ہائے مہنگائی! نسل در نسل سیاپا

The generation born in the 1960s—having endured a relentless crucible of political and economic trials, from the 'ration cards' of their childhood to the hardships of their advancing years—is today facing the most severe economic suffocation of their lives. From the World Bank’s paper reports to the 'white-collar' class struggling desperately over a hundred-rupee note at a neighborhood vegetable stall, this is the story of the ordinary Pakistani whose purchasing power has dwindled to a mere one or two dollars a day. This write up in Urdu "ہائے مہنگائی! نسل در نسل سیاپا" is a harrowing tale that exposes the hollow claims of the callous 'clowns' occupying the corridors of power, leaving behind a bitter question: "What, exactly, are we celebrating?"

Oct 07, 2026 - Muhammad Asif Raza

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


ہائے مہنگائی! نسل در نسل سیاپا


پس منظر: ساٹھ کی دہائی کا بچپن اور آج کا بڑھاپا

انیس سو ساٹھ (1960) کی دہائی میں پیدا ہونے والی نسل نے جب ہوش سنبھالا، تو گھر کے بڑوں کو ہمیشہ "ہائے مہنگائی" کا رونا روتے ہی دیکھا۔ اس دور میں چند آنوں یا روپوں کا اضافہ بھی ایک طوفان محسوس ہوتا تھا اور لوگ اس کا ذکر کرتے رہتے تھے۔ لیکن آج جب یہ نسل زندگی کے ساٹھ سال مکمل کر کے عمر کے اس حصے میں پہنچ چکی ہے جسے روایتی طور پر "سٹھیانا" یا ریٹائرمنٹ کا وقت کہا جاتا ہے، تو انہیں اندازہ ہو رہا ہے کہ ان کے بچپن کی مہنگائی تو محض ایک افسانہ تھی؛ اصل سچی اور خوفناک مہنگائی تو اب آئی ہے۔ ان کو اب معلوم ہو رہا ہے کہ مہنگائی کا رونا تو ماضی میں سب ہی روتے رہے ہیں، مگر ایسا ہولناک معاشی سیاپا پہلے کبھی نہیں تھا۔ یہ ایسا سیاپا ہے جو اب آنکھوں سے صرف آنسو ہی نہیں بہاتا، بلکہ یہ بہتے ہوئے آنسو اپنے ساتھ انسان کے اندر کا کئی قطرہ خون بھی خشک کر دیتے ہیں۔ یہ مہنگائی اب صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں رہی، بلکہ لوگوں کی روحوں کو اضمحلال کی دلدل میں دھکیل رہی ہے۔


تجربات کی بھٹی: ایک نسل کا دائمی مخمصہ

یہ نسل ہمیشہ سے ایک عجیب مخمصے اور شناخت کے بحران کا شکار رہی ہے، جہاں پاکستان کا عام شہری ہر دور میں نئے سیاسی و معاشی تجربات کی لیبارٹری بنا رہا۔ انسان نہ ہوئے، گویا کسی سنگدل سائنسدان کی لیبارٹری کا کوئی بے زبان جانور ہو گئے؛ جس کا جب جو جی چاہا تجربہ کر لیا، جیسا چاہا ویسا بیانیہ تھوپ دیا اور زبردستی مسلط کر دیا۔ اس لیبارٹری کی تاریخ کا ایک ذرا مختصر جائزہ لیتے ہیں:۔۔

• جب ایک آنے پر حکومتیں گر جاتی تھیں: اس نسل نے اپنے بڑوں سے سنا اور خود دیکھا کہ ساٹھ کی دہائی میں جب صدر جنرل ایوب خان اپنے اقتدار کے دس سالہ "جشنِ ترقی" کی تیاریاں کر رہے تھے، تو عین اسی وقت چینی کی قیمت میں محض چند آنوں کا اضافہ کر دیا گیا۔ اس معمولی اضافے پر پوری قوم سڑکوں پر نکل آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ عوامی طوفان اٹھا کہ ایوب خان کا پورا جشنِ ترقی دھول میں مل گیا اور ان کا اقتدار فنا ہو گیا۔ وہ چند آنوں کا اضافہ اس دور کی غیرتِ معیشت کا امتحان تھا۔۔۔

• سقوطِ ڈھاکہ اور راشن کارڈ کا دور: ابھی اس نسل کا بچپن ہی تھا کہ 1971 میں سقوطِ ڈھاکہ کا وہ عظیم سانحہ رونما ہوا جس نے قائدِ اعظم کے پاکستان کو دو لخت کر دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پرانے پاکستان کو خدا حافظ کہہ کر جس "نئے پاکستان" کی بنیاد رکھی، وہ اپنے ساتھ معاشی قومیاؤ (نیشنلازیشن) اور راشننگ کا نظام لایا۔ آٹا، گھی اور چینی حاصل کرنے کے لیے راشن کارڈ بنوانا اور لمبی لائنوں میں لگنا اس نسل کے بچپن کی تلخ یادوں کا حصہ بن گیا۔

• مردِ مومن کا دور اور طبقاتی خلا کی شروعات: پھر جب یہ نسل جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہی تھی، تو ملک پر "مردِ مومن، مردِ حق" جنرل ضیاء الحق کا مارشل لائی دور مسلط ہو گیا۔ افغان جنگ کی وجہ سے بیرونی ڈالرز کی ریل پیل تو ہوئی، مگر اس دولت نے معاشرے میں امیر اور غریب کے فرق کو ایک گہری خلیج میں بدل دیا۔ اسی دور میں سیکیورٹی کے سنگین مسائل، دہشت و خوف کی علامت بنے "ہتھوڑا گروپ" کے وار، کلاشنکوف کلچر اور گلی محلوں تک منشیات کی "پڑیا" کی ہمارے معاشرے میں سپلائی نے اس نسل کی جوانی کا امن و سکون بھی چھین لیا۔

کاغذی رپورٹیں اور سبزی کی دکان: تلخ زمینی حقیقت

اگرچہ حال ہی میں عالمی بینک (ورلڈ بینک) نے اپنی تازہ رپورٹ میں یہ لرزہ خیز انکشاف کیا ہے کہ اس خطے میں یومیہ 3 ڈالر سے کم کمانے والے شدید ترین غریب افراد میں سے 48 فیصد آبادی صرف پاکستان میں رہتی ہے اور ہمارا موازنہ افغانستان، شام اور یمن جیسے جنگ زدہ ممالک سے کیا جا رہا ہے۔ لیکن حقیقت اس رپورٹ سے بھی زیادہ تلخ ہے۔ یہ رپورٹ کسی دفتر کے "بابو" نے لکھی ہوگی، اصل حقیقت تو سبزی کی اس دکان پر سسکتی ہوئی نظر آتی ہے جہاں ایک متوسط اور مزدور طبقے کے محلے میں عجب سماں دیکھنے کو ملتا ہے:۔

• وہاں ایک تیس پینتیس سال کا جوان صرف ایک گوبھی خریدتا ہے اور دکاندار سے التجا کرتا ہے کہ اس میں ایک پیاز، دو ٹماٹر اور تھوڑا سا سبز دھنیا اس طرح ڈال دو کہ مجموعی بل صرف 100 روپے بنے، کیونکہ اس کی جیب میں اس سے زیادہ کا نوٹ ہی نہیں۔

• وہیں ایک نقاب پوش خاتون اپنی نو دس سالہ بچی کا ہاتھ تھامے، دکاندار سے ایک کلو آلو اور چند بینگن کا حساب جوڑتے ہوئے کہتی ہیں، "بھائی، میرے پاس کل ملا کر سو روپے ہی ہیں، اتنے میں ہی دے دو"۔ جب دکاندار 130 روپے کا تقاضا کرتا ہے، تو وہ اپنی چادر کے پلو سے مزید دس روپے نکال کر بے بسی سے کہتی ہیں کہ بس یہی آخری سرمایہ ہے۔

• اسی لائن میں ایک باریش بزرگ کھڑے ہیں جو کئی سبزیوں کے ریٹ پوچھتے ہیں اور آخر میں سستے ترین آلو اور ایک آدھ سبزی پر قناعت کر کے سوا سو روپے میں ایک وقت کے ہانڈی روٹی کا معاملہ پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حکومتوں اور عالمی بینک کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہاں عام آدمی کی قوتِ خرید اب تین ڈالر نہیں، بلکہ ایک سے دو ڈالر یومیہ سے بھی نیچے گر چکی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بھیک نہیں مانگ رہے، جو چوری نہیں کر رہے، بلکہ اپنی سفید پوشی کا آخری بھرم بچانے کے لیے ایک ایک پیاز اور ٹماٹر پر دکاندار کے سامنے اپنی عزتِ نفس کا سودا کر رہے ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں کہ جو بجلی کے بل آنے پہ آہین بھرتے ہیں کہ گھر کی کیا چیز بیچیں۔ اور اب تو ہرروز موٹر سائیکل لیے پٹرول اسٹیشن پہ ہی سوچتے ہوئے دعا کرتے ہیں کہ کہ اللہ سائین خیر سے دفتر پہنچا دینا۔۔ جیب تو خالی ہے۔ تو کوئی سبب بنادے۔۔۔


حاصلِ کلام: ہم جشن کس کا منائیں؟

ساٹھ کی دہائی کے وہ بچے جو اب زندگی کی شام میں پہنچ چکے ہیں، آج اپنے ملک کی اس حالت پر حیران اور پریشان ہیں۔ انہوں نے راشن کارڈوں کی لائنیں بھی دیکھیں اور مارشل لاوں کی سختیاں بھی، لیکن عوام کو ایک وقت کی ہانڈی کے لیے یوں سسکتے اور مجبور ہوتے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ کل تک دو وقت کی روٹی یا ایک ہانڈی تو خانہ بدوش گھرانوں کا بھی مسئلہ نہیں تھی؛ یہ ظلم کی ریت اب ہی ڈالی گئی ہے۔۔ یہ قوم کو دشمن بنانے کا رواج پہلے تو کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔۔ یہ کون شتونگڑے حکمران ہوگئے ہیں؟؟؟

سب سے بڑا کمال اور المیہ تو یہ ہے کہ ایک طرف عوام کی یہ حالت ہے، اور دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے بے حس حکومتی زعماء یہ مضحکہ خیز اعلانات کرتے ہیں کہ "نو ہزار روپے ماہانہ کمانے والا شخص غریب نہیں ہے"۔ عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ جو شخص مہینے کا نو ہزار یعنی صرف 300 روپے یومیہ کماتا ہو، وہ اس مہنگائی کے دور میں زندہ کیسے رہے؟ جہاں سبزی کی دکان پر ایک وقت کا سالن سو روپے میں پورا نہیں ہو رہا، وہاں یہ حکمران کس منہ سے ایسی باتیں کرتے ہیں؟ عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آخر کہاں کہاں سے یہ "جوکر" تلاش کر کے اقتدار کی کرسیوں پر لا بٹھائے جاتے ہیں، جنہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ایک عام پاکستانی غریب کی زندگی کس جہنم سے گزر رہی ہے!۔

آج جب اقتدار کے ایوانوں میں ترقی کے دعوے کیے جاتے ہیں، معاشی اصلاحات کے گیت گائے جاتے ہیں اور کامیابیوں کے ڈھول بجائے جاتے ہیں، تو پاکستان کا عام شہری سبزی کی دکان پر کھڑا، اپنے ہاتھ میں موجود سو روپے کے کچلے ہوئے نوٹ کو دیکھ کر دل ہی دل میں ان حکمرانوں سے صرف ایک سوال پوچھتا ہے کہ کھلے عام سوال کرنے پہ غدار قرار دیا جاتا ہے؛ مجبورا' وہ اس کے سوا اور وہ کرہی کیا سکتا ہے؟؟؟

"جب میری ہانڈی میں پیاز اور ٹماٹر بھی پورے نہیں ہو پا رہے، جب میرے بچوں کے منہ سے نوالہ چھن چکا ہے اور تمہارے نزدیک 300 روپے روزانہ کمانے والا غریب نہیں، تو اے وقت کے فرعونوں! ہمیں یہ تو بتاؤ کہ ہم جشن کس کا منائیں؟"۔۔


More Posts