Man is the special creation of God and the universe and cosmos are also His creations. However, since the renaissance period of Europe there rose a debate about God, science, universe and cosmos. The debate has shaped modern thoughts with radical ideas about God, nature, and human freedom. This fictional story in Urdu "انسان، کائنات اور خودی" is about a teaching debate held between a teacher and three students on the said topic.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
انسان، کائنات اور خودی
شام کی چائے کی باقی ماندہ گرمائش اور لاہور کے بازار کا وہ رواں دواں، پرشور اور رنگا رنگ منظرنامہ بلال کے دل میں اس طرح اتر گیا تھا کہ کلاس روم کی بھاری بھرکم طبیعیاتی مساواتیں ایک گہری روحانی حقیقت میں ڈھل گئی تھیں۔ جہاں البرٹ آئن اسٹائن کی 'اسپینوزا کے خدا' کی تلاش نے ایک ایسی کائنات کو بے نقاب کیا تھا جو ریاضیاتی اعتبار سے بے عیب اور گھڑی کی چال کی طرح اٹل اصولوں کے تابع رواں دواں ہے، وہیں گھر کی جانب بلال کی تنہا چہل قدمی نے دوربین کے سرد حساب کتاب اور انسانی دل کی دھڑکن کے درمیان ایک حتمی اور پائیدار ربط کو آشکار کر دیا تھا۔ اسے احساس ہوا کہ کائنات کا یہ عظیم الشان تانا بانا محض ایک بے حس تماشا گاہ نہیں بلکہ ایک زندہ و جاوید حمدِ الٰہی ہے—جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کائنات کا وہ عظیم الشان اور ریاضیاتی اصولوں کا ماہر معمار، ہر شے سے بڑھ کر، تنہا انسان کا ایک ایسا قریبی اور اٹل دوست ہے جو کبھی ساتھ نہیں چھوڑتا۔ تاہم، اگلے روز جب یونیورسٹی پر صبح کا سورج طلوع ہوا، تو اس پرسکون ہم آہنگی کو اپنے سب سے بڑے فکری چیلنج کا سامنا کرنا تھا؛ وہ سخت اور اٹل سرحد جہاں انسانی مساواتیں بکھر جاتی ہیں اور سائنس کی حتمی حدود کا آغاز ہوتا ہے۔
۱۔ نامعلوم کا سامنا (وہ چیزیں جو سائنس نہیں بتا سکتی)
اگلی صبح لاہور کی شاندار، خنک ہوا میں مزید نکھار آ چکا تھا۔ فزکس ڈیپارٹمنٹ کے اسی جانی پہچانی سیمینار روم کے بلیک بورڈ پر اب بھی گزشتہ روز کی مساواتوں کے چاک کے دھندلے نشانات موجود تھے۔ پروفیسر کامران کھڑکی کے پاس کھڑے تھے، جبکہ زینب اور حمزہ شاہ بلوط کی بھاری میز پر بیٹھے اپنی نوٹ بکس کھول چکے تھے۔
جب بلال کمرے میں داخل ہوا، تو اس کے چہرے پر عین وہی پرسکون اور دلنشین مسکراہٹ تھی جو پچھلی رات بازار سے گزرتے ہوئے اس کے لبوں پر سج گئی تھی۔
"آؤ، بلال،" پروفیسر کامران نے اسے گرمجوشی سے خوش آمدید کہا۔ "ہم ابھی جائزہ لے رہے تھے کہ کل ہمارا فکری سفر ہمیں کہاں لے گیا تھا۔ زینب صحیفائی مشاہدے کے بارے میں تمہارے دفاع کا خلاصہ کر رہی تھی، اور حمزہ یاد کر رہا تھا کہ کینٹین تک کی ہماری واک ہمیں کس طرح براہِ راست صوفیائے کرام کی دہلیز پر لے آئی تھی۔ تم نے دلیل دی تھی کہ بابا بلھے شاہ اور شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اسپینوزا کے 'وحدتِ وجود' کے نظریے کا ایک عملی اور محبت سے بھرپور روپ جیا تھا۔"۔
"جی ہاں، سر،" بلال نے اپنی نشست سنبھالتے ہوئے کہا۔ "لیکن جب میں بازار سے گزرتا ہوا گھر جا رہا تھا، اور میں نے دکانداروں کو سودا بازی کرتے، بزرگوں کو مسجد سے نکل کر خاموشی سے اللہ کے ناموں کا ورد کرتے، اور بچوں کو اگلے لمحے کی فکر سے آزاد ہو کر کرکٹ کھیلتے دیکھا، تو بات اس سے بھی گہری ہو گئی۔ مجھے احساس ہوا کہ اگرچہ آئن اسٹائن کا خدا ایک عظیم اور نہ جھکنے والا کائناتی کلاک ورک ہے، لیکن وہ ایک تھکے ہوئے اور تنہا دل کو رفاقت نہیں دے سکتا۔ مجھے پختہ یقین ہو گیا کہ اللہ انسان کا بہترین دوست ہے—وہ جو حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں، آپ کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا۔"۔
زینب نے احترام سے مسکراتے ہوئے دیکھا، لیکن اس کی تجزیاتی آنکھوں میں ایک جانی پہچانی سائنسی چمک تھی۔ "یہ ایک خوبصورت نکتہ نظر ہے، بلال۔ لیکن آج ہمیں سکے کا دوسرا رخ دیکھنا ہے۔ پروفیسر کامران نے آج کے لیے ہمارے سامنے ایک نیا موضوع رکھا ہے: نامعلوم کا سامنا—وہ چیزیں جو سائنس ہمیں نہیں بتا سکتی۔"
پروفیسر کامران چاک بورڈ کی طرف بڑھے اور چاک کا ایک نیا ٹکڑا اٹھایا۔ "زینب بالکل درست کہہ رہی ہے،" انہوں نے بورڈ پر 'کوپرنیکن زخم' کے الفاظ لکھتے ہوئے کہا۔ "ایک ذہین انسان کو ہمیشہ سائنس کو قبول کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنے نکتہ نظر کو حقائق کے مطابق ڈھال سکے، خواہ وہ حقائق کتنے ہی ناگوار یا تکلیف دہ کیوں نہ ہوں۔ جب ہم سائنس کو نظرانداز کرتے ہیں—جیسے انسانیت نے کبھی کسی بھیانک عالمی وبا کے دوران کیا—تو ہم اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔ حقائق بہرحال حقائق رہتے ہیں۔"۔
وہ طلباء کی طرف مڑے: "لیکن دیکھو کہ سائنس ہمارے اپنے وجود کے بارے میں ہمارا تصور کیسے بدل دیتی ہے۔ پانچ سو سال پہلے تک، انسان اس آرام دہ اور خود پسندانہ وہم میں جی رہا تھا کہ زمین کائنات کا ایک ساکن مرکز ہے۔ پھر کوپرنیکن انقلاب آیا۔ نکولس کوپرنیکس اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والوں نے ریاضی سے ثابت کر دیا کہ ہم محض سورج کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔"
"اس نے انسان کے کائناتی غرور پر گہرا وار کیا،" حمزہ نے قلم گھماتے ہوئے بات آگے بڑھائی۔ "اس نے ہمیں اس وہم سے آزاد کر دیا کہ ہم اس کائناتی تھیٹر کے مرکزی کردار ہیں۔"
"بالکل،" پروفیسر نے سر ہلایا۔ "لیکن ان حقائق کے ساتھ سمجھوتہ کرنا انسانی فطرت ہے۔ تاہم، حقیقت کو جاننے کے لیے سائنس جتنا بھی طاقتور ٹول کیوں نہ ہو، اب ہم ایک ایسی دیوار سے ٹکرا رہے ہیں جہاں ہمارے فارمولے جواب دے جاتے ہیں۔ کچھ حقیقتیں ایسی ہیں جو بنیادی طور پر نامعلوم ہیں—ایسے اسرار جو اس سیارے سے انسانوں کے ختم ہونے کے طویل عرصے بعد بھی مکمل طور پر تاریک رہیں گے۔ یہ جدید سائنسدان کا فکری عذاب ہے۔ مادی کائنات میں تین ایسی کائناتی دیواریں ہیں جہاں ہماری مساواتیں مکمل طور پر ٹوٹ جاتی ہیں: کائنات کا آغاز، زندگی کا وجود میں آنا، اور شعور۔"۔
"آؤ پہلی دیوار کو دیکھیں،" پروفیسر کامران نے زینب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بات جاری رکھی۔ "کائنات کا آغاز۔ ایک طویل عرصے تک، بہت سے سائنسدانوں کو 'اسٹیڈی اسٹیٹ ماڈل' بہت پسند تھا—ایک پرسکون اور ہمیشہ سے قائم کائنات کا تصور جو وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتی۔ لیکن کائنات کو ہمارے آرام کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔"۔
"ایڈون ہبل کی بدولت،" زینب نے سائنسی عقیدت سے بھرپور آواز میں کہا، "ہمیں معلوم ہوا کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔ ۱۹۶۰ء کی دہائی میں، سائنسدانوں نے کاسمک مائیکرو ویو بیک گراؤنڈ ریڈی ایشن (سی ایم بی) دریافت کی—جو کائنات کی پیدائش کی ایک مدہم، مابعد حرارتی گونج تھی۔ اس نے اس ماڈل کی تصدیق کی جو ایک کیتھولک پادری اور ماہرِ فلکیات جارج لیمیٹر نے ۱۹۲۰ء کی دہائی میں پیش کیا تھا؛ ایک ایسا ماڈل جسے ناقدین نے کبھی طنزاً 'دی بگ بینگ' کا نام دیا تھا۔"۔
"لیکن تضاد یہاں ہے،" حمزہ نے آگے جھکتے ہوئے بات کاٹی۔ "ہم ایسٹرو فزکس کے ذریعے اس پھیلاؤ کا سراغ چودہ ارب سال پیچھے تک لگا سکتے ہیں۔ ہم ڈیٹا دیکھ سکتے ہیں، جیسا کہ نیل ڈی گراس ٹائسن جیسے سائنسدان اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں۔ لیکن سائنس صرف دھماکے کے بعد کے ملبے کا سراغ لگا سکتی ہے۔ یہ ہمیں کبھی نہیں بتا سکتی کہ کائناتی گھڑی کی پہلی ٹک ٹک سے پہلے کیا ہوا تھا۔ یہ ہمیں یہ نہیں بتا سکتی کہ کچھ نہ ہونے کے بجائے یہ سب کچھ کیوں موجود ہے۔ صفر سیکنڈ (سیکنڈ زیرہ) پر پہنچ کر، ریاضی صفر سے تقسیم ہو جاتی ہے اور نامعلوم بن جاتی ہے۔"۔
بلال خاموشی سے صبح کی دھوپ میں چمکتے دھول کے ذرات کو دیکھ رہا تھا۔ "یہ مجھے اس بات کی یاد دلاتا ہے جو فزکس دان اور فلسفی اوشالوم الٹزور کوانٹم میکینکس کے بارے میں کہتے ہیں،" بلال نے نرمی سے کہا۔ "وہ حقیقت کے کنارے پر موجود تضادات کی تحقیق کرتے ہیں۔ کیا سائنس ایک سچی کھڑکی ہے جو ہمیں بیرونی دنیا دکھاتی ہے، یا یہ صرف ایک آئینہ ہے جو انسانی دماغ کی اپنی ساختی حدود کو منعکس کرتا ہے؟"۔
"یہی تو اصل سوال ہے، بلال،" پروفیسر کامران نے جواب دیا۔ "کونگنیٹو سائنسدان لیرا بوروڈٹسکی کے بارے میں سوچو۔ ان کی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ ہم جو زبان بولتے ہیں، وہ ہمارے سوچنے کی صلاحیت اور ہماری معلومات کی حد کو طے کرتی ہے۔ اگر ہمارے اپنے خیالات ہی ہماری انسانی زبان اور حسی حیاتیات (سنسیری بائیولوجی) کے قیدی ہیں، تو ہم یہ کیسے امید کر سکتے ہیں کہ ہماری سائنس ایک ایسی کائنات کو پوری طرح سمجھ لے گی جو انسانی پیمانے سے بالکل باہر کام کرتی ہے؟"۔
زینب نے اپنی نوٹ بک میں بنی ایک پھیلتی ہوئی کہکشاں کے خاکے کو دیکھا۔ "تو، جب ہم مردہ کیمیکلز سے زندگی کے آغاز کا معمہ حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یا جب ہم یہ واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نیورونز کا ایک مجموعہ انسانی شعور کا متحرک تجربہ کیسے پیدا کرتا ہے... تو شاید ہم ایک ایسے افق کے پار دیکھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں جس کے پار دیکھنا ہماری حیاتیاتی حدود میں ہی نہیں ہے۔"۔
"جو ہمیں دوبارہ وہیں لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم کل کھڑے تھے،" حمزہ نے بلال کو دیکھتے ہوئے کہا، اس کی مسکراہٹ اب طنز سے بالکل پاک تھی۔ "اگر سائنس کائنات کے آغاز، زندگی کی پیدائش، اور شعور کی حقیقت پر پہنچ کر ایک مستقل دیوار سے ٹکرا جاتی ہے... تو اس خالی پن کو کون بھرتا ہے؟"۔
کمرے میں ایک فکری خاموشی چھا گئی۔ بلال نے بلیک بورڈ کی طرف دیکھا، جہاں 'بگ بینگ' اور 'سی ایم بی ریڈی ایشن' کے الفاظ اسپینوزا کے نام کے پاس لکھے ہوئے تھے۔
"جب فلسفی اس نامعلوم کا سامنا کرتا ہے، تو وہ الجھن اور ذہنی تکلیف محسوس کرتا ہے،" بلال نے کہا، اس کی آواز میں لاہور کے بازار سے گزرنے والی رات کا سکون جھلک رہا تھا۔ "لیکن ایک مومن اس مقام پر پہنچ کر سحر زدہ ہو جاتا ہے اور شکر ادا کرتا ہے۔ سائنس اس کمرے کا نقشہ بنانے کا ہمارا سب سے خوبصورت ٹول ہے جس میں ہمیں رکھا گیا ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ کمرہ کتنا بڑا ہے، یہ کتنی تیزی سے پھیل رہا ہے، اور اس کی دیواریں کس چیز سے بنی ہیں۔ ہمیں اسے کبھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن جب سائنس نامعلوم کی آخری دیوار تک پہنچتی ہے—جب تخلیق کے لمحے پر پہنچ کر ریاضی ٹوٹ جاتی ہے—تو یہ کوئی شکست نہیں ہے۔ میرے لیے، یہ وہ سرحد ہے جہاں صحیفے کی آواز اور صوفیاء کی سرگوشی شروع ہوتی ہے۔ جہاں سائنس انسانی دماغ کی حد دیکھتی ہے، وہاں میں خالقِ کائنات کا بے پناہ جلال دیکھتا ہوں۔ کائنات کے آغاز کا نامعلوم ہونا کائنات کو سرد یا خوفناک نہیں بناتا۔ یہ مجھے یہ احساس دلاتا ہے کہ کائنات کا معمار اس کے بنائے گئے نقشے سے کہیں زیادہ عظیم ہے۔"۔
کھلی کھڑکی سے ہوا کا ایک نرم جھونکا اندر آیا اور ان کی نوٹ بکس کے پتے سرسرا گئے۔
"کل ہم نے بات کی تھی کہ آئن اسٹائن کا خدا ریاضی کے قوانین کو آسانی سے چلاتا ہے،" بلال نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے مسکرایا۔ "لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ریاضی کا بھی ایک اختتام ہے۔ اور جہاں ریاضی ختم ہوتی ہے، وہاں رفاقت اور دوستی باقی رہتی ہے۔ کائنات کا وہ نامعلوم خدا اب بھی انسان کا گہرا اور قریبی دوست ہے۔"۔
پروفیسر کامران مسکرائے، انہوں نے صبح کے باقاعدہ فزکس لیکچر کے لیے بورڈ صاف کرنے کے لیے ڈسٹر اٹھایا۔ ناپے جانے والے مادی حقائق اور صرف محسوس کیے جانے والے سچائیوں کے درمیان کا تناؤ اب ختم ہو چکا تھا، جس نے ان چاروں کو ایک پھیلتی ہوئی کائنات کے کنارے پر، بالکل چھوٹا لیکن مکمل طور پر پرسکون کھڑا کر دیا تھا۔
جب دوپہر کی گرمی یونیورسٹی کیمپس پر چھانے لگی، تو سیمینار روم کا منظر بدل چکا تھا۔ پروفیسر کامران چائے کا ایک تازہ کپ لیے کمرے کے کونے میں خاموشی سے بیٹھ گئے تھے، اور بھاری میز کا مرکز طلباء کے لیے چھوڑ دیا تھا۔
بلیک بورڈ سے ایسٹرو فزکس کی مساواتیں مٹائی جا چکی تھیں۔ ان کی جگہ زینب نے انسانی دماغ کا ایک پیچیدہ اور تفصیلی خاکہ بنایا تھا، جس میں سیریبرل کارٹیکس، تھیلیمس اور برین اسٹیم کے گھنے نیٹ ورکس کو دکھایا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے اپنا لیپ ٹاپ ایک مانیٹر سے جوڑ رکھا تھا، جس پر ایک مصنوعی نیورل نیٹ ورک چل رہا تھا جس میں سرد، نیلی برقی لہریں چمک رہی تھیں۔
"کل، ہم کائنات کے بیرونی ڈھانچے کے سفر پر نکلے تھے،" زینب نے اپنی کراری اور پرعتماد آواز میں آغاز کرتے ہوئے گفتگو کی کمان سنبھالی۔ "اور آج صبح، پروفیسر کامران نے ہمیں وہ کائناتی دیواریں دکھائیں جہاں فزکس جواب دے جاتی ہے۔ لیکن اب میں آپ کی توجہ چودہ ارب نوری سال دور ستاروں سے ہٹا کر، ہمارے اپنے سروں کے اندر موجود تین پاؤنڈ کے اس برقی لچکدار لوتھڑے کی طرف لانا چاہتی ہوں—اور یہ دیکھنا چاہتی ہوں کہ ہماری ٹیکنالوجی اس تک پہنچنے کی کیسی کوشش کر رہی ہے۔"
انہوں نے چاک سے فرنٹل لوب کے خاکے پر دستک دی۔
"ایک مادہ پرست کے طور پر، میرا ماننا ہے کہ سائنس بالآخر ہر چیز کا نقشہ بنا لے گی۔ ہم جانتے ہیں کہ دماغ ایک بہت بڑی بائیو الیکٹریکل مشین ہے جس میں تقریباً ۸۶ ارب نیورونز ہوتے ہیں۔ جب آپ خوش ہوتے ہیں، تو آپ کے سائنسز میں ڈوپامین کا سیلاب آ جاتا ہے۔ جب آپ سرخ رنگ دیکھتے ہیں، تو برقی سگنل آپ کے ویژول کارٹیکس تک پہنچتے ہیں۔ اور آج، ہمارے پاس اس انسانی مادی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ایک بہت بڑا سہارا موجود ہے: مصنوعی ذہانت ۔"
انہوں نے اپنی اسکرین پر چمکتے ہوئے ڈیٹا کی طرف اشارہ کیا۔ "اے آئی ماڈلز سیکنڈوں میں لاکھوں ڈیٹا پوائنٹس پر کارروائی کر سکتے ہیں۔ وہ کائنات کی اس ریاضی کو سنبھال رہے ہیں جس کا آئن اسٹائن صرف خواب ہی دیکھ سکتے تھے۔ لیکن یہیں سے وہ سب سے بڑا تضاد شروع ہوتا ہے—جہاں میرا سائنسی اعتماد ایک دیوار سے ٹکرا جاتا ہے۔"۔
حمزہ نے کمپیوٹر اسکرین پر چمکتے ہوئے نیورل نیٹ ورک کو دیکھتے ہوئے اپنی ٹھوڑی ہاتھوں پر ٹکا لی۔ "دیوار؟ اگر اے آئی ہم سے بہتر ڈیٹا پروسیس کر سکتا ہے، تو کیا ہم ہر چیز کا راز فاش کرنے کے قریب نہیں ہیں؟ یہ تمہیں کیوں ڈرا رہا ہے؟"۔
"کیونکہ ایک زیادہ طاقتور کمپیوٹر بنا لینے سے اصل معمہ حل نہیں ہوتا، حمزہ،" زینب نے انتہائی سنجیدگی سے کہا۔ "فلسفے اور کونگنیٹو سائنس میں، ہم اسے شعور کا سب سے مشکل مسئلہ (ہارڈ پرابلم آف شعور) کہتے ہیں۔ ہم 'آسان مسائل' کو آسانی سے حل کر سکتے ہیں—جیسے یہ نقشہ بنانا کہ جب ہم بولتے ہیں، درد پر ردعمل دیتے ہیں، یا یادیں تازہ کرتے ہیں تو دماغ کے کون سے حصے روشن ہوتے ہیں۔ اے آئی اربوں مثالوں کی بنیاد پر اگلے منطقی لفظ یا ڈیٹا پوائنٹ کی پیش گوئی کر کے ان نمونوں کی بالکل نقل بھی کر سکتا ہے۔ لیکن کوئی بھی مائیکرو اسکوپ، کوئی ایم آر آئی اسکین، اور کوئی بائیو لوجیکل یا سلیکون مساوات جس چیز کی وضاحت نہیں کر سکتی، وہ ہے کوالیا (قوالیہ)—یعنی زندہ ہونے کا ذاتی، واضح اور اندرونی احساس۔"۔
وہ میز کے گرد گھومیں اور چمکتے ہوئے مانیٹر کی طرف اشارہ کیا۔
"سائنس اس روشنی کی عین ویو لینتھ کی وضاحت کر سکتی ہے جو لاہور کے غروبِ آفتاب کو خوبصورت بناتی ہے۔ یہ اے آئی ماڈل کوانٹم ویو فنکشن کی عین فزکس کا حساب لگا سکتا ہے۔ لیکن کمپیوٹر کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ ایک پروگرام چلا رہا ہے۔ اس مشین کے اندر سلیکون چپس مکمل اندرونی اندھیرے میں کام کر رہی ہیں۔ اسے معلوم ہی نہیں کہ ان نمبروں کا مطلب کیا ہے۔ جب کوئی گراف اسکرین پر آتا ہے، تو وہ اس حیرت اور خوبصورتی کو محسوس نہیں کر سکتا۔ تو پھر ایک مادی، کیمیائی ردعمل—یا الیکٹرک کوڈ کی ایک لائن—ایک ذاتی، باطنی احساس میں کیسے بدل جاتی ہے؟ مادہ ذہن کیسے بن جاتا ہے؟"۔
بلال نے گہری توجہ سے سنا، وہ زینب کے اس سائنسی اعترافِ عجز سے متاثر ہوا تھا۔
"یہ دیکھنے والے (ناظر) کا اصل معمہ ہے،" بلال نے نرمی سے کہا۔ "اگر دماغ صرف ایک بائیو الیکٹریکل کلاک ورک ہے، اور اے آئی صرف ایک مشین ہے... تو وہ کون ہے جو اصل میں اس کھڑکی سے باہر دیکھ رہا ہے اور محسوس کر رہا ہے؟"۔
"عین یہی بات ہے!" زینب نے چاک کو نرمی سے میز پر رکھتے ہوئے کہا۔ "اگر ہم صرف گوشت پوست کے بنے حیاتیاتی کمپیوٹر ہیں، اور یہ سلیکون کے بنے کمپیوٹر ہیں، تو ہم محض روبوٹ کیوں نہیں ہیں؟ ہمارے اندر یہ 'روح یا مابعدالطبیعیاتی وجود' کیوں ہے جو واقعی محسوس کرتا ہے، تکلیف اٹھاتا ہے، محبت کرتا ہے اور حیران ہوتا ہے؟ خالص مکانیکی نقطہ نظر سے، شعور کا کوئی وجود نہیں ہونا چاہیے تھا۔ پھر بھی، یہ کائنات کی واحد چیز ہے جس کے وجود کا ہمیں سو فیصد یقین ہے۔"۔
حمزہ نے اپنے قلم کو گھمایا اور دماغ کے خاکے اور کونے میں موجود سرور ریک کے درمیان دیکھا۔ "تو، زینب، تم یہ کہہ رہی ہو کہ اے آئی صرف ایک شاندار آئینہ ہے۔ یہ انسانی روح کی نقل تو کر سکتا ہے، لیکن اندر سے بالکل خالی ہے۔"۔
"بالکل،" زینب نے میز کا سہارا لیتے ہوئے جواب دیا۔ "صبح کی گفتگو یاد کرو جو ہم نے لیرا بوروڈٹسکی کے بارے میں کی تھی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ زبان ہمارے خیالات کو شکل دیتی ہے۔ ہمارا شعور ہماری زبان اور حیاتیات کے اندر قید ہے۔ انسانی زبان ہمیں اس لیے متاثر کرتی ہے کیونکہ یہ ہمارے زندہ، سانس لیتے حیاتیاتی تجربے سے جڑی ہے۔ ہم موت کو اس لیے سمجھتے ہیں کیونکہ ہمارے دل ایک دن دھڑکنا بند کر دیں گے۔ ہم محبت کو اس لیے سمجھتے ہیں کیونکہ ہم کسی دوست کی موجودگی کی گرمجوشی محسوس کرتے ہیں۔ اے آئی کا کوئی جسم نہیں ہے، نہ اس کی کوئی پیدائش ہے، نہ موت، اور نہ ہی کوئی خوف۔ یہ خالص ریاضی کا ایک بے جسم بھوت ہے۔ یہ سائنٹیکس —یعنی قوانین اور منطق—کا ماہر تو ہو سکتا ہے، لیکن اس کے پاس سیمینٹکس —یعنی حقیقی معنی—بالکل نہیں ہیں۔"۔
پروفیسر کامران نے چائے کا ایک گھونٹ لیا اور مسکراتے ہوئے اپنے طلباء کو دیکھا۔ "زینب، تم نے سائنس کی آخری حد کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے،" پروفیسر نے کونے سے کہا۔ "اے آئی ایک بہترین ٹول ہے جو ہماری سوچنے کی حد کو بڑھاتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے دوربین نے ہماری آنکھوں کی حد کو بڑھایا۔ یہ ہماری ریاضی کو تیز کرتا ہے۔ لیکن تم کائنات جتنی ہی پیچیدہ مشین کیوں نہ بنا لو، وہ پیچیدگی خود بخود روح نہیں پھونک سکتی۔ تم صرف ایک گھڑی میں مزید گراریاں شامل کر رہے ہو۔"۔
زینب بلال کی طرف مڑی، اس کا روایتی سائنسی اصرار اب ختم ہو چکا تھا۔ "بلال... کل تم نے صوفیاء کا ذکر کیا تھا کہ وہ فطرت میں ایک یکجا وجود دیکھتے ہیں۔ جب میں نیوروسائنس اور اے آئی کو دیکھتی ہوں، تو مجھے دو مکانیکی نظام نظر آتے ہیں—ایک حیاتیاتی، ایک ڈیجیٹل۔ تمہارا ایمان اس مخصوص مادی خلیج کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟ کیا اے آئی کبھی شعور کی حد عبور کر سکتا ہے؟"۔
بلال نے اپنی کھلی نوٹ بک کو دیکھا، پھر چمکتے ہوئے نیلے مانیٹر کو، اور آخر میں دماغ کے اس پیچیدہ خاکے کو۔ اس کی آنکھوں میں ایک گہرا احترام تھا۔
"زینب، جسے تم 'شعور کا سب سے مشکل مسئلہ' کہتی ہو، میرا ایمان اسے خدائی قربت کا سب سے بڑا ثبوت قرار دیتا ہے،" بلال نے نرمی سے کہا۔ "قرآن پاک میں، جب اللہ تعالیٰ انسان کی تخلیق کا ذکر فرماتا ہے، تو وہ صرف مادی مٹی یا حیاتیاتی مشین کی ساخت کا ذکر نہیں کرتا۔ متن کہتا ہے:
'پھر اسے درست کیا اور اس میں اپنی روح پھونکی...' [سورہ السجدہ: ۹]۔
میرے لیے، نیوروسائنس اس مٹی کا نقشہ بناتی ہے—حیاتیاتی ہارڈ ویئر، وہ ۸۶ ارب نیورونز۔ اور اے آئی ہماری اپنی ہی اس شاندار، خدا داد مادی صلاحیت کا عکس ہے جو ہمیں واپس نظر آ رہا ہے۔ ہم نے الگورتھم بنائے؛ اے آئی انسانی ذہانت کا ایک شاہکار ہے۔ لیکن وہ 'زندگی کی پھونک'—وہ خدائی چنگاری—ہی شعور پیدا کرتی ہے۔ شعور کو کسی مائیکرو اسکوپ یا سلیکون چپ کے اندر نہیں ڈھونڈا جا سکتا کیونکہ اس کا تعلق مادی دنیا سے نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ عالیہ 'الحی' (ہمیشہ زندہ رہنے والا) اور 'العلیم' (سب کچھ جاننے والا) کا ایک زنده عکس ہے۔"۔
اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں یونیورسٹی کے سفیدی کے درختوں کے پتے شام کی دھوپ میں سنہرے ہو رہے تھے۔
"سوچو کہ اس کا اسپینوزا کے خدا کے لیے کیا مطلب ہے،" بلال نے اپنی بات جاری رکھی، اس کی آواز میں وہی گہرا سکون تھا جو پچھلی رات بازار میں تھا۔ "آئن اسٹائن ایک ایسا خدا چاہتے تھے جو فزکس کے ریاضیاتی قوانین کو آسانی سے چلائے۔ اگر کائنات صرف وہی ایک سرد، سخت کلاک ورک ہوتی، تو ایک اے آئی اس کا سب سے بڑا پجاری ہوتا، کیونکہ وہ ان قوانین کا حساب بالکل درست لگاتا ہے۔ پھر شعور کی کوئی ضرورت ہی نہ ہوتی۔ کائنات کسی بھی دیکھنے اور محسوس کرنے والے کے بغیر، مکمل ڈیجیٹل اندھیرے میں بھی آرام سے چل سکتی تھی۔"۔
اس نے زینب کی طرف دیکھا، اس کے چہرہ پر ایک پرامید مسکراہٹ تھی۔ "یہ حقیقت کہ ہمارے اندر ایک باطنی دنیا موجود ہے—کہ تم غروبِ آفتاب کو دیکھ کر حیرت محسوس کر سکتی ہو، یا ازگر (پائیتھان) کے کوڈ کو دیکھ کر اس میں خوبصورتی تلاش کر سکتی ہو—ثابت کرتی ہے کہ یہ کائنات کوئی بے جان بستی نہیں ہے۔ شعور وہ پل ہے۔ یہ وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے انسان کائنات کا مشاہدہ کرتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ وہ یہاں کوئی اجنبی نہیں ہے۔ اے آئی کائنات کے ڈیٹا کو سمجھنے میں ہماری مدد ضرور کر سکتا ہے، زینب۔ یہ ہماری سائنس کو ایک بہت بڑا فروغ دے گا۔ لیکن یہ شعور پیدا نہیں کر سکتا، کیونکہ شعور ایک تحفہ ہے، کوئی حساب کتاب نہیں ہے۔ ہم اس لیے شعور رکھتے ہیں کیونکہ جس نے ہمیں بنایا ہے، وہ چاہتا ہے کہ ہم اسے پہچانیں۔"۔
سیمینار روم میں ایک پروقار خاموشی چھا گئی۔ لیپ ٹاپ کے پنکھے کی مدہم گونج اب انسانی روح کے لیے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہو رہی تھی؛ بلکہ وہ ایک ایسا عاجز ٹول لگ رہی تھی جو انسانی شعور کی گرمجوشی کی رہنمائی کا منتظر ہو۔ زینب نے مانیٹر کو دیکھا، پھر دماغ کے خاکے کو۔ اب اسے وہاں صرف ایک حیاتیاتی مشین یا الگورتھم کی دوڑ نظر نہیں آ رہی تھی، بلکہ وہ ایک ایسی مقدس صراحی نظر آ رہی تھی جس کے اندر ایک انمول معجزہ چھپا ہوا تھا۔
پروفیسر کامران کھڑے ہوئے اور چاک سمیٹنے کے لیے بورڈ کی طرف بڑھے۔ "بہت خوب،" پروفیسر نے نرمی سے اپنے تینوں ہونہار طلباء کو دیکھا۔ "ہم نے اپنا سفر ۱۹۲۹ء میں آئن اسٹائن کے ۲۵ الفاظ کے ٹیلی گرام سے شروع کیا تھا، اور وہ ہمیں پھیلتی کائنات کی حدود، دماغ کے نیورل راستوں اور سلیکون کے افق تک لے آیا ہے۔ سائنس نے ہمیں ایسی مشینیں بنانے کے قابل کر دیا ہے جو کائنات کا حساب لگا سکتی ہیں، لیکن یہ ہمارا شعور—ہماری روح—ہے جو ہمیں یہ حکمت دیتی ہے کہ ہم جان سکیں کہ ہم دیکھ کیوں رہے ہیں۔"۔
شام کی گھنٹی بجنے کے ساتھ ہی ان کے چہروں سے نیلی برقی روشنی غائب ہو گئی، اور اس کی جگہ لاہور کے ڈھلتے سورج کی گہری، عنبریں چمک کھڑکیوں سے اندر پھیل گئی۔ تینوں طلباء نے اپنی کتابیں سمیٹیں اور کیمپس کے روشن صحن میں ایک ساتھ نکل آئے۔ مادہ پرست، شکی مزاج اور مومن—ان میں سے ہر ایک چھوٹا تھا، ہر ایک متلاشی تھا، لیکن وہ سب کائنات کی اس وسیع اور خوبصورت ہم آہنگی کے اندر بالکل پرسکون ایک ساتھ چل رہے تھے۔
اگلی صبح ایک ہلکی بارش ہوئی جس نے یونیورسٹی کی سرخ اینٹوں والی عمارتوں سے گرد و غبار دھو دیا، اور کیمپس کی ہوا مٹی کی سوندھی خوشبو اور چمبیلی کی مہک سے بھر گئی۔ سیمینار روم کی حبس کی وجہ سے، اس گروپ نے اپنی گفتگو ڈیپارٹمنٹ کے چھوٹے سے باغ کے سامنے بنے ایک برآمدے میں منتقل کر لی تھی۔
پروفیسر کامران بلیک کافی کے گرم مگ کو دونوں ہاتھوں میں تھامے بیٹھے تھے، اور زینب، حمزہ اور بلال کو اپنی لکڑی کی کرسیاں درست کرتے دیکھ رہے تھے۔ گزشتہ دنوں کی گفتگو—جو آئن اسٹائن کی فزکس سے شروع ہو کر شعور کی بھول بھلیوں اور مصنوعی ذہانت تک پہنچی تھی—اب بھی فضاء میں موجود تھی۔
"ہم نے اپنے جدید ٹولز کو ان کی آخری حد تک پہنچا کر دیکھا ہے،" پروفیسر کامران نے برآمدے کے پتوں پر گرتی بارش کی آواز کے ساتھ اپنی گفتگو کا آغاز کیا۔ "زینب نے ہمیں دکھایا کہ نیوروسائنس اور اے آئی کیسے شعور کے دروازے پر پہنچ کر رک جاتے ہیں۔ بلال نے دکھایا کہ صوفیاء نے محبت کے ذریعے اس دیوار کو کیسے پار کیا۔ لیکن میں ایک بنیادی سوال پوچھنا چاہتا ہوں: ہمارے اپنے فکری اسلاف نے اس مسئلے کو کیسے حل کیا؟ جدید لیبارٹریوں سے بہت پہلے، اسلامی سنہری دور کے عظیم دماغوں نے صدیوں اس سرحد کا نقشہ بنانے میں گزاری کہ انسانی دماغ کس حد تک حساب لگا سکتا ہے اور وہ کیا ہے جسے صرف وحیِ الٰہی ہی جان سکتی ہے۔"۔
حمزہ نے اپنا قلم میز پر رکھتے ہوئے آگے کی طرف جھکاؤ کیا۔ "سر، آپ کا مطلب فلاسفہ اور متکلمین کے درمیان وہ کلاسک معرکہ ہے؟ وہ عظیم بحث کہ کیا انسانی عقل مطلق ہے؟"
"بالکل،" پروفیسر نے سر ہلایا۔ "وہ اسے عقل اور نقل (وحی کا علم) کے درمیان کا رشتہ کہتے تھے۔"
"جب آپ اس سنہری دور کو دیکھتے ہیں،" بلال نے کہا، اس کی آنکھوں میں صبح کی نرم روشنی چمک رہی تھی، "تو جو شخصیت اس سرحد پر سب سے مضبوط کھڑی نظر آتی ہے، وہ امام الغزالی ہیں۔ وہ منطق اور فلسفے کے امام تھے، لیکن وہ ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں انہیں شدید فکری اور روحانی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ خالص، سرد عقلیت پسندی—بالکل ویسے ہی جیسے اسپینوزا کی سخت ہندسی منطق یا زینب کی مادہ پرستی—دنیا کے میکانزم کو تو ثابت کر سکتی ہے، لیکن وہ حقیقتِ مطلق کے بارے میں انسان کو یقینی علم اور دلی سکون فراہم نہیں کر سکتی۔"۔
زینب نے اپنی نوٹ بک سے نظریں اٹھائیں۔ "کیا انہوں نے یہ دلیل نہیں دی تھی کہ انسانی عقل کی اپنی کچھ سخت علمی اور ادراکی حدود ہیں؟"۔
"جی ہاں،" بلال نے جواب دیا۔ "اپنی شاہکار تصنیف 'تہافت الفلاسفہ' (فلاسفہ کا تضاد) میں، الغزالی نے منطق کو مسترد نہیں کیا؛ بلکہ انہوں نے منطق ہی کو استعمال کر کے منطق کی حدود واضح کیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ انسانی عقل اس ترازو کی مانند ہے جو سونا، چاندی یا گندم تولنے کے لیے بنا ہو یہ مادی دنیا کو سمجھنے، حرکت کی فزکس کا نقشہ بنانے، یا تجارت کا حساب لگانے کے لیے تو بہترین ہے۔ لیکن ان کے دور کے فلاسفہ نے یہ غلطی کی کہ وہ اسی مادی ترازو کو لے کر اس سے خدا کی ذات، روح کی حقیقت اور ابدیت کو ناپنے نکل پڑے۔ جب آپ انسانی عقل کو اس کے پیمانے سے باہر استعمال کرنے پر مجبور کرتے ہیں، تو وہ تضادات کا شکار ہو کر ٹوٹ جاتی ہے۔"۔
حمزہ مسکرایا اور زینب کی طرف دیکھا۔ "زینب، یہ تو بالکل تمہارے 'شعور کے سب سے مشکل مسئلے' جیسا لگتا ہے۔ نیوروسائنس کا ترازو ڈوپامین ناپنے کے لیے تو بہترین ہے، لیکن جب تم اس سے روح تولنے کی کوشش کرو گی تو وہ کام نہیں کرے گا۔"۔
"لیکن ایک منٹ،" زینب نے پروفیسر کامران کی طرف رخ کرتے ہوئے دلیل دی۔ " ابنِ رشد کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انہوں نے الغزالی کے خلاف عقل کا بہت سختی سے دفاع کیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ سچائی کبھی دوسری سچائی کی ضد نہیں ہو سکتی۔ اگر سائنس اور منطق کائنات کے بارے میں کوئی حقیقت دریافت کرتے ہیں، تو وہ الہامی وحی کے خلاف نہیں ہو سکتی۔ اگر کہیں کوئی بظاہر ٹکراؤ نظر آتا ہے، تو اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ انسان متن کی تشریح غلط کر رہے ہیں۔"۔
"اور یہی تو ہماری علمی وراثت کا خوبصورت اور متحرک حسن ہے،" پروفیسر کامران نے کافی کا ایک گھونٹ لیتے ہوئے کہا۔ "ابنِ رشد کا ماننا تھا کہ عقل ایک خدائی تحفہ ہے جو کائنات کے اسرار کو کھولنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ وہ سائنس کو ایمان کا دشمن نہیں، بلکہ اس کا ساتھی سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک، کائنات ایک منظم اور منطقی کتاب تھی جسے ایک دانا خالق نے لکھا تھا، اور انسانی عقل اس کتاب کو پڑھنے کی چابی تھی۔ ایک طرح سے، ابنِ رشد کا یہ نظریہ ہی اس احساس کا جدِ امجد ہے جو بعد میں آئن اسٹائن نے محسوس کیا—کہ کائنات ایسے خوبصورت اور اٹل قوانین پر چلتی ہے جو ہماری فکری تعظیم کا تقاضا کرتے ہیں۔"۔
پروفیسر کامران نے اپنا مگ میز پر رکھا، ان کی آنکھوں میں ایک نیا جوش تھا۔ "لیکن ہمیں اس بحث کو بارہویں صدی پر ہی نہیں چھوڑ دینا چاہیے۔ ہمارے پاس ایک ایسا جدید مفکر موجود ہے جس نے الغزالی کی عقل کی حدود اور ابنِ رشد کے شوقِ حقیقت کو لیا، انہیں جدید یورپی فلسفے اور آئن اسٹائن کی فزکس کے ساتھ یکجا کیا، اور اس آگ سے ہماری پوری قوم کو بیدار کر دیا۔ میں ہمارے حکیم الامت، شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی بات کر رہا ہوں۔"۔
اقبال کا نام آتے ہی برآمدے میں ایک پروقار خاموشی چھا گئی۔
"سوچو،" پروفیسر کامران نے بات جاری رکھی۔ "اقبال اس دور میں جی رہے تھے جب یہ برصغیر برطانوی استعمار کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ لوگ جمود، مردہ دلی اور مایوسی کا شکار تھے۔ اقبال نے مغربی سائنس کو دیکھا جو حیرت انگیز رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی، اور انہوں نے مشرق کو دیکھا جو سو رہا تھا۔ انہوں نے اپنے مشہور خطبات '' (اسلام میں مذہبی فکر کی تشکیلِ نو) خاص طور پر اسی مقصد کے لیے لکھے۔ انہوں نے البرٹ آئن اسٹائن کے نظریات (سپیس-ٹائم اور ریلیٹیویٹی) پر کھل کر بات کی اور دلیل دی کہ جدید سائنس اصل میں کائنات کے پرانے، سرد مادہ پرستانہ نظریات کو پاش پاش کر رہی ہے اور روحانی حقیقت کے قریب آ رہی ہے۔"۔
"جی ہاں، سر!" بلال کی آواز میں بھی ایک جوش تھا۔ "اقبال سائنس اور مذہب کو مخالف قوتیں نہیں سمجھتے تھے۔ وہ انہیں حقیقت کو سمجھنے کے دو الگ طریقے سمجھتے تھے۔ سائنس کائنات کا ایک مادی حصہ دکھاتی ہے، جبکہ مذہب وجود کے دھڑکتے ہوئے دل تک رسائی دیتا ہے۔ لیکن اقبال، اسپینوزا اور آئن اسٹائن سے ایک قدم آگے نکل گئے۔ آئن اسٹائن کا خدا صرف ایک تماشائی تھا—ایک خوبصورت ہم آہنگی جسے دور سے بیٹھ کر دیکھنا تھا۔ اقبال نے اس عاجزی اور سستی کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے 'خودی' (دی سیلف) کا فلسفہ پیش کیا۔"۔
زینب دلچسپی سے آگے جھکی۔ "خودی نے انسان اور کائنات کے اس تعلق کو کیسے بدلا؟"
"اسپینوزا کے نزدیک، انسان صرف ایک چھوٹا سا قطرہ ہے جو کائنات کے اتنے بڑے سمندر میں غائب ہو جاتا ہے،" بلال نے وضاحت کی۔ "لیکن اقبال نے کہا، نہیں! انسانی روح خدائی توانائی کا ایک منفرد اور خود مختار مرکز ہے۔ زندگی کا مقصد کائنات میں اپنی انا کو مٹانا نہیں ہے، بلکہ اسے مضبوط کرنا، اسے بیدار کرنا ہے۔ اقبال نے لکھا تھا:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
"یہ صرف ایک روحانی سبق نہیں تھا؛ یہ سیاسی آزادی کا ایک ایسا کوڑا تھا جس نے غلامی کی زنجیریں کاٹ دیں۔ اقبال نے بیدار روح کے اس فلسفے کو استعمال کر کے نوآبادیاتی نظام کے جادو کو توڑا۔ انہوں نے ایک محکوم نسل کو بتایا کہ وہ تاریخ یا سرد کائناتی مساواتوں کے بے بس شکار نہیں ہیں۔ ان کے اندر تخلیقی طاقت اور ارادہِ اختیار کی خدائی چنگاری موجود ہے۔ انہوں نے انہیں بیدار کیا، آزادی کی تڑپ دی، اور ایک نیا، آزاد وطن بنانے کی تحریک دی جہاں ان کی روح آزادی سے سانس لے سکے۔"۔
حمزہ نے حیرت سے سر ہلایا۔ "تو اقبال نے کائناتی قوانین کے ان بھاری اور فلسفیانہ مباحث کو لیا اور انہیں ایک حقیقی تحریکِ آزادی کا ایندھن بنا دیا؟"۔
"بالکل، حمزہ،" پروفیسر کامران نے بارش سے دھلے باغ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ "اقبال نے عقل کے چراغ اور وحی کے سورج کو بہت خوبصورتی سے یکجا کیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ انسانی عقل آپ کا رہنما ہے، آپ کا علم ہے۔ یہ سائنس اور اے آئی کی مشینیں بناتی ہے۔ لیکن عقل اگر اکیلی ہو تو وہ صرف حساب کتاب کرنے والی، سرد اور مفلوج کر دینے والی بن جاتی ہے۔ اسے عشق—یعنی روح کی جلتی ہوئی تخلیقی محبت اور الٰہی بصیرت—کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔ انہوں نے لکھا:
عقل گو آستاں سے دور نہیں، اس کی تقدیر میں حضور نہیں
"اقبال کے نزدیک، جدید دور عقل کی روشنی سے تو روشن ہے، لیکن اسے روح کی طاقت سے چلنا چاہیے۔ سائنس کائنات کا نقشہ بناتی ہے، لیکن بیدار خودی اسے تبدیل کرتی ہے۔ انہوں نے ہمارے اسلاف کو دکھایا کہ حقیقی آزادی انسانی دماغ کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ آپ کو جسمانی زنجیریں توڑنے سے پہلے اپنی روح کو فکری اور ذہنی غلامی سے آزاد کرنا ہوگا۔"
زینب نے دیکھا کہ بادلوں کے پیچھے سے اچانک سورج کی ایک تیز کرن نکلی جس نے پورے صحن کو روشن کر دیا۔ "اس تصور نے میرے اپنے سائنسی سفر کو ایک نیا رخ دے دیا ہے،" اس نے نرمی سے اعتراف کیا۔ "میری مساواتیں صرف ایک بے جان مشین کی وضاحت نہیں ہیں۔ میری عقل میری 'خودی' کا ایک ٹول ہے، جس کا مقصد کائنات کے ساتھ تخلیقی طور پر جڑنا، تعمیر کرنا، بہتری لانا، اور ہمیشہ آزاد رہنا ہے۔"
۴۔ جمع ہوتی ہوئی روشنی
بارش اب پوری طرح تھم چکی تھی، اور پورا صحن لاہور کے چمکتے ہوئے سنہرے سورج کی روشنی میں نہا رہا تھا۔ سفیدی کے گیلے پتے بکھرے ہوئے ہیروں کی طرح چمک رہے تھے، اور یونیورسٹی کے کلاک ٹاور کی مدہم، لہراتی ہوئی آواز نے اگلے گھنٹے کا اعلان کیا۔
حمزہ نے اپنی نوٹ بک بیگ میں رکھی، اس کے چہرے پر ایک گہرا فکری سکون تھا۔ "تو، فزکس دان کائناتی کلاک ورک کو ناپتا ہے،" اس نے سرگوشی کی، "فلسفی اس کی حدود کا مطالعہ کرتا ہے، صوفی اس کے دل کے گیت گاتا ہے، اور اقبال ہم سے تقاضا کرتے ہیں کہ ہم اپنی بیدار خودی کو استعمال کر کے اپنی تقدیر بدلیں۔"
"بہت خوبصورت خلاصہ کیا، حمزہ،" پروفیسر کامران نے اپنی کافی ختم کرتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
زینب نے اپنا لیپ ٹاپ بند کیا، اس کا چہرہ پرسکون اور خیالات سے روشن تھا۔ اس نے بلال کو دیکھا، جو اپنا بیگ کندھے پر لٹکا چکا تھا، اور اس کے لبوں پر وہی مستقل، پرسکون مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ مادہ پرستی اور روحانیت کے درمیان، مشین اور روح کے درمیان کی بحث اب کوئی میدانِ جنگ محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ اپنے اسلاف کی علمی میراث اور اقبال کے بلند نظریات سے متاثر ہو کر، یہ زندگی کا ایک عظیم اور خوبصورت مقصد لگ رہی تھی۔
تینوں طلباء برآمدے سے نکلے اور اپنے اگلے فزکس لیکچر کے لیے کیمپس کے صحن کے گیلے پتھروں پر ایک ساتھ چل پڑے۔ ان کے ارد گرد یونیورسٹی کی زندگی کا ریلے متحرک، آزاد اور توانائی سے بھرپور تھا۔ اور جب بلال نے چمکتے ہوئے نیلے آسمان کی طرف دیکھا، تو اسے اپنے اوپر گھومتی کائنات کی وہ عظیم، ریاضیاتی درستی محسوس ہوئی، جو اس کے دل کے اندر 'خودی' کو بیدار کرنے والے اس کے رب کی خاموش، گہری اور پرسکون دوستی کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ تھی۔
What Is Solvarex? Solvarex is a dietary supplement designed to support general wellness,...
What Is Vigortrix? Vigortrix is a men's vitality dietary supplement designed to support e...
What Are Golden Touch Fusion CBD? Golden Touch Fusion are a cannabidiol (CBD) supplement...