عروجِ آدم خاکی: اوجِ ثریا سے آگے

This article in Urdu "عروجِ آدم خاکی: اوجِ ثریا سے آگے" covers the symbolic dialogue of Alama Al-Aqbal's poem "Azan" and a deep intellectual cover of his philosophies. In the beginning, the lifeless stars of the universe make fun of man by simply thinking of the dust, the mugger awakens the moon and the cannabis call of dawn to his inner vessel. Aqbal clarifies through these metaphors that if a person becomes a servant in the self-knowledge test, his position is far ahead of the passage of the caliphate stars and the Awje Surayya.

Oct 24, 2026 - Muhammad Asif Raza

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


عروجِ آدم خاکی: اوجِ ثریا سے آگے


(علامہ اقبال کی فکری روشنی میں کائنات اور انسان کا مکالمہ)

حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی شاعری کا بنیادی مقصد مسلم امّہ کو غفلت کی نیند سے بیدار کرنا اور انہیں ان کے اصل مقام و مرتبہ سے روشناس کرانا ہے۔ ان کا اصل پیغام خودی کا ہے اور اس پیغام کو انہوں نے متعدد تشبیہات اور استعارات کے استعمال سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ علامہ اقبال کے نزدیک خودی سے مراد انسان کی ذات کا عرفان، خود شناسی، اور غیر اللہ کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرنا ہے۔ اپنے اس آفاقی پیغام کو سمجھانے کے لیے انہوں نے متعدد تشبیہات اور استعارات کا استعمال کیا ہے، جو اس نظم میں بھی نمایاں ہیں:۔۔


•شاہین اور چاند ستارے: اقبال جہاں اپنی دوسری شاعری میں نوجوانوں کو 'شاہین' کے استعارے سے بلند پروازی سکھاتے ہیں، وہیں اس نظم میں وہ انسان کو "خاکِ پُر اسرار" اور "زمینی ستارہ" کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ مادی دنیا کے چاند اور تارے تو بے جان قوانینِ قدرت کے پابند ہیں، مگر انسان اپنی خودی کو بیدار کر کے کائنات کا حاکم بن سکتا ہے۔

•خاک بمقابلہ افلاک: مریخ اور زہرہ جیسے ستارے مادی غرور اور ظاہری چمک دمک کا استعارہ ہیں جو انسان کو محض مٹی کا پتلا سمجھ کر اس کی تحقیر کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، چاند اور فجر کی اذان اس باطنی اور روحانی روشنی کا استعارہ ہیں جو انسان کی خودی کے بیدار ہوتے ہی افلاک کے تمام ثابت و سیاروں کو گہنا دیتی ہے۔

ان کے مجموعہ کلام "بالِ جبریل" میں شامل مختصر نظم "اذان" بظاہر ستاروں کی ایک علامتی گفتگو ہے، مگر درحقیقت یہ انسان کی عظمت، رات کی بیداری کی اہمیت اور اسلام کے آفاقی نعرے (اذان) کی طاقت کا ایک شاہکار بیان ہے۔ اس نظم کے مفاھیم اور ان کا فکری ارتقا انسان کو مادی پستی سے اٹھا کر خلافتِ الٰہیہ کے اعلٰی منصب پر فائز کرتا ہے۔

نظم کا آغاز آسمانی فضاؤں میں ستاروں کے مابین ایک دلچسپ مکالمے اور تمثیل سے ہوتا ہے۔ صبح کا ستارہ (نجمِ سحر) دوسرے ستاروں سے سوال کرتا ہے کہ کیا انہوں نے مٹی کے پتلے یعنی انسان کو کبھی رات کے وقت بیدار اور مصروفِ عبادت دیکھا ہے؟ اس سوال کے جواب میں مریخ اور زہرہ جیسے ستارے انسان کی کم مایگی اور غفلت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ علامہ اقبال اس منظر نامے کو یوں بیان کرتے ہیں:۔۔

اک رات ستاروں سے کہا نجمِ سحَر نے

آدم کو بھی دیکھا ہے کسی نے کبھی بیدار؟

کہنے لگا مرّیخ، ادا فہم ہے تقدیر

ہے نیند ہی اس چھوٹے سے فتنے کو سزاوار

زُہرہ نے کہا، اور کوئی بات نہیں کیا؟

اس کرمکِ شب کور سے کیا ہم کو سروکار!۔


یہاں مریخ کہتا ہے کہ تقدیر مصلحت جانتی ہے اور انسان ایک ایسا "چھوٹا سا فتنہ گر" ہے جس کے لیے نیند اور غفلت ہی سب سے بہترین سزا ہے۔ زہرہ حقارت سے اسے "کرمکِ شب کور" (رات کا اندھا کیڑا) کہہ کر کہتی ہے کہ ہمیں اس مادی اور غافل مخلوق سے کیا سروکار۔ یہاں اقبال نے ستاروں کے ذریعے انسان کی اس مادی حالت کا نقشہ کھینچا ہے جب وہ اپنے حقیقی مقصد کو بھول کر غفلت کی زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔

ستاروں کی اس شدید تنقید کے بعد، پورا چاند (مہِ کامل) انسان کا دفاع کرتا ہے۔ چاند کہتا ہے کہ انسان کو حقیر نہ سمجھو، وہ زمین کا ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے جو دن کے وقت کائنات میں سرگرمِ عمل اور مصروفِ کار رہتا ہے۔ اقبال چاند اور ستاروں کی یہ بحث یوں آگے بڑھاتے ہیں:۔۔

بولا مہِ کامل کہ وہ کوکب ہے زمینی

تم شب کو نمودار ہو، وہ دن کو نمودار

واقف ہو اگر لذّتِ بیداریِ شب سے

اُونچی ہے ثُریّا سے بھی یہ خاکِ پُر اسرار

آغوش میں اس کی وہ تجلّی ہے کہ جس میں

کھو جائیں گے افلاک کے سب ثابت و سیّار


اقبال چاند کی زبان سے بتاتے ہیں کہ اگر کائنات کے ان مادی اجسام کو انسان کی "باطنی روشنی اور شب بیداری کی لذت" کا علم ہو جائے, تو انہیں معلوم ہو کہ یہ پراسرار خاک بلندی میں ثریا ستارے سے بھی آگے ہے۔ انسان کے اندر خدا نے وہ روحانی تجلی رکھی ہے جس کے سامنے آسمان کے تمام چاند، تارے اور ثابت و سیارے ماند پڑ جاتے ہیں۔

نظم کا نقطۂ عروج (کلائمکس) وہ لمحہ ہے جب ستاروں کی یہ گفتگو جاری ہوتی ہے اور اچانک فضا میں فجر کی بانگِ اذاں گونج اٹھتی ہے۔ اقبال فرماتے ہیں:۔۔۔

ناگاہ فضا بانگِ اذاں سے ہُوئی لبریز

وہ نعرہ کہ ہِل جاتا ہے جس سے دلِ کُہسار!۔۔


یہ ایک ایسی پرجوش نعرہ اور صدا ہے جس کی ہیبت سے پہاڑوں کے دل بھی دہل جاتے ہیں۔ یہ صرف ایک آواز نہیں ہے، بلکہ کائنات کو جھنجھوڑ دینے والا ایک آفاقی پیغام ہے۔ اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے) کا یہ نعرہ مٹی کے انسان کو غفلت کی نیند سے بیدار کر کے کائنات کا امام بنا دیتا ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ انسان ظاہر میں خاکی ہے، مگر بیداری اور عشقِ الٰہی کے ذریعے کائنات کی ہر مخلوق سے بلند مقام پا سکتا ہے۔

اقبال کی نظم "اذان" میں ستاروں کے سامنے چاند جس "خاکِ پُر اسرار" کی باطنی تجلی کا ذکر کرتا ہے، ان کی دوسری شاہکار نظم "طلوعِ اسلام" کا مقطعی شعر اسی تجلی کو پانے کا عملی راستہ دکھاتا ہے:۔۔۔

تُو رازِ کُن فکاں ہے, اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا

خودی کا راز داں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جا!۔


یہاں لفظ "کن فکاں" دراصل قرآنی کلمۂ تخلیق "کُن فیکون" کی طرف اشارہ ہے۔ اقبال انسان کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ تُو تخلیق کا اصل راز اور کائنات کا حقیقی مقصود ہے، مگر خود اپنی حقیقت سے بے خبر ہے۔ پہلا قدم یہ ہے کہ انسان اپنی آنکھوں پر عیاں ہو، یعنی اپنی خود شناسی کا سفر شروع کرے۔ اس شعر میں ترتیب بے حد قابلِ غور ہے؛ پہلے خودی کا راز داں بننا ہے اور پھر خدا کا ترجمان۔ یعنی خود شناسی ہی دراصل خدا شناسی کا دروازہ ہے، جو مشہور صوفیانہ قول "مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ" کی شاعرانہ تفسیر ہے۔ خدا کا ترجمان ہونے سے مراد انسان کا وہ اعلٰی منصب ہے جسے قرآن خلافت کہتا ہے، کہ وہ زمین پر اللہ کی مرضی اور اس کے عدل و انصاف کے نظام کو اپنے عمل میں ظاہر کرے۔ "طلوعِ اسلام" امید کی نظم ہے اور یہ شعر اس امید کی بنیاد انسان کی اسی روحانی بیداری کو قرار دیتا ہے۔

حاصلِ کلام: عروجِ آدم خاکی: اوجِ ثریا سے آگے

اس پوری تمثیل اور فلسفے کا لبِ لباب یہ ہے کہ عروجِ آدم خاکی کا اصل سفر اوجِ ثریا سے کہیں آگے ایک مقامِ بلند ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق جنت میں ہوئی تھی، جو ان کا اصل وطن ہے۔ زمین پر انہیں خلافت اور نیابتِ الٰہی کا منصب دے کر بھیجا گیا، اور یہ زمین دراصل ان کا "دارالامتحان" (آزمائش گاہ) ہے۔ انسان کو اس دارالامتحان میں اپنے نیک اعمال، شب بیداری اور عشقِ الٰہی کے سبب واپس اسی اعلٰی مقام یعنی جنت کی طرف لوٹنا ہے جو ستاروں کی گزرگاہوں سے بھی بہت اونچا اور بلند تخیل ہے۔

اگر انسان اپنے اندر چھپے اس روحانی راز کو پہچان لے اور منصبِ خلافت کا حق ادا کرے، تو وہ کائنات کی ہر مخلوق سے افضل ہے۔ لیکن اگر وہ اس امتحان کو بھول جائے، خود شناسی کا راستہ چھوڑ دے اور مادی غفلت کی نیند سویا رہے، تو پھر مٹی کا یہ پتلا ان ستاروں کے طعنے اور تحقیر سے بھی بدتر بن جاتا ہے۔ جیسا کہ خود علامہ اقبال نے دوسرے مقام پر انسان کو اس کی اصل پرواز یاد دلاتے ہوئے فرمایا تھا:۔۔۔

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

تُو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا

ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں!۔

More Posts