آگ ہے، اولادِ ابراہیم ہے، نمرود ہے کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے

Allama Dr Muhammad Iqbal was the great mystic Poet of the Sub Continent India-Pakistan. Iqbal is also the philosopher of East and national poet of Pakistan. Allama Muhammad Iqbal has given a comprehensive message about "Khudi" in the poetry about the downfall of Muslims and method to rise again. This write up in Urdu "آگ ہے، اولادِ ابراہیم ہے، نمرود ہے؛ کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے" is an explanation of the Iqbal's verse on Muslims with the help of various verses of Iqbal, keeping the main theme in focus.

May 08, 2026 - Muhammad Asif Raza

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


آگ ہے، اولادِ ابراہیم ہے، نمرود ہے

کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے


یہ شعرعلامہ محمد اقبال کی کتاب "بانگِ درا" کی مشہور نظم خضرِ راہ سے ہے، جو جنگِ عظیم اول کے درمیاں لکھی گئی تھی اور غالب رائے ہے کہ علامہ اقبال نے اُس جنگ کے دوران مسلمان امت کی طرف بڑھتی ہوئی تباہی کا مشاہدہ کیا اور خلافتِ عثمانیہ کے خلاف رچی سازش سے آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ عالمگیر جنگ کی آگ جو اولادِ ابراہیم یعنی خلافت اسلامیہ کو بھسم کررہی تھی اور "نمرود" بمعنی جنگ چھیڑنے والی یورپی اقوام نے آگ بھرکائی ہوئی تھی۔ علامہ کہہ رہے تھے کہ جیسے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود سے نبرد آزما ہونا پڑا تھا اور آج اولادِ ابراہیم اور مظہرِ نمرود یعنی مغربی اقوام کے مابین آویزش جاری ہے؛ یعنی حق و باطل میں بدستور تصادم ہے۔

اللہ سبحان تعالی کا اس وقت اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کا امتحان لینا مقصود تھا؛ اور جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالی سے اپنے عشق کی معراج اپنائی تو نمرود کی دھکائی آگ ٹھنڈی ہوگئی تھی۔ تو علامہ اقبال سوال کررہے ہیں کہ اے امت محمدﷺ کیا اللہ تعالی کو تیرا امتحان مقصود ہے؟ اُس جنگِ عظیم اول کے وقت آقا کریمﷺ کی امت ناکام رہی اور خلافت کا شیرازہ بکھر گیا تھا۔


آج بھی ہو جو ابراہیم کا ایماں پیدا

آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

علامہ اقبال کی کتاب ضربِ کلیم میں مندرجہ بالا شعر کے ذریعے مسلمانوں کو ترغیب دے رہے ہیں کہ اگر وہ آج بھی حضرت ابراہیمؑ جیسا جذبہ پیدا کریں تو مشکلات آسان ہو سکتی ہیں۔ علامہ اقبال فرما رہے ہیں کہ جیسے نمرود کی بھڑکائی آگ ٹھنڈی ہوگئی تھی؛ آج بھی امت مسلمہ نمرود کی مانند طاغوت کی آگ سے محفوظ رہ سکتی ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ ان کے اندر وہی پختہ ایمان، توکل اور اللہ پر یقین پیدا ہو جائے جیسا کہ حضرت ابراہیمؑ کے پاس تھا۔ پیغام تو سادہ سا ہے کہ مایوسی کے مقابلے میں امید، ہمت اور ایمان کی طاقت کا دامن تھامے رکھنا۔ یعنی اگر مشکلات (آگ) کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، اگر انسان کا ایمان سچا ہو تو وہ مشکلات بھی کامیابی (گلستاں) میں بدل سکتی ہیں۔ یعنی مشکلات میں گھبرانے کے بجائے اللہ پر بھروسہ اور ایمان کو مضبوط کرنا چاہیے۔

علامہ اقبال کے کلام میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر اللہ تعالی کی توحید کی گواہی، ایمانِ کامل، عشقِ حقیقی اور بے خوفی کی علامت کے طور پر ملتا ہے۔ اقبال نے آتش نمرود، قربانی اور عشقِ الٰہی کے تناظر میں حضرت ابراہیم (خلیل اللہ) کو مسلمانوں کے لیے رول ماڈل قرار دیا ہے؛ کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تو اللہ تعالی ہی نے"امام الناس" بنادیا تھا۔


قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر انتہائی تعظیم کے ساتھ کئی مقامات پر آیا ہے۔ اللہ تعالی نے چاہا کہ انہیں "امام" (پیشوا / رہنما) بنائے اور اس کا واضح تذکرہ سورۃ البقرہ کی آیت 124 میں یوں کیا ہے۔

وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ۔۔

"اور (یاد کرو) جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا تو وہ اس نے پوری کر دکھائیں۔ فرمایا: بے شک میں تمہیں لوگوں کا امام بناؤں گا۔ اس نے پوچھا: اور میری اولاد میں سے؟ فرمایا: میرا یہ عہد (امامت) ظالموں کو شامل نہیں ہے"۔

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کی طرف سے دیے گئے تمام امتحانات (مثلاً آگ میں ڈالا جانا، بیٹے کی قربانی وغیرہ) کامیابی سے پورے کر لیے، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں 'امام الناس' (لوگوں کا امام) کا منصب عطا فرمایا۔ یہاں امامت سے مراد صرف نماز پڑھانے والا نہیں، بلکہ یہاں مراد وہ بلند تر رہنما اور پیشوا ہے جس کی پیروی کی جائے اور جو ہدایت کا سرچشمہ ہو۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی نسل کے لیے بھی اس منصب کی درخواست کی، جس پر اللہ نے فرمایا کہ یہ عہد (منصب) ظالموں کو نہیں ملے گا۔ اس واقعے کے بعد اللہ نے 'مقامِ ابراہیم' (کعبہ کی تعمیر کے وقت جہاں کھڑے ہوئے تھے) کو نماز کی جگہ بنانے کا حکم دیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسلام میں ابوالانبیاء (نبیوں کے باپ)، خلیل اللہ (اللہ کے دوست) اور حنیف (سچے دین پر قائم) جیسے القابات سے نوازا گیا ہے۔

اللہ سبحان تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو "امام الناس" بنایا اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج ساری دنیا پر انکی ہی اولاد ( حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہ السلام) کی اولاد کے پاس ہے۔ بعنی یہودی عیسائِی اور مسلمان قومیں جو دین ابراہیم پر قائم ہونے کا دعوی کرتی ہیں۔ یہاں منصبِ امامت سے مراد دینِ حق کی رہنمائی اور امامت کا اعلیٰ منصب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ یہ منصب صرف پاکیزہ، فرمانبردار اور متقی نسل کو ملے گا، جبکہ ظالم (کافر یا گناہگار) اس سے محروم رہیں گے۔ اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی لیکن اسے صرف نیکوکار اولاد کے ساتھ خاص کر دیا۔ اوپر کی آیت بتاتی ہے کہ دین میں منصب کی بنیاد تقویٰ اور اطاعت ہے، نہ کہ صرف خاندانی نسبت۔

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

حکیم الامت، شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کی نظم "جوابِ شکوہ" کا ایک معروف شعر ہے "سبق پڑھ پھر صداقت کا‘ عدالت کا‘ شجاعت کا؛ لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا"؛ اور علامہ اقبال اس شعر سے وہی پیغام دے رہے ہیں، جس کا وعدہ اللہ تعالی نے حضرت ابراہی علیہ السلام سے کیا ہے۔ اقبال امت مسلمہ کو مخاطب ہیں کہ تم دوبارہ سچائی (صداقت)، انصاف (عدالت) اور بہادری (شجاعت) جیسی صفات کو اپناؤ اور ان کا عملی سبق سیکھو۔اور اگر تم نے ان اعلیٰ انسانی اور اسلامی اقدار کو دوبارہ اپنا لیا، تو دنیا کی رہنمائی اور قیادت (امامت) کا فریضہ تمہارے ہی سپرد کیا جائے گا۔ یوں علامہ اقبال امت مسلمہ کو ان کی کھوئی ہوئی میراث (اخلاقی اقدار) یاد دلا کر عروج حاصل کرنے کا راستہ بتا رہے ہیں۔

دورِموجودہ کے حالات کی گہری اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ امتِ مسلمہ عقلی، فکری، نفسیاتی اور جسمانی غلامی میں جکڑی ہوئی ہے۔ آج مسلم ممالک نے اپنی تعلیمی، معاشی اور قانونی نظاموں میں مغربی افکار کو اندھا دھند اپنا لیا ہے۔ اور سوچ میں اسلامی تہذیب، فلسفے اور علوم (خاص طور پر علومِ وحی) کے بجائے مستعار لی گئی نظریات کی برتر سمجھ لیا ہے۔ آج مسلم دنیا میں احساسِ کمتری اس حد تک سرایت کر چکا ہے کہ اپنی زبان، لباس اور طرزِ زندگی کو چھوڑ کر دوسروں کی نقالی میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ اور ذہنی طور پر قبول کر لیا ہے کہ وہ تکنیکی اور سائنسی طور پر دوسروں کے محتاج ہیں۔ معاشی طور پر امت کا بڑا حصہ عالمی مالیاتی اداروں (ورلڈ بینک وغیرہ) اور ٹیکنالوجی کے لیے مغربی یا دیگر طاقتوں کا محتاج ہے۔ یہ اقتصادی محتاجی ہی اصل میں جسمانی اور سیاسی غلامی کی بنیاد ہے۔


حکیم الامت علامہ اقبال نے نظم "خضرِ راہ" (بانگِ درا) کے ایک شعر میں اسکی وجہ بیان کی ہے۔

براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے

ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں

علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسا سچا ایمان اور نظرِ حق پیدا کرنا بہت مشکل ہے، کیونکہ دل میں چھپی ہوئی خواہشات (ہوس) خاموشی سے بت (تصویریں/ محبوب) بنا لیتی ہیں، یعنی انسان اللہ کے بجائے دنیاوی چیزوں سے محبت کرنے لگتا ہے۔ ہوس انسان کے سینے میں دل کے اندر خواہشات کو جنم دیتی ہے؛ جو شدید نفسانی خواہشات، لالچ، یا حرص کو پیدا کرتی ہے؛ جس سے انسان عقل کھو بیٹھتا ہے اور صرف اپنی لذت یا مقصد کا طلبگار بن جاتا ہے۔

اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ کیا ہوگا؟ علامہ اقبال نے فکری آزادی (خود شناسی) کی راہ دکھئی ہے او کہا ہے کہ امت مسلمہ کو سب سے پہلے اپنی شناخت اور اپنی اسلامی تہذیب و اقدار پر اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ جدید علوم کے ساتھ ساتھ اسلامی فکر کی بنیاد پر نصاب سازی کرنا ہوگی، تاکہ عقلی و فکری غلامی کا خاتمہ ہو۔ معاشی خود انحصاری حاصل کرنا ہوگی؛ جو پیداوار، ٹیکنالوجی اور تحقیق میں اپنا لوہا منوانا اور باہمی تعاون (مسلم ممالک کے درمیان) کو فروغ دینے سے ہوگا۔ علامہ اقبال نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "آئینِ جواں مرداں، حق گوئی و بے باکی '؛ اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی"؛ یہ غلامی عارضی ہو سکتی ہے اگر امت اپنے حقیقی نظریے (توحید اور خلافتِ ارضی) کی طرف واپس لوٹ آئے اور سستی و کاہلی چھوڑ کر "محنت اور بصیرت" کا راستہ اختیار کرے۔

یہ دَور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

یہ مصرع علامہ اقبال کی نظم "خودی کا سرِ نہاں لا الہٰ الا اللہ" (ضربِ کلیم) سے ہے۔ شعر یوں ہے کہ "یہ دَور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے؛ صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ"؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دور توحید سے دور ہو کر بت پرستی (مادیت، جھوٹے خداؤں) میں مبتلا ہو چکا ہے، اور اسے ایک ایسے بلند پایہ مومن (ابراہیمؑ) کی تلاش ہے جو اپنے دور کے باطل بتوں کو توڑ کر لا الہٰ الا اللہ کا بول بالا کردے۔

آج کا زمانہ (نمرود کے دور کی طرح) توحید سے غافل ہو چکا ہے۔ اس دور کو ایسے مردِ مومن کی ضرورت ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح باطل عقائد کے بتوں کو توڑ سکے۔ "صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ"؛ یہ دنیا اس وقت مادی خواہشات، مال و دولت اور وہم و گمان کے بتوں کا بت خانہ (صنم کدہ) بنی ہوئی ہے۔ ایسے ماحول میں صرف اللہ کی ذات پر بھروسہ اور توحید (لا الہ الا اللہ) ہی واحد حل ہے۔ علامہ اقبال مسلمانوں کو ان کی کھوئی ہوئی پہچان یاد دلا رہے ہیں کہ وہ اپنی خودی کو بیدار کریں اور مادہ پرستی اور نفس کے بُت کو توڑ کر حقیقی آزادی حاصل کریں۔ یہ پوری نظم اسلامی فکری شاعری میں توحید کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔


حنا بندِ عروسِ لالہ ہے خونِ جگر تیرا

تری نسبت براہیمی ہے، معمارِ جہاں تو ہے

علامہ اقبال کی مشہور نظم طلوعِ اسلام (کتاب: بانگِ درا) کا یہ شعر امید افضاء پیغام ہے۔ شاعر نے دنیا کو ایک دلہن (عروسِ لالہ) سے تشبیہ دی ہے اور اسے آراستہ کرنے والی مہندی (حنا) کو مومن کے خونِ جگر (قربانی، محنت، اور توحید پرستی) سے تعبیر کیا ہے۔ اس میں اقبال نے امت مسلمہ کو ان کا اصل اور بلند مقام یاد دلایا ہے۔

اقبال قوم مسلم کو یاد دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمہارا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام (ملتِ ابراہیمی) سے ہے، جو توحید، قربانی اور تعمیرِ کعبہ کے امام ہیں۔ اور قومِ مسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل (توحید پرستوں) سے ہے، اس لیے تم ہی دنیا کو بنانے اور سنوارنے والے (معمارِ جہاں) اور امن و عدل کی بنیاد رکھنے والے ہو۔ اقبال نے مسلمانوں کو پیغام دیا ہے کہ وہ عملی جدوجہد (خونِ جگر) سے دنیا کو دوبارہ سنواریں۔ مسلمانوں کو اپنی انقلابی اور توحیدی میراث یاد کر کے مایوسی چھوڑ کر دنیا کی امامت کرنی چاہیے۔

شاعرِ مشرق علامہ اقبال نےبالِ جبریل کی ایک نظم "طلوعِ اسلام" میں ایک زبردست پیغام دیا ہے؛ اور قومِ مسلم (خاص طور پر نوجوان) کو اس کی خودی، طاقت اور بلند مقام کی یاد دلاتے ہوئے کیا خوب فرمایا ہے؟اقبال قوم مسلم اور نوجوانانِ اسلام کو مخاطب کر کے کہہ رہے ہیں کہ اپنی اصل حقیقت کو پہچان، تو اللہ کا نائب ہے، اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کر اور شک و مایوسی کو چھوڑ کر یقین کی طاقت اپنا۔ تو اس خدائے پاک (جو کبھی فنا نہ ہونے والا ہے) کی قدرت کا ہاتھ اور اس کی زبان ہے۔ یعنی دنیا میں اللہ کے احکامات اور اس کی طاقت کا مظہر تو خود ہے۔ اے بے خبر انسان! اپنے اندر پختہ یقین پیدا کر، کیونکہ تو اس وقت شک اور وہم (گماں) کے زیر اثر ہے، جس نے تجھے کمزور بنا دیا ہے۔

اے مسلمان ذرا غور تو کر کہ تیری منزل مقصود تو آسمان سے بھی کہیں آگے ہے ۔ تیرے بلند مقاصد کے سامنے ستارے بھی گرد کارواں کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ایک باریک بات جو اس ملت روشن کی گزرے ہوئے ماجرے سے پیدا ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ تو ایشیا کی تمام اقوام کا پاسباں ہو گا ۔

خدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہے

یقین پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے

پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی

ستارے جس کی گردِ راہ ہوں‘ وہ کاررواں تو ہے

یہ نکتہ سرگزشت ملت بیضا سے ہے پیدا

کہ اقوام زمین ایشیا کا پاسبان تو ہے


بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق

پچھلےدوسو سال کی تاریخ میں قومِ مسلم نے اتنی مار کھائی ہے اور بےبسی اورکمزوری کی ایسی مثالیں قائم کیں ہیں کہ اقبال کا اوپر کےمصرع کا پیغام مشکل ہی سے ہضم ہوتا تھا۔ اور اگر کس سے اس پر بات کی جاتی تو وہ ایسی فکر کو بھی پاگل پن قرار دیا جاتا تھا۔ مگر 7 اکتوبر 2023 کو فلسطینی مجاہدین حماس غزہ نے صیہونی یہودی ریاست اسرائیل کی فوج کو جھکا دیا اور تازہ تازہ چالیس دن کی جنگ میں اسلامی جمھوریہ ایران نے تاریخ کی سب سے مہلک ہتھیاروں سےلیس فوج امریکہ بمعہ اسرائیلی فوج کی طاقت کے بُت کو پاش پاش کردیا ہے۔


عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

یہ مصرع عقل اور مصلحت کے پچاریوں کے لیے پیغام ہے کہ دو سوسال کی غلامی کے پنچرے میں قید لوگو دیکھ لو کہ تمھاری عقل ابھی تک سوچ بچار، مصلحتوں اور دور سے نظارہ کرنے (لبِ بام) میں مصروف رہی ہے۔ اور عشق حقیقی اور جذبۂ صادق شہادتِ حسین علیہ السلام اورعمل (حضرت ابراہیمؑ کی طرح) اور جرات حیدر کرار حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مستعار لے کر عقل و خرد کی وہ منزلیں طے کی ہیں کہ عشق نے نتائج پیدا کئے ہیں؛ یہ کردار عقل و دانش کی پروا کیے بغیر میدانِ عمل میں کود پڑنا نہیں ہے، بلکہ عشق (جنون/عمل) اور عقل (سوچ بچار) کی شاندار منزل ہے۔ عقل حیران ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟ لیکن اے قوم مسلم کیا اللہ سحبان تعالی کا وعدہ نہیں ہے کہ "(اور تم لوگ ہمت نہ ہارو اور نہ غم کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو)۔"۔سورہ آل عمران کی آیت 139

مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے

تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی

علامہ اقبال کہہ رہے ہیں کہ مغرب کے تہذیبی، فکری اور مادی طوفان (حملہ) نے(ایرانی) مسلمانوں کو ان کی اپنی حقیقت سے قریب کردیا ہے۔ جس طرح سمندر کی تیز لہروں (تلاطم) کی وجہ سے ہی سیپ کے اندر کا موتی (گوہر) نکھرتا اور سیراب ہوتا ہے، اسی طرح مغرب کی دشمنی اور سازشوں نے (ایرانی) مسلمانوں کو نیند سے جگایا اور انہیں پھر سے اسلامی تعلیمات کی طرف رجوع کرنے پر مجبور کیا ہے۔

صیہونی یہودیوں اور مغربی طاقتوں نے دنیا میں جس تہذیب و تمدن کو فروغ دیا ہوا ہے اور وہاں کے استعمار نے جس طرح کمزور ملکوں خصوصیت سے مسلم حکومتوں کو زیر نگیں کر لیا ہے اس کا رد عمل بالاخر دنیا بھر کے مسلمانوں میں رونما ہونے لگا ہے ۔ اس صورت حال میں تمام مسلم ممالک کو پھر سے اسلامی تعلیمات کی طرف رجوع کرنےکی ترغیب ملنی چاہیے۔ کیا پچھلے دو سو سال کی مغربی تہذیب کی شوریدہ موجوں کے تند و تیز تھپیڑے، ہر خاص و عام معمولی مسلمان کو قطرہَ آب کی طرحقیمتی گوہر میں ڈھال دینے کے لی کافی نہیں ہیں؟


عطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے

شکوہِ ترکمانی، ذہنِ ہندی، نُطقِ اعرابی

اے ملت اسلامیہ! اب وقت آ پہنچا ہے کہ ہم مسلمان ایک بار پھر ترک و ایران جیسی شان و شوکت، ہندوستانیوں جیسی فکر اور عرب اسلاف جیسی تہذیب، فصاحت و بلاغت اور حق گوئی (گفتگو) حاصل کریں۔ اور مسلم نشاۃ الثانیہ یعنی اپنی کھوئی ہوئی شان و شوکت کا عروج حاصل کریں۔ اے بردرانِ اسلام یاد رکھنا کہ "یہ گھڑی محشر کی ہے، تُو عرصۂ محشر میں ہے"۔


More Posts