Muhammad Asif Raza 11 months ago
Muhammad Asif Raza #education

"ان فلینڈرز فیلڈز / فلینڈرز کے میدانوں میں

Lieutenant Colonel John McCrae (1872–1918) was a Canadian physician, poet, and soldier. He penned perhaps his most memorable and lasting poem, “In Flanders Fields”. The “In Flanders Fields” is now a symbol of remembrance for fallen soldiers worldwide. This write up "ان فلینڈرز فیلڈز / فلینڈرز کے میدانوں میں" has been arranged for educational purposes.

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

 

لیفٹیننٹ کرنل جان میک کری کی نظم "ان فلینڈرز فیلڈز / فلینڈرز کے میدانوں میں"۔

 

بیلجیم کے شمال میں ایک ڈچ بولنے والا "فلیمش"علاقہ (فلینڈرس)؛ بیلجیئم کے 3 علاقوں میں سے ایک ہے۔

لیفٹیننٹ کرنل جان میک کری (1872–1918) کینیڈا کا ایک طبیب، شاعر، اور سپاہی تھا جو پہلی جنگ عظیم میں لڑا اور مر گیا۔ اس نے شاید اپنی سب سے یادگار اور دیرپا نظم "ان فلینڈرز فیلڈز / فلینڈرز کے میدانوں میں" لکھی جو 1915 میں بیلجیئم کے یپریس کی دوسری جنگ میں ایک کامریڈ / ساتھی کی موت کے فوراً بعد لکھی۔ جب 1914 میں جنگ شروع ہوئی تو وہ کینیڈا جا رہا تھا، اور لینڈنگ کے فوراً بعد وہ ویل کارٹیئر کے تربیتی کیمپ میں داخل ہوا اور اسے کیپٹن بنا دیا گیا۔ بعد میں اس نے میک گل ہسپتال کور میں شمولیت اختیار کی اور اس کے ساتھ فرانس چلا گیا، جہاں وہ لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز ہوا، اور 28 جنوری 1918 کو سروس میں ہی انتقال کر گیا۔

 

نظم "ان فلینڈرز فیلڈز/ فلینڈرز کے میدانوں میں" جان میک کری نے 3 مئی 1915 کو اپنے دوست لیفٹیننٹ الیکسس ہیلمر کی موت کے بعد لکھی تھی۔ (کچھ کہتے ہیں کہ وہ 19ویں بٹالین، پہلی بریگیڈ، کینیڈین انفنٹری کے سارجنٹ چارلس ای بسیٹ تھے) ۔۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران لکھی گئی نظم، جس میں مارے جانے والے فوجیوں کی قبروں پر اگنے والے پوست کی فصل کو مرکزی تصویر کے طور پر استعمال کیا گیا ہے، جنگ کی سب سے مشہور اور پائیدار نظموں میں سے ایک بن گئی۔ یہ "پوست کی فصل...قبروں کے کراس" کی تصویر کی وجہ سے ہے کہ یہ پھول پہلی جنگ عظیم کے دوران مرنے والے مردوں اور عورتوں کی یاد کا پھول بن گیا ہے۔ اب یہ دنیا بھر میں جنگ میں مارے جانے والے فوجیوں کی یاد کی علامت ہے۔

سنہ 1915 کے موسم بہار کے اوائل میں فلینڈرز بیلجیم کے محاذ پر، جب جنگ خندق کی لڑائی تک جا پہنچی، تو اس میدان کی دو سب سے نمایاں خصوصیات یہ تھیں، پہلی، مارے جانے والے سپاہیوں کی قبروں کے درمیان سرخ پوست کی پرتعیش نشوونما، اور دوسری یہ کہ پرندوں کی صرف ایک نسل میدان میں رہ گئی تھی؛ "لارک" ایک چھوٹا، براؤن پنکھوں والا پرندہ؛ جو خوش الحانی سے گاتا ہے۔ اور جیسے ہی لڑائی کے دوران وقفہ ہوتا تو وہ میدان میں اترتے اور ہوا میں بلند ہوتے ہوئے گانا گاتے تھے۔"

 

راوی کہتا ہے کہ فلینڈرز کے میدانوں میں پوست کی فصل قبر پرکراس کی قطاروں کے درمیان قطاروں میں اُگی ہوتی تھیں؛ جو دفن شدہ فوجیوں کی قبروں کو نشان زدہ کر رہی تھیں۔ قاری کو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ میدان بہت وسیع تھے شاید؛ اور قبروں کے نشان زدہ صلیبوں سے ڈھکا بھرا ہوا تھا؛ اور اسے صرف جنگ میں مارے جانے والے مردوں کی یادگار کے طور پر رکھا گیا تھا۔ ان کے اوپر آسمان میں لارک آڑتے ہوئے بہادری سے گانا گا رہے ہوتے تھے؛ جبکہ نیچے زمین پربندوق گولی برسا رہی ہوتی تھی۔

دوسرا بند مردوں کو اس طرح بیان کرتا ہے جیسے وہ پہلے تھے۔ وہ ایسے ہی رہتے تھے جیسے قاری اب کرتا ہے، سورج کو محسوس کرتا ہے، اور پیار یا محبت کیا جاتا ہے۔ شاعر؛ قارئین اور جنگ میں مارے گئے لوگوں کے درمیان ہمدردی پیدا کرنے کی امید کر رہا ہے۔ وہ قارئین کے ذہن میں ایک مضبوط امیج پیدا کرنے کی امید کرتا ہے کہ وہ لوگ کیسے تھے۔ حالانکہ اب وہ سب گزر چکے ہیں۔ وہ اب "فلینڈرز کے کھیتوں میں" دفن ہوئے پڑے ہیں۔

آخری بند ہتھیاربند ہونےکی پکار ہے۔ شاعر قاری سے براہ راست بات کر رہا ہے اور انہیں بتا رہا ہے کہ اب ان کی باری ہے لڑنےکی؛ اور ان حریف قوتوں کے خلاف کھڑے ہونے کی؛ جو انہیں تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ انہیں مُردوں کے "ناکام ہاتھوں" سے مشعل لے کر ان کے لیے زندہ رہنا چاہیے؛ کہ حریت کی شمع کبھی نہیں بجھنی چاہیے۔

نظم کا اختتام اس سبق کے ساتھ ہوتا ہے کہ جب تک کسی کی جنگ دوسرے لڑتے رہیں گے؛ وہ جنگ کبھی ختم نہیں ہوتی اور انسان آرام نہیں کرسکتے؛ چاہے وہ پوست کی فصلوں کے درمیان ہی کیوں نہ لیٹے ہوں۔

نظم "فلینڈرز فیلڈز میں/ فلینڈرز کے میدانوں میں"۔

فلینڈرز کے میدانوں میں پوست کی فصل جلوہ دکھاتی ہیں؛

اور ان کے درمیان ابھرے صلیب، قطار در قطار؛

یہ ہمارے مقام کو نشان زد کرتا ہے؛ اور آسمان میں؛

لارک پرندے پرواز کرتے ہیں، اب بھی بہادری سے گانا گاتے ہوئے؛

نیچے بندوقوں کے شور کے درمیان بہت کم سنائی دیں۔

 

آج ہم مردہ ہیں؛

مگر کچھ دن قبل؛

ہم بھی زندہ تھے، فجر کے ساتھ سانس لی تھی، غروب آفتاب کی آخری چمک بھی دیکھی؛

چاہا اور چاہے گئے تھے؛ مگر اب ہم لیٹے ہوئے ہیں؛

فلینڈرز کے کھیتوں میں۔

 

اپنے دشمن کے ساتھ ہم نے جنگ مول لی؛

انکے ناکام ہاتھوں سے لیکر ہم آپ کو جانب اچھالتے ہیں۔

مشعل کو؛ کہ اسے اب آپ نے بلند رکھنا ہے؛

اگر تم اسی ایمان کے حامل ہو؛ جو ہمارا اور مرنے والوں کا ہے۔

ہم نہیں سوئیں گے، اگرچہ پوست اگتے رہیں گے؛

اور صلیب کی قطاریں بنتی رہیں گی]؛]

فلینڈرز کے میدانوں میں۔

0
199

Best Chemistry Tuition

Best Chemistry Tuition

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocK7or_G87XYbOcCBPIzAbzE2NCQ5r5Q77EhObW1o5Vhl1dJqQ=s96-c
Twig
40 minutes ago
Can Acne Treatment Help Reduce Skin Inflammation?

Can Acne Treatment Help Reduce Skin Inflammation?

defaultuser.png
mona
1 hour ago

How Does an Online Remote Proctored Exam Work? A Step-by-Step Guide

Learn how an online remote proctored exam works with this easy step-by-step guide. Underst...

defaultuser.png
Liamtek
1 hour ago
"We Squandered the Inheritance We Received From Our Ancestors"

"We Squandered the Inheritance We Received From Our Ancestors"

1714584133.jpg
Muhammad Asif Raza
2 hours ago
Best Family Restaurants in Dubai: Top Dining Spots for Every Occasion

Best Family Restaurants in Dubai: Top Dining Spots for Every Occasion

defaultuser.png
nitinsingh37750
3 hours ago