بادشاہ صرف اللہ؛ وحدہ لا شریک لہ
Human Beings are special creation of the Supreme Creator ALLAH, blessing Man with special capabilities, capacities and attributes. The man has achieved many remarkable successes in the history but has been involved in bitter conflicts and wars. Man was created to establish a just rule in the line of "Divine Guidance" from ALLAH, God Almighty. This write up in Urdu "بادشاہ صرف اللہ؛ وحدہ لا شریک لہ" is an opinion about the true purpose of life for mankind.
بادشاہ صرف اللہ؛ وحدہ لا شریک لہ
اللہ تعالی کے نام سے شروع جو ہمارا خالق ہے، مالک ہے، جس نے ہمیں پیدا کیا اور ہمیں موت دیتا ہے اور روزِ قیامت ہمیں اکھٹا کرے گا؛ تاکہ ہمارے اعمال کا حساب فرمائے۔اور ان گنت درود و سلام حضورِ اکرم محمدﷺ کے لیے جو ہمارے آقاﷺ ہیں اور جن کی رحمت کا فیض جاری و ساری ہے۔
عزیزانِ گرامی؛ ہم جس دنیا میں زندہ ہیں اور جس حیات کو بسر کرتے ہیں اور ایک دن اپنی قبروں میں جا لیٹتے ہیں؛ وہ سب ایک ہی خالق اور مالک کی عظیم تخلیق ہے تاکہ وہ اپنی مخلوق جنّوں اور انسانوں کی آزمائش کرے اور یومِ الدین [قیامت] کے حساب کتاب سے روزِ جزا اور سزا بناکر فائدہ و نقصان کا فیصلہ کردے۔ اور سارے عمل کی ایک گواہی ہی ہے "بادشاہ صرف ایک واحد اللہ ہے"۔ اللہ سبحان تعالی جب قیامت قائم کرے گا اور ساری کائنات کو جو ہماری نگاہ میں ہے، کو سمیٹ لیگا تو پوچھے گا "آج کس کی بادشاہی ہے؟" اور اس وقت سب کو موت دے چکا ہوگا تو صرف خاموشی ہوگی؛ تو خود فرمائے گا؛ "لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ" یعنی صرف ایک اللہ، واحد و قہار (زبردست) کی بادشاہی ہے۔۔۔
سورة المؤمن آیت ۱۶
حاکمیت صرف اللہ تعالی کی ہے
سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی، باقی بتانِ آزری
علامہ محمد اقبال نے اپنی کتاب بانگِ درا کی نظم "خضرِ راہ" کے اس شعر میں کس خوبصورتی سے اس مضمون کو سمیٹا ہے؛ یعنی حقیقی بادشاہی، حکمرانی اور سروری (حکمرانی کا حق) صرف اللہ تعالیٰ کی ذاتِ بے مثال کے لیے موزوں ہے، جو لاشریک ہے۔ حقیقی حاکم صرف وہی ہے، باقی تمام حکمران، طاقتیں اور بت (دنیاوی طاقتیں) "بتانِ آزری" (جھوٹے معبود / مفاد پرست) کی طرح عارضی اور ناپائیدار ہیں۔ آئیے ذرا اللہ سبحان تعالی کی آخری کتاب قرآن الحکیم سے سیکھتے ہیں۔ تو سب سے پہلے سورۃ الاخلاص کو دیکھتے ہیں؛ اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ
" ۱۔ کہدیجئے : وہ اللہ ایک ہے ۔
۲۔ اللہ بے نیاز ہے۔
۳۔ نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔
۴۔ اور کوئی بھی اس کا ہمسر نہیں ہے۔
سورۃ الاخلاص کے بعد چلتے ہیں اورایک بڑی گواہی آیت الکرسی سے لیتے ہیں؛ جہاں اللہ تعالی نے خود کے بارے میں کیا شان بیان کی ہے کہ فرمایا ہے
" اللہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے سب کا تھامنے والا، نہ اس کو اونگھ دبا سکتی ہے نہ نیند، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے سب اسی کا ہے، ایسا کون ہے جو اس کی اجازت کے سوا اس کے ہاں سفارش کر سکے، تمام حاضر اور غائب حالات کو جانتا ہے، اور سب اس کی معلومات میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا کہ وہ چاہے، اس کی کرسی سب آسمانوں اور زمین پر حاوی ہے، اور اللہ کو ان دونوں کی حفاظت کچھ گراں نہیں گزرتی، اور وہی سب سے برتر عظمت والا ہے۔
سورۃ البقرۃ آیت ۲۵۵
آئیے مزید گواہی پاتے ہیں؛ سورۃ الحشر سے پڑھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ
"ہی اللہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب چھپی اور کھلی باتوں کا جاننے والا ہے، وہ بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
وہی اللہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ بادشاہ، پاک ذات، سلامتی والا، امن دینے والا، نگہبان، غالب، زبردست، بڑی عظمت والا ہے، اللہ پاک ہے اس سے جو اس کے شریک ٹھہراتے ہیں۔
وہی اللہ ہے پیدا کرنے والا، ٹھیک ٹھیک بنانے والا، صورت دینے والا، اس کے اچھے اچھے نام ہیں، سب چیزیں اسی کی تسبیح کرتی ہیں جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں، اور وہی زبردست حکمت والا ہے۔
سورۃ الحشر آیت ۲۲-۲۴
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان اور زمین کس نے بنائے؟ تو ضرور کہیں گے: انہیں عزت والے، علم والے نے بنایا۔
جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا اورتمہارے لیے اس میں راستے بنائے تاکہ تم راہ پاؤ۔
سورة الزخرف آیت ۹، ۱۰
اور آسمان کو ہم نے ہاتھوں سے بنایا اور بے شک ہم وسعت دینے والے ہیں ۔ اور زمین کو ہم نے فرش کیا تو ہم کیا ہی اچھے بچھانے والے۔
سورة الذريت آیت ۴۷
اور کیا جن لوگوں نے کفر کیا یہ نہیں دیکھا کہ بے شک سارے آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے تو ہم نے انھیں پھاڑ کر الگ کیا اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز بنائی، تو کیا یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ سورة الأنبياء - آیت 30
’’بےشک تمہارا رب اللہ ہی ہے، جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے، پھر (اپنی شان کے مطابق) عرش پر مستوی ہوا، وہ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی اس کے پس سفارش کرنے والا نہیں یہی اللہ تمہاراا رب ہے لہذا تم اس کی عبادت کرو، کیا تم (پھر بھی) نصیحت نہیں پکڑتے۔‘‘
سورة يونس آیت ۳
’’آپ کہہ دیجیے! کہ کیا تم اس (اللہ) کا انکار کرتے ہو اور تم اس کے شریک مقرر کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین پیدا کر دی، سارے جہانوں کا پروردگار وہی ہے۔ اور اس نے زمین میں اس کے اوپر سے پہاڑ گاڑھ دیے اور اس میں برکت رکھ دی اور اس میں (رہنے والوں کی) غذاؤں کی تجویز بھی صرف چار دن میں کر دی، یہ سوال کرنے والوں کے لیے پورا جواب ہے۔ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں (سا) تھا، اور اسے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا ناخوشی سے۔ دونوں نے عرض کیا: ہم بخوشی حاضر ہیں۔ تو دو دن میں سات آسمان بنا دیے اور ہر آسمان میں اس کے مناسب احکام کی وحی بھیج دی اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے زینت دی اور نگہبانی کی یہ تدبیر اللہ خوب غالب اور بھرپور علم والے کی ہے۔‘‘
سورة حم السجدة / سورة فصلت آیت ۹-۱۲
جس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے۔ (تو اے دیکھنےوالے) اللہ رحمن کی خلق میں کوئی بے ضابطگی نہ دیکھے گا، دوباره (نظریں ڈال کر) دیکھ لے کیا کوئی شگاف بھی نظر آرہا ہے بار بار نگاہ دہراؤ تمہاری نگاہ پلٹ کر واپس آجائے گی
(سورة الملک ،۳ ۴)ٰ
جو مخلوقات آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اللہ کی تسبیح کرتی ہے، اور وہی غالب حکمت والا ہے۔
سورۃ الحشر آیت ۱
اللہ سبحان تعالی نے بڑی تفصیل سے سارا معاملہ بیان کردیا کہ ساری کائنات میں صرف اللہ تعالی کا نظام قائم اور دائم ہے۔ پوری کائنات میں صرف اللہ تعالیٰ کی حاکمیت، قدرت اور اسی کا نظامِ قدرت قائم و دائم ہے۔ مادہ اور توانائی پر مشتمل یہ عظیم کائنات اللہ کے وضع کردہ قوانین کے تحت چل رہی ہے۔ آسمان و زمین، سورج، چاند، ستارے اور تمام مخلوقات اسی کے حکم کے تابع ہیں۔ اور ہر شے، ہر چیز کا خالق، مالک اور رازق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ چنانچہ کائنات کی ہر چیز اپنے پیدا کرنے والے کے آگے سرِتسلیم خم کیے ہوئے ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حقیقی حاکم وہی ہے۔ مختصراً، کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کے نظام کا گواہ ہے۔ مگر اس نے دو جنس انسان اور جن ایسے پیدا کئے ہیں جنہیں کچھ اختیارات دیے گئے ہیں اور عمل کی راہ دکھائی گئی ہے۔ اور کہا گیا کہ اللہ تعالی دیکھے گا کہ دونوں مخلوقات کیا راستہ چنتے ہیں۔ فرمایا ہے کہ
اِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا (3) سورۃ الانسان
بے شک ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، یا تو وہ شکر گزار ہے اور یا ناشکرا۔
حقیقت احوال کیا ہے؟
فَمَا یُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّیْنِﭤ(7) اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِیْنَ۠ (8) سورۃ التین
”تو اس کے بعد کیا چیز تجھے آمادہ کرتی ہے جزا و سزا کے انکار پر ؟“۔ "کیا اللہ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں؟
اے آدم کی اولاد! کیا میں نے تمہیں تاکید نہ کردی تھی کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، کیونکہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔ اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا، یہ سیدھا راستہ ہے۔ اور البتہ اس نے تم میں سے بہت لوگوں کو گمراہ کیا تھا، کیا پس تم نہیں سمجھتے تھے۔ سورۃ يٰـسٓ آیت ۶۰-۶۲
آج یہ دنیا تقریبا" آٹھ ارب انسانوں پر مشتمل ہے اور ان میں سے دو ارب مسلمان ہیں اور ان مسلمانوں میں بھی تھوڑے ہی ہیں جو اللہ تعالی کو ایسے ہی پہچانتے ہیں جیسا کہ اسکو جاننے کا حق ہے۔ ایک مرد مومن اللہ تعالی کو کیسے جانے اور کس طرح حق بندگی کما حقہ ادا کرے؟
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے، نہیں شریک کوئی اس کا اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ دوسرا کلمہ شہادت
پاکی اللہ کے لئے ہے اور تمام تعریف اللہ کے لئے ہے اور اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اللہ ہی بڑا ہے طاقت اور قوت اللہ ہی کی طرف سے۔ (جو) بڑی شان اور عظمت کا مالک ہے۔ تیسرا کلمہ تمجید
اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ ایک ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں، اسی کی (کل کائنات پر) بادشاہی ہے اور اسی کیلئے ہر قسم کی تعریف ہے، زندگی اور موت اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ(ایسا) زندہ ہے جسے کبھی بھی موت نہیں، عظمت کا مالک اور بزرگی والا ہے، ہر طرح کی خیر اسی کے قبضے میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ چوتھا کلمہ توحید
صحیح ابن حبان میں سیدنا عبداللہ بن مسعو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "" یا اللہ میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے بندے اور بندی کا بیٹا ۔ میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے۔ تیرا ہر حکم مجھ پر نافذ ہونے والا ہے، میرے بارے میں تیرا ہر فیصلہ انصاف و عدل پر مبنی ہے۔ میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں، جسے تو نے خود اپنے لیے پسند کیا ہے یا اپنی کتاب میں نازل کیا ہے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے یا اپنے علم غیب کے خزانے میں محفوظ کر رکھا ہے، کہ قرآن کو میرے دل کی بہار، آنکھ کا نور اور میرے دکھوں اور غموں کو دور کرنے کا ذریعہ بنا دے"۔
تب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! کیا ہمیں یہ کلمات یاد کرنے چاہئیں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جو سنے وہ بھی یاد کرلے۔
خلافت ارضی: حکمرانی یا بارِ امتحان و آزمائش
” پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو ، جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں"۔ ” انہوں نے عرض کیا ، کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اس کے نظام کو بگاڑ دے اور خونریزیاں کرے گا ؟ آپ کی حمد وثناکے ساتھ ساتھ تسبیح اور آپ کے لئے تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں"۔ سورۃ البقرہ آیت ۳۰
سورہ بقرہ کی اوپر کی آیت (إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً) میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین میں خلافت عطا کرنے کا بتایا ہے یعنی اپنا نائب، نمائندہ اور جانشین بنانے کا اعلان فرمایا۔ یہ انسان کے عظیم مقام، زمینی ذمہ داریوں اور اللہ کے احکامات کو زمین پر نافذ کرنے کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ خلیفہ وہ ہوتا ہے جو کسی اللہ تعالی کی طرف سے زمین پر اللہ تعالی کا نمائندہ بن کر ذمہ داری سنبھالے۔ اور زمین پر اللہ کے دین کو قائم کرے اور اللہ تعالی کےاحکامات کو عدل و انصاف کے طریقوں سے نافذ کرے۔ یہ انسان کی اشرف المخلوقات ہونے اور زمین میں اللہ کا نمائندہ ہونے کی دلیل ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے قرآن سے رہنمائی لیتے ہیں۔ مسلمانوں سے پہلے اللہ تعالی نے شریعت موسوی کا نفاذ کیا تھا اور اپنی خلافت کی تشریح کروائی تھی۔ اللہ تعالی اس کی تفصیل یوں بیان فرماتے ہیں کہ
اور داؤد نے جالوت کو مار ڈالا، اور اللہ نے سلطنت اور حکمت داؤد کو دی اور جو چاہا اسے سکھایا، اور اگر اللہ کا بعض کو بعض کے ذریعے سے دفع کرا دینا نہ ہوتا تو زمین فساد سے پُر ہو جاتی، لیکن اللہ جہان والوں پر بہت مہربان ہے۔
سورۃُ البقرہ آیت ۲۵۱
اور بیشک ہم نے نبیوں میں ایک کو دوسرے پر فضیلت عطا فرمائی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔
سورۃ بنٓی اسرآءیل آیت ۵۵
اور داؤد کے تابع ہم نے پہاڑ کر دیئے تھے جو تسبیح کرتے تھے اور پرند بھی؛ ہم کرنے والے ہی تھے ۔
سورة الأنبياء آیت ۷۹
اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم بخشا اور انہوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں بہت سے اپنے مومن بندوں پر فضیلت دی
سورۃ النمل آیت ۱۵
اور ہم نے داؤد کو اپنی جانب سے برتری عطا کی ( اور ہم نے پہاڑوں کو حکم دیا) کہ اے پہاڑو۔ تم داؤد کے ساتھ تسبیح میں موافقت کرو اور پرندوں کو بھی (یہی حکم دیا) اور ہم نے ان کے لیے لوہے کو نرم کردیا۔
سورة سبأ - آیت ۱۰
اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کر جو بڑا طاقتور تھا، بے شک وہ رجوع کرنے والا تھا۔
اور پرندوں کو بھی جو جمع ہوجاتے تھے، ہر ایک اس کے تابع تھا۔
اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا اور ہم نے اسے نبوت دی تھی اور مقدمات کے فیصلے کرنے کا سلیقہ (دیا تھا)۔
اے داؤد! ہم نے تجھے زمین میں بادشاہ بنایا ہے [جَعَلْنَاكَ خَلِيْفَةً فِى الْاَرْضِ] پس تم لوگوں میں انصاف سے فیصلہ کیا کرو اور نفس کی خواہش کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے ہٹا دے گی، بے شک جو اللہ کی راہ سے گمراہ ہوتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اس لیے کہ وہ حساب کے دن کو بھول گئے۔
سورۃ ص آیت ۱۷،۱۸، ۱۹، ۲۰، ۲۶
مقامِ حکمرانی کے اسرار
اللہ تعالی جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں [ ابن آدم ] میں سے چن لیتا ہے اور اسے حکمران بنا دیتا ہے۔ [جو عہدہ حکمرانی غصب کرتے ہیں؛ انکا یہاں ذکر نہیِ کہ وہ شیطان کی پیروی کرتے ہیں اور اپنے لیے محض ذلت کا گڑھا گہرا کرتے ہیں]۔ اللہ تعالی اپنے بندے کو حکمرانی کے لیے درکار حکمت فراہم کرتاہے۔ اور بہت کچھ سکھاتا ہے، جو چاہتا ہے۔ اور وہ راستہ علم کا ہوتا ہے اور علم کے ذریعے اسے دوسروں پر افضلیت بخشتا ہے۔ اور اس فرد کے ذریعے اس کی قوم کو نئے رجحانات ؛ نئی ٹیکنولوجی فراہم کرتا ہے؛ جو انہیں دوسروں سے بہتر کردیتی ہے اور وہ اقوامِ عالم کے سردار بنادیے جاتے ہیں۔ اور مقام افضلیت و سرداری کا تقاضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مقدمات/ جھگڑوں / مسائل کے فیصلے کرتے اور حل تجویز کرتے ہیں۔ اور ایسا کرتے ہوئے انصاف کا دامن تھامے رہتے ہیں۔
انصاف کا تقاضہ یہ ہوتا ہے کہ فیصلے کے وقت اور مسائل کے حل تجویز کرتے ہوئے، انسان یا فرد یا گروہ صرف اپنی ذات، اپنے نفس یا اپنی قومکے فائدے کے لیے سوچتا اور فیصلے نہیں کرتا بلکہ انصاف سے دوسرے کا حق بھی پورا دیتا ہے۔ اور انسان یا فرد یا گروہ ہر وقت اللہ تعالی کے حکم اور شریعت کو ملحوظِ خاطر رکھتا ہے۔ اور اگر غلطی کربیٹھے تو رجوع کرلیتا ہے اور توبہ کرلیتا ہے۔ ایسے انسان یا فرد یا گروہ پھر زمین پر برتری حاصل کرلیتے ہِں؛ یہ اللہ تعالی کی شریعت ہے؛ جس کو وہ بدلتا نہیں ہے۔
اختتامی کلمات
قران الحکیم کا یہ حکم ہمیشہ یاد رکھیں جو اس نے سورة المؤمن آیت ۱۶ میں فرمایا ہے کہ "آج کس کی بادشاہی ہے؟ ایک اللہ کی جو سب پر غا لب ہے"۔
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا: ’’(قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ اپنے دائیں دست ِ قدرت سے زمین کو اپنے ہی قبضے میں لے گا اور آسمان کو لپیٹ لے گا، پھرفرمائے گا:حقیقی بادشاہ میں ہوں، آج زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ ( صحیح بخاری الحدیث: ۶۵۱۹)
حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا "اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو لپیٹ دے گا۔ پھر انہیں اپنے (شایانِ شان معنوں میں) دائیں ہاتھ میں لےگا، پھر ارشادفرمائے گا: میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں جابر لوگ؟ کہاں ہیں تکبُّر والے لوگ؟ پھر زمینوں کو اپنے (شایانِ شان معنوں میں بائیںہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھرارشاد فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں جابر لوگ؟ کہاں ہیں تکبُّر و غرور کرنے والے لوگ۔ ( مسلم، الحدیث: ۲۷۸۸)
حقیقی بادشاہی، حکمرانی اور سروری (حکمرانی کا حق) صرف اللہ تعالیٰ کی ذاتِ بے مثال کے لیے موزوں ہے، جو لاشریک ہے۔ حقیقی حاکم صرف وہی ہے۔ انسان صرف خلافت کے رتبے پر ہے؛ محض ایک نمائندہ، ایک بارِ امتحان اور آزمائش ہے جو اس کے کندھوں پر ہے؛ اور اس خلافت کا بوجھ ایسا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا اور دس سال ہونے پرانہوں نے اللہ تعالی سے شہادت اور اپنے محبوب (حضرت محمدﷺ) کے شہر میں وفات کی دعا مانگی تھی۔
اے برادران اسلام؛ کیا ہم اللہ تعالی کے محبوب حضرت محمدﷺ کی امت ہیں؟ اگر ہیں تو زمانے میں رسوا کیوں ہیں؟
امتی باعث رسوائی پیغمبرﷺ ہیں
بت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ "خبردار! میری اُمت سورج، چاند اور پتھر کی عبادت تو نہ کرے گی اور نہ بتوں کے آگے سجدہ کرے گی، البتہ اپنے اچھے کام لوگوں کو دکھائے گی۔ اور مخفی خواہشات یہ ہیں کہ ان میں سے کوئی شخص صبح روزہ دار اُٹھے گا، پھر نفسانی خواہشات میں سے کوئی خواہش (کھانا پینایا صحبت ) پیش آجائے گی تو وہ روزہ توڑ دے گا"۔ (مسنداحمد)
رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ کی قسم! میں تمہارے (تھوڑے سے نہ کہ حد سے زیادہ) فقرو افلاس سے نہیں ڈرتا، بلکہ اس سے ڈرتا ہوں کہ تم پر تم سے پہلے لوگوں کی طرح دنیا کشادہ کردی جائے، پھر تم پہلے لوگوں کی طرح دنیا کی محبت و رغبت میں گرفتار ہوجاؤ گے اور یہ دنیا پھر تم کو پہلے لوگوں کی طرح ہلاک کردے گی۔‘‘ (بخاری، مسلم)
اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ وَمَلٰٓءِکَتِہٖ وُکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ مِنَ اللّٰہِ تَعَالیٰ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ
میں ایمان لایا اللہ پر اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور یوم آخر (قیامت) پر اور ایمان لایا اس بات پر کہ بھلائی اور برائی اللہ ہی کی جانب سے ہے اور ایمان لایا اس بات پر کہ مرنے کے بعد زندہ ہونا ہے۔ ایمانِ مُفصّل
اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ کَمَاھُوَ بِاَسْمَآءِہٖ وَصِفَاتِہٖ وَقَبِلْتُ جَمِیْعَ اَحْکَامِہٖ اِقْرَارٌ بِا للِّسَانِ وَتَصْدِیْقٌ بِالْقَلْبِ
میں ایمان لایا اللہ پر جیسا کہ وہ ہے اپنے ناموں اور اپنی صفتوں کے ساتھ اور میں نے قبول کئے اس کے سارے احکام اس کا مجھے زبان سے اقرار اور دل سے (اس کی صداقت کا) یقین ہے۔ ایمانِ مجمل