Muhammad Asif Raza 48 minutes ago
Muhammad Asif Raza #education

اَلۡهٰٮكُمُ التَّكَاثُرُۙ‏ : ہائے افسوس؛ طلبِ کثیر نے تباہ کردیا

This article "اَلۡهٰٮكُمُ التَّكَاثُرُۙ‏ : ہائے افسوس؛ طلبِ کثیر نے تباہ کردیا" presents a profound philosophical and socio-economic analysis of humanity’s insatiable greed for materialism, viewed through the lens of Surah At-Takathur and relevant Quranic analogies. Utilizing authoritative statistics from the World Inequality Database (WID), it evaluates Pakistan's current economic disparities, wealth concentration, and elite lifestyles against timeless divine principles. Concluding with a strategic roadmap for reformation, the piece offers practical solutions to this moral and social crisis by drawing upon Shah Waliullah’s concepts of economic justice and Allama Iqbal’s philosophy of Khudi (selfhood).

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

اَلۡهٰٮكُمُ التَّكَاثُرُۙ‏ : ہائے افسوس؛ طلبِ کثیر نے تباہ کردیا


1۔ تمہید

سورۃ التکاثر قرآن مجید فرقان حمید کی 102ویں سورۃ ہے۔ اس کی پہلی دو آیات یوں ہیں:۔۔

1. اَلۡهٰٮكُمُ التَّكَاثُرُۙ‏ (تمہیں زیادہ مال و دولت کی ہوس نے غافل کر دیا)۔

2. حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ (یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں—یعنی مر کر قبرستان پہنچ گئے)۔

• تکاثر کا مفہوم: لغوی معنی ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر کثرت کی خواہش کرنا ہیں۔ اصطلاح میں دنیاوی مال، عہدے، اور اولاد کی تعداد پر فخر کرنا اور اسی دوڑ میں مگن رہنا۔

• انسانی جبلت: انسان کے اندر فطری طور پر آگے بڑھنے کی خواہش ہوتی ہے، لیکن جب یہ خواہش اندھی ہوس بن جائے تو "تکاثر" کا روپ دھار لیتی ہے۔

• قرآنی نکتہ نظر: سورۃ التکاثر کی روشنی میں یہ وہ غفلت ہے جو انسان کو موت کی دہلیز (قبر) تک بے خبر رکھتی ہے۔


2۔ تکاثر کے اسباب

• آخرت سے غفلت: یہ بھول جانا کہ یہ دنیا عارضی ہے اور اصل زندگی آخرت کی ہے۔

• سوشل میڈیا کا منفی اثر: دوسروں کی چمک دمک والی عارضی زندگی دیکھ کر اپنے اندر احساسِ محرومی پیدا کرنا۔

• معاشرتی دباؤ: خاندان اور برادری میں "سب سے بہتر" دکھنے کا غیر ضروری بوجھ۔


3۔ قرآنی اسلوب اور دیگر آیات کی گواہی

قرآن مجید کے متعدد مقامات پر اسی موضوع کو مختلف اسالیب میں اجاگر کیا گیا ہے:۔۔

1. سورۃ الحدید (آیت 20): اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دنیاوی زندگی کی حقیقت کو کھیل کود اور آپس میں ایک دوسرے پر مال و اولاد میں سبقت لے جانے کی ہوس سے تشبیہ دی ہے؛ "جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا اور زینت اور تمہارا آپس میں فخر (و غرور) اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہی ہے"۔

2. سورۃ المنافقون (آیت 9): یہاں مومنین کو خاص طور پر متنبہ کیا گیا ہے کہ مال اور اولاد کی محبت انہیں اللہ کی یاد اور آخرت سے غافل نہ کر دے؛ "اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر (اور اس کی اطاعت) سے غافل نہ کر دیں، اور جو کوئی ایسا کرے گا تو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں"۔

3. سورۃ الکہف (آیت 46): اس آیت میں واضح کیا گیا ہے کہ مال اور اولاد محض دنیا کی عارضی رونق ہیں، جبکہ اصل پائیدار چیز نیک اعمال ہیں؛ "مال اور بیٹے تو دنیا کی زندگی کی (صرف) رونق ہیں، اور باقی رہنے والی نیکیاں ہی آپ کے رب کے ہاں ثواب کے لحاظ سے بہتر ہیں اور امید کے لحاظ سے (بھی) سب سے اچھی ہیں"۔


4۔ عارضی دنیا کی قرآنی تمثیلات

سورۃ الکہف کی آیت 45 "تکاثر" اور دنیاوی زندگی کی عارضی حیثیت کو سمجھنے کے لیے ایک بہترین کائناتی تمثیل پیش کرتی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:۔۔

"اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بیان کرو جو مثل ایک پانی کے ہے جسے ہم نے آسمان سے برسایا پھر زمین کی روئیدگی پانی کے ساتھ مل گئی پھر وہ ریزہ ریزہ ہوگئی کہ اسے ہوائیں اڑاتی پھرتی ہیں، اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے"۔

اللہ سبحان و تعالیٰ نے اس آیت میں دنیا کی حقیقت کو چند مراحل میں سمیٹا ہے، جو انسان کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں:۔۔

• آسمانی پانی اور ہریالی (عروج): جیسے بارش برستی ہے تو زمین سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے، ہر طرف رونق اور خوبصورتی نظر آتی ہے۔ بالکل اسی طرح جب انسان کو دنیا میں مال، اولاد اور جاہ و جلال ملتا ہے، تو اس کی زندگی رونق اور چمک دمک سے بھر جاتی ہے۔

• ریزہ ریزہ ہونا (زوال): لیکن یہ ہریالی مستقل نہیں رہتی۔ وقت بدلتا ہے اور وہی لہلہاتی کھیتی سوکھ کر چورا چورا ہو جاتی ہے۔ انسان کا شباب، اس کا مال، اور اس کا عروج بھی ایک دن اسی طرح ختم ہو جاتا ہے۔

• ہواؤں میں اڑ جانا (فناء): آخر میں وہ خشک گھاس ہوا کے تھپیڑوں کے ساتھ اڑ جاتی ہے، جیسے اس کا کبھی وجود ہی نہ تھا۔ انسان بھی دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے اور اس کا سمیٹا ہوا مال پیچھے دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے۔


اسی طرح اللہ سبحان و تعالیٰ نے قرآن مجید کی سورۃ الرعد (آیت 17) میں حق اور باطل، اور دنیا کی عارضی چمک دمک کو سمجھانے کے لیے سیلاب کے پانی اور جھاگ کی یہ لاجواب مثال بیان فرمائی ہے:۔۔

"...پھر جب سیلاب آیا تو جھاگ اوپر ابھر آئی، اور ایسا ہی جھاگ اس دھات پر بھی اٹھتا ہے جسے لوگ زیور یا کوئی اور سامان بنانے کے لیے آگ میں پگھلاتے ہیں۔ اسی طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے۔ سو جو جھاگ ہے وہ تو اڑ جایا کرتا ہے (نابود ہو جاتا ہے)، اور جو چیز لوگوں کو نفع دینے والی ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے"۔۔۔


• جھاگ کی عارضی چمک (دنیاوی جاہ و جلال): جب سیلاب آتا ہے تو پانی کے اوپر بہت بڑی اور پھولی ہوئی جھاگ بن جاتی ہے۔ دیکھنے میں وہ بہت زیادہ (تکاثر) اور نمایاں نظر آتی ہے، لیکن اندر سے بالکل کھوکھلی ہوتی ہے۔ دنیا کا مال و دولت اور عہدے بھی اس جھاگ کی طرح ہیں جو دیکھنے میں بہت بڑے لگتے ہیں مگر ان کی کوئی حقیقی حیثیت نہیں ہوتی۔

• جھاگ کا غائب ہو جانا (فناء): تھوڑی ہی دیر میں وہ جھاگ بیٹھ جاتی ہے یا کنارے لگ کر ختم ہو جاتی ہے اور اس کا نام و نشان بھی نہیں رہتا۔ انسان کی جمع کی ہوئی دولت بھی موت آتے ہی جھاگ کی طرح غائب ہو جاتی ہے۔

• نفع بخش پانی کا ٹھہر جانا (آخرت کے اعمال): جھاگ کے اڑ جانے کے بعد جو خالص پانی نیچے بچتا ہے، وہ زمین کو سیراب کرتا ہے اور انسانوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ یہ خالص پانی انسان کے نیک اعمال، ایمان اور آخرت کی کمائی ہے، جو ہمیشہ قائم رہتی ہے۔


5۔ طلبِ کثیر کے نفسیاتی نقصانات

• دائمی بے سکونی اور اینگزائٹی: تکاثر کے مریض کبھی مطمئن نہیں ہوتے۔ ہر حاصل شدہ نعمت کے بعد مزید کی چاہ ذہن کو مسلسل تناؤ اور اضطراب میں رکھتی ہے۔

• حسد اور جلن: دوسروں کے پاس خود سے زیادہ دیکھ کر انسان ناشکری اور حسد کا شکار ہو جاتا ہے، جس سے اس کا اپنا ذہنی سکون برباد ہو جاتا ہے۔

• نعمتوں کی بے قدری: زیادہ کی ہوس میں انسان کے پاس جو موجود ہوتا ہے، وہ اس کی لذت اور شکر گزاری سے محروم ہو جاتا ہے۔

• مایوسی اور ڈپریشن: جب دنیاوی مسابقت میں انسان اپنے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کر پاتا، تو وہ شدید احساسِ کمتری اور مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔


6۔ مملکتِ خداداد پاکستان میں مسلم و مسلمات کے حالاتِ حاضرہ

پاکستان کا قیام ایک نثریے اور عہد کے تحت عمل میں آیا تھا جسے ہم آسانی کے لیے اسلامی نظریہ حیات کہہ لیتے ہیں؛ یعنی ایک ایسی ریاست جس کے اعمالدار، حکام اور منتظمین خدا کے احکامات پر عمل پیرا ہوں گے۔ ایک ایسی فلاحی ریاست جہاں عدل، انصاف اور دولت کی منصفانہ تقسیم ہو، نہ کہ چند خاندانوں یا ایک مخصوص طبقے کی اجارہ داری۔

تاہم، موجودہ حالاتِ حاضرہ اس نظریے کی نفی کرتے نظر آتے ہیں، جہاں ریاست کا اشرافیہ طبقہ اللہ کے احکامات کے بجائے "تکاثر" کے زیرِ اثر زندگی گزار رہا ہے۔ عالمی عدم مساوات کے ڈیٹا بیس ** کے حالیہ اعداد و شمار پاکستانی معاشرے کی طبقاتی تقسیم کا پردہ چاک کرتے ہیں کہ آپ کو پاکستان کے امیر ترین افراد میں شامل ہونے کے لیے کتنا کمانے کی ضرورت ہے:۔۔

(World Inequality Database - WID)

• روپے 121,000 / مہینہ: آپ پاکستانیوں کے 90٪ سے زیادہ کماتے ہیں، جس سے آپ کو سرفہرست 10 فیصد کمانے والوں میں شامل کیا جاتا ہے۔

• روپے 189,000 / مہینہ: اب آپ پاکستان میں اعلیٰ ترین آمدنی کرنے والوں میں سرفہرست 5٪ میں شامل ہیں۔

• روپے 440,000 / مہینہ: آپ آسانی سے پاکستان کے سب سے اوپر 1٪ اعلیٰ آمدنی والے اشرافیہ اور امیر ترین گروپ میں داخل ہوتے ہیں۔


اعداد و شمار کا حسابی تجزیہ:۔۔

اگر پاکستان کی کل آبادی کو 25 کروڑ تسلیم کیا جائے، تو آبادی کا 1 فیصد قریباً 25 لاکھ افراد بنتے ہیں، اور اس 1 فیصد کا بھی ایک فیصد (یعنی کل آبادی کا 0.01 فیصد) صرف 25 ہزار افراد بنتے ہیں۔ آج ریاست پاکستان کا اصل حکمران طبقہ، جو تمام وسائل، پالیسیوں اور کثیر دولت پر قابض ہے، وہ محض یہی اعشاریہ صفر ایک فیصد (0.01%) بنتا ہے۔ ان کے پاس ریاست کی کثیر دولت پر قبضہ ہے، مصیبت یہ ہے کہ وہ مزید کی طلب میں لگے ہیں اور بھوک ہے کہ ختم نہیں ہو رہی۔


7۔ قرآنی تناظر اور بحیثیتِ قوم ہمارا المیہ

قرآن مجید نے چودہ سو سال پہلے انسانی نفس کی جس بیماری کی نشان دہی کی تھی، وہ آج پاکستان کے اس 0.01 فیصد طبقے میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ وہی کیفیت ہے جسے سورۃ التکاثر نے "أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ" سے تعبیر کیا ہے۔ اس طبقے کے پاس وسائل کی کوئی کمی نہیں، لیکن مزید کی طلب اور ریاستی وسائل کو سمیٹنے کی اندھی دوڑ انہیں اندھا کر چکی ہے۔ سورۃ الرعد کی روشنی میں، اس اشرافیہ کا جاہ و جلال سیلاب کے اوپر آنے والی اس "جھاگ" کی طرح ہے جو دیکھنے میں بہت زیادہ لگتی ہے لیکن اندر سے کھوکھلی اور فناء ہو جانے والی ہے، جبکہ عام عوام بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔

جب کثرتِ مال کی یہ ہوس اوپر سے نیچے کی طرف سفر کرتی ہے، تو پورا معاشرہ اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ آج عام پاکستانی بھی اخلاقیات، حلال و حرام کی تمیز اور اسلامی اصولوں کو پسِ پشت ڈال کر اسی مادی دوڑ کا حصہ بننے پر مجبور ہو چکا ہے یا بنا دیا گیا ہے۔

قرآن مجید جس "فوزِ عظیم" (بڑی کامیابی) کا وعدہ کرتا ہے، اس کی شرط تقویٰ، عدل اور شکر گزاری ہے، اور جب تک ہم بحیثیتِ قوم اس مادی مسابقت اور تکاثر کی اندھی دوڑ سے باہر نہیں آئیں گے، اس فوزِ عظیم کا ملنا مشکل نظر آتا ہے۔ جب تک ریاست کے منتظمین اور عوام کا مقصدِ حیات صرف دنیا سمیٹنا رہے گا، تب تک ہم اس اخلاقی اور معاشی بحران سے نہیں نکل سکتے۔ حقیقی تبدیلی تب ہی ممکن ہے جب اقتدار اور دولت کو امانت سمجھا جائے اور نظام کو اسی "اسلامی نظریہ حیات" پر استوار کیا جائے جس کے نام پر یہ ملک حاصل کیا گیا تھا۔


8۔ فکری و اصلاحی حل: شاہ ولی اللہ اور علامہ اقبال کے افکار کی روشنی میں


الف) شاہ ولی اللہ دہلوی کا معاشی عدل (ارتکازِ دولت کا خاتمہ)۔۔۔

امام شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی معرکہ الآرا کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں معاشرے کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ دولت کے ارتکاز اور معاشی ناہمواری کو قرار دیا ہے۔ ان کے افکار کی روشنی میں حل درج ذیل ہے:۔۔

• توازنِ معیشت (عدالتِ معاشی): شاہ ولی اللہ کے نزدیک ایک صالح معاشرہ وہ ہے جہاں بنیادی ضرورتیں سب کو میسر ہوں اور دولت چند ہاتھوں میں منجمد نہ ہو۔ جب تک 0.01 فیصد اشرافیہ کے پاس ملک کے کثیر وسائل یرغمال رہیں گے، معاشرہ اخلاقی انحطاط سے نہیں نکل سکتا۔

• ارتفاقات (معاشرتی تعاون): معاشی نظام کا اصل مقصد انسان کو مادی حیوان بنانا نہیں، بلکہ اسے معاشی فکر سے آزاد کر کے خدا کی بندگی کے قابل بنانا ہے۔ حکمران طبقے کو تکاثر کی بھوک مٹانے کے بجائے اکلِ حلال اور دولت کی منصفانہ گردش کا نظام قائم کرنا ہوگا۔


ب) علامہ اقبال کا فلسفہ خودی (مادیت پرستی کا رد)

حکیم الامت علامہ اقبال نے انسان کو مادی مسابقت کے جال سے نکال کر اپنی اندرونی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کا درس دیا۔ تکاثر کی اندھی دوڑ کے خلاف اقبال کا فلسفہ دو بنیادی ستون فراہم کرتا ہے:۔۔

• خودی کی تربیت اور فقرِ غیور: اقبال اس مادی ہوس اور جاہ و جلال کو روح کی موت قرار دیتے ہیں۔ وہ اس "طلبِ کثیر" کے مقابلے میں "فقر" کا تصور پیش کرتے ہیں، جس کا مطلب مفلسی نہیں بلکہ مادی اشیاء سے ذہنی آزادی اور بے نیازی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:۔۔

دارا و سکندر سے وہ مردِ فقیر اولیٰ

جس کی فقیری میں بوئے اسد اللّٰہی!۔

• کثرتِ مال بمقابلہ سوزِ درون: اقبال کے نزدیک انسان کی کامیابی دنیا سمیٹنے میں نہیں، بلکہ اپنے مقصدِ حیات کو پہچاننے میں ہے۔ جب خودی بیدار ہوتی ہے، تو انسان تکاثر کے سراب سے نکل کر فوزِ عظیم کا مسافر بن جاتا ہے۔


9۔ حاصلِ کلام

یہ معاشی اعداد و شمار، قرآنی تمثیلات اور ہمارے اسلاف کے افکار ہمیں پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ تکاثر انسانی روح اور پوری ریاست کے لیے ایک خاموش زہر ہے، جو فرد کے سکون اور معاشرے کے امن کو نگل جاتا ہے۔ پاکستان کا اصل المیہ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ نیتوں کا قحط اور طلبِ کثیر کی اندھی ہوس ہے۔

جب تک ہم بحیثیتِ قوم اس مادی مسابقت کی اندھی دوڑ سے باہر نہیں آئیں گے، اقتدار اور دولت کو امانت نہیں سمجھیں گے، اور شاہ ولی اللہ کے معاشی عدل اور اقبال کی خودی کو اپنی زندگیوں اور ریاستی نظام پر نافذ نہیں کریں گے، تب تک اس "فوزِ عظیم" کا ملنا ناممکن رہے گا۔ حقیقی کامیابی زیادہ سمیٹنے میں نہیں، بلکہ جو ملا ہے اسے امانت سمجھ کر خلقِ خدا کی خدمت میں لگانے اور آخرت کے لیے سرمایہ جمع کرنے میں ہے۔

Ammonia Price Trend 2026 | Q3 Forecast, Chart, Prices and Index

1787734945.png
Lakshay Choudhary
6 minutes ago

AI SEO Optimization: Building a Future-Ready Approach to Search Visibi...

defaultuser.png
Grafton
35 minutes ago
Building a Healthier, Substance-Free Life Through Comprehensive Addiction Treatment – Lifeline Rehabs

Building a Healthier, Substance-Free Life Through Comprehensive Addict...

defaultuser.png
Lifelinerehab123
43 minutes ago

NPK Price Trend Q3 2026 | Global Price Trends, Forecast, Chart, Prices...

1787734945.png
Lakshay Choudhary
1 hour ago
Building a Healthier Future Through Professional Rehabilitation Services in Mumbai – Lifeline Foundation India

Building a Healthier Future Through Professional Rehabilitation Servic...

defaultuser.png
llfindia Pune
1 hour ago