'اپنے مُلک' کی مٹی: خمیر یا نظام؟
Storytelling is an important tool because it builds emotional connections, helps people remember information, and fosters empathy. The human history has seen rapid acceleration in progress and development the western hemisphere over the last century. It has resulted in mass migration from third world countries to western countries. This story in Urdu "'اپنے مُلک' کی مٹی: خمیر یا نظام؟" is about the cultural shock absorbed by immigrants.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
'اپنے مُلک' کی مٹی: خمیر یا نظام؟
گاڑی کی رفتار سو کلومیٹر فی گھنٹہ تھی، لیکن دانیال کا ذہن ماضی اور حال کے درمیان ہزاروں میل کا سفر سیکنڈوں میں طے کر رہا تھا۔ اس نے سٹیئرنگ پر گرفت مضبوط کی اور سامنے پھیلی پُرسکون سڑک کو دیکھا۔ کینیڈا کے شہر کیلگری کی سرد ہوا گاڑی کے شیشوں سے ٹکرا رہی تھی، لیکن اس کی سوچوں میں تپتا ہوا جی ٹی روڈ کے کنارے بسے شہر اور موٹروے کی کالی سڑک انگاروں کی طرح دہک رہی تھی۔ اس کے ذہن میں یہ دھماچوکڑی اکثر مچی رہتی تھی خاص طور پہ جب وہ سڑک پہ لمبے سفر میں ہوتا تھا۔ وہ سوچنے لگتا تھا کہ انسان کو انسان اس کی جیب بناتی ہے، اس کی مٹی یا پھر اس ملک کا نظام؟
اس کی اہلیہ محترمہ بھی کبھی کبھار اس کے ہمراہ "لونگ ڈرائیو" کے لیے عازم سفر ہوتی تھیں۔ ایک ایسے ہی سفر میں جب دانیال تاز تازہ "اپنے مُلک"سے واپس آیا تھا اور وہ دونوں میان بیوی ایک "لونگ ڈرائیو" پہ نکلے ہوئے تھے تو بیگم دانیال نےمحسوس کیا کہ دانیال صاحب کہیں اور ہی کھوئے ہوئے ہیں۔
وہ گویا ہوئیں "آپ کیا سوچ رہے ہیں؟" بیگم صاحبہ کے نزدیک خاموشی کی وجہ "اپنے مُلک" میں اس شہر کے کچھ مخصوص لوگ تھے، جس سے ان دونوں کا تعلق تھا۔ "کچھ نہیں..." دانیال نے مسکرا کر کھڑکی سے باہر دیکھا، جہاں سڑک کے کنارے بجلی کے لکڑی کے کھمبے ایک قطار میں کھڑے پیچھے بھاگے جا رہے تھے۔ "بس یوں ہی یادوں کا ایک دفتر کھل گیا ہے۔ مجھے چند مہینے پہلے کا لاہور-اسلام آباد موٹروے کا وہ سفر یاد آ رہا ہے، جب ہم پشاور جا رہے تھے"۔
بیگم کو شاید اس کی توقع نہیں تھی۔ وہ اپنے شوہر کو اس طرح نہیں جانتی تھی۔ "کون سا سفر؟ وہ کینو والا واقعہ"۔۔
بیگم کے چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ ابھری۔"ہاں، وہی..." اس نے یادوں کے دھندلکے کو سمیٹا۔
اس دن موسم اچھا تھا۔ موٹروے پر گاڑی دوڑاتے ہوئے اچانک اس کی نظر سڑک کے کنارے کھڑی چار گاڑیوں پر پڑی۔ ان میں ایک چمکتی ہوئی مرسڈیز تھی اور ایک قیمتی پجیرو بھی۔ موٹروے کے قانون کے مطابق وہاں گاڑی کھڑی کرنا ممنوع ہوتا ہے۔ اس نے سوچا کوئی ایمرجنسی نا ہو گئی ہو؛ شاید کسی کو مدد کی ضرورت ہو۔ دانیال کو باہرلے ملک رہتے تقریبا" تین دھائیاں ہونے والی تھیں۔ اس کی بہت سی عادتیں اور سوچ میں دیار غیر غالب ہوگیا تھا۔
اس کے ذہن نے مدد کرنے کا خیال پیدا کیا؛ مگر جیسے ہی اس نے اپنی گاڑی کی رفتار کم کی، تو وہاں کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ دس بارہ مرد، خواتین اور بچے، جن کے لباس اور گاڑیاں ان کی امارت کی گواہی دے رہے تھے، موٹروے کی حفاظتی باڑ ( سڑک کنارے لگے) کے ساتھ لگے کینو کے درختوں سے کینو توڑ رہے تھے۔ وہ شاخیں جو باڑ سے باہر سڑک کی طرف جھک آئی تھیں، وہ ان پر ٹوٹ پڑے تھے۔
دانیال کو یقین تھا کہ وہ لوگ اتنے امیر ضرور تھے کہ پورا باغ خرید سکتے تھے، لیکن ان کی مادی دولت ان کے اندر کی بھوک کو نہیں مٹا سکی تھی۔ آخر اس کے ہم وطن ایسے کیوں ہیں؟ اس نے سوچا۔ موٹروے پر مرسڈیز اور پجیرو سے اتر کر کینو چوپنے والے لوگ کسی "نظام کی خرابی" کا شکار نہیں تھے۔ وہ بھوکے نہیں تھے، نہ ہی انہیں قانون کا علم نہیں تھا۔ وہ شاید خمیر کی خرابی تھی جہاں مادی دولت تو آ گئی، مگر اندر کا انسان غریب اور حریص ہی رہا۔
"وہ واقعی عجیب منظر تھا،" بیگم نے تائید میں سر ہلایا۔
اور مزید بات بڑھائے ہوئے کہا کہ "اور تمہیں یاد ہے، اسی شام جب ہم نے فون پر امریکہ والے شاہد سے بات کی تھی، تو اس نے فون پر کیا سنایا تھا؟"۔۔
ایک دھماکہ ہوا تھا اس کی سوچ میں؛ "شاہد کا وہ قصہ تو میں کبھی نہیں بھول سکتا"۔۔۔
دانیال نے کیلگری کے جانب واپسی کے موڑ پر گاڑی موڑتے ہوئے یاد کیا کہ شاہد نے بتایا تھا کہ فینکس، ایریزونا میں اس کے گھر کے بڑے سے بیک یارڈ میں ناشپاتی اور سیب کے بہت سے پھل دار درخت ہیں۔ ایک دن اس کے گھر کی گھنٹی بجائی گئی۔ باہر ایک پڑوسی دو بڑے تھیلے ہاتھ میں اٹھائے کھڑا تھا۔ وہ شاہد کے گھر کی پچھلی سمت والے گھر میں رہتا تھا۔ اس نے وہ تھیلے شاہد کی طرف بڑھائے اور انتہائی سادگی سے بولا، "تمہارے درختوں کے کچھ پھل میری باڑ کی طرف گر جاتے ہیں۔ یہ رکھ لو، یہ تمہارا حق ہے، تمہاری امانت ہے"۔
شاہد نے حیرت اور شکر گزاری سے کہا تھا کہ مجھے ضرورت نہیں، تم ہی رکھ لو۔ لیکن اس شخص کا دیانت دار ضمیر اسے مجبور کر کے لایا تھا، حالانکہ اس کے گھر تک آنے کے لیے اسے ایک طویل چکر کاٹنا پڑا تھا۔
اس لمحے اس نے سوچا "دو مختلف ملکوں کے لوگ، دو الگ نفسیات؛ بالکل الگ ہی دنیا کے لوگ"؛ اس نے سرد آہ بھری۔ "ایک طرف وہ امراء جو باڑ توڑ کر پرایا پھل چراتے ہیں، اور دوسری طرف وہ جو باڑ کے پار گری ہوئی چیز کو بھی امانت سمجھ کر لوٹا دیتے چاہتےہیں"۔۔
امریکہ کا پڑوسی طویل چکر کاٹ کر پرایا پھل امانت سمجھ کر لوٹاتا ہے؛ شاید یہ نظام کا نہیں، اخلاقی خمیر کا فرق تھا۔
ابھی انکی گفتگو جاری ہی تھی کہ گاڑی ایک مصروف دو رویہ سڑک پر ٹریفک لائٹ کے سامنے آ کر رک گئی۔ سرخ بتی جل رہی تھی اور دانیال نے یونہی اوپر دیکھا۔ سڑک کے کنارے کھڑے لکڑی کے ایک اونچے کھمبے کی چوٹی پر کچھ حرکت محسوس ہوئی۔ ذرا غور سے دیکھا تو وہاں سے ہلکا ہلکا نیلا دھواں اٹھ رہا تھا!۔
کینیڈا میں بجلی کے کھمبے درختوں کے سیدھے اور لمبے تنے ہوتے ہیں، جنہیں آگ بہت جلدی پکڑ سکتی تھی۔ ٹریفک لائٹ سبز ہو چکی تھی، لیکن اس کا دھیان اسی دھوئیں پر تھا۔ بیگم نے اس اضطراب دیکھ کر پوچھا، "کیا ہوا؟ آپ اتنے فکرمند کیوں ہو گئے ہیں؟"۔۔ "وہ دیکھو..." اس نے انگلی سے اشارہ کیا۔۔
اور بولا " اس لکڑی کے کھمبے سے دھواں نکل رہا ہے۔ یہ ایک مصروف سڑک ہے، اگر آگ بھڑک اٹھی تو کوئی بڑا حادثہ ہو سکتا ہے"۔
اس نے گاڑی ایک طرف روک کر فون نکالا، لیکن سکرین پر انگلی رکھتے ہی جیسے اس کے ہاتھ جم سے گئے۔ ماضی کا ایک خوفناک منظر اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔
جہلم اور کھاریاں کے درمیان کا وہ پہاڑی علاقہ، تپتی ہوئی سڑک اور کان پھاڑتا ہوا ہارن!۔
اس دن دانیال اپنے دوست زاہد نعمانی کے ساتھ اسلام آباد سے لاہور واپس آ رہا تھا اور ڈرائیونگ سیٹ پر وہ خود تھا۔ اچانک پیچھے سے دو بڑی بسوں کے چیختے ہوئے ہارن سنائی دیے۔ اس نے شیشے میں دیکھا تو کلیجہ منہ کو آ گیا۔ دونوں بسیں مسافروں سے کھچا کھچ بھری تھیں، یہاں تک کہ کچھ لوگ چھتوں پر بھی لٹکے ہوئے تھے، اور دونوں ڈرائیور اندھی ریس لگا رہے تھے۔ایک اندھے موڑ پر، پچھلی بس نے آگے نکلنے کے لیے ایسی خوفناک کٹ ماری کہ بس ایک طرف کو بالکل جھک گئی۔ مسافروں کی چیخیں دور دور تک سنائی دیں۔ بس کھائی میں گرتے گرتے بچی۔ ان دوںوں کے دل بھی حلق میں آ گئےتھے۔
آگے ایک سٹاپ پر دونوں بسیں سواریاں بٹھانے کے لیے رکیں، تو وہ ان ڈرائیوروں کی بے حسی کو کوستے ہوئے تیزی سے آگے نکل گئے۔
چند کلومیٹر آگے، سڑک کے کنارے "ہائی وے پٹرول پولیس" کی ایک گاڑی کھڑی نظر آئی۔ دانیال کے اندر کے کینیڈین شہری نے سوچا کہ اگر ان بسوں کو نہ روکا گیا تو آگے کوئی بڑا سانحہ ہو جائے گا۔
اس نے فوراً گاڑی روکی اور پولیس موبائل کے پاس گیا۔ اندر ایک پولیس آفیسر، جس کے کندھے پر تین پھول چمک رہے تھے، سیٹ پیچھے کیے مزے سے محوِ استراحت تھا۔میں نے کھڑکی پر آہستہ سے دستک دی۔ اس نے کچی نیند سے بیدار ہو کر ناگواری سے شیشہ نیچے کیا اور پولیس کے اسی مخصوص، کھردرے لہجے میں پوچھا: "ہاں جی، کی گل اے؟" اس نے ہڑبڑا کر کہا، "جناب! پیچھے مسافروں سے بھری دو بسیں خطرناک ریس لگاتی آ رہی ہیں۔ ابھی ایک موڑ پر حادثہ ہوتے ہوتے بچا ہے۔ آپ پلیز انہیں چیک کریں، ورنہ آگے کوئی بھی مر سکتا ہے"۔
اب آفیسر نے اس کی بات پر ایکشن لینے کے بجائے اس کوہی مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔
اس کی آنکھوں میں تفتیش اور چہرے پر رعونت ابھری۔ بولا: "کی ناں اے تہاڈا؟ کتھوں آ رہے ہو؟ کی کردے او؟ کتھے رہندے او"؟۔۔
دانیال ایک عام، شریف شہری کی طرح سہم گیا اور شرافت سے اپنے نام اور کام کے جواب دینے لگا۔ ابھی بات یہاں تک ہی پہنچی تھی کہ زاہد نعمانی، جو گاڑی میں بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا، اب باہر نکل کر انکے قریب پہنچ چکا تھا۔ اس نے جیسے ہی پولیس والے کا یہ ٹال مٹول والا رویہ دیکھا، اس کی اینٹری چونکا دینے والی تھی۔
زاہد کو دیہاتی سیاست کا وسیع تجربہ تھا اور پولیس کے اعلیٰ افسران سے اس کے خاندانی تعلقات تھے۔ وہ اس نظام کے مزاج کو اچھی طرح سمجھتا تھا۔
اس نے آتے ہی، بغیر کسی تمہید کے، پندرہ بیس ایسی جاندار اور ناقابلِ بیان گالیاں داغیں کہ ہائی وے کی ہوا سہم گئی:"توں اپنا ناں دس! پیٹی نمبر کی اے تیرا؟ تیرا ایس پی کون اے؟ تھانا کہڑا اے تیرا؟ توں سنیا نئیں اے تینوں کی دس ریا اے؟ توں اگیوں بکواس کر ریا ایں؟" زاہد کا گرجدار لہجہ اور گالیوں کی بوچھاڑ سن کر اس 'تین پھول' والے افسر کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
وہ جو چند سیکنڈ پہلے خوابِ خرگوش کے مزے لے رہا تھا، اب گالیوں کے جھٹکے سے سیدھا ہو کر بیٹھ چکا تھا۔ وہ بجلی کی تیزی سے گاڑی سے باہر نکلا، اپنی ٹوپی سیدھی کی اور زاہد کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔ "جی سر! جی سر! بالکل سر! میں ابھی چیک کرتا ہوں بسوں کو..." اس کا لہجہ موم ہو چکا تھا۔
کیا عجب بات ہے کہ جب تک نظام کو گالی نہ دی جائے، وہ حرکت میں نہیں آتا۔ کیا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ "اپنے مُلک" کی مٹی بری نہیں، بلکہ ادارے اور ان کا مائنڈ سیٹ تبدیل ہو چکا ہے۔
دانیال اب صرف نام اور نسب کا پاکستانی رہ گیا تھا۔ وہ دنگ رہ گیا تھا۔ اس نے پچھلے تین دھائیوں سے سیکھا تھا کہ وہ ایک شریف اور قانون پسند شہری ہے، اور ایک ممکنہ حادثے کی اطلاع دینا اس کا فرض تھا؛ سو اس نے ایسا کیا تھا۔ مگر ایک "انتہائی فرض شناس پولیس والے" نے اسےملزم بنا دیا تھا۔ اور زاہد، جس نے قانون کے رکھوالے کو سڑک پر ننگی گالیاں دیں، وہ اس نظام کا حاکم بن گیا تھا۔
کیا اس کے "اپنے مُلک" کا نظام شہریوں کے فرض سے نہیں، گالی اور دھونس کی زبان سے چلتا تھا؟
دانیال کے ذہن میں سوالات تو کئی تھے مگر "کیا ہوا؟ آپ فون کیوں نہیں ملا رہے؟" اس کی بیگم کی آواز نے اسے ماضی کے اس ہولناک فلیش بیک سے باہر کھینچا۔
اس نے سر کو جھٹکا۔ کیلگری کی سڑک پر اب بھی وہی لکڑی کا کھمبا تھا جس سے دھواں نکل رہا تھا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، اسی پرانے خوف کے ساتھ کہ اگر اس نے یہاں فون کیا، تو کہیں کینیڈین آپریٹر بھی اس سے تفتیش شروع تو نہیں کر دے گا۔
لیکن معلوماتِ عامہ کی حد تک تو دانیال جانتا تھا کہ ہنگامی حالات میں شہری کا فرض کیا ہوتا ہے اس نے ایک گہرا سانس لیا، دل مضبوط کیا اور یاد کیا کہ تب وہ کینیڈا میں تھا؛ ایمرجنسی سروسز سے رابطہ کیا۔"ایمرجنسی سروسز، آپ کو کس سروس کی ضرورت ہے؟" دوسری طرف سے ایک شائستہ اور نپی تلی زنانہ آواز ابھری
اس نے تھوک نگلا اور کہا، "میں اس وقت ایک مصروف دو رویہ سڑک پر ہوں۔ یہاں ایک بجلی کا لکڑی کا کھمبا ہے جس کی چوٹی سے ہلکا ہلکا دھواں اٹھ رہا ہے۔ یہ ایک بڑا خطرہ (پوٹنشیل خطرہ) بن سکتا ہے، اس سے پہلے کہ آگ بڑھے، براہِ کرم اسے دیکھ لیں"۔۔
اس نےخود کو ذہنی طور پر تیار رکھا تھا کہ اب اس سے شجرہ نسب یا نوکری کے بارے میں پوچھے گی۔ لیکن وہاں سے صرف دو سیدھے سوال آئے۔"کیا آپ مجھے اس کھمبے کی صحیح لوکیشن بتا سکتے ہیں؟" اس نے سڑک کا نام اور قریبی سگنل کا حوالہ دیا۔"آپ کا نام اور فون نمبر؟" دانیال نے اپنا نام اور نمبر لکھوا دیا۔"اطلاع دینے کا بہت شکریہ سر! ہماری ٹیم روانہ ہو رہی ہے," آپریٹر نے انتہائی ممنونیت سے کہا اور لائن کٹ گئی۔
کوئی جرح نہیں، کوئی رعب نہیں، کوئی تفتیش نہیں۔
دانیال نے فون جیب میں رکھا، لیکن اس کا دل اب بھی نظام کے اس فرق پر حیران تھا۔ بیگم نے گاڑی آگے بڑھانے کا اشارہ کیا۔ ہم شاپنگ کے لیے نکل گئے۔
تقریباً چالیس منٹ گزر چکے تھے۔ جب ہم شاپنگ ختم کر کے اسی سڑک سے واپس لوٹے، تو سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی گاڑی کی رفتار خود بخود دھیمی ہو گئی۔ پوری سڑک پر نیلے اور سرخ رنگ کی فلشنگ لائٹس چمک رہی تھیں۔ پولیس کی دو گاڑیاں اور ایک ایمبولینس وہاں موجود تھیں۔ انہوں نے سڑک کا وہ حصہ عام ٹریفک کے لیے مکمل بلاک کر دیا تھا۔ ایک بڑی ہائیڈرولک کرین کھڑی تھی، جس کی ٹوکری میں سوار ایک مکینک کھمبے کی چوٹی پر چڑھا تاروں کو درست کر رہا تھا اور آگ بجھانے کا عمل مکمل ہو چکا تھا۔
صرف چالیس منٹ کے اندر ایک عام شہری کی کال پر، پورا سرکاری نظام سڑک پر متحرک کھڑا تھا! کوئی گالی نہیں دی گئی تھی، کسی بااثر افسر کا نام نہیں استعمال ہوا تھا، کسی سفارش کی بیساکھی نہیں لگی تھی۔۔۔۔
صرف ایک 'شہری کی آواز' پر نظام نے اپنا فرض پورا کر دیا تھا۔
جب نظام جوابدہ، تیز رفتار اور منصفانہ ہوتا ہے، تو وہ برے خمیر کے حامل انسان کو بھی سیدھا رہنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
دانیال نے سڑک بلاک کیے کھڑے فائر ٹرک اور کرین پر چڑھے مکینک کو دیکھا۔ کینیڈا کی اس ٹھنڈی ہوا میں اسےاچانک جہلم کی وہ تپتی ہوئی سڑک یاد آئی جہاں ایک ممکنہ حادثہ روکنے کے لیے قانون کو ننگی گالیاں دینی پڑی تھیں، اور یہاں ایک بڑے حادثے کو ٹالنے کے لیے صرف ایک گمنام شہری کا فون کافی تھا۔
دانیال نے ایک طویل اور سرد سانس بھری۔ اسٹیرنگ پر جمی اس کی انگلیاں اب سرد ہو رہی تھیں۔
اس کی بیگم نے اس کی جانب دیکھا اور دھیمے سے پوچھا، "اب کیا سوچ رہے ہیں"؟
دانیال نے کرین کی طرف دیکھتے ہوئے تلخی سے مسکرا کر کہا، "میں سوچ رہا ہوں... لکڑی کے کھمبے تو کینیڈا میں جل رہے تھے، لیکن خاکستر ہمارے اپنے ملک کا نظام ہو رہا تھا۔" پھر اس نے گاڑی کی رفتار بڑھائی اور کینیڈا کی اس صاف ستھری، قانون پسند سڑک پر آگے نکل گیا، لیکن اس کا دل اب بھی کھاریاں کے اس پہاڑی موڑ پر زاہد نعمانی کی گالیوں اور پولیس افسر کے "جی سر، جی سر" کے درمیان کہیں لاوارث پڑا تھا۔
"اپنے مُلک" کا المیہ شاید یہ ہے کہ بدقسمتی سے خمیر اور نظام دونوں ایک دوسرے کو خراب کر رہے ہیں۔ کمزور تربیت (خمیر) کی وجہ سے لوگ کرپٹ ہوتے ہیں، اور جب وہی لوگ نظامِ حکومت کرسیوں پر بیٹھتے ہیں تو وہ ایک اپاہج اور ظالم نظام بنا دیتے ہیں۔ اگر مٹی کو زرخیز کرنا ہے، تو شروعات نظام کے انصاف اور گھر کی تربیت (خمیر) دونوں سے بیک وقت کرنی ہوگی۔ جب تک نظام عام شہری کو عزت نہیں دے گا، تب تک لوگ فرض شناسی کے بجائے قانون توڑنے میں فخر محسوس کرتے رہیں گے۔
دانیال خود تو کینیڈا آگیا تھا بلکہ بیوی بچے بھی اب کینیڈین شہری ہیں؛ پر وہ کیا کرے کہ اس کے اندر کہیں "اپںا مُلک" جا گزیں ہے؛ وہ اسے کیسے کھرچے گا؟ وہ دو انتہاوں کے درمیان پھنس گیا تھا اور مزید ستم یہ تھا کہ ان دو انتہاوں کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا تھا۔ اور جس کی آخیر یہ ہوسکتی ہے کہ اس کے بچے اس کی میت "اپنے مُلک" واپس لاکر دفنا دینگے۔