ایمانداری اور معاشرتی ترقی
The human beings are a special creation and humans have shown that specialty in many ways and means. The life in this world is temporary and human life is a struggle through phases and success is defined in life hereafter. The success of an individual and even a nation depends upon some attributes; and honesty is one cardinal element. This write up "ایمانداری اور معاشرتی ترقی" is an opinion about the same.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
ایمانداری بہترین حکمتِ عملی ہے
ایمانداری بہترین حکمت عملی کا مفہوم یہ ہے کہ اگر جھوٹ بولنے میں آسانی اور سہولت بھی ہو مگر پھر بھی انسان سچ ہی بولے تو یہ بہترین عمل کہلائے گا۔ یہ ایک آفاقی کہاوت ہے؛ اور کسی فرد کی زندگی میں صداقت اور دیانت کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے۔ انسان کی ایمانداری دوسروں پر اس کا اعتماد اور اعتبار پیدا کرتا ہے، مثبت تعلقات کو فروغ دیتا ہے؛ دیانتداری کا وصف جوابدہی کے احساس کو فروزاں رکھتا ہے۔
دیانتداری، سادہ الفاظ میں، مطلب ہے سچ بولنا اور اپنے قول و فعل میں مخلص ہونا۔ یہ قابل اعتماد ہونے اور دیانتداری کے ساتھ کام کرنے، جھوٹ، دھوکہ دہی اور سچائی کو غلط انداز میں پیش کرنے والی ہر چیز سے گریز کرنا ہے۔ بنیادی طور پر، یہ ایک فرد کی دوسروں کے ساتھ بات چیت میں حقیقت پسندی اور سیدھا سبھاو ہوتا ہے۔
جب ہم جبلی طور پر ایماندارانہ شخصیت کے حامل ہوتے ہیں تو ہم خود اپنی ذات میں پر اعتماد ہوتے ہیں اور ہمیں دوسروں سے تعلقات قائم کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی؛ چنانچہ دوسروں کے ساتھ تعلق اعتماد کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے اور پھلتا پھولتا ہے۔ جب ہم ایماندار ہوتے ہیں تو ہمارے اپنے خیالات، احساسات اور اعمال سچے ہوتے ہیں؛ جو معاشرے میں ہمیں قابل احترام بناتے ہیں۔ یہ احساس ہماری زندگی میں پُراعتماد جیون کی بنیاد بناتے ہیں جس پر دوسرے بھروسہ کر سکتے ہیں۔ ایمانداری انسان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ حیثیت میں صحت مندانہ تعلقات استوار کرنے میں ستون کا کردار ادا کرتی ہے۔
ایک فعال کامیاب اور صحت مند معاشرے کے افراد اور اداروں کے درمیان اعتماد، شفافیت اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایمانداری بہت ضروری وصف ہے۔ ایمانداری صحت مند تعلقات کو فروغ دیتا ہے، کمیونٹیز کو مضبوط کرتا ہے، اور ذاتی اور پیشہ ورانہ دونوں ترتیبات میں اخلاقی فیصلہ سازی کی مضبوط بنیاد بناتا ہے۔ اس کے برعکس، بے ایمانی سماجی ہم آہنگی کو ختم کر سکتی ہے؛ عدم اعتماد پیدا کر سکتی ہے؛ صحت مندانہ تعلقات کی نمو میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے؛ اور ترقی کو روک سکتی ہے۔
ایمانداری کا وصف معاشرے میں اعتماد سازی، امن، اتحاد اور ترقی میں معاون ہوتا ہے۔ ایمانداری نوجوانوں میں منحرف منفی رویوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ یہ معاشرے کے اندر افراد اور گروہوں میں اعتبار کا باعث بنتا ہے۔ یہ قوم میں احتساب اور شفافیت کو فروغ دیتا ہے۔ جدید معاشرے کی پیچیدگیوں میں آسان راستہ بنانے میں؛ ایمانداری کا وصف؛ اخلاقی فیصلہ سازی اور ذمہ دار شہریت کے لیے رہنما اصول کے طور پر کام کرتی ہے۔ ذاتی اور پیشہ ورانہ تعاملات میں ایمانداری کو برقرار رکھنا شفافیت، انصاف پسندی اور جوابدہی کو فروغ دیتا ہے؛ جو ایک منصفانہ اور مساوی معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔
آئیے ذیل میں ایک افریقی ملک سوڈان سے ایک شخص کے مضمون سے ایک واقعہ پڑھتے ہیں۔
کالج اور اپنی رہائش کے درمیان میں جِس راستے سے گُذرتا تھا، اُس راستے میں ایک عورت کی دوکان تھی جس سے میں 18 پِنس میں کوکو ( چاکلیٹ) کا ایک ڈبہ خریدتا تھا۔
ایک دِن دیکھا کہ اُس نے اُسی کوکو کا ایک ڈبہ اور رکھا ہُوا ہے جِس پر قیمت 20 پِنس لِکھی ہُوئی ہے۔
مُجھے حیرت ہُوئی۔ میں نے اُس سے پُوچھا کہ کیا دونوں ڈبوں کی کوالٹی میں کُچھ فرق ہے؟
اُس نے کہا : نہیں، دونوں کی کوالٹی یکساں ہے۔
میں نے پُوچھا کہ پِھر قیمت کا یہ فرق کیوں؟
اُس نے جواب دِیا کہ نائجیریا، جہاں سے یہ کوکو ہمارے مُلک میں آتا ہے، اُس کے ساتھ کُچھ مٙسائل پیدا ہو گئے ہیں، جِس کی وجہ سے قیمت میں اِضافہ ہو گیا ہے۔ زیادہ قیمت والا مال نیا ہے، اُسے ہم 20 کا بیچ رہے ہیں اور کم قیمت والا پہلے کا ہے، اُسے ہم 18 کا بیچ رہے ہیں۔
میں نے کہا، پِھر تو سب 18 والا ہی خریدیں گے جب تک یہ ختم نہ ہو جائے؟ 20 والا تو اِس کے بعد ہی کوئی خریدے گا۔
اُس نے کہا: ہاں، یہ مُجھے معلوم ہے۔
میں نے مٙشورہ دِیا کہ دونوں ڈبوں کو مِکس کر دو اور 20 کا ہی بیچو ۔ کِسی کے لِیے قیمت کا یہ فرق جاننا مُشکل ہو گا۔
اُس نے سرزنش کے انداز میں کہا : کیا تم کوئی لُٹیرے ہو۔؟
قارئین گرامی اب ذرا دل تھام کر پڑھیے؛ آپکا دل جس رائے کو ابھارے گا وہ اس بات کا مطہع ہوگا کہ کیا ہم ایک صحت مند معاشرے کا حصہ ہیں یا نہیں؟
سوڈانی بھائی کو اُس کا یہ جواب عجیب لگا اور وہ آگے بڑھ گیا۔
لیکن یہ سوال ایک عرصے تک اس کے کانوں میں گُونجتا رہا کہ "کیا میں کوئی لُٹیرا ہوں؟"۔
اختتامی کلمات
قارئین کرام؛ یہ کون سا اخلاق ہے؟ اور کیسے اور کہاں سکھایا جاتا ہے؟ یاد رہے سوڈان ایک افریقی ملک ہے جو شاید آج بھی ایک تیسری دنیا کا ملک کہلاتا ہے۔ کیا یہ دراصل سب انسانوں کا اخلاق نہیں ہونا چاہیے تھا۔ یہ ہم مسلمانوں کا دین کا سبق ہے ۔
یہ وہ اخلاق ہے جو ہمارے نبی کریم صلی علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سِکھایا تھا۔
لیکن؟ اپنی ایمانداری سے بتائیں کیا ہم لٹیرے نہیں ہیں؟
کیا ہم مسلمان بھی ہیں؟
ہم جب تک ایمانداری کے وصف کے حامل معاشرہ کو ترتیب نہیں دیں گے؛ ترقی صرف ایک خواب ہی رہے گا؛ اور ایمانداری کے وصف سے عاری انسانی معاشرے اور قوم میں صرف چھوٹے بڑے لٹیرے ہی راج کرتے ہیں۔