الوداع الوداع ماہِ رمضان الوداع
Ramadan is the 9th month of Islamic calendar and occupies a holy status for the Muslims of the entire globe. Ramadan occurs during the month in which the Holy Quran began to be revealed upon the Prophet Muhammad (PBUH) on a special night called Lailatul Qadr. It is month of "Rehmah" for fasting and attaining purification of soul and success in eternal life. This write up "الوداع الوداع ماہِ رمضان الوداع" is a prayer on culmination of the holy month.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ۔
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
In the name of ALLAH, the Most Gracious, the Most Merciful
الوداع، الوداع ماہِ رمضان الوداع
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اللہ سبحان تعالی نے قرآن الحکیم میں فرمایا ہے کہ "اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگاری سیکھو/ برائی سے بچو"۔ سورۃ البقرة آیت 183۔
رمضان کا وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا؛ جو لوگوں کے واسطے ہدایت ہے؛ اور ہدایت کی روشن دلیلیں اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے۔ سورۃ البقرہ 185
اللہ سبحان تعالی نے اپنے بندوں پر احسان کیا کہ ہجری سال ۱۴۴۷ کا رمضان المبارک کا بابرکت مقدس مہینہ عطا کیا اور اپنے فضل وکرم سے اگلے سال بھی رمضان الکریم کو صحت وتندرستی کے ساتھ عطا فرمائے گا؛ ان شاء اللہ۔اللہ کریم رمضان المبارک کا بابرکت، سعادتوں بھرا مہینہ ایک احسان کے طور عطا فرماتا ہے؛ اور اس ماہ کی فضیلت یوں بیان کی کہ اس ماہ کئے گئے اعمال بھاری تول کے ہوتے ہیں تاکہ ہم اس کے فضل سے آخروی کامیابی حاصل کر سکیں۔ تو اللہ کے بندوں کو چاہیے کہ احسان کا بدلہ احسان سے دیں؛ یعنی دین کو قائم کریں؛ یا یوں کہیے کہ دین کے احکامات صلوۃ / نماز؛ زکوۃ اور ماہِ صیام کے روزے وغیرہ کی ادائیگی کا حق کماحقہ ادا کرے۔ اللہ سبحان تعالیٰ ہمیں توفیق بخشے کہ ہم اسکی رضا کیلئے کامل یکسوئی اور ایمان و احتساب کے ساتھ روزے رکھیں۔ مگر ہم ابن آدم ہونے کے ناطے بھول چوک اور خطا کے عادی ہیں؛ چنانچہ اللہ تعالی ہی نے ہمیں سکھایا ہے کہ ہم یوں دعاگو رہا کریں:-۔
کہ ﴿ایمان لانے والو! تم یوں دُعا کرو﴾ " اے ہمارے ربّ ! ہم سے بھول چُوک میں جو قصور ہو جائیں،ان پر گرفت نہ کرنا۔ مالک ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال، جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے*۔ پروردگار !جس بار کو اُٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں ہے، وہ ہم پر نہ رکھ۔* ہمارے ساتھ نرمی کر، ہم سے درگزر فرما، ہم پر رحم کر، تُو ہمارا مولیٰ ہے، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر"۔۔ سورۃ البقرة آیت نمبر286*۔ ؏.صدق اللّٰه عظیم
رمضان المبارک کا مہینہ اس لیے عطا کیا گیا کہ مسلمان اس مہینے کے ذریعے تقوی یعنی پاکیزگی کا حصول ممکن بنائیں اور اللہ کے نیک بندوں میں شامل ہوں؛ یعنی ماہِ رمضان المبارک مومن کے لیے اللہ کے رحمت اور فضل و کرم کے حصول کا مہینہ ہے۔ ماہِ رمضان المبارک رحمت کا وہ مہینہ ہےجو مسلمان کی روح کو پاک کرتا ہے۔ آقا کریم محمدﷺ نے اس مقدس مہینے کے بارے میں متعدد واضع احکامات اور سنتیں پیش کررکھی ہیں۔ آئیے آقا کریم محمدﷺ کے فرمودات سے استفادہ کرتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں“۔ صحیح - متفق علیہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ "روزہ دوزخ سے بچنے کے لیے ایک ڈھال ہے اس لیے(روزہ دار) نہ فحش باتیں کرے اور نہ جہالت کی باتیں اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اس کا جواب صرف یہ ہونا چاہئے کہ میں روزہ دار ہوں، ( یہ الفاظ ) دو مرتبہ ( کہہ دے )۔ (بخاری، ۱۸۹۴)۔
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "جس نے رمضان میں بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیے گئے"۔ (بخاری )
رسول الله ﷺ نے فرمایا "سحری کا کھانا باعث برکت ہے، اس لئے اس کو نہ چھوڑا کرو، خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لیا کرو. بیشک الله عزوجل اور اُس کے فرشتے سحری کھانے والوں پر درود بھیجتے ہیں". (مسند احمد ۱۱۴۱۶)۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "اللہ تعالیٰ ہر افطار کے وقت کچھ لوگوں کو آزاد فرماتا ہے ۔ اور یہ ( رمضان کی ) ہر رات میں ہوتا ہے" ۔ (ابنِ ماجہ ۱۶۴۳)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "جو کوئی کسی روزہ دار کو افطار کرا دے تو اس کو روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا، اور روزہ دار کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں ہو گی"۔ (سنن ابن ماجہ،۱۷۴۶)۔
رسول الله محمدﷺ کا فرمان " جو شخص روزے کی حالت میں بھول جائے پھر کچھ کھالے یا پی لے، تو وہ اپنا روزہ پورا کرے (توڑے نہیں). کیونکہ اُس کو الله نے کھلایا اور پلایا ہے. (مسند احمد؛ بخاری ۱۹۳۳) ۔
قالَ ﷺ: "روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں: (ایک تو جب) وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے، اور (دوسری) جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزے کا ثواب پا کر خوش ہوگا. (بخاری) ۔
رسول الله محمدﷺ کا فرمان: "روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے حق میں سفارش کریں گے، روزہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس بندے کو دن کے اوقات میں کھانے پینے اور شہوات سے روکے رکھا تھا، لہٰذا تو اب اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما" (مسنداحمد،۳۶۵۱)۔
آقا کریم محمد ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو فرمایا کہ ماہِ رمضان کے مہینے میں افضل ترین عمل اپنے آپ کو حرام کاموں سے بچانا ہے"۔
رسول الله محمدﷺ کا فرمان " روزہ (گناہوں سے بچنے کی) ایک ڈھال ہے، اس لئے (روزہ دار) نہ فحش باتیں کرے اور نہ جہالت کی باتیں. اور اگر کوئی اس سے لڑے یا اسے گالی دے، توہین کرے تو وہ یہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں. بخاری ۱۸۴۹ ۔
آقا کریم محمدﷺ نے فرمایا " جو شخص (روزہ کی حالت میں) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا (یعنی فریب، دھوکہ دینا)، اور جہالت کو (بیہودہ اعمال، باتیں) نہ چھوڑے تو الله کو کوئی حاجت نہیں کہ وہ شخص اپنا کھانا اور پینا چھوڑے" بخاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: " بعض روزے داروں کو روزے سے بھوک کے سوا کچھ نہیں ملتا اور بعض قیام کرنے والوں کو قیام سے بیداری کے سوا کچھ نہیں ملتا۔"۔ (سنن ابن ماجہ،۱۶۹۰)۔
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رمضان میں سفر کیا تو ہم میں سے بعض لوگوں نے روزہ رکھا اور بعض نے نہیں رکھا تو نہ تو روزہ توڑنے والوں نے، روزہ رکھنے والوں پر عیب لگایا، اور نہ روزہ رکھنے والوں نے روزہ توڑنے والوں پر عیب لگایا۔
رسول الله محمدﷺ کا فرمان " لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ڈھونڈو ". (بخاری، ۲۰۱۷) ۔
ام المومنین حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا " رسول الله ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب (رمضان کا) آخری عشرہ آتا تو آپ ﷺ رات بھر جاگتے، اور گھر والوں کو بھی جگاتے، (عبادت میں) خوب محنت کرتے اور کمر کس لیتے. مزید فرمایا کہ جس قدر (رمضان کے) آخری عشرے میں (عبادت کی) محنت کرتے تھے، وہ اس کے علاوہ کسی اور وقت نہیں کرتے تھے". (مسلم ۲۷۸۸) ۔
رسول اکرم محمدﷺ کا فرمان "جس نے لیلۃ القدر کا قیام ایمان اور احتساب کے ساتھ کیا، اُس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے گئے". (بخاری، ۳۵) ۔
رسول الله محمدﷺ کا فرمان; "مہینہ کبھی 29 اور کبھی 30 دن کا ہوتا ہے. جب تم چاند دیکھو تو روزے رکھنا شروع کرو، اور جب تم چاند دیکھو تو روزے رکھنا بند کردو. اور اگر بادل ہوں تو (30 دن کی) گنتی پوری کرو. (بخاری، ۱۹۰۶) ۔
آقا کریم رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک اپنے مابین سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، بشرطِ کہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے“۔ (صحیح مسلم ۲۳۳) ۔
*اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلہُ آخِرَ العَھْدِ مِنْ صِیامِنا إیَّاھُ فَإنْ جَعَلْتَہُ فَاجْعَلْنِی مَرْحُوماً وَلَا تَجْعَلْنِی مَحْرُوماً۔*
(اے اللہ! رمضان کے اس مہینے کے روزے، میرے لیے آخری روزے قرار نہ دے؛ پس اگر تو ایسا کرے تو مجھے رحم کیا ہوا قرار دے؛ اور رحمت سے محروم کیا ہوا نہ بنا)۔ آمین ثم آمین
ماہِ صیام کا بابرکت مہینہ ہمیں صبر، شکر اور عبادت کا درس دے کر رخصت ہو رہا ہے۔ پروردگارِ عالم اپنی رحمتِ خاص سے ہمارے دلوں کو نورِ ایمان سے بھر دے اور ہماری زندگیوں میں برکتیں نازل فرمائے۔ اللہ سبحان تعالی! خالق و مالکِ کُل؛ ہماری عبادتوں، مناجات اور روزوں کو قبول فرمائے؛ ہماری خطاؤں کو معاف فرما دے اور ہمیں دوبارہ رمضان المبارک کو پانے کی توفیق عطا فرمائے۔
اے معبود! ہمارے اس ماہ کے روزوں کو پسندیدہ اور قبول کیے ہوئے قرار دے؛ اس صورت میں جس کو تو اور تیرا رسولؐ پسند فرماتا ہے؛ کہ اس کے فروع، اس کے اصول سے پختہ تعلق رکھتے ہوں؛ بواسطہ ہمارے سردار حضرت محمدﷺ اور ان کی پاکیزہ آلؑ کے؛ اور حمد ہے خدا کیلئے جو جہانوں کا رب ہے۔
اے معبود اس بابرکت گھڑی میں جب تو اپنے بندوں کے سامنے خود کو ظاہر کرتا ہے اور ان کی حاجتیں پوری کرتا ہے تو ہمیں اپنی نگاہ اور محبت کے لائق بنا۔ ہمیں ان لوگوں میں شامل کر جن کو تو نے قبول کیا، غلامی سے آزاد کیا، سلامتی عطا کی، ان کی امیدیں پوری کیں اور جن سے تو راضی ہوا ہے ۔
اے عفوا" کریم! اے اللہ، ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے ہمیں اپنی بھلائی سے محروم نہ کر، کیونکہ ہم نے ہمیشہ تجھے سخی اور بردبار جانا ہے؛ اے اپنی خدائی شان کےساتھ ظلم کرنے والوں کو معاف کرنے والے؛ گناہ کرنے والوں کو معاف کرنے والے؛ اور جومستحق نہیں ہیں، انہیں بھی عطا کرنے والے سوہنے رب العالمین آپ ہی ہیں۔ اے ہمارے رب؛ ہم اپنے رمضان کے مہینے کی عبادات، مناجات اور روزے تیرے سپرد کرتے ہیں؛ تو اسے اپنی محبت اورمہربانی کے سپرد فرمادے۔ ہم پرعاشق کی طرح محبوب والی مہربانی فرما، اور ہمیں قبول فرما اور ہمیں ایسے قبول فرما جیسا کہ ہم تیرے خالص بندے ہوں؛ اے بہترین مالک اور بہترین جواب دینے والے! اپنے حبیب پاک رحمت العالمین کے صدقے۔
اے ہمارے پروردگار! ماہِ رمضان المبارک کے صدقے سب بیماروں کو شفــاء کاملہ عاجلہ عطا فرما۔ تمام جسمانی، روحانی و نفسیاتی امراض، آفات و بلیات، شرور اور فسادات سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ ہماری خطائیں معاف فـرما. ھم سب پر رحمت فـرما اور شکر گذار بندوں میں شامل فرما. اور ہمارے بزرگوں، رشتہ داروں، عزیز و اقارب و دوست احباب کو جو اس دنیا سے رخصت ھوچکےہیں، جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرما۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
📿 رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ
📿 أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ
📿 اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّار
📿 اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي
آمین يا رب العالمين۔ سبحان اللّه وبحمدہ سبحان اللّه العظیم و بحمدہ استغفر اللّه
اللهم صل على محمد و على آل محمد كما صليت على ابراهيم و على آل ابراهيم انك حميد مجيد 🌹
اللهم بارك على محمد و على آل محمد كما باركت على ابراهيم و على آل ابراهيم انك حميد مجيد 🌹