**اقبال کا پیغامِ عشق اور اسلامی ریاست**
Allama Dr Muhammad Iqbal was the great mystic Poet of the Sub Continent India-Pakistan. Iqbal is also the philosopher of East and national poet of Pakistan. Allama Muhammad Iqbal has given comprehensive message about "Khudi" in both Urdu & Persian language. This write up in Urdu "اقبال کا پیغامِ عشق اور اسلامی ریاست" is an explanation of the Iqbal's verses ( رباعی ) in his book "بالِ جبریل" with the help of other verses, keeping the main theme in focus.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
**اقبال کا پیغامِ عشق اور اسلامی ریاست**
حکیم الامت علامہ محمد اقبال کی شاعری محض الفاظ کا مجموعہ یا روایتی قوافی کا الٹ پھیر نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے دردِ دل، خودی کی بیداری اور خدا سے راز و نیاز کا ایک ایسا سرچشمہ ہے جو ہر دور کے انسان کو دعوتِ فکر دیتا ہے۔ ان کی کتاب 'بالِ جبریل' میں شامل ایک مختصر مگر بے حد گہری رباعی ان کے پورے فلسفۂ عقل و عشق اور مثالی اسلامی نظام کا نچوڑ پیش کرتی ہے:۔
عطا اسلاف کا جذبِ دُروں کر
شریکِ زمرۂ ’لَا یحْزَنُوْں‘ کر
خرد کی گُتھّیاں سُلجھا چُکا مَیں
مرے مَولا مجھے صاحِب جُنوں کر!۔
یہ رباعی دراصل ایک بیدار مغز مومن کا اپنے رب کے حضور اعترافِ عجز بھی ہے اور ایک ابدی تڑپ کی التجا بھی۔ اس کے آئینے میں عقلِ مادی کی حدود، عشق کی بے پناہ طاقت اور ایک مثالی اسلامی ریاست کا پورا فکری و عملی ڈھانچہ نمایاں ہوتا ہے۔
عقل و عشق کا باطنی سفر
اقبال خود دنیا کے مروجہ فلسفوں اور مادی علوم کے امام تھے، لیکن وہ اعتراف کرتے ہیں کہ "خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میں"۔ عقل انسان کو مادی فائدے، سائنس کی ترقی اور دنیاوی حساب کتاب میں تو مدد دے سکتی ہے، لیکن جب بات روح کے اطمینان، دل کے سکون اور ذاتِ باری تعالیٰ کے عرفان کی آتی ہے، تو عقل کے پر جلنے لگتے ہیں۔ عقل ہمیشہ نفع و نقصان کی مصلحتوں میں الجھی رہتی ہے، جبکہ انسانی روح کو بے حساب عشق کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے وہ پکار اٹھتے ہیں کہ "مرے مولا مجھے صاحبِ جنوں کر!"۔ عقل اور عشق کی اسی کشمکش کو اقبال نے ایک اور جگہ یوں بیان کیا ہے:۔
عقل عیار ہے، سو بھیس بدل لیتی ہے
عشق بیچارہ نہ ملا ہے نہ زاہد نہ حکیم
اقبال اسی باطنی روشنی اور تڑپ کو عام کرنے کے لیے دعاگو ہیں:۔
جوانوں کو مری آہِ سحَر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خدایا! آرزو میری یہی ہے
مرا نورِ بصیرت عام کر دے
جب یہ نورِ بصیرت اور عشق کا جنون بیدار ہوتا ہے، تو فلسفۂ خودی جنم لیتا ہے۔ اقبال نے انسان کو اپنی ذات کو پہچاننے اور تسخیرِ کائنات کی جو راہ دکھائی، اس کی بنیاد اسی 'جذبِ دروں' پر ہے: ۔
خودی کا سرِ نہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغ، فساں لا الہ الا اللہ
عہدِ خلافتِ راشدہ: 'جذبِ دروں' اور 'لا یحزنون' کا عملی نمونہ
علامہ اقبال جس 'جذبِ دروں' اور 'لَا یحْزَنُوْں' (خوف اور غم سے آزادی) کی تمنا کر رہے ہیں، اس کا عملی عروج ہمیں **عہدِ خلافتِ راشدہ** میں نظر آتا ہے، جہاں کا ہر حکمران اور عام شہری مادی عقل کے مصلحت آمیز حساب کتاب سے آزاد ہو کر عشقِ الٰہی کا سچا 'صاحبِ جنون' بن چکا تھا۔
* **حضرت ابوبکر صدیقؓ کا 'جنونِ عشق':** غزوۂ تبوک کے موقع پر جب رسول اللہ ﷺ نے مال کی اپیل کی، تو مادی عقل (خرد) کا تقاضا یہ تھا کہ انسان کچھ مال بچا کر رکھے تاکہ مستقبل کے اندیشوں اور معاشی غموں کا مقابلہ کر سکے۔ لیکن حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس اسلاف کا وہ 'جذبِ دروں' تھا جس نے عقل کے تمام فلسفے پامال کر دیے۔ وہ اپنے گھر کا ایک ایک تنکا لا کر بارگاہِ رسالت میں ڈھیر کر دیتے ہیں۔ جب نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ "ابوبکر! اہل و عیال کے لیے کیا چھوڑ آئے ہو؟" تو صاحبِ جنون کا جواب تھا: "ان کے لیے اللہ اور اس کا رسولؐ چھوڑ آیا ہوں"۔
* **حضرت عمر فاروقؓ کا معیارِ 'لَا یحْزَنُوْں':** حضرت عمرؓ کے دور میں اسلام کی سرحدیں روم اور ایران جیسی عظیم سلطنتوں تک پھیل چکی تھیں، لیکن آپ کا طرزِ زندگی ایک درویش کا تھا۔ جب روم کا سفیر مدینہ پہنچا اور اس نے دیکھا کہ وقت کا حاکم مدینہ کے قبرستان میں ایک درخواست کے نیچے سر کے نیچے اینٹ رکھ کر بے خوف سو رہا ہے، تو وہ کانپ اٹھا اور اس نے کہا: "اے عمر! تم نے عدل کیا، اس لیے تم بے خوف ہو کر سو رہے ہو، اور ہمارا بادشاہ ظلم کرتا ہے اس لیے وہ پہرے داروں کے پہرے میں بھی خوفزدہ رہتا ہے"۔
اسلامی ریاست کے معیار
اسلامی ریاست کے عام انسانوں (عوام) کے لیے معیار
جب ہم اس فلسفے کو ایک اسلامی ریاست کے غیر حکمران افراد یعنی عام عوام پر لاگو کرتے ہیں، تو سچی تبدیلی کا آغاز ہوتا ہے۔ جب ایک عام انسان 'لا یحزنون' کے معیار پر آتا ہے، تو وہ توکل کی اس بلندی پر پہنچ جاتا ہے جہاں وہ رزق کے لیے اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرتا。 وہ باطل کے سامنے سر جھکانے کی بجائے غیرتِ ایمانی کو ترجیح دیتا ہے۔ اقبال ایسے ہی غیور انسان کی تعریف میں کہتے ہیں:۔
مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا؟ زورِ حیدرؓ، فقرِ بوذرؓ، صدقِ سلمانیؓ
اس نظریے کی بہترین مثال **حضرت عثمان غنیؓ** کا وہ جذبِ دروں ہے کہ جب مدینہ میں قحط پڑا اور تاجروں نے ان کے غلے کے قافلے پر دگنا منافع پیش کیا، تو صاحبِ جنون عثمان غنیؓ نے مادی نفع کو ٹھکرا کر اپنا غلہ مدینہ کے غریبوں میں مفت تقسیم کر دیا۔ اسی طرح **حضرت صُہیب رومیؓ** نے ہجرت کے وقت زندگی بھر کی جمع پونجی باطل کے حوالے کر دی مگر ایمان کا سودا نہ کیا۔ غزوۂ احد میں **حضرت انس بن نضرؓ** نے جب حضور ﷺ کی شہادت کی افواہ سنی تو عقل و مصلحت کو چھوڑ کر عشقِ رسولؐ کے جنون میں باطل کی صفوں پر ٹوٹ پڑے اور جامِ شہادت نوش کیا۔ اسلاف کا یہی وہ 'جذبِ دروں' ہے جو عام شہری کو خود غرضی سے نکال کر معاشرے کے لیے ایثار و قربانی سکھاتا ہے۔
نوجوانوں کی تربیت اور خودی کی بیداری
اقبال نے خاص طور پر قوم کے نوجوانوں کو اس 'جنون' کی راہ دکھائی۔ وہ نوجوانوں کو محض عقلِ مادی کا غلام یا مغرب کا مقلد نہیں دیکھنا چاہتے تھے، بلکہ وہ ان میں اسلاف جیسی عقابی روح بیدار کرنا چاہتے تھے:۔
خِرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پِیروں کا استاد کر!۔
ندامت بہائے پیر و برنائی دے
خداوندا! مرا عشقِ تماشائی دے
جسیے ہجرتِ مدینہ کی رات نوجوان **حضرت علی المرتضیٰؓ** نے مادی عقل کی پرواہ کیے بغیر، موت کے خوف سے آزاد ہو کر رسول اللہ ﷺ کے بستر پر سونے کو ترجیح دی، کیونکہ ان کا دل جذبِ دروں سے لبریز تھا۔
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
اسلامی ریاست کے صاحبِ اقتدار (حکمران) کے لیے معیار
جب یہی سوال ہم ریاست کے حاکم یا صاحبِ اقتدار کے لیے اٹھاتے ہیں، تو اقبال کا پیغام ایک آفاقی اور بے مثال ضابطہ بن کر سامنے آتا ہے۔ اقبال کے نزدیک ایک سچے اسلامی حکمران کی شخصیت چار اہم ستونوں پر قائم ہوتی ہے:۔
1. **اسلاف کا جذبِ دروں:** حکمران کا سینہ اپنے نیک اور جری آباؤ اجداد کے باطنی جوش، اخلاص اور دردِ امت سے لبریز ہونا چاہیے۔ اس کے دل میں اقتدار کی ہوس نہیں بلکہ عدلِ فاروقی کا جذبہ ہونا چاہیے۔
2. **'لَا یحْزَنُوْں' سے منور اور دنیاوی لذت سے ماورا ہونا:** وہ حکمران 'لا خوف علیہم ولا ہم یحزنون' کے قرآنی نور سے منور ہوتا ہے۔ وہ نہ تو بیرونی سپر پاورز کے خوف میں مبتلا ہوتا ہے اور نہ ہی مستقبل کے اندیشوں سے ڈرتا ہے۔ وہ دنیا کی مادی لذتوں، عیاشیوں اور مال و زر کی محبت سے ماورا (بلند) ہو کر زاہدانہ اور درویشانہ زندگی بسر کرتا ہے۔
3. **خرد کی گتھّیوں کا دانشمند ہونا:** اقبال یہاں عقل کو بالکل مسترد نہیں کرتے۔ ان کا حکمران خرد اور مادی علوم کی گتھیاں سلجھانے والا ایک بیحد **دانشمند، زیرک اور دوراندیش سیاستدان** ہوتا ہے۔ وہ دنیا کی چالاکیوں اور نظامِ حکومت کے مادی تقاضوں کو خوب سمجھتا ہے، لیکن وہ ان کا غلام نہیں بنتا۔
4. **سود و زیان سے بے پروا، 'لا الہ الا اللہ' کا عملدار:** عقلِ مادی کی گتھیاں سلجھانے کے بعد، وہ دنیاوی نفع و نقصان (سود و زیان) کے فلسفوں سے اوپر اٹھ کر خدا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتا ہے اور دعاگو ہوتا ہے کہ یا اللہ! اب مجھے عقلِ مادی کی مصلحتوں سے آزاد کر کے لا الہ الا اللہ کا سچا اور بے باک عملدار بنا دے۔
جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
ایسا حکمران جب عقل کو عشقِ الٰہی کے تابع کر دیتا ہے، تو وہ رعایا کے لیے سائبان بن جاتا ہے۔ وہ حضرت عمرؓ کی طرح فرات کے کنارے بھوکے مرنے والے کتے کے لیے بھی خود کو جوابدہ سمجھتا ہے، کیونکہ اس کی سیاست 'چنگیزی' نہیں بلکہ 'پیغمبرانہ' ہوتی ہے۔
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
حاصلِ کلام اور موجودہ صورتحال
آج مسلم قوم جس زبون حالی، تنزلی اور رسوائی کا شکار ہے، اس کی بنیادی وجہ عوام اور حکمران دونوں کا **اللہ کی حاکمیتِ اعلیٰ** کے حقیقی تصور سے یکسر نابالغ اور ناآشنا ہونا ہے۔ جب کسی قوم میں فکری علم اور ایمانی ادراک ہی مٹ جائے، تو اس کی تباہی اور بربادی کو بھلا کیسے روکا جا سکتا ہے؟
امتِ مسلمہ آج مادی مصلحتوں کی غلام بن کر اپنے حقیقی **سود و زیاں (نفع و نقصان) کا ادراک تک کھو چکی ہے**۔
مادی عقل کی عیاریوں نے اسے اسلاف کی غیرت سے دور کر دیا ہے۔ مسلم امہ کو کامیابی، عزت اور دنیا کی امامت کا کھویا ہوا منصب اب اسی صورت میں دوبارہ حاصل ہو سکتا ہے، جب وہ عقلِ مادی کے بتوں کو توڑ کر، اللہ کی حاکمیت کو دل و جان سے تسلیم کرتے ہوئے **اپنے عظیم اسلاف کے نقشِ قدم اور ان کے جذبِ دروں کی پیروی کرے گی۔**
قوموں کی تقدیر مصلحتوں سے نہیں، بلکہ اسی 'صاحبِ جنون' کردار سے بدلتی ہے:۔
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی