آفاتِ سماوی؛ آزمائش یا عذاب
The man is a special creation of ALLAH Al-Mighty and He has bestowed him habitat Earth, with many bounties and testing grounds having its own colours, sounds and vibes. Natural calamity is one such testing times for the survivors. This write up in Urdu "آفاتِ سماوی؛ آزمائش یا عذاب" is an opinion about the calamities in light of Quran and Sunnah.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
آفاتِ سماوی؛ آزمائش یا عذاب
یہ کائنات اور یہ جہان جس کا ہم حصہ ہیں؛ یہ آسمان اور یہ زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؛ سب کے خالق و مالک اللہ سبحان تعالی ہیں۔ وہ ہر شے پر، ہر دم ہر آن قادر ہے؛ جیسا چاہے، ویسا کرے؛ چاہے تو انعام کردے اور چاہے تو چھین لے۔ ہر دیکھنے والی آنکھ اور ہر غور کرنے والا ذہن جانتا ہے کہ اُس کا رحم، فضل و کرم کیسے کارفرماء ہوتا ہے اور جب وہ ناراض ہوتا ہے تو کیسے چرخ کہن اپنی چال بدل لیتا ہے۔
قدرتی آفت، یا سماوی آفت، قدرتی مظاہر کی وجہ سے پیدا ہونے والا ایک شدید واقعہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور املاک کی تباہی ہوتی ہے۔ مثالوں میں زلزلے، آتش فشاں پھٹنے، سیلاب، سمندری طوفان، بگولے اور جنگل کی آگ شامل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ واقعات انسانی اعمال کی وجہ سے نہیں ہوتے ہیں، حالانکہ انسانی منصوبہ بندی ان کے تباہ کن اثرات کو کم کر سکتی ہے۔
اللہ تعالی نے اولاد آدم کو اشرف المخلوقات بناکر اس زمین پر خلافت ارضی کے لیے اتارا ہے۔ اور اس خلافت کے راہ پر آگے بڑھنے کے لیے مسلسل رہنمائی اور ہدایت کے لیے متعدد کتابیں نازل کیں اور قرآن الحکیم کوکتاب آخر بنا کر بھیجا۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید کی سورة الروم کی آیت ۲۴ میں فرمایا ہے کہ
ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ بِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِی النَّاسِ لِیُذِیۡقَہُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۴۱﴾۔
ترجمہ "خشکی اور تری میں لوگوں کی بد اعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا ۔ اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالٰی چکھا دے ( بہت ) ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں" ۔
قرآن کی مندرجہ بالا آیت کے مطابق، انسانوں کے اپنے اعمال کی وجہ سے خشکی یعنی زمین پر اور سمندر میں فساد اور تباہی پھیل گئی ہے؛ پھر اللہ تعالی ان انسانوں کو کسی تکلیف میں مبتلا کردیتا ہے؛ تاکہ انہیں ان کے اعمال کا کچھ مزہ چکھایا جائے اور وہ ان کاموں [بداعمالیوں] سے باز آجائیں۔ اللہ تعالی کی نازل کردہ آزمائش یا تباہی معیشت میں فساد، سماوی آفات کے نزول اور بیماریوں اور وباؤں کے پھیلنے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے، جو سب انسانی کرتوتوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
پھر اللہ تعالی نے سورة التوبة آیت 126 میں مزید واضع کیا
اور کیا ان کو نہیں دکھلائی دیتا کہ یہ لوگ ہر سال ایک بار یا دو بار کسی نہ کسی آفت میں پھنستے رہتے ہیں پھر بھی نہ توبہ کرتے اور نہ نصیحت قبول کرتے ہیں"۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم معروف ( بھلائی ) کا حکم دو اور منکر ( برائی ) سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیج دے پھر تم اللہ سے دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے“۔ (جامع ترمذی، ۲۱۶۹)۔
اب یہاں ایک فرق بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ انسان اس زمین پر بطور فرد آیا ہے اور اپنے ذاتی اعمال کے لیے جوابدہ ہے۔ اور اللہ تعالی کی آزمائش سے گذرتا ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن الحکیم کی سورۃ العنکبوت کی آیت 2-3 میں واضع طور پر فرمایا ہے کہ
"کیا لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ اتنی بات پر چھوڑ دئیے جائیں گےکہ کہیں ہم ایمان لائے اور اُن کی آزمائش نہ ہوگی"۔
"اور بےشک ہم نے اُن سے اگلوں کو جانچا تو ضرور اللہ سچوں کو دیکھے گا اور ضرور جھوٹوں کو دیکھے گا"۔
اوپر کی آیات سے معلوم ہوا کہ مسلمان کے دعوی ایمان کا امتحان لینا ، اللہ تعالیٰ کا قانون ہے۔ بیماری، ناداری، غربت، مصیبت، یہ سب رب تعالیٰ کی طرف سے آنے والی آزمائشیں ہیں جن سے مخلص اور منافق ممتاز ہو جاتے ہیں۔ یہاں آزمائش سے متعلق ایک حدیث ملاحظہ ہو:-۔
ا
ٓقا کریم محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی، پھر درجہ بدرجہ مُقَرَّب بندوں کی،آدمی کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر دین میں مضبوط ہو تو سخت آزمائش ہوتی ہے اور اگر دین میں کمزور ہو تو اس کے دین کے حساب سے آزمائش کی جاتی ہے۔ بندے کے ساتھ یہ آزمائشیں ہمیشہ رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ زمین پر ا س طرح چلتا ہے کہ ا س پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔( ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الصبر علی البلاء، ۴ / ۱۷۹، الحدیث:
۲۴۰۶)
آقا
کریم سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’بڑا ثواب ،بڑی مصیبت کے ساتھ ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی قوم سے محبت فرماتا ہے تو انہیں آزمائش میں مبتلا کرتاہے، پس جو ا س پر راضی ہوا اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا ہے اور جو ناراض ہوا اس کے لئے ناراضگی ہے۔( ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الصبر علی البلائ، ۴ / ۱۷۸، الحدیث: ۲۴۰۴)
عقل
و خرد کی کسوٹی پر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سماوی آفات [زلزلہ، سیلاب، قحت وغیرہ] قوموں کی آزمائش اور عذاب ہوتا ہے۔ اور فرد کی آزمائش دیگر دوسری صورتیں ہوتی ہیں۔
کچ
ھ ہفتے قبل ہمارے ملک پاکستان میں دو دریاوں راوی اور چناب میں سیلاب آیا اور جو یقینا" اللہ تعالی کی ناراضگی کا اشارہ تھا۔ لیکن دین بیزار عقل پرست فورا" مشرق اور مغرب کی تہذیبوں اور اس کے بہانے سائنس اور دین اسلام کا تقابل کرنا شروع ہوگئے۔ عرض یہ ہے کہ قرآن اور حدیث کی بنیاد پر دلیل دینا ہو یا مسئلہ بیان کرنا تو اپنی عقل کا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ قرآن آخری کتا ب ہے اور کوئی ایسی دلیل انسان گھڑ نہیں سکتا جس کا جواب دیا نہ جا چکا ہو۔ مغربی تہذیب کی ترقی اور مذہب کے تعلق کا جواب یہ ہے کہ اللہ سبحان تعالی آزمائش انکی کرتا ہے جو جنت کے دعویدارہوں۔۔ جن کو یہ دنیا جنت بنانی ہے انکا حساب الگ سے بیان کیا گیا ہے۔۔۔ کافروں اور منافقوں کے طور پر۔۔۔ فیصلہ خود کرلیں کیا حاصل کرنا ہے؟
سورۃ طه کی آیت 131 میں فرمایا ہے کہ
اور نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھو دُنیوی زندگی کی اُس شان و شوکت کو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے۔وہ تو ہم نے اُنہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیے دی ہے، اور تیرے ربّ کا دیا ہوا رزقِ حلال ہی بہتر اور پائندہ تر ہے"۔
رزق کا ترجمہ یہاں "رزق حلال " کیا گیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی حرام مال کو " رزق رب " سے تعبیر نہیں فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارا اور ہمارے ساتھی اہل ایمان کا یہ کام نہیں ہے کہ ہم فسّاق و فجّار ناجائز طریقوں سے دولت سمیٹ کر اپنی زندگی میں ظاہر چمک دمک پیدا کرلیں، اور اس کو رشک کی نگاہ سے دیکھیں۔ یہ دولت اور یہ شان و شوکت کسی بھی مسلم کے لیے ہرگز قابل رشک نہیں ہے۔ جو پاک رزق ہم اپنی محنت سے کماتے ہوں وہ خواہ کتنا ہی تھوڑا ہو، راستباز اور ایماندار آدمیوں کے لیے وہی بہتر ہے اور اسی میں وہ بھلائی ہے جو دنیا و آخرت کے لیے برقرار رہنے والی ہے۔
اللہ تعالی نے تو سُورَةُ فَاطِرٍ کی آیت 34 میں ہمیں یہ سکھایا ہے کہ
وہ کہیں گے کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہم سے غم دور کیا۔ بےشک ہمارا پروردگار بخشنے والا (اور) قدردان ہے"۔
پاکستان کو پہلے اسلامی ریاست تو بنالیں پھر کوئی بات کریں تو مناسب ہوگی۔۔۔۔ سارے قانون اور ادارے برطانوی سامراج کے چھوڑے گئے معاملات کی طرح ہی ہیں۔۔۔ غلام ہندوستان کا قانون اور انصاف اور کالے بدہیت انسان اور حکمران اشرافیہ ہی ایسا نظام ہی دے سکتے ہیں۔۔۔ ان سب خود ساختہ خرابیوں کے باوجود ہم عقل و دانش کی باتیں کیسے کرلیتے ہیں؟ یہ بتانا کیا ضروری ہے کہ ہماری حکمران اشرافیہ کی عقل و خرد بھی غلام اور محکوم ہے؟
ذیل میں محترم نوشیی گیلانی کی نظم "ملال" پیش کی جاتی ہے؛ جو شاید نوحہ ہے؛ مگر ایک سبق بھی ہے کہ تقدیر کے پابند نباتات و جمادات؛ مومن فقط احکام الہی کا ہے پابند"؛ غور ضرور کیجے؛ وما علینا الا البلاغ المبین
ملال
مِرا سارا شہر ہی بہہ گیا
مِرے سارے لوگ اُتر گئے
کہیں بے سبب سی منافقانہ فضاؤں کے
کسی زہر میں
کسی بے امان سی رات کے کسی پہر میں
مِرا سارا شہر ہی بہہ گیا
مِرے سارے لوگ اُتر گئے
کوئی تہمتوں،کوئی پانیوں
کوئی دلفریب کہانیوں
کوئی خواہشوں کی گرانیوں
کوئی آنسوؤں کی روانیوں
کوئی سبز کائیوں کی جھیل میں
کوئی سُرخ و خستہ فصیل میں
کوئی آب میں ،کوئی خواب میں
کوئی اپنے کردہ عذاب میں
مِرا سارا شہر ہی بہہ گیا
مِرے سارے لوگ اُتر گئے
اِسی شہر میں
اِسی لہر میں