ساجن کی سہیلی 1980

" کچھ دیر تو رک جائو برسات کے بہانے "

پاکستانی فلم : بڑا آدمی 1981

" آج رپٹ جائے تو ہمیں نہ اٹھائیو "

فلم : نمک حلال 1982

" بادل یوں گرجتا ہے"

فلم : بیتاب 1983

" لگی آج ساون کی پھر وہ جھڑی "

فلم : چاندنی 1989

" بھیگی ہوئی ہے رات مگر"

 فلم : سنگرام 1993

" سن سن برسات کی دھن"

فلم : سر 1993

" رم جھم رم جھم بھیگی بھیگی رت میں"

فلم : 1942 اے لو سٹوری 1994

" ٹپ ٹپ برسا پانی "

فلم : مہرا 1994

" برسات کے موسم میں تنہائی کے عالم میں "

فلم : ناجائز 1995

" میں نے ساون سے کہا دل کی پیاس بجھا"

فلم : آنکھوں میں تم ہو 1997

" آئیگا مزہ اب برسات کا "

فلم : انداز 2003

" برسات کے دن آئے ملاقات کے دن آئے "

فلم : برسات 2005

" یہ موسم کی بارش یہ پانی کی بوندیں"

فلم : ہاف گرل فرینڈ 2017


قارئین سے گذارش ہے کہ بارش سے جڑی کوئی یاد اور اپنی پسند کا بارش کا گانا بتائیں۔

More Posts