"Eejad-e-Mujarrad Ka Moajaza" is a profound, socio-political, and satirical critique that uses the symbolic Urdu poetry of Jalil Aali to expose the breakdown of logic and human expression in contemporary society. The essay masterfully blends biting satire—such as absurd technological overreaches—with deep existential reflections on human dignity, authority, and the historical struggle against oppression. By weaving together iconic verses from classical and modern poets, it laments the forced silence of humanity while celebrating the resilient, echoing voice of creation. Ultimately, the narrative transforms from a somber critique of puppet-like compliance into a powerful anthem of public awakening and enduring cosmic hope.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
ایجادِ مجرد کا معجزہ
اردو زبان کے معروف شاعر جناب جلیل عالی کا ایک شعر نظر سے گزرا تو محسوس ہوا کہ اردو کی جدید شاعری میں ان کا یہ شعر شاید علامتی اور ماورائی شاعری میں ایک منفرد اضافہ ہے؛ سو پہلے شعر دیکھتے ہیں:۔
سبھی کردار چپ ہیں اور چیزیں بولتی ہیں
فسانے میں فسونی کوئی باب آیا ہوا ہے
اس شعر کو سمجھنے کی کوشش ایک ایسی گہرائی میں پہنچاتی محسوس ہوئی جہاں ایک اور ہی دنیا سسکتی محسوس ہوئی؛ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں تخلیق کار نے صرف ایک متبادل منظرنامہ پیش نہیں کیا، بلکہ کائنات اور انسانی مصلحتوں کی بساط الٹ کر رکھ دی ہے۔ یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں منطق دم توڑ چکی ہے اور "ایجادِ مجرد کا معجزہ" اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ اس معجزے کی ایک جھلک اس خبر میں دیکھی جا سکتی ہے کہ ملک میں انڈوں کی کمی پورا کرنے کے لیے ایک ایسی مشین ایجاد کی گئی ہے جس کے بعد اب مرغے بھی انڈے دیں گے! جب فطرت کو مسخ کرنے والی ایسی مضحکہ خیز ایجادات ہی نجات دہندہ بن کر سامنے آئیں، تو پھر کرداروں کی خاموشی اور چیزوں کا بولنا کوئی حیرت انگیز بات نہیں رہتی۔
۱. اظہار کی فطری ترتیب کا معکوس ہونا
شعر کا آغاز ہی ایک خلافِ معمول صورتِ حال سے ہوتا ہے۔ کسی بھی بیانیے، داستان یا فسانے کی یہ فطری ترتیب ہوتی ہے کہ اس کے جاندار کردار—جن کا بنیادی وسیلہ اظہار ان کے مکالمے، افعال اور بیانات ہوتے ہیں—وہ بولیں اور کہانی کا پہیہ آگے بڑھائیں۔ یہاں یہ ترتیب بالکل معکوس ہو گئی ہے۔ کردار، جو گویائی کا حق رکھتے ہیں، بالکل خاموش ہیں؛ جبکہ اشیاء، جن سے عموماً گویائی کی کوئی توقع نہیں کی جاتی، وہ اچانک بول رہی ہیں۔
یہ تو ولیم شیکسپیئر کے بقول اس دنیا کے اسٹیج کے کرداروں یعنی ہم انسانوں کی توہین کا معاملہ ہوا۔ یا الہی کیا ہم مصنوعی ذہانت کے معجزے اور تیرے حساب کے دن سے قبل ہی ایک المیہ کا شکار ہو گئے ہیں؟ یہ کیسے دور اور کس زمانے کی تصویر ہے کہ کردار خاموش ہو گئے اور اشیاء بول پڑی ہیں؟
اے لوگو! یہ اظہار کا فطری نظام درہم برہم ہو جانا ہے؛ کیا آپ کے ذہن میں فوراً یہ سوال جنم نہیں لیتا ہے کہ آخر وہ کون سا جبر، کون سی مصلحت یا کون سا مہیب سانحہ ہے جس نے ہم زندہ متحرک کرداروں کی زبان بندی کر دی ہے؟ یہ کیا فسانہ ہے کہ جب لب سل جاتے ہیں، تو خاموش چہروں پر تحریریں چیخنے لگتی ہیں۔ آوازیں صلب ہوتی ہیں، تو سسکیاں بلند ہونے لگتی ہیں؛ مگر منہ سے نہیں بلکہ آنکھوں سے اور روح بلکنے لگتی ہے۔ اس پراسرار اور خوف جیسی فضا میں بے زبان اشیاء ہی ان کرداروں کے رنج و الم اور پوشیدہ سچائیوں کا اصل اظہاریہ بن کر سامنے آتی ہیں۔ اس مہیب سناٹے کی وجہ شاید وہ نظام ہے جس کا نقشہ امداد آکاش کھینچتے ہیں:۔
بزرگ آبِ بقا پی چکے تھے اور بچے
وجود ہی میں نہ لائے گئے زمیں کم تھی
یعنی جو پرانے لوگ تھے (کیا بومبرز کا ذکر ہے)، انہوں نے گویا ہمیشہ زندہ رہنے کا پانی (آبِ بقا) پی لیا ہے۔ وہ دنیا سے جا نہیں رہے، یعنی اپنی جگہ چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں اور زمین کے اختیار اور طاقت سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نئی نسل یا نئے بچوں کو دنیا میں لانے کی گنجائش ہی نہیں بچی۔ انہیں پیدا ہی نہیں ہونے دیا گیا یا وہ عدم سے وجود میں نہ آ سکے۔ اس کی بنیادی وجہ شاعر یہ بتاتا ہے کہ یہ زمین اتنی چھوٹی پڑ گئی کہ اس میں پرانے لوگوں کے موجود ہوتے ہوئے نئے لوگوں کے لیے کوئی جگہ یا وسائل باقی نہیں رہے۔ یہ شعر علامتی طور پر جمود کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے، جہاں پرانے خیالات اور لوگ جگہ خالی نہیں کرتے، جس کی وجہ سے نئی سوچ اور نئی نسل پنپ نہیں پاتی۔
۲. لفظ "فسونی" اور "زبان درازی" کی تعبیر کا رد
شعر کے دوسرے مصرعے میں لفظ فسانے میں "فسونی" کا ذکر ہوا ہے۔ یہ دنیا کی زندگی کیا محض ایک فسانہ ہی ہے؛ قرآن نے جسے "متاع الغرور"- دھوکا کہا ہے؛ اور پھر یہ لفظ "فسونی" تو پورے بیانیے پر ایک سحر انگیز چھتری تان دیتا ہے۔ اس تناظر میں اشیاء کے بولنے پر "زبان درازی" کی تعبیر لانا بالکل محلِ نظر ٹھہرتا ہے۔ "زبان درازی" کا لفظ اپنے اندر ایک منفی گستاخی, بے باکی یا حد سے تجاوز کا تاثر رکھتا ہے، جبکہ جلیل عالی کا ممدوح منظرنامہ کسی سرکشی کا مرہونِ منت نہیں، بلکہ ایک سحر (اسپیل) کے زیرِ اثر ہے۔
یہاں چیزوں کا بولنا ان کی اپنی مرضی یا گستاخی نہیں، بلکہ اس "فسونی" یعنی طلسماتی کیفیت کا نتیجہ ہے جس نے پورے ماحول کو جکڑ رکھا ہے۔ یہ ایک ایسا جادوئی اور غیر معمولی موڑ ہے جہاں جاندار تو مصلحتوں یا خوف کے باعث منجمد ہو چکے ہیں۔۔۔ یا الہی یہ دستورِ زبان بندی تو تو نے روزِ قیامت کے لیے بیان کر رکھی تھی تو کیا ہم قیامت سے گزر رہے ہیں؟
لیکن نہیں؛ ابھی قیامت نہیں آئی تو اس دنیا میں قیامت کا منظر کس اختیار نے قائم کیا ہوا ہے؟ کیا آج بھی فرعون موجود ہیں کہ خدا بنے بیٹھے ہیں؟ مجھے تو خوف آتا ہے تو مجبوراً کومل جوئیہ کے اس مشورے پر عمل پیرا ہونا پڑتا ہے:۔
صبر کے گھونٹ بہت ترش سہی، پی لیجے
چیخ اٹھنے میں جو اندیشہ ء رسوائی ہے
اے ابنِ آدم؛ گردشِ ایام اور حالات کی تلخی، انسانوں کے دیے گئے دکھ اور آزمائشیں اتنی کڑوی اور ناگوار (ترش) ہیں کہ انہیں برداشت کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود انسان کو چاہیے کہ وہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے اور خاموشی سے اس تلخی کو پی جائے، یعنی برداشت کر لے۔ اگر انسان صبر کا دامن چھوڑ کر اپنے دکھوں کا واویلا کرے گا، چیخے چلائے گا یا دنیا کے سامنے اپنی تکلیف کا تماشا بنائے گا، تو اس سے حالات تو ٹھیک نہیں ہوں گے، الٹا اس کی اپنی عزتِ نفس مجروح ہوگی اور ساری کائنات میں رسوائی (بدنامی) کا اندیشہ رہے گا۔ انسان کو سیکھنا ہے کہ زندگی کے کٹھن ترین لمحات اور جذباتی صدمات میں بھی اپنی خود داری اور وقار کو برقرار رکھنا چاہیے۔ چیخ پکار کر کے اپنے درد کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنے سے خاموشی کا سلیقہ اور صبر کہیں زیادہ بہتر اور باعزت راستہ ہے۔
کیا فطرت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے بے جان چیزوں کو گواہی کا منصب سونپ دیا گیا ہے؟ کیا آج اس زمیں پہ ہم انسانوں پہ کوئی آفت یا آسیب مسلط ہو گئی ہے؟ کیا ہم ابنِ آدم اپنے جد کی طرح خلافتِ ارضی کے مقام پہ نہیں رہے؟ یہ کون سی طاقت ہے جو ہم نائبِ خدا کو محدود کرتی ہے؟ یہ کیا ظلم ہے اور کس جبر کی انتہا ہے کہ جہاں ضرب لگنے پر انسان نہیں، بلکہ کائنات کا ذرہ ذرہ راہی معصوم رضا کے اس فلسفے کے تحت گنگنانے لگتا ہے:۔
زخم جب بھی کوئی ذہن و دل پر لگا، زندگی کی طرف ایک دریچہ کھلا
ہم بھی گویا کسی ساز کے تار ہیں، چوٹ کھاتے رہے، گنگناتے رہے
ہم انسانوں کو جب بھی زندگی میں کوئی حادثہ پیش آیا یا دل و دماغ پر کوئی گہرا زخم لگا، تو اس نے اسے مایوس نہیں کیا۔ بلکہ ہر زخم نے اس کی سوچ کو ایک نئی وسعت دی، شعور کا ایک نیا دروازہ (دریچہ) کھولا اور زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا حوصلہ دیا۔ دکھ انسان کو توڑتے نہیں، بلکہ اس کی شخصیت کو نکھارتے ہیں۔
یہاں شاعر نے انسانی وجود کو موسیقی کے کسی ساز (جیسے ستار یا گٹار) کے تاروں سے تشبیہ دی ہے۔ جس طرح ساز کے تاروں پر جب تک چوٹ نہ لگائی جائے، ان سے خوبصورت دھن یا موسیقی پیدا نہیں ہوتی، بالکل اسی طرح انسان پر بھی جب حالات کی چوٹ پڑتی ہے، تو اس کے اندر سے تخلیق، نغمگی اور جینے کی خوبصورت تڑپ جنم لیتی ہے۔ ہم نے تکلیفوں پر رونے کے بجائے انہیں نغموں میں ڈھال لیا۔ یہ انسان کو کٹھن حالات میں بھی حوصلہ، جرات اور زندہ دلی کے ساتھ جینے کا سبق دیتا ہے۔
۳. فسانے کی بساط کا الٹنا اور سحر کا اختتام
قارئین ذرا دیکھیے تو صحیح کہ کیسے ہم انسانوں کی داستان میں کسی "فسونی باب" کا دور آیا ہوا ہے؛ یہ کہانی میں کسی ایسے پوشیدہ اثر یا غیبی طاقت کے در آنے کی علامت ہے جو معمول کی دنیا کے اصولوں کو یکسر بدل کر رکھ دیتا ہے۔ ہم متاعِ الغرور کی دنیا میں آج شاید کسی فکری طوفانی دجالی زمانے میں پہنچ گئے ہیں جہاں طلسماتی کیفیت پورے منظرنامے کی بساط الٹ دیتی ہے۔ جلیل عالی نے اس شعر میں جس جادوئی حقیقت پسندی (میجیکل ریلازم) کا سہارا لیا ہے، وہ دراصل انسانی معاشرے کی اس انتہا کی عکاسی ہے جہاں سچ بولنے والے گونگے کر دیے جائیں، تو پھر در و دیوار اور تاریخ کے بے جان صفحات خود چیخ چیخ کر گواہی دینے لگتے ہیں۔
مگر یہ "ایجادِ مجرد کا معجزہ" اور یہ کٹھ پتلی تماشا مستقل نہیں۔
خدا نے یہ زمین کسی دجال کے لیے نہیں بلکہ ابنِ آدم کے لیے دارالامتحان بنایا ہے اور انسان کو اپنی خدائی بصیرت سے اس تماشے کو ختم کرنا ہے۔۔۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مشہور شاعر جناب افتخار عارف اس عارضی جادو کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہتے ہیں:۔
یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات
سحر سے پہلے پہلے سب تماشا ختم ہوگا
تماشا کرنے والوں کو خبر دی جا چکی ہے
کہ پردہ کب گرے گا کب تماشا ختم ہوگا
دلِ نا مطمئن ایسا بھی کیا مایوس رہنا
جو خلق اٹھی تو سب کرتب تماشا ختم ہوگا
اے لوگو! مایوسی کے اندھیروں میں امید کی ایک کرن ہمیشہ رہتی ہے، اور اس دنیا میں سیاسی و سماجی ناانصافیوں کے خلاف افتخار عارف کے پیغام کو ایک استعارے کے طور پر سمجھنا ہوگا۔ اپنے بے چین، پریشان اور غیر مطمئن دل کوتسلی دیں کہ حالات کی خرابی، ظلم اور ناانصافی کو دیکھ کر اس حد تک مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہمت ہی ہار بیٹھا جائے۔ میرے پیارے لوگو ! "خلق" سے مراد عوام یا عام لوگ ہیں۔ "کرتب تماشا" سے مراد اقتدار کے بھوکے حکمرانوں، ظالموں اور پسِ پردہ ڈوریاں ہلانے والوں کی عیاریاں اور چالاکیاں ہیں۔ یہاں پیغام یہ ہے کہ یہ ظلم کا کھیل اور کٹھ پتلیوں کا رقص صرف اس وقت تک ہے جب تک عوام خاموش ہیں؛ جس دن عوام بیدار ہو گئی، اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی اور متحد ہو گئی، اس دن اقتدار کے پجاریوں کی تمام عیاریاں، مکاریاں اور یہ سارا تماشا ایک پل میں ختم ہو جائے گا۔۔ حاصلِ کلام عوام کی طاقت کا اعتراف ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ حقیقی طاقت ہمیشہ عوام کے پاس ہوتی ہے، اور ظالم کا تماشا تبھی تک چلتا ہے جب تک مظلوم خاموش رہتا ہے۔
اور شاید اسی بات کو قتیل شفائی نے ایسے کہا ہے کہ
دنیا میں قتیلؔ اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا
کسی بھی زندہ قوم میں ہر نوع کے "فسونی باب" کے طلسم اور سحر کے ٹوٹنے کی امید ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ صولت بانو کے لفظوں میں اس اندھیرے کے اندر ہی روشنی کا سفر جاری ہے:۔
بس چشمِ شب گزیدہ کی ویرانیاں نہ دیکھ
مضمر ہے اس میں مخزنِ امیدِ لالہ زار
چنانچہ، جب تک یہ جادوئی غبار اور مصنوعی بندشیں چھٹ نہیں جاتیں اور کرداروں کو ان کی چھینی ہوئی زبانیں واپس نہیں مل جاتیں، تب تک امید کے دامن کو تھامے رکھنا اور شاخِ تمنا کو ہرا رکھنا ہی زندگی کا اصل حاصل ہے۔ بقول شاعر:۔
آتے جاتے ہوئے موسم کو دعا دیتے رہو
کم سے کم شاخِ تمنا تو ثمر دار رہے
Exploring options to buy wine online Ontario helps wine enthusiasts discover selections fr...