اپنے مَن میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی

The biggest problem in today's world is the horrific development that has brought man care to the inspired facts and made him a priest of the miracles of science. As a result, man has become a slave to the world and desires. The abundance of material objects has taken away his calm and real purpose from man. This write up in Urdu "اپنے مَن میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی" is about the secret of man's life is not in an external material miracle, but in itself with the help of Allama Iqbal Verses.

Oct 16, 2026 - Muhammad Asif Raza

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


اپنے مَن میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی


حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے اپنے فلسفے اور شاعری کے ذریعے ہمیشہ انسان کو اس کے مقامِ خلافت اور اندرونی قوت (خودی) کی پہچان کا درس دیا۔ اقبال کے نزدیک مسلم معاشرے یا عمومی طور پر انسانی کائنات کے زوال کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انسان نے اپنی روح اور اخلاق کو مادی نظاموں کے تابع کر دیا ہے۔ جب دین اور سیاست، یا اخلاق اور اقتدار کا رشتہ ٹوٹتا ہے، تو معاشرہ ہوس کا شکار ہو جاتا ہے، اور فرد اپنی ذات کے اندھیروں سے خوفزدہ ہو کر بیرونی سہاروں میں پناہ ڈھونڈنے لگتا ہے۔

آج کی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ وہ خوفناک ترقی ہے جس نے انسان کو الہامی حقائق سے بے پروا کر دیا ہے اور سائنس کے معجزات کا پجاری بنا دیا ہے۔ نتیجتاً انسان لذاتِ دنیا اور خواہشاتِ نفس کا غلام بن گیا ہے۔ مادی اشیاء کی کثرت نے انسان سے اس کا سکون اور حقیقی مقصدِ حیات چھین لیا ہے۔ ایسے مادی دور میں اب انسان کو یہ سمجھانا بہت اہم ہو گیا ہے کہ انسان کی زندگی کا راز کسی بیرونی مادی معجزے میں نہیں، بلکہ خود اس کے اندر پنہاں ہے۔


دین و سیاست کی جدائی اور مادی ہوس کا راج

جب کسی بھی سیاسی، معاشی یا سائنسی نظام سے اللہ کا خوف، اخلاقیات اور جوابدہی کا احساس رخصت ہو جائے، تو اقتدار اور ترقی محض ذاتی مفادات اور طاقت کا کھیل بن جاتی ہے۔ علامہ اقبال نے مغرب کے اسی بے روح، سیکولر نظام اور دنیاوی ملوکیت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا:۔

ہوئی دین و دولت میں جس دم جدائی

ہوس کی امیری, ہوس کی وزیری


دین کے بغیر حکمران (امیری) جابر بن جاتا ہے اور اس کے وزراء و مشیر (وزیری) عوام کے حقوق غصب کرنے والے بن جاتے ہیں۔ سائنس اور سیاست جب تک اخلاق کے تابع نہ ہوں، وہ صرف مادی طاقت کی اندھی ہوس بن کر رہ جاتی ہے۔

بدقسمتی سے ساری کی ساری اسلامی دنیا جسے اللہ تعالیٰ نے "امتِ وسط" بنایا تھا اور جس کا کام دوسری امتوں پر گواہ بننا تھا، خود اسیری اور غلامی کے طوق کو قابلِ فخر سمجھ بیٹھی ہے۔ فکر و نظر کی یہ غلامی اور اپنے ہی شاندار ماضی سے بے راہ روی مسلم امہ کا سب سے بڑا المیہ بن چکی ہے۔


نو آبادیاتی ڈھانچے اور ذہنی غلامی: امل چترجی کا نقطۂ نظر


اس فکری زوال اور غلامانہ مائنڈ سیٹ کی گواہی صرف مشرقی مفکرین نے نہیں دی، بلکہ معاصر دنیا کے محققین بھی اس تلخ حقیقت کی تصدیق کر رہے ہیں۔ امل چترجی نے اپنی تصنیف "ایمپائر کا قیدی" میں ملوکیت، جدید نو آبادیاتی نظام (نیو کالونی ازم) اور سابقہ مقبوضات— بالخصوص اسلامی دنیا— کی بے راہ روی اور غلامانہ سوچ کی گہری کھوج لگائی ہے۔

امل چترجی اس کتاب میں درست نشاندہی کرتے ہیں کہ بظاہر آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی یہ ممالک ذہنی اور ساختیاتی طور پر اب بھی "سلطنت کے قیدی" ہیں۔ ان کا سیاسی، تعلیمی اور معاشی نظام اب بھی اسی استعماری اور جابرانہ ڈھانچے پر چل رہا ہے جو غیر ملکی طاقتیں چھوڑ کر گئی تھیں۔ مسلم ممالک کے حکمران طبقے نے اپنی خودی کو بیدار کرنے اور امتِ وسط کا فعال کردار ادا کرنے کے بجائے، اسی غلامی کے طوق کو گلے کا ہار بنا لیا ہے اور وہ اپنے ہی عوام کے معاشی و فکری استحصال کو قابلِ فخر سمجھتے ہیں۔


فکری غلامی کے اسباب: سلطانی، ملّائی اور پیری

علامہ اقبال ارمغانِ حجاز میں اسی میکانکی، مادی اور بے روح بگاڑ پر نوحہ کناں ہیں جہاں مسلمان اپنی باطنی خلافت کو بھول کر بیرونی بتوں کا غلام بن چکا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:۔۔۔

تو ظاہر و باطن کی خلافت کا سزاوار

کیا شعلہ بھی ہوتا ہے غلامِ خس و خاشاک؟

باقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیری

اے کشتۂ سلطانی و ملّائی و پیری!


اقبال انسان کو جھنجھوڑتے ہیں کہ تو کائنات کا "شعلہ" (ایمانی حرارت) تھا، تو "خس و خاشاک" (مادی چمک دمک اور امل چترجی کے بیان کردہ نو آبادیاتی نظاموں) کا غلام کیسے ہو گیا؟ کارل جنگ جسے "میکانکی طور پر صوفیانہ متن دہرانا" کہتا ہے، اقبال اسی کو "ملّائی اور پیری" کا جمود کہتے ہیں۔


علامہ اقبال نے انتہائی خوبصورتی اور بے باکی سے اسلامی معاشروں میں غلامی کو رائج، راسخ اور مستحکم کرنے والے ان تین طاقتور عناصر کی نشاندہی کر دی تھی۔ یہاں "سلطانی" سے مراد وہ سارا جابر و ظالم حکمران طبقہ ہے جو کسی آئین یا اخلاق کے بجائے بزورِ بندوق اور مادی طاقت کے عوام پر مسلط ہوتا ہے۔ جب اس جابرانہ ملوکیت (سلطانی) کو بے مغز مذہبی پیشواؤں (ملّائی) اور عمل سے دور کرنے والے خانقاہی چکروں (پیری) کی فکری حمایت حاصل ہو جائے، تو یہ تینوں مل کر انسان کی "آئینہ ضمیری" [دل کا وہ صاف آئینہ یا باطنی بصیرت، جو سچ اور جھوٹ، اچھائی اور برائی میں تمیز کرتی ہے۔] اور خودی کا قتل عام کر دیتے ہیں، اور معاشرہ مستقل غلامی کی دلدل میں دھنس جاتا ہے۔


ملوکیت کا تاریخی آغاز اور معرکۂ کربلا کا متبادل رخ

تاریخ کا سب سے گہرا سچ یہ ہے کہ یہ جابرانہ ملوکیت صرف نو آبادیاتی غلامی کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ اس کا آغاز خود اسلامی تاریخ کے اندر سے ہوا۔ یہ نظامِ ملوکیت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دربار سے شروع ہوا اور یزید بن معاویہ کے دربار میں عجلت اور عروج پر پہنچا، جہاں خلافت راشدہ کے جمہوری و اخلاقی اصولوں کو پامال کر کے موروثی بادشاہت قائم کی گئی۔ اسی ملوکیت اور ظلم کے ردِ عمل میں تاریخ کا عظیم ترین معرکہ، معرکۂ کربلا برپا ہوا، جو دراصل "دین اور سیاست کی علیحدگی" کے خلاف نواسۂ رسول ﷺ کی آخری اور اصولی جنگ تھی۔


لیکن بدقسمتی سے، نو آبادیاتی استعماری دور میں، اس انقلابی پیغام کو دبانے کے لیے ایک گہرا کھیل کھیلا گیا۔ عرب دنیا میں وہابیت کے ابھار اور برصغیر ہند و پاک میں دیوبندیت (اور دیگر ملائی مکاتبِ فکر) کے پھیلاؤ کے ذریعے، معرکۂ کربلا کے اس عظیم انقلابی اور بیدار کن فلسفے کو پسِ پشت ڈال کر اسے صرف فرقہ بازی کی نذر کر دیا گیا، یا پھر محض رونے دھونے اور رسمِ عزاداری تک محدود کر دیا گیا۔

ملّائیت کے پروان چڑھے اس مائنڈ سیٹ نے پورے اسلام کو محض چند ذاتی اعمال، دعاؤں اور بے روح اذکار میں الجھا دیا، اور عام مسلمان کو صرف روٹی، کپڑا اور مکان کی مادی دوڑ کا اسیر بنا دیا۔ پھر انہی کے ذریعے "دیوانہ بہ کارِ خویش ہوشیار!" کا وہ عیارانہ انداز پھیلایا گیا، جہاں بظاہر یہ مذہبی پیشوا انگریز استعمار کے خلاف کھڑے دکھائی دیتے تھے، مگر اندرونی طور پر انہی مقتدر قوتوں اور جابروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کیے ہوئے تھے، جس کا شکار ہو کر ہمیشہ عام جذباتی مسلمان اپنی جانیں گنواتا رہا۔ یہ استحصالی سلسلہ آج تک جاری ہے، جہاں کربلا جیسا ملوکیت شکن توڑ موجود ہونے کے باوجود اسے فرقہ واریت کی چادر اڑھا کر دفن کر دیا گیا ہے۔


خودی سے فرار: کارل جنگ کا نفسیاتی اِکتشاف

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مادی بگاڑ، الہامی حقائق سے بے پروائی اور فکری و تاریخی غلامی کی جڑیں انسان کے اندرونی نفسیاتی فرار میں چھپی ہوئی ہیں۔ مشہور سوئس ماہرِ نفسیات کارل جنگ نے اس انسانی رویے کی گہری تشخیص کرتے ہوئے لکھا تھا:۔


"لوگ اپنی جانوں (روح) کا سامنا کرنے سے بچنے کے لیے کچھ بھی کریں گے، چاہے وہ کتنا ہی مضحکہ خیز ہو۔ وہ ہندوستانی یوگا اور اس کی تمام مشقوں پر عمل کریں گے، سخت طرزِ عمل یا غذا کا مشاہدہ کریں گے، دل سے تھیسفی سیکھیں گے، یا پوری دنیا کے ادب سے میکانکی طور پر صوفیانہ متن کو دہرائیں گے— سب اس وجہ سے کہ وہ اپنے ساتھ نہیں چل سکتے اور انہیں ذرا بھی اعتماد نہیں ہے کہ کوئی بھی مفید چیز کبھی ان کی اپنی جانوں سے نکل سکتی ہے"۔۔۔


عصرِ حاضر کی "روحانیت کی مارکیٹ" اور ملوکیت کے پروردہ عقائد کارل جنگ کے اس قول کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ مادی ترقی اور ملوکانہ ملّائیت کا پجاری بننے کے بعد انسان اپنے حسد، منافقت، خوف اور اندرونی کھوکھلے پن کا سامنا کرنے سے ڈرتا ہے۔ وہ اس کٹھن ذاتی احتساب اور "رسمِ شبیری" ادا کرنے سے بچنے کے لیے مضحکہ خیز بیرونی راستے اور بے روح وظائف ڈھونڈ نکالتا ہے تاکہ اسے اپنے باطن کو بدلنا اور ظلم کے خلاف کھڑا نہ ہونا پڑے۔


مردِ حق کا زوال اور آسمان کا نوحہ

جب ایک کلمہ گو یا حق پرست انسان ملوکیت کی زنجیروں میں جکڑ کر، استعماری طاقتوں سے مرعوب ہو کر الہامی حقائق کو بھول جاتا ہے اور حق گوئی کے بجائے دنیا کے جابروں، بندوق برداروں اور امیروں سے ڈرنے لگتا ہے، تو یہ کائنات کا سب سے بڑا زوال ہوتا ہے۔ اقبال کے الفاظ میں:۔۔۔

سینۂ افلاک سے اٹھتی ہے آہِ سوز ناک

مردِ حق ہوتا ہے جب مرعوبِ سلطان و امیر


زوال کا علاج: اپنے من میں ڈوبنا

کارل جنگ کا "اپنی جان کا سامنا کرنا"، امل چترجی کا "استعماری قید سے ذہنی آزادی" اور اقبال کا "خودی میں ڈوبنا" اصل میں ایک ہی سچائی کے الگ الگ رخ ہیں۔ اقبال انسان کے مادی، ملوکانہ اور ملّائی فرار کے تمام راستے بند کرتے ہوئے اسے واپس اس کے باطن کی طرف بلاتے ہیں:۔۔

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی

تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن!۔


جب تک انسان مادی اشیاء کی پوجا، بندوق کا خوفاور بے روح ملّائیت کو چھوڑ کر اپنے اندر کے اندھیروں کا بہادری سے سامنا نہیں کرتا، دل میں ایمان کا سوز اور نظر میں پاکیزگی پیدا نہیں کرتا، وہ کبھی خواہشاتِ نفس اور جابر حکمرانوں کے سامنے بے باک اور فاتح نہیں ہو سکتا:۔۔۔

دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے

پھر اس میں عجب کیا کہ تو بے باک نہیں ہے

عالم ہے فقط مومنِ جانباز کی میراث

مومن نہیں جو صاحبِ لولاک نہیں ہے


حاصلِ کلام (نتیجہ)

اقبال، کارل جنگ، امل چترجی اور کربلا کے تاریخی سچ کا یہ فکری ملاپ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ سچی تبدیلی اور مادی، ملوکانہ یا سیاسی غلامی سے نجات ہمیشہ اندر سے شروع ہوتی ہے۔ خوفناک سائنسی ترقی، نو آبادیاتی ذہنیت اور فرقہ وارانہ ملّائیت کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی امتِ وسط کے لیے نجات کا واحد راستہ یہی ہے کہ وہ بیرونی سہاروں اور عیارانہ جذباتی نعروں کی دوڑ سے نکل کر "اپنے من میں" ڈوب جائے۔ جب انسان اور امت اپنی خودی کو پہچان کر اسوئہ شبیری اور اسوئہ رسول ﷺ کی روشنی میں اپنے باطن کے فاتح بن جاتے ہیں، تو وہ ملوکیت کے قیدی نہیں بلکہ کائنات کے رہنما اور مخدوم بن جاتے ہیں۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں یہ جنریشن زی کا زمانہ ہے اور ان کے لیے ایک بین المسلمین دور کا آغاز کرنا کوئی مشکل کام نہیں رہا۔ یہ دور جوڑنے کا ہے۔ ساری انسانیت کو جوڑنے کے لیے اسلام کا آفاقی کلام اور عالمگیر پیغام پوری مسلم دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر سکتا ہے۔ لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے اسلام کو روایتی فرقہ پسند گروہی کاروائیوں، مسلکی منافرت اور ملوکانہ ایجنڈوں سے باہر نکالنا ہوگا۔ ڈیجیٹل دنیا کے اس تیز ترین رابطے کے دور میں نوجوان نسل کو "رسمِ شبیری" کے حقیقی، انقلابی اور فکری اصولوں کو اپنا کر فکری انتشار سے نکلنا ہوگا، تاکہ ملوکیت اور فکری غلامی کے دور کا مستقل خاتمہ ہو سکے اور ایک متحد، عادلانہ کائنات کی بنیاد رکھی جا سکے۔


More Posts