افلاطون کا جمہوریہ (ریپبلک) : تصورِ خیر، جہاز کی تمثیل
Plato’s "Parable of the Ship" (often called the Ship of State) from The Republic (Book VI) is famous for comparing a state to a ship, argues that running a government requires specialized knowledge, and just as sailors cannot navigate without training, ordinary citizens shouldn't lead without wisdom. This write up in Urdu "افلاطون کا جمہوریہ (ریپبلک) : تصورِ خیر، جہاز کی تمثیل" is discussing the concept for educational purposes.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
افلاطون کا جمہوریہ (ریپبلک) : تصورِ خیر، جہاز کی تمثیل
افلاطون کی کتاب جمھوریہ میں ایک تمثیل "ریاستی جہاز" میں ملتی ہے(جو 'دی ریپبلک' کی چھٹی جلد میں ملتی ہے)۔ یہ تمثیل ایک طاقتور استعارے کے طور پر کام کرتی ہے؛جو ریاستی انتظام و انصرام کا موازنہ خطرناک پانیوں میں جہاز چلانے سے کرتی ہے۔ یہ اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ حقیقی قیادت کے لیے حقیقی مہارت کیوں ناگزیر ہے، اور کس طرح "نیکی کا تصور" (وجودِ خیر) معاشرے کی جانب سے انصاف کے حصول کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
اس تمثیل میں، افلاطون ایک ناقص جمہوریتی ریاست کے انتظام و انصرام میں نافذ طریقۂ کار کو بیان کرتا ہے:۔
جہاز کا مالک: یہ شہریوں یا عوام کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ جسامت میں تو بڑا اور طاقتور ہے، لیکن ظاہری اعتبار سے کم نظر اور کم سننے کی صلاحیت کا حامل ہے، اور جہاز رانی کے فن سے مکمل طور پر ناواقف ہے۔
عملہ/ ملاح: یہ سیاست دانوں اور عوام کو گمراہ کرنے والے رہنماؤں (ڈیماگوگس) کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ جہاز کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے آپس میں جھگڑتے اور بغاوت کرتے ہیں، اور جہاز کے مالک سے اقتدار حاصل کرنے کے لیے خوشامد یا طاقت کا سہارا لیتے ہیں۔
حقیقی ناخدا: یہ فلسفی کی نمائندگی کرتا ہے۔ چونکہ وہ جہاز رانی کے حقیقی امور (ہواؤں، ستاروں اور موسموں کا مطالعہ) پر توجہ مرکوز کرتا ہے، اس لیے عملہ اسے نظر انداز کر دیتا ہے یا اسے محض بیکار "ستارے تکنے والا" سمجھ کر مسترد کر دیتا ہے۔
’خیر کا تصور‘ (تصورِ خیر): افلاطون ’خیر کی ماہیت‘ (وجودِ خیر) کو ایک حقیقی ناخدا (یا جہاز ران) کے حتمی مقصد کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس کے فلسفے میں، ’خیر‘ ہی وہ اعلیٰ ترین حقیقت ہے جو تمام تر سچائی، علم اور اقدار کا سرچشمہ ہے۔
مہارت بمقابلہ مقبولیت: جس طرح بحری سفر میں بقا کے لیے ناخدا کو ستاروں کے بارے میں معروضی علم کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح ایک منصفانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے حکمران کو ’خیر‘ کے بارے میں معروضی علم درکار ہوتا ہے۔
سیاست کا مقصد: افلاطون کے نزدیک، ریاست کا حتمی مقصد ملاحوں کی بے لگام خواہشات کی تسکین نہیں، بلکہ پورے معاشرے کا رخ ’خیر‘ کی جانب موڑنا ہے۔
پلاٹو / افلاطون نے استدلال کیا کہ ایک ایسے رہنما کے بغیر، جو مطلق سچائی اور انصاف (اچھی چیز) کو سمجھتا ہو اور اجتماعی خیر یعنی سب کی کامیابی چاہتاہو، ریاست کا جہاز لامحالہ حادثے کا شکار ہو جائے گا اور ڈوب جائے گا۔ اس نے شغلیہ یا ڈھونگی جمہوری نظاموں پر تنقید کی کیونکہ اپنے اہل افراد کو نظر انداز کردیتا ہے؛ اور اپنے جہاز کو سب سے زیادہ اہل افراد کی بجائے سب سے زیادہ شور مچانے والی آوازوں کو اچھا سمجھتے ہوئے بااختیار بنا دیتے ہیں؛ جو بالآخر تباہی کا باعث بنتی ہے؛ جب نااہل سربراہ کے زیرِ کمان جہاز کا عملہ بھی حماقت کا پہاڑ بن جاتے ہیں اور لامحالہ سارا جہاز کا سفر غیر محفوظ ہوجاتا ہے۔
افلاطون کا جمہوریہ (ریپبلک) : تصورِ خیر، جہاز کی تمثیل کی بحث کیا ہے؟
سقراط نے تھراسیماکس کی طرف دیکھا اور کہا، کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ جب ہم سمندر کے سفر پر نکلتے ہیں اور طوفان کا خطرہ ہوتا ہے، تو جہاز کی کمان کس کے ہاتھ میں دیتے ہیں؟ کیا ہم جہاز پر موجود مسافروں سے اکثریت کی رائے پر ووٹ لیتے ہیں یا کسی ایسے شخص کو کپتان چنتے ہیں جو بادبانوں کے رخ، سمندری راستوں اور ستاروں کے علم سے واقف ہو؟
تھراسیماکس نے جواب دیا، یقیناً ہم کپتان کو ہی چنیں گے کیونکہ جہاز چلانا ایک فن ہے جس کے لیے مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ سقراط نے مسکراتے ہوئے کہا، تو پھر یہ کتنی عجیب بات ہے کہ جب ریاست نامی اتنے بڑے اور پیچیدہ جہاز کو چلانے کی بات آتی ہے، تو ہم اس کی کمان کسی ماہر کے ہاتھ میں دینے کے بجائے بازار کے عام لوگوں، دکانداروں، لوہاروں اور منافع خوروں کے ہجوم کے حوالے کر دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کثرتِ رائے سے سچ کا فیصلہ ہو جائے گا۔
جمہوریت بظاہر ایک بہت خوبصورت اور آزاد نظام دکھائی دیتی ہے جہاں ہر شخص کو اپنی مرضی کرنے کی چھوٹ ہوتی ہے، لیکن یہی آزادی اس کی سب سے بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اس نظام میں اسمبلی ایک ایسا مجمع بن جاتی ہے جہاں علم اور حکمت کی کوئی قدر نہیں ہوتی، بلکہ وہاں وہ شخص سب سے زیادہ کامیاب ہوتا ہے جو ہجوم کی نفسیات کو سمجھتا ہو اور انہیں وہ باتیں سنائے جو وہ سننا چاہتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص ایک وحشی اور طاقتور جانور کو قابو کرنا چاہے، وہ یہ نہیں سیکھتا کہ اس جانور کے لیے کیا چیز اچھی ہے اور کیا بری، بلکہ وہ صرف یہ جانتا ہے کہ جانور کس بات پر غصے میں آتا ہے اور کس بات پر خوش ہوتا ہے۔ اسمبلی کے یہ سیاستدان اور منافع خور بھی عوام کی خواہشات کے غلام ہوتے ہیں، وہ عوام کو سستی چیزیں مہنگے داموں بیچنے کی ترکیبیں سوچتے رہتے ہیں اور ان کی نظر صرف اپنے فائدے پر ہوتی ہے۔
جب ایک دکاندار یا لوہار، جسے حکومت چلانے کا کوئی علم نہیں ہوتا، اسمبلی میں بیٹھ کر قانون بناتا ہے؛ تو وہ ریاست کے مفاد کے بجائے اپنے ذاتی یا طبقاتی مفاد کو سامنے رکھتا ہے۔ عوام کے اصل مسائل، ان کی اخلاقی تربیت اور انصاف کی فراہمی کے بارے میں سوچنے کا وقت کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت آہستہ آہستہ افراتفری میں بدل جاتی ہے، جہاں ہر انسان خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتا ہے۔
ایک شغلیہ یا ڈھونگی جمھوریہ میں نظام اور نسق حکومت طاقتور کی باندی بن جاتی ہے اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول نافذ ہوجاتا ہے؛ اور ایسی جمھوریہ تباہی کی طرف سفر کر رہی ہوتی ہے؛ اور جب استاد شاگرد سے ڈرنے لگے؛ باپ بیٹے کے سامنے جھکنے لگے اور ہر جاہل خود کو دانا سمجھنے لگے، تو سمجھ لو کہ جمہوریت اپنے انجام کے قریب ہے۔ اس ہجوم میں سے پھر کوئی ایسا چلاک اور خوشامدی شخص ابھرتا ہے جو خود کو عوام کا سب سے بڑا ہمدرد ظاہر کرتا ہے، اور یہی شخص آگے چل کر بدترین آمر اور جابر بن جاتا ہے۔ اس لیے جب تک ریاست کے فیصلے ان لوگوں کے ہاتھ میں نہیں آتے جو فلسفے اور سچی حکمت سے محبت کرتے ہیں، تب تک انسانیت کو ان کے مسائل اور مصائب سے نجات نہیں مل سکتی۔
شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے کہا ہے کہ "جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں؛ بندوں کو گِنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے"۔ یعنی علامہ اقبال نے جمہوریت کے اس فلسفے پر تنقید کی ہے جہاں اکثریت کی بنیاد پر فیصلے ہوتے ہیں، اور انسانوں کی گنتی (ووٹ) کی جاتی ہے جبکہ ان کی قابلیت، عقل، اور سیرت (وزن) کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اور اس کے مقابل یہ فرمایا کہ مسلمان (امت) کی بنیاد اور وحدت کا سرچشمہ مختلف ہے، لہذا اسے مغربی اقوام پر قیاس نہیں کرنا چاہیے۔ مغربی قوموں کی پہچان علاقہ اور نسل ہے، جبکہ مسلمانوں کی پہچان ان کا مشترکہ دین اور عشقِ رسول ﷺ ہے۔
اپني ملت پر قياس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکيب ميں قوم رسول ہاشمي
ان کي جمعيت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعيت تري
دامن ديں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعيت کہاں
اور جمعيت ہوئي رخصت تو ملت بھي گئي
اختتامی کلمات
ریاست کوئی بھی ہو اس وقت تک عزت و وقار، خوشحالی اور ترقی حاصل نہیں کرسکتی جب تک اس کے شہری بزعم خود حقیقی معنوں میں آزاد و خود مختار نہ ہوں اور اپنی ریاست کے لیے مخلص، ذمہ دار اور فعال کردار ادا نہ کریں۔ ایک نظریاتی ریاست کے شہریوں کی اولین ترجیح خود قومی نظریہ ہوتا ہے؛ اور معاشرتی اقدار، ملکی وسائل کی حفاظت اور منصفانہ تقسیم، قومی سطح پر وسیع ترتعلیم و تربیت، بشمول جدید علم کا حصول اور مہارتوں (اسکلز) کا قبولِ عام ہونے کی جدوجہد کرتے ہیں؛ تاکہ قومی تمدنی، معاشرتی اور معاشی ترقی ممکن ہو سکے۔
افلاطون کی جمھوریہ کی بحث خیر کی تلاش کی تھی؛ اور آج کی دنیا میں ایک پانی کے جہاز کی تمثیل میں سے ایک ایسے مثالی قومی معاشرے کا قیام کا تصور بنتا ہے جہاں یہ خیر ہر عام شہری تک پہنچ سکے۔ ایک اسلامی ریاست محض ایک ہجوم کا اکھٹ نہیں ہوتا؛ بلکہ ایک ایسا منصفانہ نظام کا قیام ہوتا ہے؛ جو تمام شہریوں کی روحانی اور اخلاقی ترقی کی ضامن ہوتا ہے؛ اور اپنے شہریوں میں عقل، جرات، اور اعتدال جیسی خوبیاں پیدا کرتا ہے۔
ایک باشعور تمدن اور تہذیب کی ریاست میں شہری اپنا فرض سمجھ کر انتخابات میں درست اور میرٹ کی بنیاد پر ووٹ کا استعمال کرتا ہے؛ تاکہ اہل قیادت کو سامنے لائے۔ اور اتحاد اور بھائی چارہ: لسانی، مذہبی اور علاقائی تعصبات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوتا ہے۔ شہری جب اپنے حصے کا کردار ایمانداری سے ادا کرتے ہیں، تب ہی ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی حقوق، تحفظ، اور انصاف فراہم کرنے کے قابل بنتی ہے۔ ایک جہاز تب ہی اپنا سفر خیر و برکت سے مکمل کرتا ہے جب اسکا کپتان اور عملہ خیر کے نمائندگی کے اہل ہوں۔