Muhammad Asif Raza 2 months ago
Muhammad Asif Raza #global

امریکہ اسرائیل ایران جنگ؛ عریاں منافقت

US-Israel-Iran War 2026 has changed many paradigms of war and battle fields, observed and followed since WW-1. The mighty lone super power US and its client state Israel were superior in force and egos; however, Iran loaded with civilizational and religious ethos chose to adopt different techniques and methods, to change the history of war. This write up in Urdu "امریکہ اسرائیل ایران جنگ؛ عریاں منافقت" is an opinion arranged with the help of info available on free webnet.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


امریکہ اسرائیل ایران جنگ؛ عریاں منافقت


آج کی دنیا کی امیر ترین و طاقتور ترین امریکی فوج نے ناقابلِ تسخیر اسرائیلی فوج کے ساتھ مل کر اسلامی جمھوریہ ایران پہ 28 فروری 2026 کو حملہ کیا۔ اس مشترکہ فوجی کارروائی کا نام اسرائیل میں "آپریشن روئرنگ لائن" اور امریکہ میں "آپریشن ایپک فیوری" رکھا گیا تھا۔ پہلے 12 گھنٹوں کے دوران تقریباً 900 فضائی حملے کیے گئے، جن میں ایران کے میزائل پروگرام، فضائی دفاعی نظام، اور عسکری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ ان حملوں کے دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی دیگر اعلیٰ عہدے دار کو قتل کیا گیا۔

اس دن 28 فروری 2026ء کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی فورسز کی مشترکہ فضائی کارروائی (آپریشن ایپک فیوری) کے آغاز میں ہی صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب میں واقع لڑکیوں کے ایک پرائمری اسکول "شجرہ طیبہ" پر ہولناک میزائل حملہ ہوا تھا۔ اسکول کے اوقات (صبح) کے دوران اسکول پر تین میزائل داغے گئے، جس کے نتیجے میں 168 سے 180 افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت کمسن طالبات اور ان کی استانیوں کی تھی۔

امریکی عسکری حکام کے ابتدائی جائزوں اور میڈیا رپورٹس (جیسے برٹانیکا اور نیویارک ٹائمز) کے مطابق، یہ حملہ اسکول کے بالکل قریب واقع ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے نیول بیس کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا، تاہم نشانہ چوکنے یا پرانی انٹیلیجنس رپورٹ پر عمل کرنے کی وجہ سے میزائل اسکول پر جا گرے۔

🔷 یہ اس جنگ میں منافقت کا اولین بدنما چہرہ تھا۔ یہ جنگی جرائم کا بدترین عمل تھا، جسے پوری دنیا نظرانداز کررہی ہے۔ یہ پائیدار امن میں ایک رکاوٹ بنے گی۔


اس کارروائی کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ یہ خطے میں سب کے سب مسلمان ملک ہیں اور ان ملکوں نے اسلحہ خریدنے کے لیے بےشمار دولت خرچ کی تھی۔ اور اس کی ضرورت کا جواز اسرائیل کو قرار دیا تھا۔ جب ایران نے حملہ کیا تو وہ اسلحہ اسرائیل کی حفاظت میں استعمال ہوا۔

🔷 یہ اس جنگ میں منافقت کا دوسرا بڑا بدنما چہرہ بے نقاب ہوا ہے۔ یہ علاقائی اعتماد اور پائیدار امن کے لیے رکاوٹ ہے۔


امریکہ اور ایران کے درمیان 40 دنوں کی شدید جنگ کے بعد 8 اپریل 2026ء کو عارضی سیز فائر (جنگ بندی) کا فیصلہ چند انتہائی اہم سٹراتیجک، معاشی اور سفارتی وجوہات کی بنا پر کیا گیا تھا۔ جنگ کے دوران ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بلاک کر دیا تھا، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل رکنے سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں اور دنیا بھر کی مارکیٹیں شدید معاشی بحران کا شکار ہونے لگیں، جس نے امریکہ کو عارضی طور پر پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔

امریکہ اپنا بحری بیڑے کے ساتھ حملہ آور ہوا تھا اور ایران نے اپنے جغرافیہ کی مدد سے دفاع کیا اور آبنائے ہرمز کو مقدس بنا لیا۔ آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی میں رکاوٹ اور عالمی معیشت پر دباؤ کی وجہ ایران نہیں ہے؛ بلکہ امریکہ، اسرائیل اور نیٹو ہے۔ ایران نے اپنے قیمتی خون سے آبنائے ہرمز کو مقدس بنایا ہے اور اب کسی کو اس مقدس جگہ کا استعال کرنا ہے تو جنگ کا معاوضہ ادا کرے یا ٹول دے۔ وگرنہ برداشت کرے۔

🔷 یہ اس جنگ میں منافقت کا تیسرا بڑا بدنما چہرہ بے نقاب ہوا ہے۔دنیا کو تیل مہنگا لگتا ہے؛ ایران کی قیادت اور معصوم بچوں کا خون سستا لگتا ہے۔


اسلامی جمھوریہ ایران سنہ 1979 کے آیت اللہ خمینی کے انقلاب کے بعد سے امریکہ کی قیادت میں سخت معاشی دباؤ، تجارتی پابندیوں اور سیاسی تنہائی کا شکار چلا آ رہا ہے۔ پوری دنیا کو باور کرایا گیا کہ یہ مسلم بنیاد پرست غیر ترقی پسند ملاوں کی حکومت ہے؛ جنہوں نے زبردستی حکومت پر قبضہ کررکھا ہے۔ لیکن ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں لاکھوں لوگوں کی شرکت نے ایرانی نظام اور عوام کے گہرے تعلق کو دنیا کے سامنے ظاہر کیا۔

🔷 یہ اس جنگ میں منافقت کا چوتھا بڑا بدنما چہرہ بے نقاب ہوا ہے۔ یہ کسی روشن آزاد خیال حکمران یا پہلوی بادشاہت کی واپسی کے خواب کا چکنا چورہونا ہے۔


اپریل 2026ء کے اوائل میں ایک عارضی اور مشروط سیز فائر کا اعلان کیا گیا تھا، اس جنگ بندی میں پاکستان اور چین نے کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا تھا؛ تاہم خطے میں وقفے وقفے سے جھڑپیں اور کشیدگی جاری رہی اور فریقین کی طرف سے اس کی مسلسل خلاف ورزیاں کی جاتی رہیں اور بالآخر جولائی 2026ء میں آبنائے ہرمز میں نئے تنازعات کے بعد یہ سیز فائر باقاعدہ طور پر ختم ہو گیا۔ موجودہ حالات کے مطابق، جولائی 2026ء میں سیز فائر ٹوٹنے اور دوبارہ شدید جنگ شروع ہونے کے بعد اب ایک پائیدار جنگ بندی کا انحصار چند اہم سفارتی اور سٹراتیجک شرائط پر ہوگا۔ بڑی طاقتور قومیں چین یا روس اور علاقائی ملک اومان یا پاکستان جیسے ثالث کی نگرانی میں ایک ایسا متبادل بحری روٹ اور سیکورٹی پلان وضع کرنا ہوگا جس پر امریکہ اور ایران دونوں متفق ہوں۔

یہ جنگ امریکہ اوراسرائیل نے شروع کی مگر اب یہ ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس میں خلیجی اور دیگر قریبی ممالک بھی براہِ راست لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ یہ سب ممالک دراصل امریکی پٹھو ہیں اور چونکہ اسے اسلامی دنیا میں مسلم یہود کی جنگ کے طور پردیکھا گیا تھا؛ اس لیے سیز فائر کراکے اور اسرائیل کو باہر نکال کر علاقائی جنگ بنائی جارہی ہے۔

🔷 یہ اس جنگ میں منافقت کا پانچواں بڑا بدنما چہرہ بے نقاب ہوا ہے۔ جنگ امریکہ اور اسرائیل نے شروع کی تھی۔ اسے اب مسلمان حمایت سے محروم کرنے کے لیے علاقائی جنگ بنائ جارہی ہے؛ مگر مقصد 28 فروری والا ہی ہے۔

امریکہ اسرائیل ایران جنگ سے کیا بدلاو آیا ہے؟

محترمہ زینب الصفر نے 26 مئی 2026 کو ایک مضمون"جنگ کا نیا گرامر" میں ایران جنگ کے بعد بدلنے والے جنگی قواعد کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "آنے والے کل یا مستقبل کی جنگیں میدان جنگ میں نہیں جیتی جائیں گی؛ بلکہ دماغ، معیشت اور دشمن کے معلوماتی ماحولیاتی نظام(ڈیجیٹل سسٹم) کے اندر جیتی جائیں گی"۔ اب سچ کو چھپانا مشکل ہوگیا ہے کیونکہ ڈیجیٹل دومین نے سب کچھ بدل دیا ہے۔ ایران نے"تباہی کے کنارے پر کھڑے ہوکر مقابلہ" کیا ہے اور مخصوص مراعات حاصل کرنے کے لیے تباہی کے دہانے پر رقص کا فن سکھایا ہے۔ کسی ملک کو پاتال تک اتار کر اس سے مزید لڑنا حماقت تھی؛ اس نے بلند ہی ہونا تھا؛ سو ایران گڑھے سے باہر آیا ہے اور اب اسے پرواز سے کون روکے گا؟

🔷 اس جنگ سے ایران نے دنیا میں رائج سو سالہ بین الاقوامی آرڈر کا بدنما منافقانہ چہرہ عریاں کردیا۔ اور دنیا کے غریب پسماندہ ملکوں کو مغربی طاقتوں کی غنڈہ گردی سے نمٹنے کا راستہ دکھایا ہے۔ کیا تیسری دنیا اور جنوبی ساوتھ کے ممالک اس سبق کو حاصل کریں گے؛ یہ جلد ہی پتہ چل جائے گا؟


آئیے ذیل میں پچھلے دنوں معروف مفکر جناب "رابرٹ اے پیپ" جو کہ ریاستہائے متحدہ میں اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سرکردہ تھیوریسٹ ہیں؛ کے چھپنے والے مضمون "ایران اور عالمی طاقت کے نئے اصول" پر مختصرا" نگاہ ڈال لیتے ہیں؛ یہ سو سالہ ورلڈ آرڈر کی منافقانہ روش کو عریاں کرتا ہے:-۔


🔷 مضمون کی اہمیت ایران کے ساتھ جنگ کو ایک تاریخی واقعہ کے طور پر دیکھنے میں ہے جو 1991 میں خلیجی جنگ سے شروع ہونے والے بین الاقوامی نظام کے ایک پورے دور کو ختم کرتا ہے۔

🔷 عراق کے خلاف جنگ نے یک قطبی امریکی بالادستی کا ایک دور قائم کیا، جب کہ ایران کے ساتھ جنگ اس مرحلے کے خاتمے اور طاقت کے نئے اصولوں کے تحت چلنے والے ایک مختلف عالمی نظام کے آغاز کی نشاندہی کرتی ہے۔

🔷 مصنف نے پہلی خلیجی جنگ اور ایران کے ساتھ موجودہ جنگ کے درمیان تاریخی موازنہ کیا ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ 1991 کی جنگ محض کویت کی آزادی نہیں تھی بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سٹریٹجک جھٹکا تھا۔

🔷 ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے صرف چند ہفتوں میں، انتہائی محدود امریکی انسانی نقصانات کے ساتھ، اس وقت کی دنیا کی سب سے بڑی فوجوں میں سے ایک کو تباہ کرنے کا انتظام کیا، جس سے عالمی یقین کو تقویت ملی کہ واشنگٹن جنگ کے نتائج کو فوری اور کم قیمت پر مسلط کرنے کی قریب قریب مطلق صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔

🔷 اس فتح نے محض طاقت کا توازن ہی نہیں بدلا۔ اس نے دنیا کی توقعات کو بدل دیا۔ حکومتوں، بازاروں، کمپنیوں اور سرمایہ کاروں نے اس بنیاد پر کام کرنا شروع کیا کہ امریکہ ہمیشہ عالمی تجارت کی حفاظت نہیں کر سکتا ہے، اور نہ ہی سمندری گزرگاہوں کی حفاظت کو یقینی بنا سکتا ہے، اور بین الاقوامی نظام کو چیلنج کرنے کی کوشش کرنے والی کسی بھی طاقت کو روک نہیں سکتا ہے۔

🔷 وہ اعتماد جس نے سرد جنگ کے بعد کے عالمگیریت کے دور کی بنیاد رکھی تھی مگر اب خود براہ راست امریکی فوجی طاقت پر انحصار زیادہ خطرناک ہوگا۔

🔷 مضمون میں چار مفروضوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو 1991 کے بعد بین الاقوامی نظام پر حکمرانی کرتے تھے۔ پہلا یہ کہ امریکہ آسانی کے ساتھ فوجی نتائج مسلط کر سکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ اس کو بڑھنے میں مستقل برتری حاصل ہے۔ تیسرا یہ کہ یہ عالمی تجارت کے ہموار بہاؤ کو یقینی بنا سکتا ہے۔ اور چوتھا یہ کہ امریکی مرضی کے خلاف مزاحمت کرنا بالآخر بے سود ہے۔

🔷 ان مفروضوں نے گزشتہ تین دہائیوں میں بین الاقوامی نظام کی حقیقی بنیاد رکھی۔

🔷 یہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یورپی ممالک کے دفاعی اخراجات میں نمایاں کمی، اقتصادی انضمام کی توسیع اور موجودہ شکل میں یورپی یونین کے قیام سے ظاہر ہوتا ہے، یہ سب کچھ امریکی سیکورٹی چھتری پر انحصار کرتا ہے۔

🔷 چین نے بذات خود خلیجی جنگ کا بغور مطالعہ کیا اور اس سے بڑی فوجوں سے درست میزائلوں اور انفارمیشن سسٹم کی طرف منتقلی کی ضرورت کو مبذول کرایا، جس کی وجہ سے بعد میں ایسی بہت سی صلاحیتیں پیدا ہوئیں جو اب امریکہ کا مقابلہ کرتی ہیں۔

🔷 ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی طرف سے پیدا کردہ ترتیب نے اپنے اندر اپنے زوال کے بیج ڈالے تھے۔ امریکی تحفظ کے تحت ابھرنے والی عالمگیریت نے درست ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ اور بہت ساری جدید فوجی ٹیکنالوجیز کو عالمی سطح پر دستیاب تجارتی مصنوعات میں تبدیل کیا۔

🔷 الیکٹرانک چپس، نیویگیشن سسٹم، کیمرے، سینسرز، بیٹریاں، اور مصنوعی ذہانت—یہ تمام ٹیکنالوجیز اسمارٹ فونز اور سویلین مارکیٹوں میں استعمال ہونے لگیں، جس سے کم لاگت کے درست ہتھیاروں کی پیداوار بہت چھوٹی ریاستوں تک قابل رسائی ہوگئی۔

🔷 مصنف نے مثال کے طور پر ایرانی شاہد-136 ڈرون کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس کی اہمیت اس کی تکنیکی پیچیدگی میں نہیں ہے بلکہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ عالمی سطح پر دستیاب تجارتی اجزاء پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ درست ہڑتال کا مطلب پیدا کرنے کی صلاحیت اب بڑی طاقتوں کا خصوصی ڈومین نہیں ہے، بلکہ درمیانے درجے کی ریاستوں اور یہاں تک کہ غیر ریاستی اداکاروں کے لیے بھی قابل رسائی ہو گیا ہے۔

🔷 یہاں سے، مصنف اس پر پہنچتا ہے جسے وہ "صحیح جنگ میں دوسرا انقلاب" کہتے ہیں۔ ان کے خیال میں پہلا انقلاب امریکی سمارٹ بم تھے جو 1991 میں بغداد میں نمودار ہوئے۔ دوسرا سستے ڈرونز اور کم لاگت کے درست میزائل ہیں جو بڑی طاقتوں کو ان کا براہ راست سامنا کرنے کی ضرورت کے بغیر تھکا سکتے ہیں۔

🔷 ایران کے ساتھ جنگ اس نئے انقلاب کے پہلے بڑے امتحان کی نمائندگی کرتی ہے۔ ایران نے امریکی بحریہ کو تباہ کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اس کے بجائے ایک بالکل مختلف مقصد پر توجہ مرکوز کی: مارکیٹوں اور شپنگ کمپنیوں کو یہ باور کرانا کہ امریکہ اب آبنائے ہرمز کی حفاظت کو یقینی بنانے کے قابل نہیں ہے۔

🔷 اور مضمون کے مطابق، محض انشورنس پریمیم بڑھانا اور جہازوں کی آمدورفت کو کم کرنا ایک اسٹریٹجک اثر حاصل کرنے کے لیے کافی ہے، چاہے آبنائے فوجی نقطہ نظر سے کھلا ہی کیوں نہ ہو۔

🔷 ایرانی ریڈارز اور میزائل پلیٹ فارمز پر امریکی اور اسرائیلی حملوں نے فضائی طاقت کی حدود کو ظاہر کر دیا۔ مضمون کے مطابق، ایران لانچ پلیٹ فارمز کو دوبارہ تعینات کرنے، چھپانے اور تبدیل کرنے کے قابل تھا جتنا کہ امریکہ انہیں تباہ کر سکتا تھا، جس سے مسئلہ کو مخصوص مقاصد کو نشانہ بنانے سے زمین کے وسیع علاقوں کو کنٹرول کرنے کی طرف موڑ دیا گیا۔

🔷 مصنف نے ایران کی جانب سے شہید ماڈل ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کا حوالہ دیا تاکہ اس بات پر زور دیا جا سکے کہ تقریباً 20,000 ڈالر کی لاگت کا ایک ہتھیار 35 ملین ڈالر کی مالیت کے جنگی پلیٹ فارم کو تباہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔اور وہ اس مثال کو لاگت کی مساوات کے خلل کو مجسم سمجھتا ہے، جو اب کمزور فریق کے حق میں ہے۔

0
183

Flower Box Stand for Opening Ceremony and Condolences

Flower Box Stand for Opening Ceremony and Condolences

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocLUJFO-WFvUIvnDZeYGkdPEyaANGhKhJaupnkEPN-srngFbDQ=s96-c
Dean Max
4 hours ago

Polyester film manufactuerers

Polyester film manufactuerers

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocIrfgxNLSoM3h6oxD2EGxzbxWILG6DTw8EIo6WL6v-3Qf_7kQ=s96-c
Ganapathy Industries
5 hours ago

Looking for Tax Debt Relief Services in Canada? Read This Guide

Discover how tax debt relief services work in Canada, from CRA payment arrangements and ta...

1772049947.png
Canprosys Consultants
6 hours ago

How to Style Hand Block Print Suits for Festive Occasions

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocIv6x9rafXLHFDM0PsqqEDPKjcgVVeMeVJPS3G6DEsSpaRJ=s96-c
Rahul Jain
6 hours ago

dry cleaning services palm jumeirah

dry cleaning services palm jumeirah

defaultuser.png
laundrylounge
7 hours ago