اسلامی معاشرہ : بیواؤں و مساکین کی کفالت

In an Islamic society, supporting widows and the needy is regarded as a magnificent religious duty and a supreme form of worship. Islam protects the financial, social, and psychological rights of destitute women and the poor, ensuring they remain valued members of the community. Prophet Muhammad (PBUH) likened those who strive to help them to warriors fighting in the cause of Allah or those who fast all day and pray all night. This write up in Urdu "اسلامی معاشرہ : بیواؤں و مساکین کی کفالت" is about a robust system designed to eradicate poverty and helplessness, ultimately establishing a welfare society.

Oct 16, 2026 - Muhammad Asif Raza

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


اسلامی معاشرہ : بیواؤں و مساکین کی کفالت


اسلام ایک ایسا دینِ فطرت ہے جو محض چند عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ ایک مثالی اور فلاحی اسلامی معاشرے کی تعمیر کے لیے اسلام نے جہاں عقائد اور عبادات پر زور دیا ہے، وہاں حقوق العباد اور سماجی ذمہ داریوں کو بھی بنیادی اہمیت دی ہے۔ اسلام اس زمین پہ سب انسانوں کے لیے ایک تہذیب کی تخلیق چاہتا ہے۔ ایک ایسی تہذیب جہاں سب انسان اپنے رب کی ہدایات کے تحت پرامن خوشحال زندگی گذاریں۔

اور جو چیز تہذیب بناتی ہے، وہ "اقدار" ہیں؛ جو ان مراعات، جبلتوں اور اخلاقی ڈسپلن سے بنتی ہے جو عام انسانوں کی روزمرہ کی زندگی کو ترتیب دیتے ہیں۔ یہ وہ نفسیاتی ماحول ہے جس میں لوگ ہر دن بغیر کسی بیرونی عنصر کی مداخلت کے سانس لیتے ہیں۔ یہ بڑے پیمانے پر ایک ایسی ہم آہنگی (ترتیب) ہے کہ:-۔

• لوگ کن چیزوں پسند کرکےانعام دیتے ہیں یا ان کی تعریف کرتے ہیں۔

• وہ کن چیزوں کو برداشت کرتے ہیں۔

• اور کن چیزوں پر سزا دیتے ہیں۔

اور آخر کار، پورا معاشرہ اپنے آپ کو ان پوشیدہ انتخاب کے گرد منظم کر لیتے ہیں۔ لہذا تہذیب کا اصل ماخذ بہت زیادہ سادہ ہے؛ اور وہ ہے قدر کی تخلیق اور اقدار کی ترویج۔ آج اسلامی تہزیب کو تخلیق کی ضرورت نہیں کیونکہ قرآن اور حدیث اس کا ماخذ ہے؛ ہمیں ان اقدار کے ترویج کی عادت اپنانی ہے۔

دینِ اسلام کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، حقانیت اور حکمرانی پر ہے، اور اللہ جل جلالہ اپنی حاکمیتِ اعلیٰ میں کسی قسم کا شرک پسند نہیں کرتا۔ اس نے کائنات کی ہدایت کے لیے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا اور اپنی ذات کے بعد اپنے حبیب ﷺ کی اطاعت فرض کی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں اور خاص طور پر امتِ مسلمہ کو خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ داری تفویض کی ہے، جس کی بنیاد ایک صالح، عادلانہ اور پرامن انسانی معاشرے کا قیام ہے۔


کسی بھی انسانی معاشرے کا کمزور ترین اور حساس ترین طبقہ بیوہ عورتیں اور یتیم بچے ہوتے ہیں، جن کی معاشی اور سماجی حیثیت مرد کے نہ ہونے سے شدید متاثر ہوتی ہے۔ اور قرآن اور حدیث اس ضمن میں ایک زندہ اور باشعور مسلم معاشرے پہ بھاری ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ آئیے ذیل میں اس بارے میں سیکھتے ہیں:۔

۱. قرآنی احکامات اور ایک باشعور معاشرے کا امتحان

قرآنِ کریم نے بیواؤں، یتیموں اور مساکین کے حقوق کو محض اخلاقی ہمدردی نہیں بلکہ ایک زندہ معاشرے کا قانونی اور ایمانی فریضہ قرار دیا ہے۔

• حق دار کا حق (نہ کہ احسان): اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "اور ان کے اموال میں مانگنے والے اور محروم (نہ مانگنے والے مسکین) کا حق ہے" (سورۃ الذاریات: 19)۔ ایک باشعور مسلم معاشرہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ کمزوروں کی مدد کر کے ان پر کوئی احسان نہیں کر رہا، بلکہ ان کا وہ حق ادا کر رہا ہے جو اللہ نے امیروں کے مال میں رکھا ہے۔

• معاشرتی بے حسی پر قرآنی گرفت: قرآنِ پاک اس معاشرے کو مردہ اور بے فیض قرار دیتا ہے جو اپنے کمزوروں کو بھول جائے۔ سورۃ الفجر میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:۔۔ "ہرگز نہیں! بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے، اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے" (سورۃ الفجر: 17-18)۔


۲. نبویؐ تعلیمات: بیواؤں اور یتیموں کی ڈھال

زیرِ نظر حدیث مبارکہ اسی سماجی ذمہ داری کا ایک بہترین نمونہ پیش کرتی ہے:-۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیوہ عورت اور مسکین کی کفالت اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کوشش کرنے والا، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مانند ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”اور اُس شخص کی مانند ہے جو مسلسل رات بھر قیام کرتا ہو اور تھکتا نہ ہو، اور اُس روزہ دار کی مانند ہے جو کبھی روزہ نہیں چھوڑتا ہو۔“ (صحیح مسلم: 2982)۔۔۔

اس حدیثِ پاک میں بیواؤں اور مساکین کی کفالت کو اللہ کی راہ میں جہاد اور مسلسل نفلی عبادات (قیامِ لیل اور صوم) کے برابر قرار دے کر یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ خلافتِ ارضی کا حق تب ہی ادا ہو سکتا ہے جب معاشرے کے کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کیا جائے۔۔۔


رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جہاں بیوہ عورتوں اور یتیم بچوں کو کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا گیا کہ وہ بے سہارا ہیں۔ آپ ﷺ نے اپنے ارشادات اور عمل سے واضح فرمایا کہ کمزوروں کی دیکھ بھال ہی معاشرے پر اللہ کی رحمت اور نصرت کا سبب بنتی ہے۔۔۔

• رزق اور نصرت کا سبب: آپ ﷺ نے فرمایا: "تمہیں تمہارے کمزوروں کی وجہ سے ہی رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے" (صحیح بخاری)۔

• خلافتِ ارضی کا عملی نمونہ: آپ ﷺ خود بیواؤں اور مساکین کی حاجت روائی کے لیے مدینہ کی گلیوں میں پیدل چلنے کو اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتے تھے اور کبھی اس سے عار محسوس نہیں فرماتے تھے۔


۳. ایک باشعور مسلم معاشرے کی ذمہ داریاں

جب قرآن اور حدیث کی یہ تعلیمات ایک مسلم معاشرے کے رگ و پے میں اترتی ہیں، تو وہ معاشرہ درج ذیل خطوط پر استوار ہوتا ہے:۔۔۔

• عزتِ نفس کا تحفظ: باشعور معاشرہ بیواؤں اور مساکین کی مدد اس انداز سے کرتا ہے کہ ان کی سفید پوشی اور عزتِ نفس پر حرف نہ آئے۔ (جیسا کہ قرآن نے فرمایا: "معروف طریقے سے بات کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے بعد دل آزاری ہو")۔۔۔۔

• مستقل کفالت کا نظام: یہ ذمہ داری صرف وقتی امداد تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ بیت المال، زکوٰۃ، صدقات اور خاندانی نظام کے ذریعے ان کی مستقل معاشی اور سماجی دیکھ بھال کا انتظام کیا جاتا ہے۔

• تربیت اور تعلیم: یتیم بچوں کو معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کے لیے ان کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری پورا معاشرہ مل کر اٹھاتا ہے۔


حاصل کلام

صحیح مسلم کی یہ حدیث ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ دینِ اسلام میں سماجی خدمات اور انسانیت کی بھلائی کا درجہ کتنا بلند ہے۔ بیواؤں اور مساکین کے آنسو پونچھنا، ان کی معاشی مدد کرنا اور ان کو عزتِ نفس کے ساتھ جینے کا حق دینا محض ایک اخلاقی کام نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم ترین عبادت، جہاد اور خلافتِ ارضی کا اصل تقاضا ہے۔ ایک حقیقی اسلامی معاشرے کی تعمیر تب ہی ممکن ہے جب ہم اپنے اردگرد موجود بے سہارا لوگوں کو تنہا چھوڑنے کے بجائے، ان کی کفالت کو اپنی دینی، ایمانی اور اخلاقی ذمہ داری سمجھیں۔

ایک اسلامی معاشرہ اپنی صفوں میں عدل اور انصاف پہ مبنی امن اور خوشحالی کا تصور پالتا ہے اور علم و عمل کو بروئے کار لاتے ہوئے اس کی تعمیر کرتا ہے۔ تاریخ میں جب ایسا معاشرہ بنا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں کہا تھا کہ وہ اپنے رب سے راضی تھے اور رب ان سے راضی تھا۔ آج ہمیں ایک اہم سوال پر غور کرنا ہوگا: کیا ہم ایک اسلامی ملک میں رہ کر کسی نوع کے اسلامی معاشرے کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں؟ یہ سوال ہر اس فرد کے لیے ایک تازیانہ ہے جو خلافتِ ارضی کے مقام کا دعویدار تو ہے، لیکن اپنے اردگرد سسکتی ہوئی انسانیت، بیواؤں اور مساکین کی کفالت سے غافل ہے۔


More Posts