افراد، معاشرہ اور قوم
An Islamic society is the magistrate of such individuals — who are brave and grateful; So that Allah may be pleased with the actions and deeds of them. Moral and Ethical values are a great and strong source of temptation for established societies. A group of people with strong moral and ethical sense creates an Islamic society and nation. This write up in Urdu "افراد، معاشرہ اور قوم" is an opinion in this regards.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
افراد، معاشرہ اور قوم
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
حکیم الامت علامہ اقبال کا یہ شعر کسی بھی اسلامی معاشرے میں بسنے والے انسانوں کی شان اور ایک سچے مؤمن کی شخصیت کے متوازن پہلوؤں کو خوبصورتی سے واضح کرتا ہے۔ مؤمن جب حق اور باطل کے معرکے میں کھڑا ہو تو وہ باطل کے سامنے لوہے کی دیوار بن جاتا ہے، لیکن جب وہ اپنے بھائیوں اور دوستوں کی محفل میں ہوتا ہے تو اس کا رویہ ریشم کی طرح نرم، دلپذیر اور سراپا محبت بن جاتا ہے۔ یہی نرم خوئی، خوش اخلاقی اور اپنے ساتھیوں کے لیے دیدہ و دل فرشِ راہ کرنا دراصل دینِ اسلام کا وہ جوہر ہے جسے اخلاقِ حسنہ کہا گیا ہے۔
اس شعر میں اقبال واضح کرتے ہیں کہ ایک اسلامی معاشرہ ایسےافراد کا مجتمع ہوتا ہے—جو باہم شیر و شکر رہتے ہیں؛ تاکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کریں؛ یہ خوشنودی کسی بھی مومن کی معراج ہے۔ ایسے افراد کا گروہ ایک اسلامی معاشرہ اور قوم کی تخلیق کرتا ہے؛ اور جب اسی گروہِ مومن کو اپنی ریاست کا دفاع کرنا پڑتا ہے تو وہ فولاد بن کر 'بنیانٌ مرصوص' (سیسہ پلائی ہوئی دیوار) کی مثال بن کر خدا کے عدو (دشمن) سے ٹکراتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اخلاقِ حسنہ کو معاشروں کے لیے فتنہ و فساد سے بچاؤ کا ایک بہترین اور مضبوط ذریعہ بنایا ہے اور اپنے مومن بندوں کو ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ سلوک اور نرمی کا حکم دیا ہے۔ دینِ اسلام محض چند عبادات کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں بندوں کے حقوق اور باہمی معاملات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ جب ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ مخلصانہ اور نیک رفاقت قائم کرتا ہے، تو اس کا یہ عمل محض ایک سماجی ضرورت نہیں رہتا، بلکہ اللہ کی رضا کی خاطر ہونے کی وجہ سے ایک اعلیٰ درجے کی عبادت بن جاتا ہے۔
زمینی خواہشات سے پاکیزگی اور افلاکی رفعت
اعلیٰ اور مخلصانہ رفاقت کا قیام اس وقت تک ممکن ہی نہیں جب تک انسان کا دل حسد، خود غرضی، طمع اور دنیاوی مفادات سے پاک نہ ہو۔ سچی دوستی اور حسنِ سلوک کے لیے انسان کو اپنی انا اور زمینی خواہشات کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ علامہ اقبال نے مؤمن کی اسی صفتِ الٰہی کو ایک اور خوبصورت شعر میں یوں بیان کیا ہے:۔
افلاک سے ہے اس کی حریفانہ کشاکش
خاکی ہے مگر خاک سے آزاد ہے مومن
ہر ابن آدم بشول مؤمن مٹی سے بنا ہے، اس کا وجود خاکی ہے، لیکن اس کی سوچ، اس کے مقاصد اور اس کے اخلاق اس مادی دنیا اور مٹی کی پستیوں (حرص، بغض، کینہ) کے اسیر نہیں ہوتے۔ وہ ان زمینی آلائشوں سے آزاد ہو کر افلاک سے حریفانہ کشاکش رکھتا ہے، یعنی اس کا ہر عمل اور ہر رشتہ بلند تر روحانی مقاصد اور رضائے الٰہی کے لیے ہوتا ہے۔ جب انسان کا دل مادی فائدوں سے آزاد ہو جائے، تب ہی وہ کسی کا مخلص رفیق بن سکتا ہے اور اس کی رفاقت "عملِ عبادت" کا روپ دھارتی ہے۔
ہر اولادِ آدم کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی ابتداء جنت میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے ہوئی اور کامیاب انسانوں نے واپس جنت ہی میں جانا ہے—یعنی ہماری اصل منزل بلند تر افلاک کی رفعت ہے۔ علامہ اقبال نے مادی امارت اور غلبے کی حقیقت کھولتے ہوئے انسان کو اس کے اصل مرکز کی طرف متوجہ کیا:۔
تو نے پوچھی ہے امارت کی حقیقت مجھ سے
آبرو ریزیِ فرعون و قباد ہے یہ
ذرۂ خاک ہے تو، تیری تجلی ہے محیط
اپنے مرکز سے اگر دور ہے، برباد ہے یہ
انسان اگر اپنے مرکز اور رب کے ساتھ تعلق سے دور ہو جائے تو مادی دنیا کی بڑی سے بڑی بادشاہت بھی بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ انسان کی اصل طاقت اس کی وہ روح ہے جو افلاکی رفعتوں کی طرف پرواز کرتی ہے۔ اقبال نے روح کی اسی پرواز اور افلاکی رفعت کی طرف ایک اور جگہ اشارہ کیا:۔
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور
کرگس (گدھ) زمین کی پستیوں اور مردار پر نظر رکھتا ہے جبکہ شاہین آسمان کی وسعتوں میں اڑتا ہے۔ اسی طرح ایک عام دنیا دار انسان کی نظر مادی فائدوں اور کم تر زمینی خواہشات پر ہوتی ہے، جبکہ ایک سچا مؤمن شاہین کی طرح بلند اخلاق، پاکیزہ رفاقت اور رضائے الٰہی کی جستجو میں مگن رہتا ہے۔
اسوۂ حسنہ اور اخلاقِ نبوی کا معیار
ہمارے آقا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے سچے بندے اور اس کے آخری رسول ہیں—جو اخلاق کے اعتبار سے کائنات میں سب سے بہترین اور معاملات میں سب سے زیادہ شریف، عالی ظرف اور رحیم تھے۔ آپ ﷺ کی پوری زندگی حسنِ اخلاق اور مادی دنیا سے بے رغبتی کا ایک عملی اور کامل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے خود ارشاد فرمایا کہ میری بعثت کا مقصد ہی مکارمِ اخلاق (اعلیٰ اخلاق) کی تکمیل ہے۔ آپ ﷺ کی رفاقت اور مجلس میں بیٹھنے والا ہر شخص خود کو محفوظ، محترم اور معزز محسوس کرتا تھا، کیونکہ آپ ﷺ نے دشمنوں کے ساتھ بھی ہمیشہ درگزر اور شرافت کا معاملہ فرمایا۔
اچھی رفاقت اور قرآنِ کریم کی ہدایت
معاشرے میں سچائی، امن اور اچھے ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں اہل ایمان کو ایک خاص طرزِ زندگی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ سُوۡرَةُ التّوبَة کی آیت 119 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:۔
"اے ایمان والو! الله سے ڈرتے رہو اور سچوں کے ساتھ رہو۔"
یہ آیت مبارکہ واضح کرتی ہے کہ تقویٰ کا حصول اور ایمان کی حفاظت تب ہی ممکن ہے جب انسان برے ماحول سے نکل کر نیک, سچے اور مخلص لوگوں کی صحبت اختیار کرے۔ اچھی رفاقت انسان کے اندر نیکی کی رغبت پیدا کرتی ہے اور برائیوں سے دور رکھتی ہے، جبکہ بری صحبت اچھے بھلے انسان کو بھی گمراہی کے راستے پر ڈال دیتی ہے۔
گفتگو کی سچائی اور عمل کا سدھار
اچھی رفاقت اور خلوص کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ انسان کی زبان سے ہمیشہ حق اور سچ بات نکلے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الاحزاب (آیات 70-71) میں ارشاد فرمایا:۔
"اے ایمان والو الله سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو تاکہ وہ تمہارے اعمال کو درست کرے اور تمہارے گناہ معاف کر دے اور جس نے الله اور اس کے رسول کا کہنا مانا سو اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔۔۔"
سچی اور سیدھی بات نہ صرف انسان کے اپنے اعمال کی اصلاح کرتی ہے، بلکہ یہ باہمی تعلقات میں غلط فہمیوں کا خاتمہ کر کے سچی رفاقت کی بنیاد بنتی ہے۔
جدید دور کا المیہ اور مواصلاتی چیلنجز
آج کے جدید دور میں یہ مسئلہ مزید الجھ گیا ہے۔ ہمارے طرزِ زندگی بدل چکے ہیں، اور ان کے ساتھ ہی لوگوں کے باہمی رابطے اور ملاقات کے انداز بھی تبدیل ہو گئے ہیں۔ وہ محفلیں جو کبھی لوگوں کو گفتگو، درد مندی اور باہمی تعلق استوار کرنے کے لیے اکٹھا کرتی تھیں، اب اکثر فون کی اسکرینوں کے زیرِ اثر رہتی ہیں۔ اگرچہ مواصلاتی ذرائع اور سوشل میڈیا نے دوری پر موجود لوگوں کے درمیان فاصلے مٹا دیے ہیں، لیکن ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ انہی ذرائع نے قریب بیٹھے ہوئے لوگوں کی توجہ اپنے پاس موجود افراد سے ہٹا کر کہیں اور مرکوز کر دی ہے۔ ایک ہی گھر یا محفل میں بیٹھے لوگ جسمانی طور پر قریب مگر ذہنی طور پر ایک دوسرے سے میلوں دور ہوتے ہیں۔
اس مادی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے دور میں، مناسب سماجی آداب اور عمدہ کردار کی ہماری ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے؛ کیونکہ ان کی بنیاد اسلامی تعلیمات پر استوار ہے اور یہ ایک ایسی عبادت ہے جس کے ذریعے مسلمان اپنے رب کے قریب تر ہوتا ہے۔
باہمی تنوع اور میل جول کا اصل مقصد تو اللہ تعالیٰ نے سورہ الحجرات (آیت 13) میں یوں بیان فرمایا ہے:۔
"اے لوگو ہم نے تمہیں ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہارے خاندان اور قومیں جو بنائی ہیں تاکہ تمہیں آپس میں پہچان ہو بے شک زیادہ عزت والا تم میں سے الله کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے بے شک الله سب کچھ جاننے والا خبردار ہے"
مطلب یہ کہ قوموں اور قبیلوں کا فرق تعصب یا دوری کے لیے نہیں بلکہ باہمی تعارف، رابطے اور ایک دوسرے کو پہچاننے کے لیے تھا۔ مگر آج اسکرینوں کی دنیا نے انسان کو تنہائی پسند بنا کر اس حقیقی پہچان اور رفاقت کے حسن کو دھندلا دیا ہے۔
سماجی تعلقات اور صبر و تحمل کا نبوی اصول
اسلام ہمیں رہبانیت یا معاشرے سے کٹ جانے کی تعلیم نہیں دیتا، بلکہ لوگوں کے درمیان رہ کر ان کے حقوق پورے کرنے کا درس دیتا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:
"وہ مومن جو لوگوں کے ساتھ گھل مل کر رہتا ہے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر صبر کرتا ہے، اس مومن سے بہتر ہے جو لوگوں کے ساتھ گھل مل کر نہیں رہتا اور نہ ہی ان کی تکلیف پر صبر کرتا ہے۔"
یہ حدیث پاک ثابت کرتی ہے کہ لوگوں کے رویوں کو برداشت کرنا، ان کے ساتھ نباہ کرنا اور سوشل میڈیا کی تنہائی سے نکل کر حقیقی دنیا میں لوگوں کا سہارا بننا ایک عظیم عبادت اور مومن کا خاصہ ہے۔
حسنِ ظن، درگزر اور رشتوں کی حفاظت
اچھے تعلقات کو برقرار رکھنے کا ایک لازمی حصہ یہ ہے کہ غیر ارادی غلطیوں کو نظر انداز کیا جائے اور دوسروں کے الفاظ و افعال سے منفی معنی اخذ کرنے یا ان کے پوشیدہ ارادوں اور مقاصد کی ٹوہ لگانے سے گریز کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الحجرات (آیت 12) میں معاشرتی امن کو تباہ کرنے والی ان بیماریوں سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
"اے ایمان والو بہت سی بدگمانیوں سے بچتے رہو کیوں کہ بعض گمان تو گناہ ہیں اور ٹٹول بھی نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی سے غیبت کیا کرے"
کتنے ہی تعلقات محض بدگمانی اور دوسروں کی خامیوں پر ہی نظر جمائے رکھنے کی عادت کی وجہ سے تباہ ہو گئے؟ اور کتنے ہی محبت کے رشتے ایسے معاملات کو نظر انداز کرنے اور دوسروں کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے کی بدولت محفوظ رہے؟ جب انسان معاف کرنے کا رویہ اپناتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کا اجر اپنے ذمے لے لیتا ہے۔
چنانچہ سورہ الشوریٰ (آیت 40) میں ارشاد ہے:۔
"پس جس نے معاف کر دیا اور صلح کر لی تو اس کا اجر الله کے ذمہ ہے بے شک وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا"
خوش اسلوبی اور مثبت برتاؤ کا اثر
اچھی رفاقت کا دوسرا بڑا اصول یہ ہے کہ انسان اپنے آس پاس کے لوگوں پر خوش اسلوبی سے گفتگو، نرم رویے اور عمدہ برتاؤ کے ذریعے مثبت اثر ڈالے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیتے ہوئے سورہ البقرہ (آیت 83) میں فرمایا ہے:
"اور لوگوں سے اچھی بات کہنا"
پس اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ کا خوف ایک ایسا گہرا اثر رکھتا ہے جو تمہارے روزمرہ معاملات میں ظاہر ہوتا ہے—تمہارے بازاروں اور گھروں میں، تمہارے پڑوسیوں کے ساتھ اور گلی کوچوں میں۔ تقویٰ کا تقاضا ہی یہی ہے کہ باہمی تنازعات کو ختم کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا سورہ الانفال (آیت 01) میں ارشاد ہے:
"سو الله سے ڈرو اور آپس میں صلح کرو اور الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اگر ایمان دار ہو۔۔"۔۔۔
حسنِ سلوک کے اصل حقدار: اہل خانہ سے پڑوسیوں تک
اللہ سے ڈریں اور جان لیجئے کہ اس دین کی خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ یہ مسلمان کی روزمرہ زندگی کے ہر پہلو میں عمدہ اخلاق کو طرزِ حیات کے طور پر قائم کرتا ہے۔ حسنِ سلوک کے سب سے زیادہ حقدار وہی لوگ ہیں جو انسان کے سب سے زیادہ قریب ہیں: یعنی اس کے والدین، اس کے اہل خانہ اور اس کی اولاد۔
کسی مسلمان کے لیے یہ بات ہرگز مناسب نہیں کہ وہ دنیا والوں سے تو خندہ پیشانی اور خوش اخلاقی سے پیش آئے، لیکن گھر آتے ہی اس کے ماتھے پر بل آ جائیں، وہ ترش روئی کا مظاہرہ کرے یا اپنے اہل خانہ کے ساتھ سختی سے پیش آئے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:۔۔
"تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے حق میں بہترین ہو۔"
لہٰذا، اپنی خوش اخلاقی، نرم گفتاری اور صبر و تحمل کا سب سے بڑا اور اولین حصہ اپنے اہل خانہ کو ہی دو؛ کیونکہ وہی تمہارے حسنِ سلوک اور اچھے برتاؤ کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔
پھر اچھے اخلاق کا یہ دائرہ آپ کے آس پاس کے تمام لوگوں تک پھیل جاتا ہے: آپ اپنے وعدوں اور ملاقات کے اوقات کی پاسداری کرتے ہیں، اپنے ساتھیوں سے خندہ پیشانی سے ملتے ہیں، پڑوسیوں کو تکلیف پہنچانے سے باز رہتے ہیں اور ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں، نیز ان تمام لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آتے ہیں جن سے آپ کے تعلقات یا قربت کا واسطہ ہو؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام حقوق اور رشتوں کو اپنے اس جامع اور عظیم فرمان میں یکجا کر دیا ہے:۔
"وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ۗ"
(اور اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کرو اور رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریبی پڑوسیوں، اجنبی پڑوسیوں، پہلو کے ساتھیوں (سفر و حضر کے رفقاء)، مسافروں اور اپنے مملوکوں (ملازمین) کے ساتھ بھی بھلائی کرو۔) — (سورہ النساء: 36)۔۔۔
حاصلِ کلام
یوں معاشرے اپنے ارکان کے باہمی تعلقات کے معیار اور ان میں پائی جانے والی خوبیوں کی بدولت مضبوط ہوتے ہیں؛ کیونکہ عمدہ اخلاق ایک ایسی عبادت ہے جس کے ذریعے مسلمان اپنے رب کے قریب ہوتا ہے، اور اس کا اثر فرد سے نکل کر اس کے خاندان اور معاشرے تک پھیلتا ہے۔ جب نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ وہ کون سی چیزیں ہیں جو لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں لے جانے کا باعث بنتی ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کا خوف اور عمدہ اخلاق۔"
لہٰذا، اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور اپنی محفلوں، باہمی میل جول، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی تحریروں اور دوسروں کو دیکھنے کے انداز کو امن، تحفظ اور پاکیزگی کا پیغام بناؤ۔ معافی اور درگزر کا رویہ ہی وہ اکسیر ہے جو دلوں کی کڑواہٹ کو محبت میں بدل دیتا ہے۔ چنانچہ سورہ فصلت (آیات 34-35) میں پروردگارِ عالم کا ارشادِ گرامی ہے:
"وَلَا تَسۡتَوِى الۡحَسَنَةُ وَ لَا السَّيِّئَةُ ؕ اِدۡفَعۡ بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِىۡ بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِىٌّ حَمِيۡمٌ ﴿۳۴﴾ وَمَا يُلَقّٰٮهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡاۚ وَمَا يُلَقّٰٮهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ"
(اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی (برائی کا) دفعیہ اس بات سے کیجیئے جو اچھی ہو پھر ناگہاں وہ شخص جو تیرے اور اس کے درمیان دشمنی تھی ایسا ہوگا گویاکہ وہ مخلص دوست ہے (۳۴) اور یہ بات نہیں دی جاتی مگر انہیں جو صابر ہوتے ہیں اور یہ بات نہیں دی جاتی مگر اس کو جو بڑا بخت والا ہے۔)
معاشرے کو فتنہ و فساد، نفرت، اسکرینوں کی مصنوعی تنہائی اور حسد کی آگ سے بچانے کا واحد حل یہ ہے کہ ہم اپنے اندر عالی ظرفی پیدا کریں۔ اپنے آقا ﷺ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے مادی خواہشات کے خاکدان سے بلند ہوں، سچوں کا ساتھ دیں، اچھے دوست بنیں اور اچھے ساتھی تلاش کریں، تاکہ ہماری دنیا بھی پرامن بنے اور آخرت میں بھی ہمیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی دائمی رفاقت نصیب ہو سکے۔