Angela Morgan (c. 1875 – January 24, 1957) was an American poet, an author and a journalist too. She employed traditional poetic forms and structures, but infused them with a directness and emotional intensity that resonated with a wide audience. This write up انجیلا مورگن کی نظم "جنگ کے باوجود" اور کیا جنگ ہونا ضروری ہے؟ in Urdu takes up her famous poem "In Spite of War" which carries message of hope and resilience on the face of conflict and adversity.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
انجیلا مورگن کی نظم "جنگ کے باوجود" اور کیا جنگ ہونا ضروری ہے؟
انجیلا مورگن ( 1875 - جنوری 24، 1957) ایک امریکی شاعرہ تھیں۔ پیدائش کے وقت انکو نینا للیان کا نام دیا گیا تھا، جسے بعد میں خود شاعرہ نے بدل کر انجیلا رکھ لیا۔ وہ نہ صرف شاعرہ تھیں بلکہ مصنفہ اور صحافی بھی تھیں۔ مورگن کی نظموں میں اکثر جرات مندانہ اعلانات اور عمل کی نصیحتیں ہوتی ہیں، جو پُر امیدی اور ترقی کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں؛ جو اس وقت کے امریکہ میں ترقی پسند دور کی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے روایتی شاعرانہ استعاروں اور شعری ڈھانچے کو بروئے کار لایا ہے؛ جو اس وقت ایک براہ راست اور جذباتی شدت کا مظاہرہ بن گیا جس سے ایک وسیع سامعین کا حلقہ متاثر ہوا اور پسند کرنے والوں میں خوب گونجتا تھا۔
مشہور نظم "ان سپائٹ آف وار" یا "جنگ کے باوجود" انجیلا مورگن کی نظم ہے جو تنازعات اور مشکلات کے ماحول میں امید اور لچک کا پیغام دیتی ہے۔ نظم میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جنگ کی موجودگی کے باوجود محبت، خوبصورتی اور انسانی روح میں برداشت کا مادہ پھل پھول سکتا ہے۔ "جنگ کے باوجود" نظم کے موضوع کی وضاحت اس طرح کی جا سکتی ہے کہ زندگی خوفناک واقعات کے وقوع پذر ہونے کے باوجود چلتی رہتی ہے اور یہ آخری سانس کے ختم ہونے تک چلتی رہتی ہے۔ نظم جنگ کے افراتفری کے درمیان برقرار رہنے والی فطری کائناتی عملیات اور انسانوں کی زندہ روی اور توڑ دینے والے دباو سے واپسی کی لچک کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ بالآخربہتری کی امید کا پیغام دیتا ہے اور مشکل وقت میں بھی زندگی کی قدر کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
مصنف کے دیگر کاموں کے مقابلے میں، یہ نظم بہتر خود شناسی کی پیغام دیتی ہے؛ اور ان ذاتی موضوعات سے الگ ہے جنہیں شاعرہ عام طور پر استعمال کرتی رہی تھیں۔ یہ اس دور کے ہنگامہ خیز وقت کی مدت کا گواہ بھی ہے؛ یہ نظم پہلی جنگ عظیم کے دوران وسیع پیمانے پر پھیلی مایوسی اور امن کی خواہش کی عکاسی کرتی ہے۔ جنگ کے موضوع پر شاعری ضروری نہیں کہ 'جنگ مخالف' ہی ہو۔ تاہم یہ نظم زندگی کے بہت بڑے سوالات کے بارے میں ہے؛ جیسا کہ شناخت، معصومیت، جرم، وفاداری، ہمت، ہمدردی، انسانیت، فرض، خواہش اور موت۔
انجیلا مورگن کی نظم "جنگ کے باوجود" مشکلات کے باوجود؛ شخصیات میں خوبصورتی تلاش کرنے کی حوصلہ افزائی کے لیے استعمال کرنا سکھاتی ہے۔ اس میں ایبا [ اے بی بی اے ] شاعری کی اسکیم ہے اور یہ نظم بیان کرتی ہے کہ جنگ کے باوجود فطرت کس طرح زندہ رو ہوتی ہے اور پھلتی پھولتی رہتی ہے؛ اور اس نظم میں پھولوں اور قدرتی عناصر کو انسان نما کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ پیغام اس طرح اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جنگ کے باوجود، موت کے باوجود، انسان کے تمام دکھوں کے باوجود، ہمارے اندر کچھ جزبہ ایسا ہونا چاہیے کہ انسان ہنسے اور گائے۔ اور ہمیں اپنی آخری سانس تک اس تعریف کے ساتھ بسر کرنی چاہئے۔ قدرت کی خوبصورتی اور لچک ہمیں بتاتی ہے کہ جنگ کے باوجود؛ نفرت کے باوجود؛ پھول دروازے پر کھلتے رہتے ہیں۔؛ اور ٹیولپس راستے میں بچھ جاتے ہیں۔
نظم "جنگ کے باوجود" یہ بتاتی ہے کہ اگرچہ جنگ، موت، درد، نفرت، غصہ، مایوسی، بندوقیں عروج پر ہیں، توپیں چل رہی ہیں اور ڈراؤنے خواب حقیقت بن رہے ہیں، لیکن شاعرہ امید اور خوشی کی پیغامبر بن جاتی ہے، اور وہ کہہ رہی ہے ہمیں اپنی پوری طاقت سے ان چیزوں کی تعریف کرنی چاہیے؛ جو ہمیں زندگی کی امید دیتے ہیں؛ اور خوش رہنے کا راستہ بتاتی ہیں۔ کیونکہ چاہے کیسی ہی تباہی کیوں نہ مچی ہو؛ تب بھی بادل سمندر سے ٹکرا رہے ہوتے ہیں، اور چمکتی لہریں پکارتی ہیں۔ اس فانی دنیا میں بھلا وہ سب کچھ کیسے حقیقی ہوسکتا ہے جو منصفانہ نہ ہو۔ کیا ضروری ہے ہر شے اور ہر جگہ ایک شدید مایوسی پھیل جائے؟ ٹھیک ہے کہ بندوقیں گرج رہی ہوںگی؛ اور توپیں چل رہی ہوں؛ مگر فطرت تو زندہ ہوتی ہے؛ جس میں گلاب پیدا ہوتے رہتے ہیں اور باغات کھلتے رہتے ہیں۔ میری روح اب بھی اسی جگہ مشعل کو جلائے گی جہاں سے پوست آتے ہیں اور جہاں صبح گاہی کی سفیدی کے عالم میں قربان گاہ پر للی / چنبیلی/ سوسن اپنے چاندی کے بھنور اٹھا سکتی ہیں؛ ہاں جنگ کے باوجود، شرم کے باوجود بھی زندگی موجود رہتی ہے۔ اور میرے کان میں ایک سرگوشی ہوتی ہے؛ "ڈراؤنے خواب سے بیدار ہو جاؤ! دیکھو اور سمجھو کہ زندگی خوشی کے سوا کچھ نہیں ہے؛ جنگ کے باوجود، موت کے باوجود!" زندہ رہنا ہوتا ہے۔
شاعرہ کا پیغام ہے کہ ہمیں اپنی پوری قوت کے ساتھ ان چیزوں کی تعریف کرنی چاہیے جو؛ جنگ، موت، مصائب، نفرت، غصہ، مایوسی، بندوقوں کے شور اور توپوں کے گھن گرج کی موجودگی کے باوجود؛ ہمیں زندگی کی امید پیش کرتے ہیں۔ ہمیں کھلی ہوئی گل بہار / نرگس خوش کرتی ہیں؛ پگ ڈنڈیوں کے کنارے ٹیولپس / گل لالہ کھلے ہوئے ہوں؛ صبح کی عظمت بہادروں کو متاثر کرتی ہے، اور گل داؤدی ہمیں خوش ہونے کی ترغیب دیتی ہے؛ کیونکہ خدا نے ہمیں یہ زندگی عطا کی ہے۔ جب شاعرہ پھولوں کی بہار کے نظارے سے متاثر ہوتی ہے تو اسے زندگی ناقابل یقین حد تک خوبصورت اور پر امید معلوم ہوجاتی ہے۔
شاعرہ کو سمندر کی موجیں اور تیرتے بادل اپنی تاریک حالت چھوڑنے کے لیے اکساتے ہیں کیونکہ جہاں انسانوں کی پھیلائی اداسی ہے وہاں فطرتی رونق بھی ہے۔ جنگ اور موت ناگزیر ہیں؛ لیکن گلاب بھی تو کھلتے رہتے ہیں۔ اداسی ہوگی لیکن خوشی بھی تو ہوگی۔ شاعرہ کی روح اسی چنگاری کو ہوا دینا چاہتی ہے جس کے کارن پوست پر شگوفے پھوٹتے ہیں۔ جنگ اور موت کے باوجود قربان گاہ ان قربانیوں کے سبب سے چمکے گی۔ تنازعات اور موت کی مایوسی کے باوجود، شاعرہ کا دعویٰ ہے کہ
ایک موہوم سی امید بھی اسے اپنے ڈراؤنے خوابوں اور مایوسی کی حالت سے دوبارہ جی اٹھنے کی ترغیب دیتی ہے۔
جنگیں ہوتی رہتی ہیں اور نظم "جنگ کے باوجود" مظلوم لوگوں کو ایک مختلف اور امید بھرا پیغام فراہم کرتی ہے جو جنگ کی ہولناکیوں کے درمیان زندگی کی لچک کو جنم دیتی ہے۔ مصائب اور تباہی کے باوجود، انسان فطرت میں خوشی اور خوبصورتی پائے گا۔ جو خوشگوار اور نتیجہ خیز رہتا ہے۔ نظم سادہ زبان اور تال کی تکرار میں پیش کی گئی ہے۔ نظم قارئین اور سامعین کوعزم اور امید کا احساس دلاتی ہے۔ نظم کا امید اور لچک کا پیغام جنگ اور تنازعات کے تناظر میں خاص طور پر پُر اثر ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انتہائی اندھیرے میں بھی خوبصورتی، خوشی اور زندگی غالب آ سکتی ہے۔ اب نظم پڑھتے ہیں۔
جنگ کے باوجود، موت کے باوجود؛
انسان کی تمام تر تکالیف کے باوجود؛
میرے اندر کچھ ہنستا اور گاتا ہے؛
اور مجھے اپنی پوری سانس کے ساتھ تعریف کرنی چاہئے۔
جنگ کے باوجود، نفرت کے باوجود؛
میرے دروازے پر گلِ یاس کھل رہے ہیں؛
ٹیولپس / گل لالہ راستوں پر بچھی جا رہی ہیں۔
جنگ کے باوجود، غضب کے باوجود۔
ہمت پکڑو!" صبحِ پر ںور کی صدا ہے"؛
خوشیاں مناو!" گل داؤدی کی بڑبڑاہٹ ہے"؛
اور صرف زندگی ہی خدائی نعمت لگتی ہے؛
جب پھول بنفشہ میری آنکھوں میں اترتے ہیں۔
بادل سمندر سے الجھ رہے ہیں؛
اور اچھلتی کودتی لہریں مجھےپکارتی ہیں؛
وہ معدوم ہوا، اک حقیقت ہے؛ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ؛
کہ ہر جگہ اور ہر امکاں میں؛
ایک عظمت مایوسی سے ابھرتی ہے۔
گرچہ بندوقیں گرج سکتی ہیں اور توپیں چل سکتی ہیں، مگر؛
گلاب پیدا ہورہے ہیں اور باغات سجے ہوئے ہیں۔
میری روح اب بھی اک شعلے کو بھڑکا سکتی ہے؛
اسی مشعل پر جہاں سے پوست آئے تھے۔
جہاں قربان گاہ میں صبح کی سفیدی بھڑک اٹھتی ہے؛
کنول اپنے چاندی کے بھنور اٹھا سکتے ہیں۔
جنگ کے باوجود، شرم کے باوجود۔
اور میرے کان میں مدھم سی سرگوشی ہوتی ہے؛
ڈراؤنے خواب سے بیدار ہو جاؤ! سمجھو اور دیکھو
کہ زندگی نشاط کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔
جنگ کے باوجود، موت کے باوجود!۔
پیارے قارئین! جنگ عوامل کے پیچیدہ تعامل کی وجہ سے ہوتی ہے، جس میں وسائل اور علاقے کا مقابلہ، مذہبی اور نظریاتی اختلافات، سیاسی محرکات اور تاریخی شکایات شامل ہیں۔ بعض اوقات، قومیں جنگ میں اس لیے ملوث ہوتی ہیں کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ ممکنہ فوائد جنگی لاگت سے کہیں زیادہ ہیں، یا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا باہمی متفقہ حل نہیں ہے۔ مزید برآں، لیڈروں کے غیر حقیقی مفادات، مخالف کے عزم کے بارے میں غیر یقینی مفروضات، اور غلط فہمیاں تنازعات میں حصہ ڈالتی ہیں۔
زیادہ تر جنگیں دشمن کو شکست دینے اور فاتح کی شرائط پر مؤثر طریقے سے امن مسلط کرنے کی نیت سے لڑی جاتی ہیں۔ جنگ کا ایک جواز بھی گھڑا جانا چاہیے؛ مثلاً حملے کے خلاف یا اپنے دفاع کے لیے؛ مگر دولت یا طاقت حاصل کرنے کے لیے نہیں۔ جنگ کا اعلان اور کنٹرول ایک مناسب اتھارٹی کے ذریعے کیا جانا چاہیے، مثلاً ریاست یا حکمران۔ جنگ کو اچھائی کو فروغ دینے یا برائی سے بچنے کے لیے لڑنا چاہیے، جس کا مقصد جنگ ختم ہونے کے بعد امن اور انصاف کی بحالی ہے۔ درحقیقت جنگ سفارت کاری یا مکالمے کی ناکامی ہے اور یہ اجتماعی انسانی ذہانت کی تنگی کو ظاہر کرتی ہے۔
ابھی کل ہی مئی ۲۰۲۵ کے موجودہ مہینے کے دوران؛ دو ممالک یعنی بھارت اور پاکستان نے آنکھ میں آنکھ ڈال کر پنجہ آزمائی کی ہے؛ اور اپنے حربی پٹھوں کو تیل پلایا ہے۔ اس وقت ہمارے دل، ہماری دنیا کے بہت سے لوگوں جیسے کہ غزہ فلسطین اور جموں و کشمیر کے رہنے والے انسانوں کے لیے تکلیف محسوس کرتے ہیں؛ جن کے پاس لطف اندوز ہونے کے لیے؛ زندگی کی حرارت کو ممحسوس کرنے کے لیے کوئی رونق والی رمق موجود نہیں ہے - وہ لوگ جو محصور ہیں، تکلیف میں ہیں، بھوکے ہیں اور غیر انسانی جارحیت کا شکار ہیں۔
یہ پیغام کہ " اپنے آپ کو پہچانو، اپنے دشمن کو پہچانو"؛ ہزار لڑائیاں اور ہزار فتوحات سے بہتر ہے۔ جنگ اس بات کا تعین نہیں کرتی کہ کون صحیح ہے بلکہ صرف اس بات کا تعین کرتی ہیں کہ کون باقی بچ گیا ہے۔ انسان کے شکار جیسا کوئی شکار نہیں ہے اور جن مسلح آدمیوں نے کافی عرصہ تک انسان کا شکار کیا اور اسے پسند کیا، اس کے بعد کبھی کسی اور چیز کی پرواہ نہیں کرتے۔ بہت زیادہ نقصان دہ امن بھی؛ انتہائی منصفانہ جنگ سے کہیں بہتر ہے۔ جنگ کبھی بھی اچھا اور امن بُرا نہیں ہوسکتا ہے۔ امن و سکون سے رہنا بہت بہتر عمل ہے۔ عجب بات ہے کہ مردوں کو لڑائی کی طرف لے جانا اور ان کو جذباتی کرکے اکسانا زیادہ آسان ہے بمقابلہ اس کے کہ ان کو تشدد سے روکا جائے اور امن کے صبر آزما مرحلوں کی مزدوری کرائی جائے۔
عزیزانِ گرامی؛ جنگ کسی بھی طور پر ایک مناسب قدم نہیں اور جنگ کا ہوجانا انسانی ذہانت اور فطانت کی ناکامی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ انجیلا مورگن کی نظم "جنگ کے باوجود"؛ جنگ ہوجانے کے بعد امید کی پیغام ہے اور یہ احساس اجاگر کرتی ہے انسانوں کو اپنے معاملات کو بہ احسنِ خوبی سلجھانا چاہیے؛ لیکن اگر قسمت کی خرابی کے باعث جنگ میں گھر ہی جائیں تو زندہ روی کی رمق کبھی مت چھوڑیں اور قدرت کی فطرت کو عطا بےبہا خوبصورتیوں سے سبق سیکھیں اور خوشی و نشاط کے دئیے روشن رکھیں۔ ذیل میں اسی موضوع سے جڑی کچھ نظمیں پیش کی جاتی ہیں۔
سابق بھارتی وزیر اعظم جناب اٹل بہاری واجپائی کی نظم "جنگ نہ ہونے دیں گے" پیشِ خدمت ہے۔
ہم جنگ نہ ہونے دیں
وشو شانتی کے ہم سادھک ہیں جنگ نہ ہونے دیں گے
کبھی نہ کھیتوں میں پھر خونی کھاد پھلے گی
کھلیانوں میں نہیں موت کی فصل کھلے گی
آسمان پھر کبھی نہ انگارے اگلے گا
ایٹم سے ناگا ساکی پھر نہیں جلے گا
یدھ وہین وشو کا سپنا بھنگ نہ ہونے دیں گے
جنگ نہ ہونے دیں گے
ہتھیاروں کے ڈھیروں پر جن کا ہے ڈیرا
منہ میں شانتی بغل میں بم دھوکے کا پھیرا
کفن بیچنے والوں سے کہہ دو چلا کر
دنیا جان گئی ہے ان کا اصلی چہرہ
کامیاب ہو ان کی چالیں ڈھنگ نہ ہونے دیں گے
جنگ نہ ہونے دیں گے
ہمیں چاہیے شانتی زندگی ہم کو پیاری
ہمیں چاہیے شانتی سرجن کی ہے تیاری
ہم نے چھیڑی جنگ بھوک سے بیماری سے
آگے آ کر ہاتھ بٹائے دنیا ساری
ہری بھری دھرتی کو خونی رنگ نہ لینے دیں گے
جنگ نہ ہونے دیں گے
بھارت پاکستان پڑوسی ساتھ ساتھ رہنا ہے
پیار کریں یا وار کریں دونوں کو ہی سہنا ہے
تین بار لڑ چکے لڑائی کتنا مہنگا سودا
روسی بم ہو یا امریکی خون ایک بہنا ہے
جو ہم پر گزری بچوں کے سنگ نہ ہونے دیں گے
جنگ نہ ہونے دیں گے
خدا کے واسطے نفرت کا کھیل ختم کرو
یہ دشمنی یہ عداوت کا کھیل بند کرو
کہ ہوگی جنگ سے دونوں طرف ہی بربادی
مریں گے لوگ یقیناً مٹے گی آبادی
لہو بہے گا جلیں گے مکان لوگو کے
تباہ ہوں گے بس اس سے جہان لوگو کے
زمیں پھٹے گی تو پھر آسمان ٹوٹے گا
یہ ساری دنیا کا ماحول چیخ اٹھے گا
لگے گا داغ پھر انسانیت کے دامن پر
گریں گے بم کے یہ گولے کسی کے آنگن پر
یہ جنگ وقت کی تہذیب کو کچل دے گی
یہ جنگ امن کے پھولوں کو بھی مسل دے گی
کی اس سے امن کی تہذیب کی تباہی ہے
یہ کیسا ظلم ہے یہ کس کی بد نگاہی ہے
نہ ہوگا جنگ سے تم کو کبھی بھی کچھ حاصل
پنپ نہ پائے گا صدیوں تلک یہ مستقبل
یہ جنگ کچھ نہیں دے گی تباہیوں کے سوا
نتیجہ کچھ بھی نہ ہوگا برائیوں کے سوا
چھوڑو بھی یہ جنگ کی باتیں
خون خرابے کی یہ گھاتیں
جنگ کی بھڑکی آگ بجھاؤ
امن کی ٹھنڈی چھاؤں میں آؤ
بچے اور بچوں کی مائیں
امن کی رکھتی ہیں آشائیں
جنگ کی بھڑکی آگ بجھاؤ
امن کی ٹھنڈی چھاؤں میں آؤ
ننھے منے پیارے بچے
کہتے ہیں یہ سارے بچے
جنگ کی بھڑکی آگ بجھاؤ
امن کی ٹھنڈی چھاؤں میں آؤ