"ہائے میں مرگئی"

"Humour is a serious act for creating "Smile" on the faces and in the heart. It is a timeless truth that a genuine smile is the most elegant accessory a person can ever wear. The humour in our daily lives; which is full of many challenges, is to be viewed as an angle necessary to survive the heart breaks. This write up in Urdu "ہائے میں مرگئی" is a comical explanation of a famous Urdu gazal from poet Anand Bakhshi wrt women folks.

Sep 26, 2026 - Muhammad Asif Raza

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

In the name of ALLAH, the Most Gracious, the Most Merciful


"ہائے میں مرگئی"


آپ شادی شدہ ہیں، نہیں ہیں؛ گھر میں چھوٹے ہیں یا بڑے؛ اور ابھی بچے ہیں یا بزرگ؛ "ہائے میں مرگئی" آپ نے ضرور سنا ہوگا۔ یقین کیجیے کہ اس ایک جملے کے کاٹ اور مار اتنی دور تک ہے کہ بڑے بڑے طرم خان شاعر ایک غزل کہیں تو اس کو صرف ان تین الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ مثال پیش کرنا ہے تو لیجیے جناب آنند بخشی کی ایک مشہور غزل پیشِ خدمت ہے؛ جو ہندوستانی اور پاکستانی فلموں کا مرکزی گانا بھی رہا ہے؛ وہ غزل بمعہ مطلع درج ذیل ہے:۔

کبھی خواہشوں نے لوٹا، کبھی بے بسی نے مارا

گلہ موت سے نہیں ہے، ہمیں زندگی نے مارا

کہاں تک فریب کھائیں یہاں کس کو آزمائیں

کیا اعتبار جس پہ اُسی آدمی نے مارا

نہ کمی تھی دوستوں کی نہ کمی تھی دشمنوں کی

کس کس کا نام لوں میں مجھے ہر کسی نے مارا

میری داستاں نہ پوچھو میرے زخم گن کے دیکھو

وہ غریب شہر ھوں میں جسے بے کسی نے مارا۔۔۔

عزیز قارئین؛ جیسا کہ اوپر ذکر ہوچکا ہے کہ یہ غزل دو ممتاز ہندوستانی اور پاکستانی فلموں کے سپر اسٹارز پہ فلمائی گئی ہے اور آج کی تیز رفتار دنیا میں یہ دونوں گیت اپنی پتنی یا "مسکان" کو ایک مختصر تعارف کے بعد سنا لیں۔۔۔ یہ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کے منہ سے بے اختیار نکلے گا: "ہائے میں مرگئی!" آزمائش شرط ہے۔۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ محترم خواتین کی طبعیت اور مزاج میں بہت لچک ہوتی ہے، چنانچہ اس پوری غزل کو پڑھنے یا سننے کے بعد جو سب سے مستحکم رائے پیدا ہوسکتی ہے وہ شاید مایوسی ہے۔۔۔ لیکن ہماری خواتین کسی بھی ممکنہ رائے سے پہلے پوری کہانی سننا پسند کریں گی۔۔۔ اس لیے وہ آپ کے مختصر تعارف کے بعد پوری فلم دیکھنا چاہیں گی۔۔۔ تو چلیے ابھی پورا انتظام کیجیے۔۔ یوٹیوب پہ دونوں فلمیں پوری موجود ہیں۔۔۔ ان کے ساتھ بیٹھ کے دیکھیے۔۔ باقی کی بات اس کے بعد۔۔۔!

چچا غالب نے اسی لیے کہہ رکھا ہے کہ مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پہ کہ آساں ہوگئیں۔ [گھر میں ایک ہی مشکل کافی ہوتی ہے؛ نجانے وہ کون تیس مار خان ہوتے ہیں جو دو دو، تین تین اور چار چار کرلیتے ہیں]۔۔۔ جی ہاں جب یہ غزل ہماری ایک جان پہچان کی خاتونِ خانہ اور ورکنگ وومن تک یہ غزل پہنچی [اپنی گھر والی کا ذکر کرتے ہوئے ہمیں ڈر لگتا ہے] تو وہ کہنے لگیں کہ یہ غزل ان کی زندگی کا استعارہ ہے، وہ تو بازار، کچن اور سسرال کے چکروں سے گزرتے ہوئے بے اختیار کہہ اٹھتی ہیں ۔۔۔ "گلہ موت سے نہیں ہے، مجھے زندگی نے مارا"۔۔

انہوں ہی نے بتایا کہ کچھ خواتین کہتی ہیں [جی ہاں؛ صرف کچھ ہی صابر خواتین] کہ جب زندگی کی دھوپ میں پکوڑے تلنے لگیں (وہ بھی تپتے ہوئے باورچی خانے میں) اور قسمت پیزا کی طرح گول گھوم کر بھی الٹا گرے، تو دل سے یہی آواز نکلتی ہے؛ گلہ موت سے نہیں ہے، مجھے زندگی نے مارا!۔

چلیں، آج اسی مایوسی کی فضا سے نکل کر ایک خاتون کی زندگی کے لمحے کو ذرا تفریح کے چشمے سے دیکھتے ہیں اور کارِ حیات کے ان قاتلانہ واروں کا ذکر کرتے ہیں جو یہ روزانہ ہماری صنفِ نازک کے ساتھ کرتی ہے:-۔

🌟 1. باورچی خانے اور آن لائن شاپنگ کا دھوکہ [آج کی زندگی میں سکون سے پہلے کی ضرورت]

ایک خاتون پورے پانچ گھنٹے حبس اور لوڈ شیڈنگ میں صبر کا دامن تھام کر بیٹھی رہی کہ لائٹ آئے گی تو مائیکرو ویو میں کھانا گرم کرے گی یا بچوں کے لیے جوسر بلینڈر چلائے گی۔ لائٹ آئی، بھاگ کر کچن میں گئیں، بٹن دبایا مگر سب سنسان؛ پتا چلا کہ پیچھے سے مین سوئچ ہی بند تھا!

رہی سہی کسر وہ آن لائن سوٹ نکال دیتا ہے، جو انسٹاگرام پیج پر 'روئل بلیو' اور ملکہ ملکہ لگ رہا تھا مگر گھر پہنچنے پر 'سستا آسمانی' اور ماسیوں جیسا نکلتا ہے۔ تب شاعر دماغ میں گھس کر کہے "کہاں تک فریب کھائیں، یہاں کس کو آزمائیں"؛

بندہ پوچھے، جب مائیکرو ویو اور انسٹاگرام پیج ہی دھوکہ دے جائیں، تو کس سے گلہ کریں؟


💸 2. کچن کا بجٹ اور درزی (ٹیلر) کی بے وفائی

آج کے دور میں گھر چلانا کسی گورنمنٹ کا بجٹ پاس کرنے سے کم نہیں۔ مہینے کی پہلی تاریخ کو میاں نے کچن کا خرچہ ہاتھ میں تھمایا تو ساتھ ہی لسٹیں دیکھ کر آدھا وہیں اڑ گیا۔

پورا مہینہ سبزی والے اور گروسری کی دکان سے گزر ہوا۔۔۔ مگر مہنگائی کے ہاتھوں خریدار کی ہمت جواب دے گئی۔۔۔ یہ راز گلی کا دکاندار جانتا ہے۔۔ سو ٹماٹر اور چکن پکڑا کر کہہ دیتا ہے "باجی، جب بھائی کی اگلی تنخواہ ملے تب دے دینا"۔۔۔

پھر وہی خاتون ہر دوسرے دن کہتی ہے، "بھائی، رجسٹر پہ لکھ لو؛ ادھار کر لو۔" اس پر مستزاد وہ شاہکار ٹیلر ہے جو عید یا شادی کے عین ایک دن پہلے فون بند کر لیتا ہے یا سوٹ کا گلا اتنا چھوٹا بنا دیتا ہے کہ سر بھی اندر نہ جائے۔ تب روح تڑپ کر کہتی ہے: کیا اعتبار جس پہ، اُسی درزی نے مارا!۔


🚗 3. شادی بیاہ کا حلیہ اور موسم کا قہر

گھر سے پارلر کے دو گھنٹے لگا کر، مہنگا واٹر پروف میک آپ تھوپ کر اور تین کلو کا لہنگا یا ساڑھی سنبھال کر بالکل ہیروئن بن کر نکلیں [پتہ نہیں کس کزن یا نند سے آمنا سامنا ہو جائے] ۔۔۔ لیکن صرف پانچ منٹ بعد ہی کسی چنگچی رکشہ یا اے سی کے بغیر والی گاڑی کے پیچھے بیٹھنا پڑ جائے۔ منزل پر (شادی ہال) پہنچتے پہنچتے جو حلیہ بنتا ہے، وہ کسی ڈراؤنی فلم کے غازی سے کم نہیں ہوتا۔ شدید حبس سے کاجل بہہ کر گالوں پر آ جاتا ہے اور بال ایسے بکھرتے ہیں جیسے ابھی طوفانِ نوح سے گزر کر آئی ہوں۔ سڑک کا ہر گڑھا اور رکشے کا جھٹکا یاد دلاتا ہے کہ زندگی صرف امتحان نہیں لیتی، بلکہ مہنگا میک آپ بھی برباد کرتی ہے۔ واپس گھر پہنچنے تک بندے کا بھرکس نکل چکا ہوتا ہے۔۔۔

یقین کیجیے کہ جب پرانے دور میں سادگی کا رواج تھا تو ایسا ظلم نہیں ہوتا تھا۔۔۔


🤫 4. وہ غمخوار آنٹیاں جن کا کام ہی "مارنا" ہے

نہ کمی تھی دوستوں کی، نہ کمی تھی دشمنوں کی… لیکن ان سب پر بھاری وہ دور پار کی رشتہ دار خواتین اور محلے کی آنٹیاں ہیں؛ ان کا کوئی نام نہیں ہوتا؛ یہ ہر شادی اور تقریب میں پلیٹ ہاتھ میں تھامے موجود ہوتی ہیں۔۔۔ اور بہانے بہانے سے ایک سے بڑھ کے ایک ایٹمی سوال داغتی ہیں:۔

"بیٹا، رنگ اتنا دب کیوں گیا ہے؟ کوئی اچھی کریم کیوں نہیں لگاتیں؟"

یا۔۔"وزن کتنا بڑھ گیا ہے تمہارا، ڈائٹنگ کیوں نہیں کرتیں؟"۔۔۔

یا۔۔۔۔ "بیٹا! شادی کو دو سال ہو گئے، ابھی تک کوئی خوشخبری نہیں سنائی؟"۔۔۔

اور سب سے قاتل یہ بات کہ "او باجی؛ تمھیں پتہ لگا کہ وہ جو تمہاری جٹھانی کی کزن عائشہ ہے نا... اس کا سسرال تو اسے ملکہ بنا کر رکھتا ہے، میاں سونے میں تولتا ہے اسے!" یقین کیجیے کہ عائشہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا مگر دل پہ چھری ایسے چلتی ہے کہ بندہ پوچھے میرا میاں کیوں تپتا رہتا ہے؟ ایسے سوالوں سے جو ذہنی کوفت ہوتی ہے، اس کا پوسٹ مارٹم بھی ممکن نہیں۔


😂 5. "میری داستاں نہ پوچھو، میرے زخم گن کے دیکھو"

آج کی کسی بھی ورکنگ وومن یا ہاؤس وائف سے پوچھیں تو وہ یہی مصرع گنگنائے گی۔۔۔ اور بولے گی کہ "بھائی، مجھ سے میری کہانی مت پوچھو۔ اگر دیکھنا ہی ہے تو میری الاماری (وارڈروب) کے کپڑے اور بچوں کی فرمائشیں گن کر دیکھو۔" الماری کپڑوں سے بھری پڑی ہے مگر کسی شادی میں جانا ہو تو رونا رویا جاتا ہے کہ "میرے پاس تو پہننے کو کچھ ہے ہی نہیں!"

اور شام کو جب میاں آرام سے صوفے پر ٹانگیں پھیلا کر پوچھتا ہے؛ "آج پورے دن گھر میں بیٹھ کر کیا کیا ہے؟" تو سچی مچ جان ہی نکل جاتی ہے"۔۔۔

پھر یہ وہ غریبِ شہر ہے جو صبح سے رات تک بچوں کو سنبھالے، ماسیوں کے نخرے اٹھائے، ساس کے طعنے سہے، اور اکیلے میں اپنا دل کھول کر کہتی ہے: "وہ غریبِ شہر ہوں میں، جسے بے کسی نے مارا"۔۔ گلہ موت سے کریں کیا، مجھے اس 'ہاؤس ہولڈ' نے مارا!۔

🌹 حاصلِ کلام

زندگی ہمیں روز مارتی ہے، کبھی کچن کے بجٹ کی شکل میں، تو کبھی صبح بچوں کو اسکول بھیجنے کے لیے صبح 6 بجے کے الارم کی شکل میں۔ لیکن خوبصورتی یہ ہے کہ ہم اگلے دن پھر چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑ کر اور ماسی کی آمد کا انتظار کرتے ہوئے کہتے ہیں، "چلو، دیکھتے ہیں آج زندگی کس طرح مارتی ہے!"۔ اگر اس غزل کو ہم گہرے تفکر اور تھوڑے سے طنزیہ چشمے سے دیکھیں، تو یہ ہمیں زندگی گزارنے کے تین بڑے اور عملی سبق سکھاتی ہے:-۔


1. توقعات کا جنازہ دھوم دھام سے نکالیں! 🤫

زندگی کا سب سے بڑا اصول یہ ہے کہ توقع صرف اللہ کی ذات سے رکھیں۔ جب آپ انسانوں سے امیدیں وابستہ کرتی ہیں کہ "میاں میری قربانیوں کی تعریف کرے گا"، "ساس میری بنائی بریانی کی پبلک میں تعریف کرے گی" یا "درزی سوٹ وقت پر دے گا"، تو عین وقت پر مایوسی ہوتی ہے۔ اس لیے لوگوں پر اور ان کے وعدوں پر اتنا ہی اعتبار کریں جتنا برانڈز کی "آن لائن سیل" پر کیا جاتا ہے—چیز اچھی آ جائے تو واہ واہ، ورنہ ماسی کو دے کر گزارا!

2. دل کو 'اسپنج' نہیں 'واٹر پروف' بنائیں! 🛡️

اگر آپ نند، جٹھانی، ساس یا محلے کی آنٹیوں کی ہر بات کو دل پر لگانا شروع کر دیں گی، تو آپ کا دل زخموں کی دکان بن جائے گا۔ لوگ باتیں کریں گے، آپ کے وزن پر تنقید بھی کریں گے، اور بچوں کی پرورش پر مفت کے مشورے بھی دیں گے۔ سبق یہ ہے کہ اپنی زندگی اپنے اصول کے تحت جئیں؛ اور یہ غیر حقیقی مشورے ایک کان سے سنیں، دماغ میں اس کا ہاضمہ کریں، اور دوسرے کان سے باہر نکال دیں۔ ہم دنیا کے ہر انسان (اور سسرال) کو کبھی مطمئن نہیں کر سکتے۔

3. حالات جیسے بھی ہوں، مسکرانا نہ چھوڑیں! ☕

بے کسی، برانڈڈ سوٹ نہ ملنے کا احساس اور روزمرہ کی مشکلات زندگی کا حصہ ہیں۔ اصل بہادری یہ نہیں کہ انسان دوپٹے کا پلو آنکھوں پر رکھ کر کونے میں روئے، بلکہ اصل جگر یہ ہے کہ بندہ اپنے زخم گننے کے بجائے اپنے پاس موجود چھوٹی چھوٹی نعمتوں (اور ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی لپ اسٹکس) کو گنے۔ جب زندگی آپ کو باورچی خانے کا تپتا ہوا حبس دے، تو آپ کام ماسی پر چھوڑ کر چادر تان کر سو جائیں یا چائے کا کپ بنا کر لان میں بیٹھ جائیں، اور حالِ موجود میں زندہ رہیں۔


☺️ ہمیشہ مسکراتی رہیں... کیونکہ "مسکراہٹ؛ آپ کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے" ☺️

یہ ایک لازوال سچائی ہے کہ ایک حقیقی مسکراہٹ سب سے خوبصورت خاصہ اور زیور ہے جو کسی بھی خاتون کو کبھی بھی میسر ہو سکتا ہے۔ بیرونی فیشن کے رجحانات، لان کے نئے والیم اور میک اپ کے برانڈز آتے جاتے رہتے ہیں، مگر ایک گرم جوشی سے سجائی گئی مسکراہٹ میں ایک آفاقی دلکشی ہوتی ہے جو زبان اور ثقافت سے بالاتر ہوتی ہے؛ اور کسی بھی مہنگے انٹرنیشنل کاسمیٹک یا فاؤنڈیشن سے کہیں زیادہ بہتر انسانی شخصیت کی جاذبیت اور حسن کو فوری طور پر بڑھا دیتی ہے۔

تاہم، جب حقیقت پسندانہ—اور قدرے تھک جانے والے—روزمرہ کی زندگی کے لینس کے ذریعے دیکھا جائے، تو یہ خوبصورت جملہ حیرت انگیز طور پر ایک ستم ظریفی موڑ لے لیتا ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں کچن کے اسکائی راکٹنگ بل ہوں، بچوں کے ہوم ورک کے ابدی ٹریفک جام ہوں، آن لائن شاپنگ کی غیر متوقع مہم جوئی ہو، اور لامتناہی "کوئی خوشخبری کب سنا رہی ہو؟" جیسی رشتے داروں کی تفتیش ہو، وہاں اپنے چہرے پر مسکراہٹ برقرار رکھنا خالص بہادری کا کام بن جاتا ہے۔

اب یہ مسکراہٹ صرف خوشی کی علامت نہیں رہی، یہ صنفِ نازک کے لیے بقا کا ایک طریقہ کار (سروائیول میکانیزم) بن چکی ہے۔ خواتین پر ڈالے جانے والے روزانہ کے گھریلو اور سماجی افراتفری والے منحنی خطوط کے خلاف یہ انکا خاموش، طنزیہ اور پروقار احتجاج ہے۔

چاہے اسے احساس اور محبت پھیلانے کے گہرے، روح سے چلنے والے فلسفے کے طور پر لیا جائے یا کچن کے ختم ہوتے ہوئے بجٹ کے درد کو چھپانے کے لیے؛ مسکراہٹ بحیثیت ڈھال ہمیشہ ہر انسان بشول ایک خاتون کے، سب سے بڑا اثاثہ ہوتی ہے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ جب زندگی تعاون کرنے سے صاف انکار کر دیتی ہے، تب بھی ایک مسکراہٹ اسے چیلنج کر سکتی ہے؛ اور اپنی زندگی کی داستان پر اپنا کنٹرول دلا سکتی ہے۔

اللہ سبحان تعالیٰ سے دعاگو ہوں کہ ایک خوبصورت مسکراہٹ ہمیشہ آپ سب خواتین کےسنگ رہے کہ اس جہانِ حیرت کدہ میں اصل مسکان تو آپ ہی ہیں کہ اقبال نے کہہ دیا ہے "وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ"۔ (آمین)۔

More Posts