India and Pakistan came into being in 1947 after partition of British India and both the countries are in conflict since then. There have been many violent actions between two countries. The two countries again tested military muscles after Pahalgam terror attack on 22 April. India started Operation Sindoor on 7 May 2025 and Pakistan countered with Operation Bunyanum Almarsoos. This write up in Urdu "اسلام کا قلعہ! پاکستان؟" is an opinion wrt the very basis of Pakistan.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
پاکستان اسلام کا قلعہ ہے
پاکستان کا قیام ۱۴ اگست سنہ ۱۹۴۷ عیسوی بروز بدھ بمطابق ۲۷ رمضان المبارک ۱۳۶۶ ہجری کو ہوا تھا۔ وہ مہینہ مبارک تھا اور دن بھی مبارک تھا۔ ریاست اسلام مدینۃ الرسولﷺ کے بعد ہ دنیا کی دوسری ریاست تھی جو ایک اسلامی نظریہ حیات کے فلسفے پر قائم ہوئی تھی اور یہ کوئی تحفہ یا بخشش نہیں تھا بلکہ ایک جلیل القدر انسان قائد اعظم محمد علی جناح کی محنت شاقہ کا نتیجہ تھا۔ پاکستان سرزمینِ ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک ایسی زمیں میں پناہ گاہ تھی جس پر تاجِ برطانیہ اور صیہونی طاقتیں ہندو شرناتیوں کے ذریعے آگ بچھارہے تھے۔ اور اس سازش کو ایک مومن کی بصیرت ہی پہچان سکتی تھی جو اللہ سبحان تعالی نے علامہ محمد اقبال اور قائد اعظم کو عطا کی تھی۔ تقریبا" نوے سال بعد آج کے انڈیا یا ہندوستان میں شیو سینا اور راشٹریہ سیوک سنگھ کا راج اور پھیلتا ہوا فتنہ و فساد اس کی گواہی بن گیا ہے۔ آج سمجھ آتی ہے کہ پاکستان کواسلام کا قلعہ کیوں کہا گیا تھا؟
سرزمینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان بلا شک و شبہ اللہ رحیم و کریم کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اس ملک کو اللہ تعالی نے بے شمار وسائل عطا فرمائے ہیں۔ کیا نہیں ہے؟ بلند و بلا پہاڑ ہیں اور ان سے بہتے دریا ہیں اور پانچ ہیں جو ملک کے ایک بڑے حصے کو سیراب کرتے ہیں۔ سرسبز گل و گلزار وادیاں ہیں، کھلے وسیع میدان و کھیت کھلیان ہیں؛ صحرا ہے تو زندگی سے بھر پور ہے؛ معدنیات و جواہرات ہیں؛ انواع و اقسام کے پھلوں کے باغات ہیں؛ کئی کئی موسم ہیں؛ اور اس زمین پر آباد امت محمد ﷺ کے دعوےدار قوم ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ پاکستانی قوم بے شمار صلاحتیں کی حامل ہے اور آقا محمد ﷺ کے دین اسلام پر مر مٹنے کا جذبہ بھی رکھتی ہے۔ مگر ایک بحث ہے جو قیام پاکستان سے کرائی جارہی ہے کہ اسلام کا قلعہ کیا ہے؟
ریاست پاکستان کے مدارالمہام ملک قوم سلطنت سے وفادار نہیں رہے ہیں۔ اور انکی حماقتوں کی وجہ سے ریاست اپنے قیام کے مقاصد کی طرف سفر نہیں کرسکی۔ اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان گنت مسائل کے دلدل میں پھنستی چلی گئی۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے سورۃ طہٰ کی آیت 124 میں فرمایا ہے کہ " وَمَن اَعَرَضَ عن ذکری فان لہ معیشتہ فنکا۔ ۔‘‘ ’’جس (شخص/ قوم) نے میرے ذکر (قرآن، نصیحت نظام...) سے منہ موڑا ہم اس پر دنیا میں معیشت تنگ کردیں گے اور ہم اسے قیامت کے دن بھی اندھا اٹھائیں گے"۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کو اسلام کا قلعہ قرار دیا تھا تو اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ ہم اپنی من مانی کرتے پھریں اور پھر بھی اللہ تعالی کی رضا ہمارے ساتھ ہو۔ ہماری قومی بے اعتدالیوں کی وجہ سے 1971 عیسوی کو ملک دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا؛ بلکل ویسے ہی جیسے ہم سے پہلی امت موسوی میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی ریاست انکے بعد تقسم ہوئی تھی۔
اکتوبر 30، 1947ء کو یونیورسٹی گراؤنڈ لاہور میں شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح نے کہا تھا "پروردگار عالم کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں باطل کی ان قوتوں سے نبردآزما ہونے کے لیے ہمت دی اور اعتماد سے نوازا۔ میں ایک بار پھر کہتا ہوں کہ فتح بالآخر ہماری ہوگی بشرطیکہ ہم قرآن کریم کو اپنے لیے فیضان و ہدایت کا سرچشمہ بنائے رکھیں"۔ قائد اعظم نے اپنا فرض کماحقہ ادا کیا؛ سمجھا دیا تھا۔ مگر ہم نے اپنی قیادت پر اندھا اعتماد کیا اور منزل کھو بیٹھے۔
قائد اعظم نےتو واضع طور پرکہا تھا کہ "میں آپ سے صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم میں سے ہر شخص جس تک بھی میرا یہ پیغام پہنچے نہ صرف پاکستان کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دینے کا عہد کرے بلکہ اس عزم کا بھی اظہار کرے کہ ہمیں پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانا ہے اور ایسی قوتوں کی صف میں کھڑا کرنا ہے جن کا مقصد ملک کے اندر ہی نہیں بلکہ ہر جگہ امن ہو"۔ کیا ہم نے غور کیا کہ قائد نے کیا سمجھایا تھا؟ ایک مضبوط طاقتوراسلامی ریاست اپنی سرحدوں سے باہر بھی امن کا باعث ہو۔ اور کیا ہوتا ہے قلعہ؟ اسلام کا قلعہ پاکستان اپنے خطہ کے لیے بلخصوص اور دینا بھر کے انسانوں کے لیے بالعموم امن کا ضامن ہو تو یہی ہوگا قلعہ۔
قائد اعظم نے مزيد کہا تھا کہ "شریعت اسلامی کی رو سے ہر مسلمان پر یہ فرض عائد ہے کہ وہ بلا لحاظ مذہب و ملت اپنے ہمسایوں اور اقلیتوں کی حفاظت کریں۔ ہندوستان میں مسلم اقلیت کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جارہا ہے اس کے باوجود ہمیں اقلیتوں کی حفاظت اور ان میں احساس تحفظ پیدا کرنے کے سوال کو اپنی عزت اور وقار کا مسئلہ سمجھنا چاہیے۔ اپنا فرض ادا کیجئے اور اللہ پر بھروسہ رکھیے، دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی۔ یہ ملک قائم رہنے کے لیے وجود میں آیا ہے"۔
آقا کریم رسول اللہ محمدﷺ نے فرمایا ہے کہ "جنت میں سو درجے ہیں، جنہیں الله نے الله کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے، دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے. جب تم الله سے (جنت کا) سوال کرو تو اس سے جنت الفردوس کا سوال کرو، کیونکہ وہ افضل و اعلی جنت ہے". (بخاری۲۷۹۰ )
ہم آگے بڑھنے سے پہلے ایک ضروری بات سمجھ لیتے ہیں کہ ریاست کیا ہوتی ہے اور کن مقاصد کے لیے کام کرتی ہے؟ ریاست مخصوص خطہ زمین، اس پر مستقل قیام پذیر آبادی، وہاں قائم منظم حکومت اور اقتدارِ اعلیٰ کا نام ہے۔ ریاست اسلام پاکستان کے خطہ ارض پر آباد مسلم اکثریتی قوم ہے جو ایک نظریہ کی حامل ہے جو انکو اس خطہ زمین پر اللہ تعالی کی حاکمیت اعلی کو قائم کرنے کے لیے ذمہ دار ہے۔ اور کوئی بھی ریاست اسلام جہاد کے بغیر نہ قائم ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی بقا اس کے بغیر ہوسکتی ہے۔ سقوط ڈھاکہ فلسفہ جہاد کی نفی کی وجہ سے ہوا تھا۔
زاغوں کے تصّرف میں عقابوں کے نشیمن! اقبال
ریاستِ اسلام پاکستان پر مسلط منظم حکومت نظریہ پاکستان سے ہٹ کر سفر کرتی رہی ہے۔ کبھی لبرل انڈسٹریل دوڑ؛ کبھی روٹی کپڑا مکان، کبھی پاکستان فرسٹ اور کبھی ترقی ترقی کا خواب بیچا گیا۔ ہم نے عجیب و غریب تجربات کئے مگر وہ نہیں کیا جو ہمیں کرنا چاہیے تھا۔ اس کے باوجود ہم آج بھی تمام تر کوتاہیوں کے باوجود بھی قائم ہیں؛ کیونکہ اللہ سبحان تعالی کی اپنی شریعت ہے کہ وہ انسانوں کو ایک وقت مقرر تک چھوٹ دیتا رہتا ہے کہ اسکے بندے پلٹ آئیں۔
اللہ تعالی نے قرآن کریم کی سورۃ محمد کی آیت ۱۷ میں فرمایا ہے کہ " اور جنہوں نے ہدایت پائی تواللہ نے ان کی ہدایت اور زیادہ فرمادی اور انہیں ان کی پرہیزگاری عطا فرمائی"۔ یا رب العالمین؛ ہم پاکستانی بحیثیت قوم تیری رہنمائی حاصل کرکے صحیح راہ اپنا لینا چاہتے ہیں؛ یا مولا ہماری ہدایت حاصل کرنے کی استعداد بڑھا دے۔ اور ہمارے لیے آسان کردے کہ ہم تیرے احکامات کی پیروی کرسکیں۔ آمین
ہمیں یہ یاد رکھنا ہے کہ ایک ریاست اسلام ہمیشہ ہی سکیورٹی سٹیٹ ہوگی؛ کیونکہ اس کے دشمن ہر دم اس کے درپے ہونگے۔ اور وہ مسلسل اللہ سبحان تعالی کی آزمائش سے گذرے گئی۔ اللہ تعالی نےقرآن مجید کی سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۵۵ میں فرمایا ہے کہ " اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے، اور (کبھی) بھوک سے، اور (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے۔ اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں اُن کو خوشخبری سنادو"۔
آقا کریم رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ریاست اسلام کے افراد کی ذمہ داری کے ضمن میں فرمایا ہے کہ “جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کا سامان سفر تیار کیا حقیقت میں اس نے جہاد کیا اور جس نے غازی کے اہل و عیال میں اس کی جانشینی کی ( اس کے اہل و عیال کی خبرگیری کی ) حقیقت میں اس نے جہاد کیا“۔ (ترمذی، ۱۶۲۸)
ایک اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے ایک منظم، مضبوط اور ضبط والی سپاہ تیار رکھے۔ اللہ سبحان تعالی نے قرآن مجید کی سورۃ انفال کی آیت ۶۰ میں فرمایا ہے کہ "اور ان کے لیے جتنی قوت ہوسکے تیار رکھو اور جتنے گھوڑے باندھ سکو تاکہ اس تیاری کے ذریعے تم اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو اور جو اُن کے علاوہ ہیں انہیں ڈراؤ، تم انہیں نہیں جانتے اوراللہ انہیں جانتا ہے اور تم جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تمہیں اس کا پورا بدلہ دیا جائے گااور تم پر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی"۔
الحمد اللہ؛ ریاست پاکستان آج کی دنیا میں گرچہ معاشی طور پرکمزور ہے مگر پھر بھی صرف پاکستان ہی ہے جو درحقیقت کفر کے خلاف کھڑا ہے؛ اور پاکستان کی مسلح افواج کا ایک باوقار مقام ہے جو دشمنوں اور غیر متعلقہ قوتوں کے دلوں میں خوف پیدا کر رہی ہیں۔ اقبال نے کہا ہے کہ " قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے"؛ سو اگر مناسب موقع ہو اور درست رہنمائی بھی میسر ہو تو پاکستان کی مسلح افواج دشمن کے دانت کھٹے کردیتی ہے۔ یہ دنیا نے 6 تا 10 مئی 2025 کو جان لیا اور جانچ لیا ہے۔ آج مسلم دنیا پاکستان کے مقام کو سمجھ رہی ہے اور فخر کررہی ہے۔ کیا اب بھی یہ سمجھانا پڑے گا کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے؟
محترم قارئین اب ذیل میں محترمہ سیدہ حمیرا مودودی کی کتاب " شجر ہائے سایہ دار؛ میرے والدین" سے اقتباس نقل کیا جاتا ہے۔ ہم اسے " پائلٹ کاخواب اورخواب کی تعبیر" کا عنوان دیتے ہیں۔ اور اس کا مقصد پاکستان اسلام کا قلعہ کے مضمون کو مزید واضع کرناہے۔ اور یہ یاد رکھیے گا کہ اس ریاست کی بقا اور تعمیر و ترقی کے لیے سرکرداں ہونا ہر پاکستانی کا فرض عین ہے اور لازم ہے۔ چلیے قصہ پڑھتے ہیں۔
سنہ ۱۹۷۸ء کے دوران، میں جدہ سے گرمیوں کی تعطیلات کے سلسلے میں لاہور آئی ہوئی تھی کہ ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ ہوا یوں کہ ایک روز مغرب کے بعد پاکستان ایئر فورس کے دو اسکواڈرن لیڈر سرگودھا سے ابا جان سے ملنے آئے۔ ابا جان دفتر میں بیٹھے کام کر رہے تھے، وہیں انھیں بلوالیا ۔
ان میں سے ایک صاحب جو دیکھنے میں بڑے مضطرب نظر آ رہے تھے۔ بتانے لگے کہ میں نے ایک خواب دیکھا ہے اور جب سے دیکھا ہے میں اس قدر بے چین اور بے کل ہوں کہ نہ مجھے نیند آتی ہے، نہ بھوک لگتی ہے اور نہ میں کسی کام کو دل جمعی سے کر سکتا ہوں ۔ وہ خواب یہ ہے کہ میں مدینے گیا ہوں، تو دیکھتا ہوں کہ مدینہ تو پورے کا پورا بم باری سے تباہ ہو چکا ہے۔ نہ مسجد ہے نہ گنبد خضرا ہے، نہ کوئی گھر اور عمارت سلامت ہے۔ اینٹ سے اینٹ بج چکی ہے۔ جب میں اس مقام پر آتا ہوں جہاں روضہ مبارک ہے۔ تو دیکھتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچی قبر کے باہر کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔۔۔
کہیں قریب ہی سے بہت سے لوگوں کی باتیں کرنے کی آواز آتی ہے۔ میں ادھر دیکھتا ہوں تو ایک تہہ خانے میں سیڑھیاں اترتی نظر آتی ہیں۔ میں فورا نیچے تہہ خانے میں چلا جاتا ہوں۔ ابھی آدھی سیڑھیاں ہی اترا تھا کہ دیکھتا ہوں، چھ سات یہودی صرف جانگیے پہنے، بڑے بڑے چھرے ہاتھوں میں لیے انسانی لاشوں کے ٹکڑے کر کر کے ڈھیر لگا رہے ہیں اور دیواروں کے ساتھ ( اہل مدینہ کی ) بے شمار انسانی لاشیں لٹکی ہوئی ہیں۔ میں یہ منظر دیکھ کر الٹے پاؤں اوپر کی طرف بھاگتا ہوں کہ یہ تو میرے بھی ٹکڑے کر ڈالیں گے۔ اوپر پہنچ کر دیکھتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم التحیات پڑھ کر سلام پھیر رہے ہیں۔۔۔ سلام پھیر کر میری طرف دیکھ کر آپ فرماتے ہیں : فکر نہ کرو، یہ گوشت بکے گا نہیں!
اور پھر میری آنکھ کھل گئی۔ بس مولانا ، جب سے میں نے یہ خواب دیکھا ہے، روز بروز میری بے کلی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے؟ آپ بتائیے ، اس خواب کی تعبیر کیا ہے؟
اگر چہ ابا جان ، خوابوں کی دنیا سے تعلق نہیں رکھتے تھے ، اور نہ خوابوں کی تعبیر سے نتائج اخذ کرنے کے طرف دار تھے ۔ وہ حقائق کی دنیا اور منطقی اصولوں کو ایمان کے تابع لاکر زندگی بسر کرنے کی دعوت دیتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود یہ خواب سن کر ابا جان خود حیران ہوتے جا رہے تھے کہ ایسا خواب تو بڑے بڑے ولیوں کو بھی دیکھنا نصیب نہیں ہوتا مگر یہ اس داڑھی منڈے نوجوان ہوا باز کو نظر آیا ہے۔ کسی آستانہ عالیہ کے سجادہ نشین، کسی فقیہ مصلحت اور کسی حامل جبہ و دستار کو نہیں بلکہ ستاروں پر کمند ڈالنے والے فضائیہ کے مجاہد کو دکھائی دیا ہے، جس کا ایک مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں خانقاہوں کے مجاوروں اور حجروں کے باسیوں کے بجائے ، رسم شبیری ادا کرنے والے ایسے نوجوان ہی ملت بیضا کی قیادت کریں گے اور یہی لوگ حرمین الشریفین کی حفاظت و مدافعت کی ذمے داری نبھائیں گے۔
ابا جان نے اُن نوجوان جنگی ہوا بازوں سے کہا: رسول کریم کی حدیث مبارکہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے روایت کیا ہے. إذا وقعت الملاحِمُ بَعَثَ اللَّهُ بَعْثًا مِنَ الموالى هُمْ أَكْرَمُ الْعَرَب فَرَسًا وَأَجُوَدُ سَلَاحًا يُؤَيِّدُ اللَّهُ بِهِمُ الدِّينِ مشکوة | جب جنگوں پر جنگیں ہوں گی ، تو اللہ ، غیر عرب اقوام میں سے ایک قوم کو اٹھا کر کھڑا کرے گا۔ وہ شہواری میں عربوں سے بہتر اور اسلحے میں ان سے برتر ہوں گے۔ ان کے ذریعے اللہ اپنے دین کی مدد کرے گا۔
پھر کہا: یہ خواب اس حدیث کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے، جو حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے: آخر زمانے میں ایسے لوگ آئیں گے جو پرندوں کی طرح تیز رفتار اور درندوں کی طرح ظالم ہوں گے ( مشکوۃ ۔ یعنی آج ہمیں اس کا یہی مطلب سمجھ میں آتا ہے کہ جنگی ہوائی جہازوں پر سوار ہو کر اپنے ملک سے اڑیں گے اور بڑی بے رحمی سے اپنے مخالفوں کے بچوں، بوڑھوں ، عورتوں اور مخلوق خدا کو تباہ و برباد کرتے جائیں گے، ان کے ہاتھوں نہ کسی کی جان و مال محفوظ ہوگی اور نہ عزت و آبرو
تیسری حدیث مبارکہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذر غفاری کو مخاطب کر کے فرمایا: اے ابوذر، جس وقت مدینے میں ایسی بھوک ہوگی کہ تو اپنے بستر سے کھڑا ہوکر مسجد تک نہیں جا سکے گا ، مگر یہ بھوک تجھ کو مشقت میں ڈال دے گی۔ اس وقت تیرا کیا حال ہوگا جب مدینے میں اتنا قتل ہوگا کہ خون احجار الزيت ( چکنے پہاڑ ) کو ڈھانپ لے گا۔
اسی طرح حدیث دجال سنا کر کہا کہ آپ کا خواب بظاہر اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ آیندہ صلیب و ہلال کے معرکوں میں ایئر فورس فیصلہ کن کردار ادا کرے گی، اس لیے اللہ نے یہ خواب ایک جنگی پائلٹ کو دکھایا ہے۔ اس لیے یہ وقت اپنے طیارے کے کاک پٹ میں اذان دینے کا ہے۔ آپ کا فرض آپ کو پکار رہا ہے، ملت بیضا اور حرمین الشریفین کی حفاظت آپ کی ذمہ داری ہے۔
ایک حدیث کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کے بعد انھی علاقوں سے فوج ان کی مدد کو پہنچے گی جو غیر عرب ہوں گے، اور اسلحہ وفن سپہ گری میں عربوں سے افضل ہوں گے۔
یاد رکھیے، آپ کی سب سے بنیادی وفاداری اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، اس کے بعد حرمین سے ہے اور اس کے بعد اپنے وطن سے ۔ آپ ان وفاداریوں کو بیک وقت نبھانے کے لیے اللہ اور قرآن سے تعلق جوڑیں اور اللہ تعالیٰ ہی سے مدد کی دعا کرتے رہا کریں۔
یہ تعبیر سننے کے بعد جب وہ پائلٹ پر سکون ہو کر جانے کے لیے اٹھے تو بیماری اور سخت نقاہت کے باوجود، ابا جان نے کھڑے ہو کر ان سے الوداعی مصافحہ کیا ، اور اصرار کر کے انھیں اپنے کمرے کے دروازے تک رخصت کرنے آئے اور کہا: چونکہ آپ نے خواب میں نبی کریم کی زیارت کی ہے، اس لیے آپ تکریم کے لائق ہیں۔ اب آپ اپنی جو بے چینی اور بے کلی مجھے دے کر جارہے ہیں، نہ جانے میں کب تک اس کیفیت میں مبتلا رہوں گا۔
وﷲ اعلم بالصواب
عزیزان وطن؛ اس کو سمجھو؛ گزشتہ ہفتے ۶/۷ مئی کی رات کو ہمارے ازلی دشمن بھارت نے ایک خوفناک حملہ کیا تو وہ اللہ کی آزمائش ہی تھی۔ اس جنگ میں ہمارے سامنے تھی تو صرف مشرک ہندو قوم مگر اس کے پشت پر صیہونی یہودی اور دیگر تمام طاغوتی طاقتیں اپنے وسائل کے ساتھ تھیں۔ یہ ایسی ہی جنگ تھی جیسے غزوہ بدر ہوا تھا (313 بمقابلہ 1000 ) ؛ جنگِ یرموک ہوا تھا (30ہزار بمقابلہ 3 لاکھ )؛ اور اللہ سبحان تعالی کا قرآن کا فرمان پورا ہوا کہ یہ ہمارے دشمن ہیں۔ اس جنگ میں اللہ تعالی نے ہمیں عجب رنگ سے سرخرو کیا کہ دنیا کی تاریخ میں ایسا کوئی معرکہ وقوع پذیر ہی نہیں ہوا۔ اس جدید دور کے فضائی جنگ میں ہمارے نوجوان حاوی رہے کہ ہمارا کوئی نقصان نہیں ہوا اور دشمن کو ایسے دھول چٹا دی کہ وہ اپنے زخم دکھانے کے قابل تک نہیں ہے۔ یہ اللہ سبحان تعالی کا احسان ہے، احسان۔ اے مالک کل؛ ہم سیہ کار و گنہ گار ہیں اور تیری شان نرالی ہے کہ ہمیں سرخرو کردیا؛ تیرا شکر ہے کہ صرف تیری ہی ذات تعریف کے قابل ہے؛ پس ہمیں آقا کریم محمدﷺ کی غلامی عطا فرما۔ آمین۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جب بڑی بڑی جنگیں ہونے لگیں گی، تو اللہ تعالیٰ موالی ( جیسے ہم) میں سے ایک لشکر اٹھائے گا، جو عربوں سے زیادہ اچھے سوار ہوں گے اور ان سے بہتر ہتھیار رکھتے ہوں گے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دین کی مدد فرمائے گا“۔ (ابن ماجہ ۴۰۹۰ )
غیرعرب (جیسے پاکستان)جن کے گھڑ سوار عربوں سے بہتر ہوں گے اور ہتھیار بھی زیادہ اچھے ہوں گے۔ آج کے گھڑ سوار پائلٹ ہیں اور پاکستان سے بہتر پائلٹ کسی کے نہیں۔ اسی طرح ہتھیار(ایٹمی ہتھیار ) بھی پاکستان کے سب سے بہتر ہیں۔
آنکھ جو کچھ دیکھتی ھے لب پہ آسکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
(اقبال)
عزیزان وطن؛ میرے پیارے لوگو! آو اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔ اللہ تعالی اپنے بندو کو بشارت دیتا رہتا ہے؛ جیسے اوپر دی گئی مثال میں ائر فورس کے افسر کو ملی؛ ایسی ہی بشارتیں نیوکلیر سائنسدانوں کو بھی ملیں تو انہوں نے کمر باندھ لی اور ناممکن کو حاصل کردکھایا کہ کسی کو شک ہی نہیں رہا۔ اللہ سبحان تعالی نے تو منزل کا بتایا دیا ہے؛ اللہ تعالیٰ فیصلہ کر چکا ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا کر کے ہی رہے گا؛ قرآن مجيد ميں اللہ تعالی نے تين بار ( سورة التوبه آيت 33؛ سورۃ الصف آیت 9 اور سورة الفتح آيت: 28 ) میں اپنا فیصلہ دهرايا هے.۔ سورۃ الفتح میں فرمایا
هُوَ الَّـذِىٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَـهٝ بِالْـهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٝ عَلَى الـدِّيْنِ كُلِّـهٖ ۚ وَكَفٰى بِاللّـٰهِ شَهِيْدًا (28)
وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اسے ہر ایک دین پر غالب کرے، اور اللہ کی شہادت کافی ہے۔
عزیزان وطن؛ میرے پیارے لوگو! ہم ہیں دعویدار امت محمدﷺ؛ تو کیا ہم پر لازم نہیں ہے کہ ہم اللہ تعالی کے متعین کردہ منزل کی جانب سفر کریں۔ صرف مسلح افواج ہی نہیں اور نیوکلیر سائنس دان ہی نہیں؛ ہم سب پر؛ جو کسی بھی محکمہ؛ کسی بھی ادارے؛ کسی بھی تنظیم کا حصہ ہوں؛ اور معاشرے کا کسی طور پر حصہ ہوں پر لازم ہے کہ ہم دنیا کے لیے قابلِ مثال ہوں۔ پاکستان کو اسلام کا قلعہ قائد اعظم نے قرار دیا تھا اور اس ضمن میں ان کے فرمودات، ارشادات اور تقاریر میں مکمل رہنمائی موجود ہے۔ اور علامہ محمد اقبال نے اپنی عمر کے آخری دس سالوں میں اس ضمن میں بےبہا کلام پیش کیا اور مخلتف مواقعوں پر کھل کر گفتگو بھی کی تھی۔ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانا ہے تو "ایمان، اتحاد، تنظیم" اور "کام کام کام " پر عمل پذیر ہونا ہوگا۔
آئیے خود کو بدلیں۔ یاد رکھیے کہ اگر ہم پاکستان کو اسلام کا قلعہ نہیں بنا سکے تو کل روزِ قیامت قرآن ہمارے خلاف مدعی ہوگا۔ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے؛ اس لیے نہیں کہ اسلام خطرے میں ہوتو یہاں پناہ گزیں ہو بلکہ ایک ایسا مرکز اسلام ہو جو دنیا بھر کے مسلمانوں کو اعتماد دے کہ کوئی طاقت ہے جو ان کی پشت پر ہے۔ کوئی تو ہے جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مظہر ہے۔ اور ایک ایسی مسلمان قوم ہے جو تمام شعبہ زندگی کے ہر ضابطہ حیات میں قابل تقلید ہے۔ یہ ایک لمبا سفر ہوگا؛ جو شاید کئی نسلوں تک چلے؛ تو آئیے پہلا قدم بڑھاتے ہیں کہ ہمارے بچے ہم پر فخر کرسکیں۔ ایسے ہی جیسے آج پاکستان ائر فورس کے نوجوان ایم ایم عالم اور سرفراز رفیقی جیسے شاہینوں کا فخر سے تذکرہ کرتے ہیں۔ آئیے اسے یقینی بنائیں کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے۔ اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین ثم آمین
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
Buy Stripe Account Scam Awareness Guide Online payment platforms like Stripe have revolut...
Buy How to Get GoPay Features Explained: The Ultimate Guide GoPay has become one of the m...
Buy How to Get GoPay Pricing Information: The Complete Expert Guide GoPay has become one...
Buy Protect Yourself from Stripe Account Scams: The Ultimate Guide Online payment platfor...
Buy Stripe Account Verification Fraud Prevention: The Complete Expert Guide Fraud prevent...