اقراء؛ غارِ حرا سے پھیلا نسخہ کیمیا

Al Quran is the final Holy Book revealed upon the Last of Prophets Hazrat Muhammad (PBUH). The Quran & Sunnah is the only source of holy guidance as it entails detailed instructions for each and every walk of human life. Here guidance from Quran for the followers of Islam (اقراء؛ غارِ حرا سے پھیلا نسخہ کیمیا) is discussed wrt profound eminence of first revelations of Quran upon Prophet Muhammad ﷺ in the cave of Hira.

Jul 19, 2025 - Muhammad Asif Raza

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

 

اقراء؛ غارِ حرا سے پھیلا نسخہ کیمیا

 

جب وحی کا پہلا لفظ؛ "اقراء" (پڑھیں) فرشتہ جبرائیل (جبرائیل) نے نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بولا، تو آپﷺ اس وقت دنیاوی لحاظ سے ان پڑھ تھے؛ یعنی لکھنے یا پڑھنے سے قاصر تھے۔ وہ کسی طرح لکھے متن کو صوتی انداز میں پڑھ دینے سے کہیں زیادہ بڑا کام تھا۔ یہ حقیقت منتظر کا مشاہدہ، غور و فکر اور شعوری گرفت کرنے کے لیے اللہ سبحان تعالی کی جانب سے پیغامِ بیداری تھا — نہ صرف تقریر سے بلکہ بصیرت سے۔

 پڑھنا / اقراء صرف زبان سے کیا گیا عمل نہیں ہوتا - یہ آنکھ سے شروع ہوتا ہے؛ دماغ پر منتج عکس بنتا ہے اور پھر دل پر ختم ہوتا ہے۔

ہماری روزمرہ کی زندگی میں، جب کوئی کہتا ہے کہ "اسے پڑھو"، ہم فطری طور پر سب سے پہلے اپنی آنکھیں استعمال کرتے ہیں، اپنی زبان کا نہیں؛ جو بعد میں ہونے کا عمل ہے۔ پڑھنے کی اس فطرت میں بصارت، ادراک، پہچان اور سمجھ بوجھ شامل ہے۔ چنانچہ جب "اقراء" کا حکم دیا گیا، باوجود اس کے کہ کوئی طبعی ظاہری کتاب نہیں تھی اور کسی ایسے شخص سے کہی گئی جو تحریری عبارت نہ پڑھ سکتا ہو، تو اقراء کے لفظی معنی تلاوت کو کہیں آگے جاکر سمجھنا چاہیے۔

 یہ کائنات، زندگی، ظاہری اور باطنی علامات اور شخصی فرد کی خودی کو پڑھنے کے لیے گہرے ادراک کی پکارتھی؛ اور یہ پیغام آج بھی ہے۔ یہ دماغ اور بصیرت کا کام ہے نہ کہ صرف ہونٹوں کا۔

 رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان پڑھ تھے تو آپﷺ کو کیا پڑھنے کا حکم دیا گیا؟

سورۃ العلق شروع ہوتی ہے:

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (قرآن 96:1)

"پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا..."

آیت میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ "کتاب پڑھو" یا "قرآن، تورات یا انجیل پڑھو" - یہ کہتی ہے کہ اپنے رب کے نام سے پڑھو جس نے پیدا کیا ہے۔ یہاں حکم پڑھنے کا مقصد خود تخلیق ہے۔

یہ اسلام میں "پڑھنے / تلاوت" کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے: یہ کائنات میں موجود نشانیوں (آیات) کا مشاہدہ کرنے، مظاہرِ تخلیق پر غور کرنے اور ان کے ذریعے خالق کی پہچان کرنے اور جاننے کا عمل ہے۔

قرآن میں دوسری جگہ اس فہم کی تصدیق کی گئی ہے:

"ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں گے..."

سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (قرآن 41:53)

’’ہم اُن کو اپنی نشانیاں افق اور اُن کے اندر دکھائیں گے یہاں تک کہ اُن پر واضح ہو جائے گا کہ یہ حق ہے‘‘۔

یہ آیت اس خیال کی تائید کرتی ہے کہ پڑھنا — اقرا — صرف متن تک محدود نہیں ہے۔ یہ دنیا کی علامات، فطرت میں، کائنات میں، اور انسانی روح کے اندر اللہ تعالی کی آفاقی سچائی کو پہچاننے کے بارے میں ہے۔ رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقی بصیرت اور اس کے ذریعے حق کو پہچاننا سکھایا جا رہا تھا۔

تصدیق بہ لسان کلام نہیں تھا بلکہ ایک روحانی بیداری کا پیغام تھا۔

 وہاں کیا گیا "اقراء" کا اصرار سے یہ مطلب لیا جانا کہ"بلند آواز سے تلاوت کرنا" بڑے سیاق و سباق کو نظر انداز کرتا ہے۔ رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ میں پڑھنے والا نہیں ہوں (مَا أَنَا بِقَارِئ) اس لیے نہیں کہ وہ بول نہیں سکتے تھے، بلکہ اس لیے فرمایا گیا تھا کہ پڑھنے کے لیے کوئی طبعی مادی چیز نہیں تھی، کوئی تحریری رسم الخط، آواز کے ساتھ پڑھنے کےلیے کوئی عبارت نہیں تھی۔ آقا کریم محمدﷺ سے جو کچھ کرنے کے لیے کہا جا رہا تھا وہ یہ تھا کہ دنیا کے لیے ہدایت کی روشنی کو سمجھنا، اپنی خودی کو کھنگالنا اور عالمِ انساننیت کو پہنچانا تھا۔

وقت کی قید سے آزاد پیغام

 "اقرا" اسلامی شعور کا بنیادی اصول ہے - مشاہدہ کریں، غور کریں، سیکھیں اور اٹھیں بلندی کی جانب سفر کریں۔ خواہ آپ پڑھے لکھے ہوں یا نہ ہوں، امیر ہوں یا غریب، شہری ہوں یا دیہاتی؛ اللہ تعالی کی نشانیاں آپ کے آس پاس موجود ہیں۔ آپ کی آنکھیں گیٹ وے ہیں۔ آپ کا دل برتن ہے۔ اور آپ کا دماغ آئینہ ہے۔

تو اگلی بار جب کوئی کہے، ’’ایک اَن پڑھ آدمی کو پڑھنے کے لیے کیسے کہا جا سکتا ہے؟‘‘، تو جواب آسان ہے:

اس لیے کہ جو اسے پڑھنے کا حکم دیا گیا تھا وہ کسی صفحے پر موجود خطوط نہیں تھے، بلکہ تخلیق کی حقیقت — واضح نشانیاں جو سچائی کی طرف لے جاتی ہیں۔

اور یہ محض خواندگی سے کہیں زیادہ گہرا سبق ہے۔

 "پڑھیں، غور کریں، احساس کریں: آپ ثبوت ہیں"

 الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له

أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله

الحمد للہ۔ ہم اُس کی حمد کرتے ہیں، اُس سے مدد مانگتے ہیں، اور اُس سے معافی مانگتے ہیں۔ ہم اپنے نفس کی برائیوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔

 عزیز برادران و اخوۃ اسلام!۔

آئیے آج کی یاددہانی کا آغاز آسمان سے نازل ہونے والے پہلے حکم سے کرتے ہیں:

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ

"پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔" (سورۃ العلق، 96:1)

یہ حکم الٰہی - جو سب سے پہلا کلمہ ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا - محض تلاوت کی ہدایت نہیں ہے۔ یہ بیدار کرنے، سوچنے، غور کرنے، اور سب سے اہم بات، علم کو تخلیق کرنے والے کی حقیقت سے جوڑنے کی دعوت ہے۔

"پڑھیں" - لیکن صرف کتابیں نہیں۔

"پڑھیں" - آپ کے ارد گرد نشانیاں۔

"پڑھیں" - آپ کی زندگی کے واقعات۔

"پڑھیں" - آپ کا اپنا دل اور جان۔

آیت اس یاد دہانی کے ساتھ جاری ہے کہ ہمارا رب وہی ہے جس نے پیدا کیا - یعنی پڑھنے کا عمل ہمیں اس سے دور نہیں بلکہ اس کی طرف واپس لے جانا چاہیے۔ وہ تمام علم کا سرچشمہ ہے، اور اس کے نام سے پڑھنا مقصد، تعظیم اور عاجزی کے ساتھ پڑھنا ہے۔

یہیں سے ایمان شروع ہوتا ہے — اندھے اعتقاد کے ساتھ نہیں، بلکہ عکاسی کے ساتھ۔

اللہ تعالیٰ ایک اور زبردست آیت میں فرماتا ہے:

سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ

’’ہم انہیں اپنی نشانیاں افق پر اور ان کے اندر دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے کہ یہ حق ہے۔‘‘ (سورہ فصیلات، 41:53)

یہ ایک خدائے کبریاء کا وعدہ ہے: اگر ہم کھلی آنکھوں اور کھلے دل کے ساتھ زندگی بسر کریں تو اللہ ہمیں کائنات میں نشانیاں دکھائے گا — ستاروں میں، پہاڑوں میں، زندگی کی خوبصورتی میں اور یہاں تک کہ المیوں میں بھی — اور اپنے اندر کی نشانیاں — ہمارے جذبات میں، ہمارے ضمیر میں، روح کے لطیف وسوسوں میں۔

عقیدہ تلاش کرنے کے لیے آپ کو عالم بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ ذرا مشاہدہ کریں۔ ذرا سنیے۔ ذرا غور کیجئے۔

لیکن آخری حقیقت یہ ہے پیارے بھائیو اور بہنو:

وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ

"اور ہر انسان کی تقدیر ہم نے ان کے گلے میں ڈال دی ہے۔" (سورۃ الاسراء، 17:13)

آپ کی تقدیر، آپ کے انتخاب، آپ کی رہنمائی - یہ آپ سے منسلک ہے۔

اللہ نشانیاں دکھاتا ہے۔ وہ پیغام بھیجتا ہے۔ لیکن وہ دلوں کو کھولنے پر مجبور نہیں کرتا۔

اگلی ہی آیت میں فرماتے ہیں:

مَّنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا

"جس نے ہدایت کی وہ صرف اپنے نفس کے لیے ہدایت پاتا ہے۔ اور جو گمراہ ہوتا ہے وہ اپنے نقصان میں ہی گمراہ ہوتا ہے۔" (17:15)

تو آج ہمارے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

اس کا مطلب ہے کہ سچائی کا راستہ دستیاب ہے، نشانیاں نظر آتی ہیں، اور ذمہ داری ذاتی ہے۔

کوئی اور آپ کی روح نہیں اٹھاتا۔ آپ کی کہانی کوئی اور نہیں لکھتا۔ آپ خود اپنے ثبوت ہیں۔

اے بھائیو اور بہنو، معجزوں کا انتظار نہ کرو۔ تم ہی معجزہ ہو۔

نشانیوں کا انتظار نہ کریں۔ آپ ان میں گھرے ہوئے ہیں۔

سچائی کے اترنے کا انتظار نہ کریں - یہ پہلے ہی موجود ہے۔

اپنے رب کے نام سے پڑھیں۔ اپنے دل سے غور کریں۔ اس بات کا ادراک کریں کہ آپ کو سچائی کی گواہی دینے کے لیے پیدا کیا گیا ہے — نہ صرف الفاظ میں، بلکہ آپ کیسے رہتے ہیں۔

 

اسلام انسانی عقل کو محدود نہیں کرتا اسے آزاد کرتا ہے۔ علم کے حصول کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی جاتی ہے بلکہ ایک مقدس فریضہ سمجھا جاتا ہے۔ ہر سوال، ہر عکاسی، سچائی کی ہر تلاش الہٰی حکمت کے قریب ایک قدم بن جاتی ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔"

(ابن ماجہ)

اسلام میں فکری ترقی روحانی ترقی ہے۔ یہ ہمیں اپنے اندر اور کائنات کے اندر موجود نشانیوں پر گہرائی سے غور کرنے کی دعوت دیتا ہے، جو ہمیں جہالت سے دور اور روشن خیالی، مقصد اور اندرونی امن کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔

زخم وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی آپ میں داخل ہوتی ہے۔

ہم اپنے ذہنوں کی پرورش کرتے رہیں، حکمت کی تلاش کرتے رہیں اور علم ہمیں خالق کے قریب لے جائے۔

 

اے اللہ ہمیں کلام سننے اور اس پر عمل کرنے والوں میں شامل فرما۔ اے اللہ ہمیں حق پر ثابت قدم رکھ اور اپنی سیدھی راہ پر چلا۔ آمین۔ الحمد للہ رب العالمین۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل اور تمام صحابہ کرام پر۔

والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

مندرجہ بالا تحریرعدیل سلیمان کے لکھے گئے مضمون کا ترجمہ ہے۔ جو ذیل پر موجود ہے۔

“Iqra” — A Divine Call to Perceive, Not Just Recite

 In the name of ALLAH, the Most Gracious, the Most Merciful

 

When the first word of revelation—“Iqra” (Read/Recite)—was uttered by Angel Jibril (Gabriel) to Prophet Muhammad ﷺ, a man unlettered and unable to read or write, it was far more than a command to vocalize text. It was a divine awakening to observe, reflect, and grasp the truth—not merely by speech but by insight.

Reading Is Not Just With the Tongue—It Begins With the Eye and Ends With the Heart

In our daily lives, when someone says "read this," we instinctively use our eyes, not our mouths. This very nature of reading involves vision, perception, recognition, and understanding. So when the command "Iqra" was delivered, despite there being no physical book and to someone who couldn’t read written text, the meaning had to go beyond literal recitation.

It was, and still is, a call to deep perception—to read the universe, life, signs, and self. This is a function of the mind and vision, not simply the lips.

The Prophet ﷺ Was Unlettered—So What Was He Commanded to Read?

Surah Al-‘Alaq begins:

 اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ

“Read in the name of your Lord who created…”

(Qur’an 96:1)

The verse does not say "read a book" or "read the Torah or the Injil"—it says read in the name of your Lord who created. The object of reading here is creation itself.

This shows the depth of “reading” in Islam: it is a process of observing the signs (āyāt) in the universe, reflecting on creation, and coming to know the Creator through them.

This understanding is affirmed elsewhere in the Qur’an:

“We Will Show Them Our Signs...” — Qur’an 41:53

سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ

“We will show them Our signs in the horizons and within themselves until it becomes clear to them that it is the Truth…”

(Qur’an 41:53)

This verse supports the idea that reading—Iqra—is not limited to text. It is about recognizing the divine truth in the signs of the world, in nature, in the cosmos, and within the human soul. The Prophet ﷺ was being taught to read reality, and through it, to recognize the Truth.



Not a Mechanical Utterance—but a Spiritual Enlightenment

The insistence that “Iqra” means to “recite aloud” overlooks the greater context. The Prophet ﷺ replied, "I am not one who reads" (مَا أَنَا بِقَارِئ) not because he couldn’t speak, but because there was nothing physical to read, no written script, no text to vocalize. What he was being asked to do was to perceive, internalize, and carry the light of guidance to the world.


A Timeless Message

“Iqra” remains the foundational principle of Islamic consciousness—observe, reflect, learn, and rise. Whether you are literate or not, wealthy or poor, urban or rural, the signs of God are around you. Your eyes are the gateway. Your heart is the vessel. And your mind is the mirror.

So the next time someone says, “How can an unlettered man be told to read?”, the answer is simple:

Because what he was commanded to read was not letters on a page, but the reality of creation—clear signs that lead to the truth.

And that’s a lesson far more profound than mere literacy.

 "Read, Reflect, Realize: You Are the Proof"

الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له.

أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله.

Dear brothers and sisters in Islam,

Let us begin today’s reminder with the very first command revealed from the heavens:

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ

"Read in the Name of your Lord Who created." (Surah Al-‘Alaq, 96:1)

This divine command — the very first word revealed to the Prophet Muhammad ﷺ — is not merely an instruction to recite. It is a call to awaken, to think, to contemplate, and most importantly, to connect knowledge with the reality of the One who created.

“Read” — but not just books.

“Read” — the signs around you.

“Read” — the events in your life.

“Read” — your own heart and soul.

The verse continues with the reminder that our Lord is the One who created — meaning, the act of reading should not lead us away from Him, but back to Him. He is the Source of all knowledge, and to read in His Name is to read with purpose, with reverence, and with humility.

This is where faith begins — not with blind belief, but with reflection.

Allah ﷻ says in another powerful verse:

سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ

"We will show them Our signs on the horizons and within themselves until it becomes clear to them that it is the Truth." (Surah Fussilat, 41:53)

This is a divine promise: if we live with open eyes and open hearts, Allah will show us signs in the universe — in the stars, in the mountains, in the beauty of life and even in tragedy — and signs within ourselves — in our emotions, in our conscience, in the subtle whispers of the soul.

You do not need to be a scholar to find faith. Just observe. Just listen. Just reflect.

But here’s the final reality, dear brothers and sisters:

وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ

"And every human being's fate We have fastened to their own neck." (Surah Al-Isra’, 17:13)

Your destiny, your choices, your guidance — it is tied to you.

Allah shows the signs. He sends the message. But He does not force hearts to open.

In the very next verse, He says:

مَّنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا

"Whoever is guided is only guided for [the benefit of] his soul. And whoever goes astray, only goes astray to its [own] loss." (17:15)

So what does this mean for us today?

It means the path to truth is available, the signs are visible, and the responsibility is personal.

No one else carries your soul. No one else writes your story. You are your own proof.

O brothers and sisters, do not wait for miracles. You are the miracle.

Do not wait for signs. You are surrounded by them.

Do not wait for truth to descend — it already has.

Read in the Name of your Lord. Reflect with your heart. Realize that you were created to witness Truth — not only in words, but in how you live.

اللهم اجعلنا من الذين يستمعون القول فيتبعون أحسنه.

اللهم ثبتنا على الحق، واهدنا صراطك المستقيم.

آمين، والحمد لله رب العالمين،

وصلى الله على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين.

والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

Islam does not confine the human intellect it liberates it. The pursuit of knowledge is not only encouraged but is considered a sacred duty. Every question, every reflection, every search for truth becomes a step closer to divine wisdom.

The Prophet Muhammad ﷺ said:

"Seeking knowledge is an obligation upon every Muslim."

(Ibn Majah)

In Islam, intellectual growth is spiritual growth. It invites us to reflect deeply on the signs within ourselves and the universe, guiding us away from ignorance and toward enlightenment, purpose, and inner peace.

The wound is the place where the Light enters you.

May we continue to nourish our minds, seek wisdom, and let knowledge bring us closer to the Creator.

Taken from FB Page "Whispers of the Divine: The Mystical Qalams of Sufi Saints"

More Posts