Muhammad Asif Raza 3 weeks ago
Muhammad Asif Raza #entertainment

آئینے کا قیدی

Storytelling is an important tool because it builds emotional connections, helps people remember information, and fosters empathy. Fiction is defined as any creative literary or narrative work that portrays imaginary characters, settings, and events. True liberation from this worldly mirror (Aina-e-Dahr) is achieved only when a human being frees themselves from the deception of the outer reflection and peers deep into their own soul to discover reality. Only then does one cease to be a prisoner of the mirror of self. This write up "آئینے کا قیدی" is a fictional story inspiring True Love—a realm where every mortal thing fades away, and only the name of the One Divine Essence remains.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


آئینے کا قیدی


شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور ناصر گاؤں کے پرانے پُل پر اکیلا بیٹھا تھا۔ دریا کا پانی خاموشی سے بہہ رہا تھا۔ ناصر نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا، جو اب کافی زیادہ سفید ہو چکے تھے۔ اس نے ایک گہری سانس لی اور اس کے لبوں پر ناصر کاظمی کا وہ شعر آ گیا جو وہ اکثر جوانی میں گنگنایا کرتا تھا:۔

"پکارتی ہیں فرصتیں کہاں گئیں وہ صحبتیں

زمیں نگل گئی اُنہیں کہ آسمان کھا گیا"۔

ابھی کل ہی کی بات تھی کہ وہ ایک وسیع قبیلے کا ایک فرد تھا۔۔۔ اس کے بےشمار دوست، عزیز اور احباب تھے۔۔ وہ ایک محفل باش انسان تھا اور اسکا بہت سارا وقت محفلوں میں گذرتا تھا۔۔۔ لیکن آج واقعی اس کے پاس فرصت ہی فرصت تھی، لیکن وہ رونقیں، وہ دوست، اور وہ محبتیں کہیں غائب ہو چکی تھیں۔ وقت سب کچھ اپنے ساتھ بہا کر لے گیا تھا۔

ناصر کو اپنی جوانی کا وہ دور بھی یاد آیا جب زندگی صرف ایک ہی نام کے گرد گھومتی تھی۔ جب بھی وہ اپنی محبت سے اس پُل پر ملتا، تو فضا میں یہ پنجابی گیت گونجتا تھا:۔

"جا دس دے دلبر ماہی نوں؛

میتھوں یار بھلایا جاندا نئیں"۔

وہ ایک ایسا جنون تھا جس میں ناصر نے اپنی زندگی کے کئی قیمتی سال گنوا دیے۔ محبت میں ناکامی کے بعد وہ برسوں تک ایک ہی جگہ رکا رہا، ماضی کی یادوں کی قید میں

جہاں اس کا دل بس ایک ہی گیت گنگناتا تھا:-۔

"دشتِ تنہائی میں، اے جانِ جہاں، لرزاں ہیں

تیری آواز کے سائے، تیرے ہونٹوں کے سراب


وہ برسوں اسی سراب کے پیچھے بھاگتا رہا۔ پھر ایک دن، گاؤں کے نہر کے کنارے وہ سو گیا تھا؛ اس کے خواب میں ایک حادثہ ہو گیا۔ اس کا ناگہانی حادثے میں فوت ہونے والا محبوب اس کے خواب میں آیا۔

محبوب نے محبت بھرے لہجے میں کہا: "ناصر جانم! محبت کا ایک وقت ہوتا ہے اور یہ زندگی کا ایک رخ ہوتا ہے؛ پوری زندگی تو نہیں ہوتی۔ وہ محبت بھی کیا محبت ہے جو انسان کو اس کے اصل مقام سے گرا دے۔ تم اب بھی اسی طوفان میں کیوں گھِرے ہو؟ تمہارا نصیب صرف میری محبت سے منسوب کیوں رہے۔ اٹھو، اس دنیا کے اسیروں کی مدد کرو اور زندگی میں اپنی قابلیت کے مطابق کردار ادا کرو۔" اور اس نے یہ شعر پڑھا:۔

"تھا مدوجزر اب تو اتر جانا چاہیۓ

اس عمر میں تو یار سدھر جانا چاہیۓ"۔

وہ خواب ایک حادثہ تھا۔ محبوب کی یہ فرمائش ناصر کے دل میں تو اتری، اور وہ زندگی میں کچھ حاصل کرنے نکل پڑا۔ وہ استاد بن گیا؛ وہ نوجوانوں کو بڑی محبت سے پڑھاتا تھا اور ان کے دلوں کو ماضی کی اسیری سے نکال کر علم کی شمع سے جوڑتا تھا۔ لیکن ذہن پر نقش ماضی کی زنجیریں بہت مجبور کرنے والی تھیں۔ وقت گزرتا گیا اور ناصر اپنی زندگی کے آخری پڑاؤ پر ایک پرانی حویلی کے خاموش کمرے تک آ پہنچا۔

اس رات باہر تیز ہوا چل رہی تھی اور پرانی کھڑکیوں سے ٹکرا کر ایک عجیب سی سرسراہٹ پیدا کر رہی تھی۔ ناصر نے بستر سے اٹھ کر کھڑکی کھولی تو ٹھنڈی اور نم آلود ہوا کا ایک جھونکا اس کے چہرے کو چھو کر گزرا۔ اس کے دل سے ایک ہوک اٹھی اور گلزار کا وہ لازوال کلام اس کے لبوں پر مچل گیا:۔

"ایک پرانا موسم لوٹا یاد بھری پروائی بھی

ایسا تو کم ہی ہوتا ہے وہ بھی ہوں تنہائی بھی"۔

وہ حویلی کے دالان میں لگے ایک بڑے, دھندلے آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ جب اس نے آئینے میں دیکھا، تو اسے اپنی ضعیف آنکھوں کے پیچھے ایک اور چہرہ دکھائی دیا۔ وہ چہرہ اس کی اپنی جوانی کا تھا—پرجوش، دیوانہ، اور محبت میں چور۔ ناصر نے تڑپ کر آئینے پر ہاتھ رکھا اور بڑبڑایا:۔

"دو دو شکلیں دکھتی ہیں اس بہکے سے آئینے میں

میرے ساتھ چلا آیا ہے آپ کا اک سودائی بھی"۔

وہ آئینہ جیسے کوئی جادوئی دریچہ تھا، جس میں ماضی کا وہ سودائی آج بھی ناصر کو قید کیے ہوئے تھا۔ اسی عالمِ یاس میں، ناصر کی نظر میز پر رکھی ایک پرانی، گرد آلود کتاب پر پڑی۔ یہ مولانا جلال الدین رومیؒ کا دیوان تھا۔ ناصر نے کانپتے ہاتھوں سے کتاب کھولی۔ صفحات پلٹتے پلٹتے اس کی نظر ان سطروں پر پڑی:۔

"مُردہ بودم، زندہ شدم (میں مردہ تھا، زندہ ہو گیا)

گریہ بودم، خندہ شدم (میں رونا تھا، ہنسی ہو گیا)

دولتِ عشق آمد و من (عشق کی دولت آئی اور میں)

دولتِ پایندہ شدم (ایک لافانی دولت بن گیا)"۔

ان چار سطروں نے ناصر کے دل پر لگی اس پرانی مہر کو پھر توڑ دیا۔ اسے اچانک احساس ہوا کہ جس مجازی محبت کے کھونے پر وہ عمر بھر روتا رہا، وہ تو محض ایک زینہ تھا اس اصل، ابدی اور حقیقی عشق (عشقِ الٰہی) تک پہنچنے کا۔ اب آئینے کا سحر ٹوٹ چکا تھا اور ناصر کا چہرہ ایک انوکھے، روحانی اطمینان سے چمک رہا تھا۔۔ اس نے خود کو صوفیاء کی تعلیمات کے فروغ کے لیے وقف کرلیا۔

ایک دن اچانک حویلی کے بھاری دروازے پر زور دار دستک ہوئی۔

ناصر نے دروازہ کھولا تو باہر بارانِ رحمت میں بھیگا ہوا ایک نوجوان لڑکا کھڑا تھا، جس کی آنکھوں میں وہی پرانی بے چینی اور پاگل پن تھا جو کبھی ناصر کا اثاثہ ہوا کرتا تھا۔

"میرا نام کبیر ہے،" نوجوان نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔ "میں شہر سے بھاگ کر آیا ہوں۔ میں سب کچھ ہار چکا ہوں، میری محبت، میرا سکون... سب ختم ہو گیا۔ مجھے لگا میں پاگل ہو جاؤں گا، کسی نے مجھے آپ کا پتہ دیا تھا کہ اس حویلی میں ایک بوڑھا سودائی رہتا ہے جو دل کے امراض کا مداوا جانتا ہے۔"۔۔

ناصر نے مسکرا کر کبیر کو دیکھا۔ اسے لگا جیسے آئینہ ایک بار پھر اس کے سامنے کھڑا ہے، لیکن اس بار شیشے میں نہیں، بلکہ گوشت پوست کے ایک انسان کی شکل میں۔ ناصر نے کبیر کو اندر بلایا، اسے گرم چائے کا پیالہ دیا اور اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ کبیر نے روتے ہوئے اپنی بچھڑی ہوئی محبت کا قصہ سنایا اور کہا، "سر! میں اب بھی دن رات بس اسی کے خیالوں میں کھویا رہتا ہوں، کچھ اور سوجھتا ہی نہیں۔"۔۔۔

ناصر نے ایک گہری سانس لی، کبیر کی آنکھوں میں دیکھا اور دھیمی آواز میں مرزا غالب کا وہ شہرہ آفاق شعر پڑھا:۔

"دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن

بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے"۔

"کبیر!" ناصر کا لہجہ اب گہرا اور صوفیانہ ہو چکا تھا، "یہ دل بڑا ضدی ہے۔ یہ ہمیشہ اسی قید، اسی فرصت اور اسی تصور کو ڈھونڈتا ہے جو اسے برباد کر چکا ہوتا ہے۔ تم جانتے ہو ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیونکہ انسان کی ایک روح ہوتی ہے؛ جو اس کا اصل ہوتی ہے، لیکن وہ اصلیت اس کے مٹی کے پتلے (جسم) میں قید ہوتی ہے اور یہ مٹی کا پتلا اس روح پر غالب آ جاتا ہے۔"۔۔

کبیر چائے کا پیالہ تھامے حیرت سے ناصر کو سننے لگا۔

ناصر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: "اب انسان چاہتا تو ہے کہ وہ اعلیٰ نصاب کا حامل ہو اور زندگی میں اعلیٰ روحانی مقام حاصل کرے، مگر اس کا یہ مٹی کا پتلا کارگر ہو جاتا ہے۔ یہ اسے اس کے اصل مقام سے گرا کر محدود، عارضی اور فانی خواہشات میں ملوث کر دیتا ہے۔ انسان کی روح مٹی کے بت کا قیدی بن جاتی ہے۔ یہ جو سامنے آئینہ لٹک رہا ہے نا کبیر... یہ آئینہ انسان کو کبھی اس کا یہ اصل نہیں دکھا پاتا۔ یہ صرف مٹی کے پتلے کا روپ دکھاتا ہے، روح کی تڑپ نہیں دکھاتا۔"۔

کبیر کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، اسے لگا جیسے اس کے اندر کا سارا بوجھ ہلکا ہو رہا ہے۔ ناصر نے اس کے آنسو پونجھے اور کہا: "تم جس مجازی محبت کے کھونے پر رو رہے ہو، وہ دراصل مٹی کے بت کی قید ہے۔ جب دل دنیا کی فانی چیزوں سے ٹوٹتا ہے، تبھی مٹی کا یہ پتلا کمزور پڑتا ہے اور روح آزاد ہو کر ابدی عشق کے نور کی طرف پرواز کرتی ہے۔"۔۔

ناصر نے مسکرا کر کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں اب بارش تھم چکی تھی، زمین دھل چکی تھی اور آسمان پر چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ اس نے عدیم ہاشمی کا وہ شاہکار شعر پڑھا جس نے ان دونوں کی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت کو سمیٹ لیا تھا:۔

"باقی بس ایک نامِ خدا رہ گیا عدیم

سب کچھ بہا کے وقت کا دریا گزر گیا"۔

ناصر اب اکیلا نہیں تھا اور نہ ہی کبیر اب تنہا تھا؛ مٹی کے بتوں کی قید سے آزاد ہو کر، وقت کے دریا کے کنارے، وہ دونوں اب عشقِ حقیقی کی اس ابدی شاہراہ پر گامزن تھے جہاں ہر فانی چیز مٹ جاتی ہے اور صرف ایک ذات کا نام باقی رہ جاتا ہے۔ اس آئینے دھر سے آزادی تب ملتی ہے جب انسان خود کو اس کے عکس کے دھوکے سے آزاد کر کے اپنی روح میں جھانکتا ہے تو اسے اصل معلوم ہوتا ہے۔ تو پھر وہ ذات کے آئینے کا قیدی نہیں رہتا۔


0
173

Etihad Airways Gaborone Office

defaultuser.png
charlottehayes9923
1 hour ago

A Level Chemistry Tuition

A Level Chemistry Tuition

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocK7or_G87XYbOcCBPIzAbzE2NCQ5r5Q77EhObW1o5Vhl1dJqQ=s96-c
Twig
3 hours ago
British Airways Paris Office

British Airways Paris Office

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocI5fcKdmhEi8P38-_ctJodLIIM3u8MYzelilrmXjH-IvJxLUw=s96-c
Elisha Parker
3 hours ago

Folding Box Board Paper Price Trend 2026 | Q3 Forecast, Chart, Prices...

1787734945.png
Lakshay Choudhary
3 hours ago
Book "The Death and Life of Great American Cities" By Jane Jacobs

Book "The Death and Life of Great American Cities" By Jane Jacobs

1714584133.jpg
Muhammad Asif Raza
3 hours ago