ادب انسانی جذبات، خیالات اور تجربات کا فنکارانہ اظہار ہے۔ شاعری اور نثر (جیسے ناول، افسانہ اور نظم) کے ایسے مجموعے کو ادب کہا جاتا ہے جو زندگی کی عکاسی کرے اور دل پر اثر کرے۔ ادب کے سخن اور اصناف کے ذریعے زبان و بیان کا ایسا حسین استعمال کیا جاتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں لکھا گیا ادب، مرد، عورت، بچے اور بوڑھے الغرض سب انسانوں کی محبت، غم، خوشی اور خوف جیسے جذبات کی بات کرتا ہے۔ یہ جذبات سب انسانوں میں ایک جیسے ہوتے ہیں۔ اس تحریر کا مقصد انسانی اثاثہ کی نشاندہی کرنا ہے۔
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
ادب: دنیا کا مشترکہ اثاثہ
ادب انسانی جذبات، خیالات اور تجربات کا فنکارانہ اظہار ہے۔ لغوی لحاظ سے یہ شائستگی، سلیقے اور اخلاق کو کہتے ہیں، جبکہ اصطلاح میں شاعری اور نثر (جیسے ناول، افسانہ اور نظم) کے ایسے مجموعے کو ادب کہا جاتا ہے جو زندگی کی عکاسی کرے اور دل پر اثر کرے۔ ادب کے اصطلاحی معنی؛ انسانی حیات، فکر اور تخیل کو خوبصورت تحریری شکل میں اظہار کرنا ہوتا ہے۔ ادب کے سخن اور اصناف کے ذریعے زبان و بیان کا ایسا حسین استعمال کیا جاتا ہے؛ جو پڑھنے والے کے اندر ذوقِ جمال پیدا کرے؛ اور اس کے حسِ مزاح کی تعریف کو پورا کرے۔
ادب اپنے دور کے سماج اور انسانوں کے حالات کا آئینہ ہوتا ہے۔ یہ انسانی جذبات اور احساسات کا پُر اثر اظہارہوتا ہے؛ اور یہ دل کو چھو لینے والے الفاظ کے ذریعے کیا جاتا ہے؛ اور قاری میں شعور بیدار کرتا ہے۔ اور ایسا تخلیقی عمل صرف معلومات نہیں بلکہ مصنف کا ذاتی اور فنی تجربہ ہوتا ہے۔ ادب کی سخنوری میں تخلیقی صلاحیت کےافراد ان اہم اقسام یا اصناف میں اظہار کرتے ہیں۔ جیسے صنف شاعری میں غزل، نظم، مرثیہ، اور قصیدہ وغیرہ اور صنفنثر میں افسانہ، ناول، ڈرامہ اور مضمون وغیرہ ہیں۔
ادیب اور شاعر اپنے اندر کے جذبات، خیالات اور مشاہدات کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے لکھتا ہے۔ اس کے بنیادی مقاصد میں معاشرے کی اصلاح، انسانیت کی ترجمانی، خوبصورتی کا اظہار اور سچائی کی تلاش شامل ہیں۔ ادیب اور شاعر کے لکھنے کی وجوہات میں جذبات کا اظہار ہوتا ہے؛ جو ادیب اور شاعر کے دل میں جو خوشی یا غم ہوتا ہے، وہ اسے لفظوں کی صورت باہر نکالتا ہے۔ مزید برآں، ادیب اور شاعر اپنےمشاہدات کی عکاسی کرتا ہے اور اپنے اردگرد کی دنیا اور لوگوں کے حالات دیکھتا ہے اور انہیں کہانی یا شعر میں ڈھالتا ہے۔ ادیب اور شاعر اس اظہار سے تسکینِ قلب بھی پاتا ہے؛ کیونکہ دل و دماغ میں پنپنے والے موضوع پہ لکھنے سے ادیب اور شاعر کو ذہنی سکون اور خوشی ملتی ہے۔ ادیب اور شاعر معاشرے کی اصلاح کو بھی نظر مین رکھتا ہے؛ اس لیے وہ اپنی گذارشات کے ذریعے معاشرے کی برائیوں، ناانصافیوں اور خامیوں کی طرف سب کی توجہ دلاتا ہے۔ ادیب اور شاعر لوگوں کو محبت، امن، اور نیکی کا درس دیتا ہے۔ اور اس کے ذریعے تاریخ اور ثقافت کی حفاظت بھی کرتا ہے۔ وہ اپنے دور کے حالات، رہن سہن اور اقدار کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کرتا ہے۔ اور اعلی سطح پر ادیب اور شاعر اپنی قوم کے شعور کی بیداری کے لیے بھی مستعد ہوتا ہے۔ وہ اپنی تحریر اور کلام سے لوگوں کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور ان کے اندر احساسِ ذمہ داری جگاتا ہے۔
ادب ہمیشہ اپنے زمانے کے حالات، معاشرتی فضا، اور انسانی جذبات کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ ادیب اور شاعر اپنے ماحول سے اثر لیتے ہیں اور اسے اپنے فن میں ڈھالتے ہیں۔ ادب اپنے دور کے مسائل، دکھ درد اور خوشیوں کو بیان کرتا ہے۔ یہ معاشرے کی آواز بنتا ہے اور لوگوں کے جذبات کی نمائندگی کرتا ہے۔ ادب صرف حالات بیان نہیں کرتا، بلکہ معاشرے کو بدلنے کی سوچ بھی دیتا ہے۔ ادب ہمیشہ تاریخ کو بھی رقم کرتا ہے جس سے ہمیں ادب کے زریعے ہمیں ادب لکھنے والے دور کے زمانے کے احوال کا پتی چلتا ہے۔
ادب کا مقام علاقائی بھی ہے اور بین الاقوامی بھی۔ ادب اپنے علاقے، مٹی اور ثقافت سے جنم لیتا ہے، اس لیے اس کی جڑیں علاقائی ہوتی ہیں۔ لیکن جب وہ انسانی جذبات اور سچائی کو اچھے انداز میں پیش کرتا ہے، تو وہ پوری دنیا کے لوگوں کا دل جیت لیتا ہے اور بین الاقوامی بن جاتا ہے۔ ادب اپنے علاقے کی زبان، رسم و رواج اور ماحول سے جڑا ہوتا ہے۔ یہ کسی خاص معاشرے کے مسائل اور خوشیوں کو سچے طریقے سے دکھاتا ہے۔ یہ کسی قوم کی پہچان اور ثقافت کو محفوظ رکھتا ہے۔
لیکن کیونکہ انسان مسلسل سفر میں ہوتے ہیں اور ادب کے معاصر بھی سفر کرتے ہیں؛ سو وہ دوسرے علاقے کے اثرات کو قبول بھی کرتے ہیں اور آج کے جدید دور میں مختلف علاقے کے لوگوں کا باہم ملاپ اور ملاقاتین کوئی اچھنبے کی بات نہیں؛ اس لیے آج ایسے ادب تخلیق کرنا مشکل نہیں ہے جو بین الاقوامی مزاضج کا حامل ہو۔ ایسے ادب کو بین الاقوامی ادب کہا جاسکتا ہے۔
بین الاقوامی ادب کی خصوصیات میں عالمی سوچ کا میلان ہونا ضروری ہے۔ یہ تمام انسانوں کے سانجھے جذبات جیسے محبت، دکھ، اور امن کی بات کرتا ہے۔ مختلف زبانوں کے باہم ترجمے کی مدد سے یہ ادب دوسری زبانوں اور ملکوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اس سے یہ سرحدوں کو توڑ کر پوری دنیا کے قارئین کو متاثر کرتا ہے۔ ادب ایک خوبصورت پودے کی طرح ہے۔ اس کی جڑیں اپنے علاقے کی زمین میں ہوتی ہیں، لیکن اس کا پھول پوری دنیا میں اپنی خوشبو پھیلاتا ہے۔ اس نوع کے ادب کی خوبصورتی کو ساری دنیا میں پسند کیا جاتا اور سراہا جاتا ہے۔
کیا ادب کو حضرتِ انسان کا مشترکہ اثاثہ کہا جاسکتا ہے؟ ہاں، ادب کو انسانوں کا مشترکہ اثاثہ کہا جا سکتا ہے۔ ادب کسی ایک خطے یا زبان تک محدود نہیں ہوتا۔ یہ حضرتِ انسان کے جذبات، خیالات اور تجربات کو ظاہر کرتا ہے۔ اور ساری دنیا کے انسان ایک جیسے جزبات اور احساسات کے حامل ہوتے ہیں۔ اس لیے انسان پہ لکھا گیا سارا ادب دراصل سارے انسانوں کا مشترکہ اثاثہ ہوتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ یہ انسانی تجربات کی سچائی کو بیان کرتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں لکھا گیا ادب، مرد، عورت، بچے اور بوڑھے الغرض سب انسانوں کی محبت، غم، خوشی اور خوف جیسے جذبات کی بات کرتا ہے۔ یہ جذبات سب انسانوں میں ایک جیسے ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی ادب دلوں کو جوڑنے کا باعث بنتا ہے۔ ایسا ادب ہمیں ایک خطہ کے رہنے والے انسانوں کو دوسرے علاقے کےلوگوں کی زندگیوں اور ان کے مسائل کو سمجھنے کا موقع دیتا ہے۔ یہ مختلف قوموں اور ثقافتوں کے درمیان فاصلے کو کم کرتا ہے۔ بین الاقومی ادب عالمگیر پیغام لیے محبت، امن اور انصاف کا درس دیتا ہے۔ بڑے ادیبوں کی کہانیاں اور نظمیں نسل اور زبان کی قید سے آزاد ہوتی ہیں۔ ان کا پیغام پوری دنیا کے لیے ہوتا ہے۔
ادب انسان کی کہانی ہے اور انسان کے لیے سبق آور ہوتا ہے۔ ادب حقیقت میں انسان کے دل و دماغ کی آواز، اس کے ماضی و حال کی تصویر اور مستقبل کے لیے ایک روشن چراغ کی مانند ہے۔ ادب انسانی کہانی ہے کہ اس میں انسان کی خوشی، غم، محبت اور نفرت کو بیان کیا جاتا ہے۔ ادب کوئی بھی ہو ہمیشہ اپنے دور کی تاریخ کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ انسان نے وقت کے ساتھ کیسے سفر کیا اور کیا دیکھا۔ چنانچہ اس سے ادب کے مقام کے معاشرے کی عکاسی ہوتی ہے۔
ادب ہمیشہ معاشرے کی اچھائیوں اور برائیوں کو ہمارے سامنے رکھتا ہے۔ ادب سے انسانوں کو سبق حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ جس سے انسانوں کے اخلاقی تربیت کا سامان مہیا ہوتا ہے۔ ادب ہمیں سچائی، نیکی اور بھلائی کا راستہ دکھاتا ہے۔ اور انسانی ہمدردی کا درس دیتا ہے۔ کیونکہ ادب دوسرے انسانوں کے درد کو محسوس کرنا سکھاتا ہے۔ ادب انسان کو خود کو پہچاننے اور عقل و فہم سے کام لینے کا موقع دیتا ہے۔
ہم آنے والی تحریروں میں دیکھیں گے کی کس طرح مختلف تہذیب کے ممالک، زبانوں اور معاشروں کے ادب نے ایک جیسے پیغامات تحریر کئےہیں؟ یہ ایک دلچسپپ اور دلکش موقع ہوگا؛ جو قارئین کو یقینی طور پہ پسند آئے گا۔
When you need safe, comfortable, and convenient transport, choosing a reliable Durham taxi...