ادھوری آزادی؛ ادھورا خواب؛ ادھوری تصویر؛ مگر کب تک؟

Pakistan came into being on 14 August 1947 on the basis of "Two Nation Theory". However, the country has not traveled on the way to make Pakistan an Islamic welfare state as per the aspirations of the founding fathers. This write up in Urdu "ادھوری آزادی؛ ادھورا خواب؛ ادھوری تصویر؛ مگر کب تک؟" has been written on the 79th Anniversary of creation of Pakistan.

Sep 10, 2025 - Muhammad Asif Raza

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


ادھوری آزادی؛ ادھورا خواب؛ ادھوری تصویر؛ مگر کب تک؟

 

 ہماری بصارت میں جو یہ کائنات ہے، زمین وہ واحد سیارہ ہے جہاں زندگی بسی ہوئی ہے۔ اور ہم انسان بطور اشرف المخلوقات یہاں آباد ہیں۔ ہر سال ماہِ اگست کی ۱۴ تاریخ کو پاکستان کو لوگ اپنا جشن آزادی مناتےہیں۔ اور منانا بھی چاہیے کہ کوئی بھی باشعور قوم اپنا قومی دن جوش و خروش سے مناتی ہے۔ اس سال ایکس.کام پر ایک ہیش ٹیگ #آزادی_ابھی_ادھوری_ہے دیکھا جو کافی مقبول ہورہا تھا؛ لوگ اقبال کے خواب کو ادھورا کہہ رہے تھے؛ کچھ کے نزدیک ملک آزاد ہی پورا نہیں ہوا تھا؛ چنانچہ تصویر ہی ادھوری تھی؛ اور اکثر کہہ رہے تھے کہ آزادی ادھوری ہے؛ اندیکھی بیڑیاں ملک و قوم کے پاوں کی زنجر بنی ہوئی ہیں۔

 ہم سب جانتے ہین کہ مملکتِ خداداد پاکستان کا حصول ایک نظریہ کے تحت ہوئی تھی۔؛ جسے عرفِ عام میں دو قومی نظریہ کہا جاتا ہے۔ مگر زیادہ آسان طریقہ بیان یہ ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ یہ ایک خواب تھا کہ ہندوستان کی زمین پرمسلمانوں کا ایک آزاد وطن قائم ہو؛ جہاں مملکتِ اولِ اسلام ریاست مدینۃ الرسول کے اصولوں پر ایک مدینہ ثانی قائم ہو؛ جو قرآن و اصول کی بنیادوں پر جدید اسلامی فلاحی ریاست کا مظہر ہو۔ ایسی ریاست اللہ تعالی کی حاکمیتِ اعلی کے تحت تمام انسانوں کی جانب سے اعلی الہی احکامات کی اطاعت کے لیے سرگرم ہوتی ہے۔

 قرآن میں بکثرت ایسی آیتیں مذکور ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اطاعت، ولایت، حکم و فیصلہ اور بادشاہت صرف اللہ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے نہ تو حکومت میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ ہی حکم و فیصلہ میں۔ جس طرح ہمارے لئے یہ مناسب نہیں کہ ہم خدا کی عبادت میں کسی اور کو شریک ٹھہرائیں کہ اس کی عبادت کے ساتھ دوسرے کی پرستش کریں اسی طرح اطاعت میں بھی ہمارے لئے یہ قطعاً درست نہیں کہ ہم اللہ کی اطاعت میں کسی غیر کو بھی شامل کریں۔

اطاعت صرف اللہ کیلئے ہے اس بات کے پیش نظر ضروری ہے کہ اللہ اپنے مخلوق میں سے کسی کو امام متعین کرے تاکہ امام کی اطاعت اللہ کی اطاعت کے قائم مقام ہو۔ گویا متعین طور پر اس کی جانب سے ایسا امام ہو کہ اللہ تعالیٰ جس کی اطاعت کا حکم دے تاکہ امام کی اطاعت کے ذریعے اطاعت خداوندی میں توحید ثابت و ظاہر ہوجائے اور امام کی یہ اطاعت اللہ کی اطاعت کے ہی ہم معنی ہوگی اور اللہ سبحانہ کی اطاعت و بندگی میں وحدانیت کا حصول صرف اس امام کی اطاعت کے ذریعے ہی ممکن ہے جس کا تعیین و تقرر اللہ کی جانب سے ہوا ہو اور جو صرف اللہ کی مرضی و منشاء کے مطابق امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام انجام دے۔

مگر ایسے امام کا تعین کیسے ہو؟ اسلام نے یہ سکھایا ہے کہ مسلمان اپنی صفوں میں سے ایسے صالح، قابل اور دیانتدار انسانوں کو رواج دیں جو انکی قیادت کے قابل ہوں۔ اسلام کا جمھوری نظام خلافت کا نظام تھا اور آج قیادت کا چناو جمھور کی رائے سے ہونا چاہیے؛ جیسے خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم کا ہوا تھا۔ پاکستان کا قیام ایک اسلامی فلاحی ریاست کے حصول کے لیے ہوا تھا۔ مگر آج ہم نے اناسیواں 79 یوم آزدی منایا ہے؛ تو کیسے کہہ دیں کہ ہماری آزادی تو کہیں کھو گئی ہے؟

 جب ہم آزاد ہوئے تھے تو ہمارے ایک زمین تھی کہ جہان ہم بسے ہوئے تھے؛ ہمارے پاس ایک نظریہ تھا اور ہمارے بزرگ اس کے باسی تھے؛ جو ایک خواب کے حصول کے لیے حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کے پیچھے کھڑے ہوگئے تھے۔ مگر آج ایک زمین ہے اور ہم بسے ہوئے ہیں؛ جن کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیں ہے؛ کہ دو وقت کی روٹی کا حصول تک مشکل بنا ہوا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ کتنے لوگ خاص طور پر نوجوان ملک چھوڑ کر جارہے ہیں۔

 اس یومِ آزادی پر کچھ شاعروں کا کلام پڑھا جو ملک و قوم کے مجموعی تاثر کی عکاسی کرتا ہے۔

 

نوشی گیلانی کی نظم" بے یقین موسم " پیشِ خدمت ہے۔

 

تمہیں خبر ہے

ہَوا رُخ بدل بھی سکتی ہے

پرندے اپنے بسیروں میں شام ڈھلنے پر

ہُؤا ہے یوں کہ پلٹنا بھی بُھول جاتے ہیں

بہار رُت میں ، درختوں کی ٹہنیوں سے کبھی

بھری بہار میں ، پتّے بچھڑنے لگتے ہیں

اور ایک عمر گزاری ہو جن کے رستوں پر

وہی تمام ریاضت کو دُھول کرتے ہیں

 

تمہارے لب پہ اُبھرتی ہوئ خفیف ہنسی

یہ کہہ رہی ہے بھلا اس میں کیا نیاپن ہے

مگر تمام کہانی میں اب نئے تُم ہو

تمہیں خبر ہے ؟

مگر یہ تمہیں خبر کب ہے

تمہارے زعمِ محبت کے اور وفاؤں کے

اسی بہار میں خیمے اُکھڑ بھی سکتے ہیں

تمہیں خبر ہے

ہَوا رُخ بدل بھی سکتی ہے

 

گوہر رضا کی نظم "صبح" پیش خدمت ہے

 

سنا ہے رات کے پردے میں صبح سوتی ہے

سویرا اٹھ کے دبے پاؤں آئے گا ہم تک

ہمارے پاؤں پہ رکھے گا بھیگے بھیگے پھول

کہے گا اٹھو کہ اب تیرگی کا دور گیا

بہت سے کام ادھورے پڑے ہیں کرنے ہیں

انہیں سمیٹ کے راہیں نئی تلاش کرو

نہیں یقین کرو

یوں کبھی نہیں ہوتا

سویرا اٹھ کے دبے پاؤں

خود نہ آئے گا

نہ ہو جو شمع

تو ہرگز سحر نہیں ہوتی

اگر شعاعوں کے بھالے نہ ہوں

ہمارا نصیب

تو نہریں دودھ کی خوابوں میں بہتی رہتی ہیں

زمین گھوم کے سورج کو چومتی ہے ضرور

شعاعیں پھٹتی ہیں

لیکن سحر نہیں ہوتی

 

صدیق عالم کی نظم "صحیح دروازہ" پیش خدمت ہے

 

مجھے سنو

اور میرا یقین کرو

میرا وطن

انصاف کے نغموں کا پیاسا ہے

تمہیں میرا یقین ہو تو

آؤ

ہم ایک نیا نسخہ تیار کریں

جب ابنائے وطن

الٹے لٹکائے جا رہے ہوں

خاموشی کے ساتھ

نئے دنوں کی شروعات ممکن نہیں

مجھے افسوس ہے

میں نے کچھ راکشس دیکھے ہیں

وہ مجھ سے زیادہ

خوب صورت ہیں اور خوش نصیب

وہ سنے جاتے ہیں

لاکھوں کی تعداد میں

ہزار چہروں کے مالک ہیں وہ

مگر حیرت انگیز ہیں وہ لوگ

جو بغیر آنکھوں والے ہیں

وہ کبھی بھی دیکھ سکتے ہیں

شاید میں نے

خزاں رسیدہ پیڑوں کو

لمبے عرصے تک

زمیں بوس ہوتے دیکھا ہے

میں نے احتجاج کے لئے

جس دن کا تعین کیا تھا

لوگوں نے اسے ایک

استعمال شدہ کپڑے کی طرح

دھلنے کے لئے پرے رکھ دیا ہے

اگر تمہیں یقین ہے

تم گیت گا سکتے ہو

تو تمہیں لفظوں پر پڑی زنجیروں کی

شناخت کرنی ہوگی

اگر سہی دیکھنا چاہتے ہو تم

لینس پر پڑی گرد ہٹانی ہوگی

صورت حال اس قدر مایوس کن بھی نہیں

جب انصاف گاہوں کے انگنت

دروازے ہوں

اور ہمیں سہی دروازے تک پہنچنا ہے

تو ایک سلیٹی آسمان کے نیچے

شانہ بہ شانہ ایک لمبا فاصلہ طے کرنا ہوگا

اور میں یقین دلاتا ہوں

یہ فاصلہ حیرت انگیز واقعات سے پُر ہے

 

عزیزانِ گرامی قدر؛ اللہ سبحان تعالی نے قرآن مجید فرقان حمید کی سورۃ ابراهيم کی آیت ۷ /7 میں فرمایا ہے کہ "اور جب تمہارے رب نے اعلان کیا تھا اگر تم شکر کرو گے تو تمہیں اور زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو پھر میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے"۔

یہ اللہ سبحان تعالی نے احسان کیا کہ ہمیں آزادی کی نعمت کے ساتھ ریاست اسلام کا شہری پیدا کیا۔ کیونکہ رسولِ کریم محمدﷺ نے فرمایا ہے کہ " تم میں سے جس نے صبح کی، اس حال میں کہ وہ اپنے گھر یا قوم میں امن سے ہو اور جسمانی لحاظ سے بالکل تندرست ہو اور دن بھر کی روزی اس کے پاس موجود ہو، تو گویا اسے پوری دنیا جمع کرکے دے دی گئی".[ ترمذی 2346]🌹

ضرورت اس بات کی ہی کہ ہم اپنے ملک کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے جدوجہد کریں۔ یہی علامہ اقبال کا تصور پاکستان تھا اور قائد اعظم کی عزم بھی یہی تھا؛ اور ہمارے بزرگوں کی امید بھی یہی تھی۔

آئیے اللہ کریم کے حضور دعا کریں، "اے پروردگار؛ ہماری زندگیوں میں آزادی کے ہزاروں روشن خوشگوار سورج طلوع ہوں؛ الـلـه رب الـــعـــزت ہمیں اس زمیں پر خیرو برکت، عزت و وقار، راحت و سکون عطا فرمائیں۔ ہم ہر پاکستانی کے سنگ سنگ ہمیشہ دعاؤں کی برسات، محبتوں کے پهول، خوشیوں کی گهڑیاں، اتحاد و اتفاق، خوشحالی و آسودگی اور اللہ کی بندگی و آقا محمدﷺ کی غلامی میسر رہے۔ رب ذوالجلال؛ ہمارے مرحومین کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمــيـــن ثم آمین۔

🌞 صبح یومِ آزادی مبارک 🌞

میرے مالک نے مرے حق میں یہ احسان کیا

خاک ناچیز تھا میں، سو مجھے انسان کیا

اس پہ احسان آقا ﷺ کا مجھے غلام کیا

اور پھر رہنے کو وطن پاکستان دیا

 


More Posts