Muhammad Asif Raza 3 months ago
Muhammad Asif Raza #religion

الإِجَازَةُ الصَيْفِيَّةُ… تِجَارَةُ الأَذْكِـيَاءِ : موسمِ گرما کی تعطیلات؛ بہترین انتخاب

Al Quran is the final Holy Book revealed upon the Last of Prophets Hazrat Muhammad (PBUH). The Quran & Sunnah is the only source of holy guidance as it entails detailed instructions for each and every walk of human life. Here guidance from Quran for the followers of Islam (الإِجَازَةُ الصَيْفِيَّةُ… تِجَارَةُ الأَذْكِـيَاءِ : موسمِ گرما کی تعطیلات؛ بہترین انتخاب) is discussed wrt the summer vacations and best choice to gain for students for better living from Quran and Hadith of Prophet ﷺ. This is an approved Jumma Khutba from the Sultanate of Oman and translated in Urdu.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


الإِجَازَةُ الصَيْفِيَّةُ… تِجَارَةُ الأَذْكِـيَاءِ

موسمِ گرما کی تعطیلات۔۔۔ بہترین انتخاب


الحَمْدُ للهِ الَّذِي هَيَّأَ الأَوْقَاتَ مَيْدَانًا لِلْعَمَلِ، وَالأَعْمَارَ مَرَاحِلَ لِلزَّرْعِ وَالأَمَلِ، وَنَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا، وَنَشْهَدُ أَنَّ سَيِّدَنَا وَنَبِيَّنَا مُحَمَّدًا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، دَلَّ أُمَّتَهُ عَلَى أَبْوَابِ الخَيْرِ، وَحَذَّرَهَا مِنَ الغَفْلَةِ وَإِضَاعَةِ العُمُرِ، صَلَوَاتُ اللهِ وَسَلامُهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَهْلِ الهِمَمِ وَالأَثَرِ


أَمَّا بَعْدُ، فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم- بسم اللہ الرحمن الرحیم


وَإِذۡ قَالَ لُقۡمَـٰنُ لِٱبۡنِهِۦ وَهُوَ يَعِظُهُ ۥ يَـٰبُنَىَّ لَا تُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ‌ۖ إِنَّ ٱلشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيمٌ۬ (١٣) وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَـٰنَ بِوَٲلِدَيۡهِ حَمَلَتۡهُ أُمُّهُ ۥ وَهۡنًا عَلَىٰ وَهۡنٍ۬ وَفِصَـٰلُهُ ۥ فِى عَامَيۡنِ أَنِ ٱشۡڪُرۡ لِى وَلِوَٲلِدَيۡكَ إِلَىَّ ٱلۡمَصِيرُ (١٤) وَإِن جَـٰهَدَاكَ عَلَىٰٓ أَن تُشۡرِكَ بِى مَا لَيۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٌ۬ فَلَا تُطِعۡهُمَا‌ۖ وَصَاحِبۡهُمَا فِى ٱلدُّنۡيَا مَعۡرُوفً۬ا‌ۖ وَٱتَّبِعۡ سَبِيلَ مَنۡ أَنَابَ إِلَىَّ‌ۚ ثُمَّ إِلَىَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَأُنَبِّئُڪُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ (١٥) يَـٰبُنَىَّ إِنَّہَآ إِن تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ۬ مِّنۡ خَرۡدَلٍ۬ فَتَكُن فِى صَخۡرَةٍ أَوۡ فِى ٱلسَّمَـٰوَٲتِ أَوۡ فِى ٱلۡأَرۡضِ يَأۡتِ بِہَا ٱللَّهُ‌ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ۬ (١٦) يَـٰبُنَىَّ أَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ وَأۡمُرۡ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَٱنۡهَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَآ أَصَابَكَ‌ۖ إِنَّ ذَٲلِكَ مِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِ (١٧) وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمۡشِ فِى ٱلۡأَرۡضِ مَرَحًا‌ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ۬ فَخُورٍ۬ (١٨) وَٱقۡصِدۡ فِى مَشۡيِكَ وَٱغۡضُضۡ مِن صَوۡتِكَ‌ۚ إِنَّ أَنكَرَ ٱلۡأَصۡوَٲتِ لَصَوۡتُ ٱلۡحَمِيرِ (١٩)

Surah Luqman – 13-19

رَبِّ ٱشۡرَحۡ لِى صَدۡرِى- وَيَسِّرۡ لِىٓ أَمۡرِى- وَٱحۡلُلۡ عُقۡدَةً۬ مِّن لِّسَانِى- يَفۡقَهُواْ قَوۡلِى- آمین ثم آمین

Surah Taha – 25-28


تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے اوقات کو عمل کا میدان اور زندگی کے مراحل کو بیج بونے اور امید وابستہ کرنے کے مراحل بنایا ہے۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں؛ اسی نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے بعد آنے والا بنایا تاکہ جو لوگ غور و فکر کرنا یا شکر ادا کرنا چاہیں، وہ ایسا کر سکیں۔ ہم یہ بھی گواہی دیتے ہیں کہ ہمارے آقا اور نبی، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں؛ آپؐ نے اپنی امت کی بھلائی کی راہوں کی طرف رہنمائی فرمائی اور انہیں غفلت اور اپنی زندگیوں کو ضائع کرنے سے خبردار کیا۔ اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو آپؐ پر، آپؐ کے اہل خانہ پر اور آپؐ کے صحابہ کرام پر—جو بلند عزم اور لازوال ورثے کے حامل لوگ ہیں۔ تلاوت کی گئ سُوۡرَةُ لقمَان کی آیات کا ترجمہ ہے


اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیٹا الله کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا بے شک شرک کرنا بڑا بھاری ظلم ہے (۱۳) اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق تاکید کی ہے اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہے تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کرے میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے (۱۴) اور اگر تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں تو میرے ساتھ اس کو شریک بنائے جس کو تو جانتا بھی نہ ہو تو ان کا کہنا نہ مان اور دنیا میں ان کے ساتھ نیکی سے پیش آ اور ان لوگوں کی راہ پر چل جو میری طرف رجوع ہوگئے پھر تمہیں لوٹ کر میرے ہی پاس آنا ہے پھر میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم کیا کیا کرتے تھے (۱۵) بیٹا اگر کوئی عمل رائی کے دانہ کے برابر ہو پھر وہ کسی پتھر کے اندر ہو یا وہ آسمان کے اندر ہو یا زمین کے اندر ہو تب بھی الله اس کو حاضر کر دے گا بے شک الله بڑا باریک بین (اور) باخبر ہے (۱۶) بیٹا نماز پڑھا کر اور اچھے کاموں کی نصیحت کیا کر اوربرے کاموں سے منع کیا کر اور تجھ پر جو مصیبت آئے اس پر صبر کیا کر بے شک یہ ہمت کے کاموں میں سے ہیں (۱۷) اور لوگوں سے اپنا رخ نہ پھیر اور زمین پر اترا کر نہ چل بے شک الله کسی تکبر کرنے والے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا (۱۸) اور اپنے چلنے میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز پست کر بے شک آوازوں میں سب سے بری آواز گدھوں کی ہے (۱۹)

Surah Luqman – 13-19


اے اللہ کے بندو، اللہ سے ڈرو- تقویٰ اختیار کرو اور اللہ کی اطاعت کرو اور جان لیجئے کہ ہماری زندگیاں عمل کا میدان ہیں اور یہ دن ایسے مواقع ہیں جنہیں لوگ مختلف درجات میں کام میں لاتے ہیں۔ درحقیقت، خوش نصیب وہ ہے جو اپنے وقت کو ان کاموں سے معمور کرے جو اسے فائدہ پہنچائیں، اور اپنی دنیاوی زندگی کو اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کے حصول کا ذریعہ بنائے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر جو نعمتیں عطا فرماتا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ہر وقت ان کے لیے بھلائی کے دروازے کھولتا رہتا ہے۔ ان مواقع میں سے ایک بہترین موقع چھٹیوں اور فرصت کے اوقات میں میسر آتا ہے، جب تعلیم اور کام کا دباؤ کم ہو جاتا ہے اور وقت کی فراوانی ہوتی ہے۔ ایسے لمحات میں انسان اپنے آپ کا جائزہ لینے، اپنی ترجیحات کا تعین کرنے اور اپنے دنوں کو ایسے کاموں میں صرف کرنے کے قابل ہوتا ہے جو اس کی روحانی اور دنیاوی زندگی، دونوں کے لیے مفید ہوں۔ اللہ تعالٰی نے ہمیں اس عظیم نعمت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی رہنمائی فرمائی اور سورہ العصر میں ارشاد فرمایا:


وَٱلۡعَصۡرِ (١) إِنَّ ٱلۡإِنسَـٰنَ لَفِى خُسۡرٍ (٢) إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡحَقِّ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ (٣)

زمانہ کی قسم ہے (۱) بے شک انسان گھاٹے میں ہے (۲) مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور حق پر قائم رہنے کی اور صبر کرنے کی آپس میں وصیت کرتے رہے (۳)

Surah Al Asr – 1-3


اے ایمان والو! کتنے ہی نوجوانوں کے لیے ان کی چھٹیاں زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئیں—جنہوں نے ان ایام کو اپنی ذات کی تعمیر و ترقی میں صرف کیا اور زیادہ پختہ سوچ، بلند عزم اور مضبوط کردار کے ساتھ ابھر کر سامنے آئے۔ اس کے برعکس، کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اوقات بے مقصد تفریح اور غفلت میں ضائع کر دیے اور آخر کار سستی و کاہلی اور وقت کے ضیاع کے پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہ کر سکے۔ ایک مومن ایسی کسی بھی بے عملی یا فارغ‌الوقتی سے متاثر نہیں جو اسے نیک اور مفید کاموں سے دور کر دے؛ بلکہ جب وہ ایک کام سے فارغ ہوتا ہے تو کسی دوسرے مفید کام کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سورہ انشرح میں فرمایا:


فَإِذَا فَرَغۡتَ فَٱنصَبۡ (٧) وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَٱرۡغَب (٨)

پس جب آپ (تبلیغ احکام سے) فارغ ہوں تو ریاضت کیجئے (۷) اور اپنے رب کی طرف دل لگائیے (۸)

Surah Ash Sharah – 7-8


اے اللہ کے بندو! چھٹیوں کا وقت انسانی نشوونما کے لیے ایک جامع کاوش ہے؛ یہ ایک ایسا عمل ہے جو روح کو بالیدگی بخشتا ہے، ذہن کی آبیاری کرتا ہے، کردار کو مضبوط بناتا ہے، افقِ فکر کو وسعت دیتا ہے اور نظم و ضبط نیز احساسِ ذمہ داری پیدا کرتا ہے۔ لہٰذا، اس کا آغاز اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کو استوار کرنے سے کیجیے اپنی نمازوں کی پابندی کریں، کثرت سے اللہ کا ذکر کریں اور قرآنِ کریم کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط رکھیں—اسے حفظ کریں، اس کی تلاوت کریں اور اس میں غور و فکر کریں۔ اللہ تعالیٰ نے بالترتیب سورہ الاحزاب اور سور صاد میں فرمایا


يَـٰٓأَيُّہَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ ذِكۡرً۬ا كَثِيرً۬ا- وَقَالَ سُبْحَانَهُ: كِتَـٰبٌ أَنزَلۡنَـٰهُ إِلَيۡكَ مُبَـٰرَكٌ۬ لِّيَدَّبَّرُوٓاْ ءَايَـٰتِهِ

اے ایمان والو الله کو بہت یاد کرو- اور اُس نے، جو پاک اور بلند و بالا ہے، فرمایا: ایک کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی بڑی برکت والی تاکہ وہ اس کی آیتوں میں غور کریں

Surah Al Ahzab – 41 and Surah Sad-29-Part


کیونکہ قرآن عقل کے لیے روشنی، دل کے لیے استقامت کا ذریعہ اور دنیا و آخرت دونوں میں انسان کی بلندیِ درجات کا وسیلہ ہے۔ مزید برآں، مطالعے اور تحقیق، زبانیں سیکھنے، اور ٹیکنالوجی، مواصلات (کمیونیکیشن) و عوامی مکالمہ (پبلک اسپیکنگ) میں مہارتیں پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور مسائل کے حل کی مہارتوں کی مشق کے ذریعے اپنے علم کو وسیع کریں؛ کیونکہ سیکھنے ہی سے ذہن نشوونما پاتے ہیں، اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے: "جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔تعطیلات کے دوران ملنے والے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں—جیسے کہ سمر کیمپس، قرآنِ کریم کے مطالعاتی حلقے، تعلیمی پروگرام، فنی و پیشہ ورانہ کورسز، اور نوجوانوں یا رضاکارانہ سرگرمیوں پر مبنی اقدامات۔ یہ سرگرمیاں اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں، قیادت کا جذبہ پیدا کرتی ہیں اور کامیابی و عزم کے نئے راستے کھولتی ہیں؛ درحقیقت، محض ایک کورس کسی پوشیدہ صلاحیت کو دریافت کرنے، زندگی کا رخ بدلنے یا مستقبل کی تعمیر میں اہم محرک ثابت ہو سکتا ہے۔


اللہ کے بندو اپنی چھٹیوں سے بہترین استفادہ کرنے کا مطلب ہے اپنے خاندان اور معاشرے پر مثبت اثر ڈالنا؛ لہٰذا اپنے والدین کا ہاتھ بٹائیں، صلہ رحمی کریں اور دوسروں کی خدمت میں مشغول رہیں—کیونکہ دینے اور نوازنے سے روح کو بلندی نصیب ہوتی ہے، اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اللہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔" مزید برآں، بلند حوصلہ، مستعد اور محنتی لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ انسان کا مزاج اور نفوس ان لوگوں سے متاثر ہوتی ہے جن کے ساتھ وہ اٹھتا بیٹھتا ہے؛ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "انسان اپنے قریبی دوست کے طریقے پر چلتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر ایک کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کسے اپنا دوست بناتا ہے۔ انسان کی دانشمندی کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی چھٹیوں کے دوران سنجیدگی اور آرام، نیز تعمیری سرگرمی اور تفریح کے مابین توازن قائم رکھے۔ نہ تو تفریح کو ایسی غفلت میں بدلنے دینا چاہیے جو زندگی کو ضائع کر دے، اور نہ ہی سنجیدہ کاوشوں کو ایسا بوجھ بننے دینا چاہیے جو انسان کی توانائی نچوڑ کر رکھ دے۔ نبی کریم ﷺ نے اسی اہم توازن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت حنظلہؓ سے فرمایا تھا: "ایک وقت اس کے لیے یعنی درست کاموں کیلئے ہے اور ایک وقت اس کے لیے یعنی برے کاموں کیلئے ۔" چنانچہ، جائز تفریح — جب اسے درست نیت کے ساتھ اپنایا جائے — تو یہ انسان کی توانائی کو بحال کرنے، عزم کو مضبوط بنانے اور زندگی کے سفر کو جاری رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔"


اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور ان چھٹیوں کے اوقات کو ایسے کاموں میں صرف کر کے غنیمت جانو جو تمہارے دینی اور دنیاوی معاملات میں فائدہ مند ہوں؛ کیونکہ انسان اپنی زندگی اور اپنی جوانی کے بارے میں جواب دہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے دن بندے کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں ہلیں گے جب تک اس سے اس کی زندگی کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے کہ اس نے اسے کیسے گزارا........." لہٰذا اللہ سے مدد طلب کرو، عاجزی و بے بسی (یا سستی) کے آگے ہتھیار نہ ڈالو، اور اپنی زندگیوں کے ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے ان کا بہترین استعمال کرو۔


أقولُ مَا تَسْمَعُونَ، وَأَسْتَغْفِرُ اللهَ العَظِيمَ لِي وَلَكُمْ، فَاسْتَغْفِرُوهُ يَغْفِرْ لَكُمْ، إِنَّهُ هُوَ الغَفُورُالرَّحِيمُ، وَادْعُوهُ يَسْتَجِبْ لَكُمْ، إِنَّهُ هُوَ البَرُّ الكَرِيمُ

یہ کہو میں اللہ تعالیٰ سے اپنے اور آپ کے لیے بخشش مانگتا ہوں پس اس سے معافی مانگو وہ تمہیں بخش دے گا۔ وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور اُسے پکارو تو وہ تمہاری بات کا جواب دے گا کیونکہ وہ سخی راستبازی ہے۔

الحَمْدُ للهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلا أَنْ هَدَانَا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ صَلاةً وَسَلامًا دَائِمَيْنِ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ، وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَأَتْبَاعِهِ المُقْتَفِينَ آثَارَهُ وَخُطَاهُ

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اس کی ہدایت بخشی؛ اور اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا تو ہم ہرگز ہدایت نہ پا سکتے تھے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں—آپ پر، آپ کے اہل و عیال، آپ کے صحابہ اور ان پیروکاروں پر قیامت تک درود و سلام ہو جو آپ کے نقشِ قدم پر چلتے اور آپ کے راستے کی پیروی کرتے ہیں۔


حمد و صلوٰۃ کے بعد: اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ چھٹیوں کے دوران انسان کو جن اہم ترین امور پر توجہ دینی چاہیے، ان میں ایسی نیک عادات کا فروغ شامل ہے جو روح کو پاکیزہ بناتی ہیں، کردار کی تعمیر کرتی ہیں اور زندگی کی سمت متعین کرتی ہیں۔ عظیم کامیابیاں اچانک بڑی چھلانگوں سے شروع نہیں ہوتیں، بلکہ ان کا آغاز سادہ اور معمولی کاموں سے ہوتا ہے جنہیں انسان مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رکھتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کے روزمرہ کے معمولات اور زندگی کا اٹوٹ حصہ بن جاتے ہیں۔ چنانچہ، موسمِ گرما کی تعطیلات ان عادات کو اپنانے اور پختہ کرنے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتی ہیں۔ وقت کی فراوانی اور کسی فوری مصروفیت کے نہ ہونے کے پیشِ نظر، کچھ لوگ اس عرصے کو ایک ایسے نقطۂ آغاز کے طور پر استعمال کرتے ہیں جس سے وہ قرآنِ کریم سے گہرا تعلق استوار کرنے، باقاعدگی سے باجماعت نمازوں میں شرکت کرنے، مطالعے کی عادت اپنانے، یا اپنے دن کو منظم کر کے اپنا وقت مفید سرگرمیوں میں صرف کرنے کا عزم کرتے ہیں—یہاں تک کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ اعمال پختہ عادات میں ڈھل جاتے ہیں اور ٹھوس نتائج کا باعث بنتے ہیں۔ چنانچہ، نبی کریم ﷺ نے فرمایا...


"اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ اعمال وہ ہیں جو مستقل مزاجی کے ساتھ کیے جائیں، چاہے وہ تعداد میں کم ہی کیوں نہ ہوں۔" درحقیقت، جب نفس نیکی کا عادی ہو جاتا ہے تو اسے اس سے لگاؤ ہو جاتا ہے؛ اس کے برعکس، اگر اسے بے ترتیبی اور کاہلی پر چھوڑ دیا جائے تو یہ سستی اور زندگی ضائع کرنے کا خوگر ہو جاتا ہے۔ لہٰذا، فرصت کے اوقات میں پیدا ہونے والی بری عادتوں سے بچیں—جیسے دیر تک جاگنا اور آلات مواصلات (social/communication devices) اور کھیلوں میں حد سے زیادہ مشغول رہنا—کیونکہ عادت کی شروعات تو معمولی ہوتی ہے لیکن بالآخر یہ انسان کے وقت اور توجہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، جس سے اس سے چھٹکارا پانا مشکل ہو جاتا ہے۔ سورہ الکھف میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے


وَلَا تُطِعۡ مَنۡ أَغۡفَلۡنَا قَلۡبَهُ ۥ عَن ذِكۡرِنَا وَٱتَّبَعَ هَوَٮٰهُ وَكَانَ أَمۡرُهُ ۥ فُرُطً۬ا

اور اس شخص کا کہنا نہ مان جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیاہے اور اپنی خواہش کے تابع ہو گیا ہے اور ا سکا معاملہ حد سے گزر ا ہوا ہے

Surah Al Kahf – 28-Part


اپنے بچوں کی تربیت کریں کہ وہ نظم و ضبط اور ذمہ دار ہوں، اور وقت کا اچھا استعمال کرنے میں ان کے لیے ایک مثال قائم کریں۔ کیونکہ بچے الفاظ سے زیادہ عمل سے سیکھتے ہیں۔


پس اللہ سے ڈرو- اے اللہ کے بندو- اور اس چھٹی کو ان عادات کا آغاز ہونے دیں جو آپ کو دنیا میں کامیابی اور آخرت میں فلاح کی طرف لے جاتی ہیں۔

0
111

Facials Jupiter Residents Can Book Without Sitting in Traffic

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocLCmoecIG-PEuEoiAYr1u60SFoOz5h_pZbd9ve6sCwybVmeMA=s96-c
Yannick
1 minute ago
When Is Circumcision Recommended for Children and Adults?

When Is Circumcision Recommended for Children and Adults?

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocJqzWx_1eGGFOlUCGrNXYp8le0p3UKnIXSPDpE_sS6ICuwT3A=s96-c
Gm irfan
15 minutes ago
The War of Sanctions

The War of Sanctions

1714584133.jpg
Muhammad Asif Raza
20 minutes ago

What Is Indian Rummy and How Does a Rummy Game Work?

Indian Rummy is a 13 card game where you arrange your hand into sequences and sets before...

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocIlOnwLXcDroXD3tGMKTa6pOJfoG9gb78V5tIifNhYrpANIp_k=s96-c
Katie Gloria
25 minutes ago
Innovative Structural Engineering and Cost-Effective Design Solutions in the UAE

Innovative Structural Engineering and Cost-Effective Design Solutions...

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocIqRSQi6Vm9_wS1sBj4zUitu30sFSxHt0mpLcVCHOFKsvZ68g=s96-c
Integra UAE
30 minutes ago