Storytelling is an important tool because it builds emotional connections, helps people remember information, and fosters empathy. Fiction is defined as any creative literary or narrative work that portrays imaginary characters, settings, and events. The play "بارہ سنگوں کا تماشائے حکمرانی" is a searing political critique of post-colonial governance. Drawing on the central themes of Amal Chatterjee’s "Prisoners of Empires" the essay strips away the intellectual pretensions of an elite that mimics colonial masters while running an "administrative theatre." The play "بارہ سنگوں کا تماشائے حکمرانی" exposes how these bureaucratic circles operate as closed bargaining tables rather than platforms for genuine scientific reform. This has been arranged for educational infotainment purposes.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
بارہ سنگوں کا تماشائے حکمرانی
مصنف: (سیاسی طنز پر مبنی ایک علامتی ڈرامہ)۔
پسِ منظر: امل چٹرجی کی کتاب ایمپائرز کی قیدی سے ماخوذ
👥 کردار
•زمان (عمر 65 سال): قصبے کا ایک دانا اور سن رسیدہ بزرگ۔ سفید داڑھی، ہاتھ میں لکڑی کی پرانی لاٹھی۔ وہ ماضی اور حال کا چشم دید گواہ ہے اور اپنی کاٹ دار گفتگو کے لیے جانا جاتا ہے۔
•آصف (عمر 24 سال): یونیورسٹی کا حال ہی میں گریجویٹ نوجوان۔ پرجوش، محبِ وطن، اور نظریاتی۔ اس کے پاس ہمیشہ کتابیں، مقامی زبان کے پمفلٹس اور سائنسی ترقی کے خاکے ہوتے ہیں۔
•شاہد (عمر 42 سال): بازار کا ایک عام، سلجھا ہوا دکاندار۔ وہ روزمرہ کے سرکاری چکروں اور ٹیکسوں سے تنگ آ چکا ہے اور بیوروکریسی کا عملی ستایا ہوا ہے۔
•جنابِ عالی / ڈپٹی ڈائریکٹر (عمر 50 سال): بنانا اسٹیٹ آف مالوکا کا اعلیٰ افسر۔ انگریزی وضع قطع، سوٹ بوٹ، کلف لگا کالر اور عوام سے شدید دوری۔
•کلرک / منشی (عمر 35 سال): ڈپٹی ڈائریکٹر کا چمچہ۔ ہاتھ میں فائلیں اٹھائے، ہر غلط بات پر "جی حضور" کہنے والا روایتی کارندہ۔
•عوام (ہجوم): قصبے کے عام کسان، دکاندار اور مزدور۔
🎬 ایکٹ 1: نوآبادیاتی تھیٹر کا آغاز
(منظر:) اسٹیج پر ایک دھول سے اٹے، دھوپ سے جھلسے ہوئے صحن کا منظر ہے۔ پسِ منظر میں نوآبادیاتی دور کی اینٹوں سے بنی ایک خستہ حال لیکن پرشکوہ سرکاری عمارت کھڑی ہے۔ لکڑی کے بھاری اور پرانے دروازوں کے اوپر ایک پرانا، ٹیڑھا سائن بورڈ لٹکا ہوا ہے جس پر لکھا ہے:
”گورنمنٹ آف مالوکا – لوکل ایڈمنسٹریٹو آفس“
اس کے بالکل نیچے، طنزیہ انداز میں ایک نیا، چمکدار بینر لگا ہوا ہے:
”ایڈمنسٹریٹو ریفارم کمیٹی – ویٹنگ روم“
صحن کے عین بیچ میں ایک مظلوم اور بے حس گدھا کھڑا ہے۔ اس کے سر پر بڑی مہارت سے لکڑی، گوند اور رسیوں کی مدد سے بارہ سنگھے کے بارہ بڑے، گھماؤدار اور مصنوعی سینگ باندھے گئے ہیں۔ قصبے کے لوگ ایک نیم دائرے کی شکل میں کھڑے ہیں، ان کے چہروں پر تھکن اور گہری طنز آمیز مسکراہٹ ہے۔
(ڈرامے کا آغاز ایک کوے کے کائیں کائیں کرنے اور کسی فائل کے گرنے کی آواز سے ہوتا ہے۔ زمان اسٹیج کے وسط میں کھڑا ہے اور اپنی لاٹھی سے اس عجیب و غریب جانور کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ آصف اس کے ساتھ کھڑا ہے اور بے تابی سے اپنے کاغذات پلٹ رہا ہے۔)
زمان
(حاضرینِ مجلس سے مخاطب ہو کر، ایک ڈرامائی اور قصہ گو والے انداز میں)
لوگو! تین سو سالوں سے، میرے دادا پردادا اس بازار میں بیٹھ کر ایک سیدھی اور سچی بات بتاتے آ رہے تھے۔ جب بھی کوئی جھوٹا رہنما یا کوئی مکار تاجر ایسا وعدہ کرتا جو کبھی پورا نہ ہو سکتا ہو، تو وہ کہتے تھے: "جاؤ میرے بھائی! سڑک کنارے بیٹھو اور گدھے کے سینگ نکلنے کا انتظار کرو۔"
(وہ گدھے کے گرد چکر لگاتا ہے اور اپنی لاٹھی سے اس کے مصنوعی سینگوں کو ٹپکاتا ہے، جس سے کھوکھلی آواز آتی ہے)
مگر ذرا دیکھو! بنانا اسٹیٹ آف مالوکا کی حکومت کا معجزہ دیکھو! ایڈمنسٹریٹو ریفارم کمیٹی نے چھ ماہ، چار بجٹ الاٹمنٹس، اور تین بین الاقوامی کانفرنسیں صرف کر کے اس مطلق نامکن کو ممکن کر دکھایا ہے۔ اب گدھے کے سر پر بارہ سینگ ہیں۔
شاہد
(زمین پر تھوکتے ہوئے، تمسخر آمیز انداز میں)
معجزہ؟ زمان صاحب، یہ محض ردی کاغذ، گوند اور پرانی رسیوں کا کھیل ہے! انہوں نے گدھے کے کانوں پر جنگلی جانور کے پرانے سینگ باندھ دیے ہیں تاکہ دارالحکومت سے آنے والے بین الاقوامی انسپکٹرز کو یہ دکھایا جا سکے کہ مالوکا کا 'اصلاحاتی منصوبہ' بالکل وقت پر چل رہا ہے۔ یہ بارہ سنگوں کا تماشائے حکمرانی نہیں تو اور کیا ہے؟
آصف
(جذبے سے آگے بڑھتے ہوئے)
لیکن شاہد چچا، اصل بات ہی تو یہی ہے! اسی کو امل چٹرجی نے اپنی کتاب میں امپائرز کے قیدی کہا ہے۔ اس دفتر کے اندر بیٹھے ہوئے لوگ ہماری حقیقت میں نہیں جیتے بلکہ وہ اس نصابی کتاب کی دنیا میں رہتے ہیں جو ساٹھ سال پہلے ان کے گورے آقا لکھ کر گئے تھے۔ وہ آبپاشی کے نظام کو ٹھیک کرنا یا اسکول کھولنا نہیں چاہتے—وہ تو بس چیزوں کو ٹھیک کرنے کا ایک ڈرامہ رچانا چاہتے ہیں۔
زمان
(آہستگی سے سر ہلاتے ہوئے)
آہ، مالوکا کا یہ عظیم الشان ایڈمنسٹریٹو تھیٹر! پہلا ایکٹ: سروے کرنا۔ دوسرا ایکٹ: بجٹ کا خسارہ دکھانا۔ تیسرا ایکٹ: کام کو اگلے سال پر ٹال دینا۔
(ایڈمنسٹریٹو افس کے بھاری لکڑی کے دروازے چرچراہٹ کے ساتھ کھلتے ہیں۔ ایک کلرک ہاتھ میں فائل لیے باہر آتا ہے، اور اس کے پیچھے ڈپٹی ڈائریکٹر اپنے کلف لگے سوٹ میں نمودار ہوتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک بہت بڑا رجسٹر ہے جو بالکل پیچیدہ اور پرانی نوآبادیاتی انگریزی میں لکھا ہوا ہے۔)
ڈپٹی ڈائریکٹر
(ایک بناوٹی، مغرورانہ لہجے میں انگریزی آمیز اردو بولتے ہوئے)
"سب سیکشن بی کے قانون کے تحت... یعنی بنانا اسٹیٹ آف مالوکا کے پوسٹ کولونیل ریسٹرکچرنگ آرڈیننس کے تحت، تمام لوکل اسٹیک ہولڈرز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ سب کمیٹی برائے انڈیجینس ایکوائن اپ گریڈیشن نے کامیابی کے ساتھ پہلا فیز مکمل کر لیا ہے۔ ترقی کے تمام ویژول بینچ مارکس حاصل کر لیے گئے ہیں۔"
(وہ فخر سے بارہ سینگوں والے گدھے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ گدھا عین اسی وقت زور سے رینگتا ہے۔ ہجوم میں ایک طنزیہ قہقہہ گونج اٹھتا ہے)
آصف
(آگے بڑھ کر، اونچی آواز میں)
جناب! یہ رجسٹر آخر کس زبان میں ہے؟ اس بازار میں کوئی بھی آپ کی ان تعمیلی رپورٹوں کو پڑھ نہیں سکتا! اگر آپ واقعی اس ضلع کی تقدیر بدلنا چاہتے ہیں، تو بجٹ ان لوگوں کی زبان میں چھاپیں جو ٹیکس دیتے ہیں! ہمیں اپنی مادری زبان میں بتائیں کہ اسکول کے لیے آنے والا پیسہ کہاں گیا؟
ڈپٹی ڈائریکٹر
(اپنی عینک کے اوپر سے حقارت سے دیکھتے ہوئے)
نوجوان، امورِ سلطنت چلانے کے لیے ایک خاص... انٹلیکچوئل دبدبے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسٹیٹ کی بیوروکریسی عام بازار کی زبان میں نہیں چلائی جا سکتی۔ اس میں سلطنت والا وہ رعب اور گریویٹی نہیں رہتی۔ چلو منشی، اندر چلو، باہر بہت دھول ہے۔
(ڈپٹی ڈائریکٹر اور کلرک دوبارہ اندر جاتے ہیں اور زور سے دروازہ بند کر دیتے ہیں۔ اندر سے کنڈی لگنے کی بھاری آواز آتی ہے۔)
شاہد
(اپنے ہاتھ ہوا میں لہراتے ہوئے)
اور یہ رہا آپ کا جواب۔ ایک اور بند کمرے کی سودے بازی۔ وہ اندر سے کنڈی لگاتے ہیں، ترقیاتی فنڈ آپس میں بانٹتے ہیں، اور ہمیں باہر اس سینگوں والے گدھے کو دیکھنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔
🎬 ایکٹ 2: بند کمرے اور کاغذی فتوحات
(منظر:) اسٹیج پر روشنی دھیمی ہو جاتی ہے۔ ایک طرف سرکاری دفتر کی کھڑکی دکھائی دیتی ہے جہاں اندھیرے میں دو سائے (ڈپٹی ڈائریکٹر اور کلرک) میز پر فائلیں اور پیسوں کے لفافے بانٹ رہے ہیں۔ دوسری طرف، صحن میں زمان، آصف اور شاہد لکڑی کے ایک بنچ پر بیٹھے ہیں۔
زمان
(اپنی لاٹھی کو زمین پر مارتے ہوئے، دھیمی اور گہری آواز میں)
تم جانتے ہو وہ دروازے کیوں بند رکھتے ہیں، بچو؟ اس لیے کہ وہ مقامی مہارت اور سائنسی سوجھ بوجھ سے خوفزدہ ہیں۔ اگر وہ کسی مقامی کسان یا دیسی مٹی کے ماہر کو اس کمرے میں آنے دیں، تو وہ انہیں تین سالہ بین الاقوامی قرضے اور غیر ملکی ماہرین کے مشوروں کے بجائے، بجری کی پانچ بوریوں سے بیس منٹ میں پانی کی نہر ٹھیک کرنے کا طریقہ بتا دے گا۔ لیکن دیسی ماہر کی بات مان لی تو ان کا یہ بارہ سنگوں کا تماشہ بند ہو جائے گا۔
آصف
(زمین پر اپنے سائنسی خاکے اور نقشے پھیلاتے ہوئے)
زمان چچا، امل چٹرجی نے اپنی کتاب ایمپائرز کی قیدی میں اسی ذہنیت کو بے نقاب کیا ہے۔ یہ افسر شاہی دراصل ان پرانے انگریز آقاؤں کی لاشیں ہیں جنہیں نئے کپڑے پہنا کر کرسیوں پر بٹھا دیا گیا ہے۔ یہ نوآبادیاتی اشرافیہ اپنے ہی لوگوں کو جاہل سمجھتی ہے اور حکومت کو عوام کی فلاح کے بجائے ایک بند کمرے کی سودے بازی کی میز سمجھتی ہے۔
شاہد
(مایوسی سے)
لیکن آصف، ہم اس بند کمرے کا تالا کیسے توڑیں؟ ہمارے پاس نہ تو ان کے جیسی انگریزی ہے، نہ ان جیسے مہنگے سوٹ، اور نہ ہی بندوقیں! ہم تو بس عام دکاندار اور کسان ہیں۔
آصف
(پرعزم انداز میں اٹھ کھڑے ہوتے ہوئے)
ہمیں ان کا تالا توڑنے کی ضرورت ہی نہیں ہے، شاہد چچا! ہمیں ان کے اس نوآبادیاتی تھیٹر کا بائیکاٹ کرنا ہو گا۔ ہمیں اپنی متوازی طاقت کھڑی کرنی ہو گی۔ حقیقی قومی آزادی یہ نہیں ہے کہ ہم گوری چمڑی والے افسر کی جگہ کالی چمڑی والے افسر کو بٹھا دیں جو زبان اور طرزِ عمل میں اسی گورا آقا کی نقل کرے۔ آزادی تب آئے گی جب نظام کی بنیاد بدلے گی۔
زمان
(آصف کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے)
سچ کہا نوجوان! جب تک عدالت، دفتر اور قانون کی زبان ہماری اپنی زبان نہیں ہو گی، تب تک یہ ملک آزاد نہیں بلکہ ایک پوشیدہ غلامی میں رہے گا۔
🎬 ایکٹ 3: کاغذی سینگوں کا خاتمہ اور عوامی بیداری
(منظر:) صبح کا وقت۔ اسٹیج پر تیز روشنیاں نمودار ہوتی ہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر اور اس کا کلرک ایک غیر ملکی وفد (جو کہ فرضی ہے یا اسٹیج کے پیچھے سے آنے والی آوازوں کی صورت میں ہے) کو دکھانے کے لیے دوبارہ باہر آتے ہیں۔ وہ گدھے کے مصنوعی سینگوں کو چمکا رہے ہیں۔ قصبے کی عوام کا ہجوم اب پہلے سے بڑا اور زیادہ منظم ہے۔ ان کے ہاتھوں میں پلے کارڈز ہیں جن پر مقامی زبان میں نعرے لکھے ہیں: "کھلی حکومت، عوامی زبان"، "کاغذی اصلاحات نامظور"۔
ڈپٹی ڈائریکٹر
(ہجوم کو دیکھ کر گھبراتے ہوئے، کلرک سے)
منشی! یہ لوگ آج نعرے کیوں لگا رہے ہیں؟ ان کو بولو کہ بنانا اسٹیٹ آف مالوکا کے قوانین کے تحت پبلک پروٹیسٹ ممنوع ہے!
کلرک
(ڈرتے ہوئے)
جناب، میں نے کہا تھا، لیکن یہ کہتے ہیں کہ آج یہ کسی کی نہیں سنیں گے۔ آج ان کے ساتھ زمان اور وہ پڑھا لکھا لڑکا آصف بھی ہے۔
آصف
(آگے بڑھ کر، ڈپٹی ڈائریکٹر کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے)
جنابِ عالی! آپ کا یہ بارہ سنگوں کا تماشہ اب مزید نہیں چلے گا۔ ہم امل چٹرجی کے بتائے ہوئے اس جال کو سمجھ چکے ہیں جہاں ترقی کے نام پر ہمیں صرف کاغذ کے ٹکڑے اور مصنوعی معجزے دکھائے جاتے ہیں۔ آج مالوکا کا عوام تین مطالبات لے کر یہاں کھڑا ہے!
ہجوم
(ایک آواز ہو کر)
انقلاب! آزادی!
آصف
•پہلا مطالبہ: تمام دفتری، قانونی اور تعلیمی نظام میں ہماری اپنی مقامی زبان نافذ کی جائے تاکہ اقتدار اور عوام کا فاصلہ ختم ہو!
•دوسرا مطالبہ: بند کمروں کی سودے بازی بند کی جائے اور الٰہی جمہوری اصول، یعنی عدل (مکمل انصاف) اور شوریٰ (مشاورتی بندوبست) کا نظام لایا جائے، جہاں فیصلہ بند کمروں میں نہیں بلکہ عوام کے سامنے ہو۔
•تیسرا مطالبہ: اس نوآبادیاتی اشرافیہ کے بجائے دیسی اور مقامی ماہرین (نیٹیو ایکپرٹیز) پر مشتمل ایک اوپن گورنمنٹ بنائی جائے جو زمین کی حقیقت کو سمجھتی ہو۔
ڈپٹی ڈائریکٹر
(غصے اور خوف کے ملے جلے لہجے میں)
یہ بغاوت ہے! تم لوگ بنانا اسٹیٹ کا امن خراب کر رہے ہو! اس گدھے کے سینگ ہماری ترقی کی علامت ہیں!
زمان
(آگے بڑھتا ہے، اس کا چہرہ جلال سے چمک رہا ہے)
ڈپٹی صاحب! یہ ترقی نہیں، یہ تماشہ ہے۔ اور تماشہ اب ختم ہوا۔
(زمان اپنی لاٹھی اٹھاتا ہے اور پورے جلال کے ساتھ گدھے کے سر پر بندھے ہوئے مصنوعی بارہ سینگوں پر مارتا ہے۔ ایک زوردار کڑک دار آواز کے ساتھ، وہ کاغذی اور لکڑی کے بنے ہوئے بارہ سینگ ٹوٹ کر اسٹیج کے فرش پر گر جاتے ہیں۔ گدھا آزاد ہو کر اپنا سر ہلاتا ہے اور پرسکون ہو جاتا ہے۔ ہجوم تالیاں بجاتا ہے اور نعرے لگاتا ہے۔)
زمان
(ٹوٹے ہوئے سینگوں کو اپنے پیر سے ٹھوکر مارتے ہوئے، حاضرینِ مجلس اور عوام سے مخاطب ہوتا ہے)
دیکھو لوگو! گدھے کے کوئی سینگ نہیں ہوتے۔ یہ سب نوآبادیاتی آقاؤں اور ان کے چمچوں کا پھیلایا ہوا فریب تھا۔ تماشائے حکمرانی ختم ہوا، کاغذی سینگ ٹوٹ گئے، اور اب یہ مٹی، یہ اسٹیج اور یہ نظام ہمارا ہے۔ اب ہمیں کسی معجزے کا انتظار نہیں کرنا، بلکہ اپنی مٹی پر اپنے اصولوں کے مطابق سچی آزادی کی عمارت کھڑی کرنی ہے۔
📌 اختتامیہ (پردہ گرتا ہے)
(اسٹیج پر آصف، زمان اور شاہد ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر سامنے آتے ہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر اور کلرک اپنی فائلیں چھوڑ کر اسٹیج کے پیچھے بھاگ جاتے ہیں۔ پسِ منظر میں ایک پرجوش انقلابی اور لوک موسیقی گونجتی ہے۔ روشنیاں آہستہ آہستہ دھیمی ہوتی ہیں اور پورا اسٹیج اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے جبکہ عوام کے نعروں کی گونج برقرار رہتی ہے۔)
[پردہ گرتا ہے]