Muhammad Asif Raza 42 minutes ago
Muhammad Asif Raza #entertainment

"عمر کی قدر و قیمت"

""عمر کی قدر و قیمت"" is a deeply moving allegorical narrative following Raja Khalid Shareef on his 60th birthday, a day after retiring as Director General after 35 years of service. Awakened by a haunting dream based on Ibn-e-Insha's poetry, he embarks on a nostalgic journey through his childhood, his vibrant youth at Government Gordon College, Rawalpindi, and his successful career. Walking through the crowded lanes of Raja Bazar and his ancestral neighborhood, he reflects on the non-refundable "shelf life" of each phase of human existence and the grief of losing loved ones. Weaving in the profound philosophies of Mary Oliver, Lord Tennyson, and Divine Quranic wisdom, the story "عمر کی قدر و قیمت" beautifully transforms the fear of death into a tranquil, graceful celebration of a life well-lived.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


کہانی "عمر کی قدر و قیمت"۔

آج راجہ خالد شریف کی ساٹھویں سالگرہ تھی۔ سردیوں کی اس اوس پڑتی رات وہ اپنے اسٹڈی روم میں اکیلا بیٹھا پورے دن کے ہنگاموں اور مبارکبادوں کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ بس ایک دن پہلے ہی تو ایک سرکاری دفتر میں اس کا آخری دن تھا، جہاں اس نے زندگی کے پینتیس طویل سال نوکری کی نذر کر دیے تھے۔ اس کمرے کی طاقچوں اور دیواروں پہ رکھے اور لٹکے اس کے سامنے بے شمار اسناد، تعریفی سرٹیفکیٹس اور چمکتی ہوئی شیلڈز ماضی کے کسی گمنام معرکے کے ہتھیاروں کی طرح سجی تھیں، جو خاموشی سے اس کی محنت، لگن اور وفاداری کی گزری ہوئی کہانی سنا رہی تھیں۔ پینتیس سال ایک ہی ڈگر پر چلتے چلتے اسے کبھی یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ زندگی کی بساط بس اتنی ہی تھی۔ ہاں اسے تو لگا تھا کہ کہ دفتر کے داریکٹر جنرل کے عہدے تک پہنچ کے اس نے کمال کیا تھا۔ ان یادوں کے ہجوم میں نہ جانے کب اس کی بوجھل آنکھیں لگ گئیں اور وہ وہیں کرسی پر سو گیا۔

نیند کی گہرائیوں میں اس نے ابنِ انشا کی مدہم مگر کاٹ دار آواز سنی:۔

"جب عمر کی نقدی ختم ہوئی، اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے

ہے کوئی جو ساہوکار بنے؟ ہے کوئی جو دیون ہار بنے؟

کچھ سال، مہینے، دن لوگو! پر سود بیاج کے بن لوگو!"۔


نظم کے یہ مصرعے اس کی روح میں تیر کی طرح پیوست ہو گئے۔ اسے ایک عجیب، گہرا اور خوفناک احساس ہوا۔۔۔ کیا وہ مرنے والا ہے؟ کیا اس کی باری آگئی ہے؟ یہ لرزہ خیز خیال آتے ہی اس کی آنکھ کھل گئی۔


کمرے میں نومبر کی سردی کا راج تھا، مگر اس کا پورا جسم خوف اور گھبراہٹ کے مارے پسینے میں ڈوبا ہوا تھا۔ وہ دل کی تیز دھڑکن کے ساتھ اٹھا، کھڑکی سے باہر دیکھا تو اندھیری رات کی کوکھ سے فجر کی پاکیزہ آذان گونج رہی تھی۔ اس کی دل میں خیال گونجا کہ اسے نماز پڑھنی چاہیے سو اس نے وضو کیا، لرزتے ہوئے پاوں پہ نمازِ فجر ادا کی، مگر وہ خواب، وہ نظم اور موت کی وہ چاپ اس کے ذہن کے پردے پر کسی سائے کی طرح گھومتی رہی تھی۔ اس کی نیند ایک عجیب طور ہی غائب ہوچکی تھی، اور کمرے کی دیواریں اسے اجنبی محسوس ہونے لگی تھیں۔

دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے وہ چادر اوڑھ کر گھر سے باہر نکل گیا اور قدم اسے نزدیکی پارک کی طرف لے گئے۔ وہاں پہنچ کر وہ حیران رہ گیا۔ صبح کے دھندلکے میں کائنات انگڑائی لے رہی تھی اور زندگی ایک نئے روپ میں پیدا ہو رہی تھی۔ وہاں تقریباً ہر عمر کے لوگ صبح کی سیر کے لیے پہنچ چکے تھے۔ زندگی کا وہ چہچہاتا ہوا میلہ دیکھ کر اس کا ذہن بھٹک گیا اور وہ ماضی کے دریچوں سے ہوتا ہوا اپنے بچپن میں پہنچ گیا، اور بچپن کی زندگی کے وہ تمام مدارج جو اس نے طے کیے تھے، ایک ایک کر کے اس کی یادداشت کا حصہ بن کر اس کے سامنے لہرانے لگے:۔


• راجہ خالد شریف کو اپنا بچپن یاد آیا، اپنی ماں یاد آئی جو اسے صبح پیدار کرتی تھی تو کلمہ پڑھاتی تھی؛ اس کا بچپن اسکی شیرخوارگی سے متصل زندگی کے دورانیے کا ابتدائی اور سب سے معصوم مرحلہ تھا۔ جب وہ ماں کی گود سے باہر نکل کر کائنات کو حیرت سے دریافت کر رہا تھا۔ بلا روک ٹوک کھیل کود، بے فکری، بھولپن اور سادگی—یہ اس کے بچپن کی "عمر کی نقدی" تھی۔ اس کو یاد آیا کہ اپنے دادا کی انگلیاں پکڑے وہ بھی اپنے گھر کے قریبی باغ تک جایا کرتا تھا۔ اسی بچپن میں وہ اپنے گھر کے آنگن اور باہر گلی میں دوسرے بچوں کے ساتھ کیسے کیسے کھیل کھیلا کرتا تھا۔ ایک دفعہ جب اسکا بچپن گذر گیا تو وہ کھیل تو کبھی نہیں کھیلے گئے۔ اس نے سوچا، اگر کوئی بچہ اس عمر کی نقدی کو اس کے فطری تقاضوں کے مطابق استعمال نہ کر سکے، تو باقی ساری عمر اس کا نقصان ہی رہتا ہے۔ وہ معصومیت، سادگی اور بےفکری پھر کبھی کسی قیمت پر واپس نہیں آسکتی۔ اسکو لگا اس کا بچپن خوبصورت اور حسین تھا۔ اسکے پاس اس بچپن میں سارے رشتے تھے؛ دادا دادی، نانا نانی، چاچا پھپو، ماماخالہ اور ہم عصر ہمجولی بھائی بہن اور کزن؛ سبھی تو تھے۔ اسکا بچپن بھرپور تھا۔ اسی بچپن میں وہ ذرا تاخِر سے اسکول میں داخل کیا گیا تھا۔۔ تاخیر کی وجہ دادا تھے جنکا خیال تھا کہ لاڈلہ ابھی اسکول کے قابل نہیں تھا اور وہ خود ہی اسکو پڑھایا کرتے تھے۔۔ وہ چھ سال کی عمر میں اسکول میں جمع کرایا گیا تھا۔


انہی سوچوں میں وہ گھر واپس آگیا۔۔ اور اس وقت تک اس کا دل قرار پاگیا تھا۔۔ شاید یہ بچپن کو دوبارہ جینے کا اثر تھا۔۔

• اگلے دن راجہ خالد شریف اپنے پوتے کو اسکول چھوڑنے گیا۔ وہ اس علاقہ کے مشہور اسکول میں پڑھتا تھا اور دور دور سے بچے وہاں تعلیم حاصل کرنے پہنچ رہے تھے۔ وہاں حسبِ معمول بچے شرارتین کرتے ہوئے اسکول کے گیٹ سے اندر جارہے تھے۔ اسکو اپنے لڑکپن کا فسانہ یاد آنا شروع ہوگیا۔ وہ اپنی گاڑی میں بیٹھےان بچوں کو دیکھنے لگا۔ بچپن کی سرحد ختم ہوتے ہی لڑکپن شروع ہوتا ہے۔ اب اس عمر کی نقدی بھی ایک منفرد قیمت رکھتی تھی، جس کا تعین اس عمر کی نادانیوں اور خوابوں میں ہوتا ہے۔ اسے یاد آیا کہ کیسے لڑکپن کے گزر جانے کے بعد پھر زندگی میں کبھی وہ افسانوی دور واپس نہیں ہوا۔ اس لڑکپن کی انتہا پہ وہ کالج میں پہنچ گیا تھا۔۔ اسکا اسکول اسکی زندگی کا سنہرا دور تھا۔ جہاں اسنے بہت کچھ سیکھا تھا۔ اسکول صرف جماعت میں استاد سے سیکھنے کا نام نہیں تھا۔۔۔ کھیل کا میدان، برآمدوں کی مٹرگشتیاں؛ کینٹین کی شرارتیں اور زندگی بھر کی دوستی کی بنیادیں اسی لڑکپن اور اسکول کا تحفہ رہی تھیں۔

لڑکپن ایک فسانہ کی طرح تھا جس کی انتہاء بلوغت کے سرایت کرنے پر ہوئی۔ "محبت کی اس پہلی حماقت" یعنی اس معصوم سے 'کرش' یعنی"ریشم" کی وہ قدر، وہ سحر اور وہ بے ساختہ دلیل باقی نہیں رہی تھی۔ ریشماں اسے بلاوجہ اچھی لگی تھی جب ایک دن وہ اسکول میں داخل ہورہی تھی تو اسکے چہرے پہ نظر پڑتے ہے اسکے دل کو بھا گئی تھی۔ اس عمر کی حماقت اکثر جوتے پڑتے ہی ختم ہوجاتی ہے۔ راجہ خالد شریف کی پہلی حماقت کی کہانی پھر کبھی۔

راجہ خالد شریف کو یاد آیا کہ بچپن کےبعد کی عمروں کی رفاقتیں، سنگتیں، محفلیں اور محبتیں تو منطق، مصلحت اور نفع نقصان کی محتاج ہو جاتی ہیں۔ یہ وہی لڑکپن تھا جس کا طعنہ کئی عرصے تک اسکے بڑے یہ کہہ کر دیتے تھے کہ "کیا بچوں والی بات کر رہے ہو، اب بڑے ہو جاؤ"۔ لڑکپن ختم ہوتے ہوتے اسے محلے اور اردگرد کے علاقے میں ایک تعارف دے گیا تھا، جہاں "ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات" کا مقولہ اثر دکھاتا تھا۔


• ایک ہفتے کے بعد راجہ خالد شریف کو اس کے اپنے گورنمنٹ گورڈن کالج، جہاں سے اس نے انٹر اور ڈگری کی تعلیم حاصل کی تھی، سے مہمان خصوصی کی دعوت ملی تو وہ شاید پینتیس سال کے بعد ہی وہ دوبارہ اپنے کالج گیا۔۔ وہاں پہنچ کے اس کو احساس ہوا کہ جوانی کا حسن کیا ہوتا ہے۔ وہاں اسٹیج پہ بیٹھے بیٹھے اس کو خیال گذرا کہ لڑکپن کی نادانیوں سے نکل کر جب اس نے نوجوانی میں قدم رکھا، تو صلاحیتیں انگڑائی لے رہی تھیں اور توانائی عروج کی طرف گامزن تھی۔ ایک حسین مستقبل کا خواب ذہن و دل میں بسائے وہ بھی انکی تعبیرکی تلاش میں کالج پہنچا تھا۔ اس وقت وہ شہر کے گنجان آباد حصے میں دادا کو تقسیم کے بعد ملے ایک چھوٹے سے گھر میں رہتا تھا۔۔ اور آج وہ شہر کے پوش علاقے میں اپنے ذاتی ایک بڑے بنگلے سے وہاں پہنچا تھا؛ جبکہ تین اور اسی طرح کےمکان اس نے کرائے پہ دئیے ہوئے تھے؛ جس کے ماتھے پہ ھذا من فضل ربی" کی تختی لگا رکھی تھی۔"

وہاں کالج میں اس وقت اس کا ایک بھانجا بھی زیرِتعلیم تھا جس نے قبل از تقریب اسے اپنے ساتھویں سے ملایا۔ وہ سب انیس بیس سال کے نوجوان تھے۔ انکے درمیان گھرا ایک خیال اس کے ذہن سے گذرا کہ انسان اپنے روپ میں سب سے زیادہ حسین اسی عمر میں دکھتا ہے؛ اب چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی۔ اس کی ایک معتبر وجہ بچپن کا رخصت ہوتا معصومیت کا رنگ تھا۔ اس کے ذہن میں گونجا کہ اس عمر میں وہ خود کو وحید مراد کے رنگ میں ایک ہیرو سمجھتا تھا؛ خونصورتی کی معراج وحید مراد کا ہیڑ اسٹائل بنانا اس کا شیوہ تھا۔

اسکی جوانی کے دنوں میں اس کے شہر میں سارے تعلیمی ادارے مردوں یا عورتوں الگ الگ ہوتے تھے۔۔ اور وہیں کالج میں ان لڑکوں سے ساتھ کھڑے کھڑے اسکو اپنے کئی یار دوست اور ہم عمر لڑکے یاد آئے جو جب تک "اپنی ہیر، سوہنی، شیریں اور محبوب" کا کالج آتے جاتے دیدار نہ کرلتے تھے؛ سورج کے طلوع اور غروب کا حساب بے معنی محسوس ہوتا تھا۔ ان میں سے اکثر کا وہ عشق یکطرفہ ہوتا تھا، کیونکہ جس کسی نے سنجیدگی دکھائی تھی اورگھر تک پیغام پہنچایا تھا تو معلوم ہوا کہ معشوق منکوحہ تھیں اور فائنل امتحانات سے قبل ہی پیا دیس پدھار جانے والی تھیں۔۔ وہ بےشمار رانجھے اور مہینوال بالآخر ماں باپ کی پسند کے کھونٹے سے باندھے گئے تھے۔

راجہ خلاد شریف کو اپنےاستاد کی بات یاد آئی کہ اپنے حصہ کی "لڑکی" اسکول میں ڈھونڈو۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ "یاد رکھو مردانہ خونصورتی صرف اسی نوجوانی کی عمر کا خاصہ ہے۔ جیسے ہی ذرا بڑے ہوگئے؛ تم صرف مرد رہ جاو گے اور وہ "قلوہ پٹرا" بن جائے گی۔

اس کے استاد نے یہ بھی کہا تھا کہ "جوانی کی عمر کا طاقتور جسم بذاتِ خود حسن پرور نہیں ہوتا۔ لڑکپن کی محبت کی "پہلی حماقت" کا پھیلاؤ نوجوانی میں نہیں ہونا چاہیے؛ اور اگر ہوجائے تو اسے اسی عمر میں اختتام پذیر ہو جانا چاہیے؛ کیونکہ ایسی حماقت بعد از نوجوانی بہت مہنگی پڑتی ہے—بالکل اس دوا کی طرح جو بعد از شیلف لائف زہر بن جائے اور انسان اسے استعمال کر لے۔ پاکستانی معاشرے میں بہت بڑی تعداد میں لڑکیاں اسی عمر میں شادی شدہ ہو کر اس مرحلے کو سنبھال لیتی ہیں"۔

راجہ خلاد شریف کو ایک پلک جھپٹتے میں یہ خیال گذرا کہ نوجوانی کی عمر تعلیم اور ہنر حاصل کرنے کی عمر ہے؛ کیونکہ اسکے جس جس ساتھی نے اس عمر میں تعلیم میں سنجیدگی دکھائی یا کوئی ہنر سیکھنے پہ لگائی؛ بعد از مرحلاتِ زندگی اچھے طور پہ گذاری۔ اس تقریب میں اس نے پھر اسی بات کو موضوع بنا کر تقریر کی۔ اور اپنے اساتزہ کی نصیحتوں کو دھرا دیا۔۔ اس نے دل ہی دل میں اپنے اساتذہ کے لیے دعا کی کہ کہیں نہ کہیں اس کے استاد اس کے دل و دماغ میں موجود تھے۔

• کچھ دنوں کے بعد راجہ صاحب کو انکے اعزاز میں اپنے سابق ادارے سےایک عشائیے کی دعوت ملی۔ اور وہ اپنی اہلیہ سمیت تشریف لے گئے۔ وہاں پہنچتے ہی انکو دفتر کے نوجوانوں نے گھیر لیا۔۔ ان نوجوانوں کے درمیان راجہ خالد شریف کو خیال اجاگر ہوا کہ "زندگی کی نقدی" کا بہترین مصرف جوانی کی پیک پرفارمنس میں مظہر ہے۔ ان نوجوانوں کے چہروں کی تازگی تابندگی اور جوش وخروش ان کو یاد کرا رہا تھا جب ان کی زندگی میں جوانی آئی تو وہ خوش نصیب ثابت ہوئے تھے؛ انکو یاد آیا کہ انکے دادا کہا کرتے تھے کہ "جوانی دیوانی ہوتی ہے—جوانی انسان کی بہترین کارکردگی (پیک پرفارمنس) کا دور" ہوتا ہے۔ اگر انسان ایک شے ہے، تو یہ مصنوعاتی شیلف لائف کے سب سے موثر اور پائیدار دور سے گزرتی ہیں۔ اس عمر میں جسمانی طاقت، ذہنی صلاحیت اور ارادے مضبوط تھے اور معاشرہ ان سے پیداواری صلاحیت کا تقاضا کر رہا تھا۔ اور راجہ صاحب نے ایسا کرکے دکھایا تھا۔۔ وہ خوش نصیب تھے کہ کالج سے انگریزی میں ماسٹرز کرتے ہی پبلک سروس کے امتحان سے گذر کر ملازمت مل گئی تھی اور انکی اس وقت عمر محض پچیس سال ہی تو تھی۔ اور دفتر میں انہوں نے دن رات کام کیا اور اپنے بڑوں کی خوشنودی حاصلکرلی تھی۔

جیسا کہ رواج تھا جیسے ہی وہ پاوں پہ کھڑے ہوئے انکے ماں باپ کو انکی فکر لگی اور وہ ایک کھونٹے سے باندھے گئے۔ چنانچہ جوانی کی عمر کی سرحد میں داخل ہوتے ہی وہ شادی کے بندھن میں بندھے گئے تھے۔ شادی بنی نوع انسان کی تہذیب کا ایک اہم اور سنگین موڑ ہے۔ یہ موڑ بقائے نسلِ انسانی اور قوم کی تہذیب کا مضبوط ترین مرحلہ ہوتا ہے، اسی لیے معاشروں میں خوب دھوم دھام سے انجام پذیر ہوتا ہے۔ راجہ صاحب کی شادی بھی خوب دھوم دھام سے ہوئی تھی۔

ریٹائرڈ زندگی کی پہلی رات جو خوفناک خواب راجہ صاحب نے دیکھا تھا؛ وہ انکے ذہن سے محو نہیں ہوا تھا۔ زندگی ہر روز آگے بڑھ رہی تھی؛ لیکن راجہ صاحب کو ابن انشاء کی "عمر کی نقدی" والی بات بھولی نہیں تھی۔ وہ وقتا" فوقتا" انکے ذہن میں گونجتا رہتا تھا۔ وہ گونج راجہ خالد شریف کی بیتاب رکھتا تھا۔ وہ اپنے ماضی میں جھانکنے پہ مجبور ہوگئے تھے۔ ایک دن وہ راجہ بازار چلے گئے۔۔ اس بازار میں وہ اپنی نوجوانی تک جاتے رہے تھے مگر شاید جب سے نوکری پہ لگے تھے وہ اس بازار میں نہیں گئے تھے۔۔ کیونکہ شاید وہاں جانا ممکن نہیں رہی تھا؛ رش جو بہت ہوگیا تھا۔

بازار جاکر انہوں نے دیکھا کہ انکے پرانے علاقے کے بہت سے ساتھی اس وقت بازار کے متمول لوگ بن گئے تھے۔ اور بازار میں انکا نام تھا۔ وہ سب نوجوانی میں اس بازار میں آگئے تھے۔ راجہ خالد شریف کو احساس ہوا کہ نوجوانی کی عمر ہی درست درجہ تھا جب بڑی عمر کے لوگ اپنے نوجوانوں کو زندگی کا بوجھ اٹھاتے دیکھنا چاہتے تھے، اور یہی وہ مرحلہ تھا جب "بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں" کا پودا توانا ہو کر اپنی شکل دکھاتا ہے۔ زندگی کی دوڑ میں کوئی قوم کیا حاصل کر پائے گی، اس کا اندازہ اس کے جوانوں کی تگ و دو اور قابلیت سے ہی لگایا جا سکتا ہے۔ اس بازار کو پینتیس چالیس سال قبل کے نوجوانوں نے آباد کررکھا تھا اور آج انکے بچے انکی جگہ لے رہے تھے۔ زندگی کے بازار میں عمر کی نقدی یہ تقاضہ کرتی ہے کہ نوجوان اپنی اپنی طبع کے مطابق زندگی کے شعبوں میں ملوث ہوں اور اپنی توانی اور طاقت کو مستمل کریں اور خود کو، اپنے خاندان کو اور ملک و قوم کو ترقی کے راستے میں آگے بڑھائیں۔۔

• اس دن بازار کے سیر کے بعد راجہ خالد شریف کو اپنے آبائی محلے کی یاد آئی؛ تو اگلے ہی دن وہ اپنے پرانے محلے کی طرف نکل گئے۔ وہ تنگ گلیاں اور انسانوں سے بھرے ہوئے محلے کبھی انکی زندگی تھی مگر جیسے ہی وہ سرکاری ملازم بنے تھے وہ شہر کے پوش علاقے میں جابسے تھے؛ شروع میں کرائے پہ تھے اور بعد میں ذاتی گھر میں رہے تھے۔ وہ کئی گھنٹے ان گلیوں میں اِدھر اُدھر پھرتے رہے۔ اور آخر ایک کوئٹہ ہوٹل پہ چائے کے لیے بیٹھ گئے۔ اس جگہ بیٹھے تو انکو خیال آیا کہ کتنی دیر وہ ان گلیوں میں پھرے؛ لیکن کوئی انکو شناسا چہرہ نہیں ملا اور نہ ہی انکو کسی نے پہچانا۔ یہ کیسے ہوگیا؟ کبھی وہ وقت تھا کہ ہر چہرہ شناسا اور اپنا تھا؛ پھر کیا کھو گیا کہ اس دن وہ اجنبی بن گئے تھے۔ انکو یاد آیا کہ آخری دفعہ دس سال قبل وہ اہنے ایک دوست کے والد کی وفات پہ یہاں آئے تھے، کیونکہ انکی وصیت تھی کہ انکی میت کو آبائی گھر ہی سے اٹھایا جائے۔ وہ اپنے بیٹوں کے پاس ضرور جاتے تھے مگر واپس اپنے گھر ہی جاتے تھے۔ راجہ خالد شریف کے والد نے اپنا آبائی گھر بیچ دیا تھا اور اسکے ساتھ رہنے لگے تھے۔

اس دن کوئٹہ ہوٹل پہ بیٹھے ہوئے راجہ خالد شریف کو احساس ہوا کہ "عمر رسیدگی کپتانی" تو دیتی ہے مگر ذمہ داری بھی بڑھاتی ہے۔ اور اگر ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا جائے تو وہ کپتانی وہ سرداری کسی کام کی نہیں ہوتی۔ انکے ذہن میں خیال ابھرا کہ وہ نوکری کے پینتیس سالوں میں "عمر رسیدگی" کے اس موڑ پر پہنچے جہاں ڈائریکٹر جنرل کے عہدے تک پہنچ گئے تھے مگر خود اپنے آبائی محلے میں اجنبی بن گئے تھے۔ کوئٹہ ہوٹل میں بیٹھے بیٹھے ایک اوائل چالیس سال کا جوان انکے سامنے آیا اور کہا کہ "خالد بھائی آپ یہاں کہاں؟" وہ کسی وقت میں انکے آبائی گھر کی گلی میں رہنے والا تھا۔ اور آج بھی وہیں رہ رہا تھا۔ اس نے انکو گلی کی دوسرے گھروں میں بسنے والوں کے حالات بتائے۔ کون کہاں ہے، کیا کرتا ہے اور کیسا ہے؟ اسکی گفتگو سے انکو احساس ہوا کہ زندگی میں ہمیشہ ایک جیسا میدان سامنے نہیں رہتا اورنہ ہی گھوڑا ایک جیسی رفتار سے بھاگتا ہے؛ زندگی ایک کھیل تو ہے مگر ایک ہی کھیل نہیں ہے؛ اور اسکے مراحل ؛ مدارج اور نتائج بھی ایک جیسے نہیں رہتے۔

اس جگہ بیٹھے بیٹھے راجہ خالد شریف کو خیال گزرا کہ خود ان کی زندگی میں جب "عمر رسیدگی" کی حیثیت اپنی شیلف لائف کی حد کو آہستہ آہستہ نمایاں کرنے لگی تھی تو ان کی کارکردگی کے گراف میں ایک سنجیدہ ٹھہراؤ آ گیا تھا۔ تب صلاحیت، قابلیت اور تجربہ ان کی پہچان بن چکے تھے۔ اس وقت خود کو گرنے سے بچانے کے لیے زیادہ دیکھ بھال اور فہم کی ضرورت تھی جس کو انہوں نے لازم کر لیا تھا، اور انہوں نے اہم ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھایا تھا۔ اس عمر کی نقدی بقولِ اقبال "کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں" کے مصداق ظاہر ہوئی تھی، جس نے انہیں اپنے شعبے کا معتبر "کپتان" بنا کر پیش کیا تھا؛ جہاں انہوں نے تاریخ کی کتاب میں اپنا رنگ دکھایا۔

• اس دن اپنے آبائی علاقےسے آکر راجہ خالد شریف کو ایک درجہ قرار آگیا تھا۔ اب "ادھیڑ عمر یا بڑھاپا" انکے لیے ایک خوف نہیں رہا تھا۔ وہ جان گئے تھے بڑھاپا انسانی شیلف لائف کا آخری کنارہ ہے، جہاں تاریخِ تنسیخ (ایکسپائری ڈیٹ) بالکل قریب آ جاتی ہے۔ جسمانی اعضاء اور ذہنی قویٰ اپنے مقررہ کارکردگی کے تقاضوں پر پورا اترنا چھوڑ دیتے ہیں۔ یادداشت دھندلا جاتی ہے، ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں اور انسان بالکل اس دوا یا خوراک کی طرح ہو جاتا ہے جس کی مادی اثر پذیری اب ختم ہو چکی ہو۔ فرق صرف اتنا ہے کہ دکان کے شیلف پر رکھی مصنوعات پر ان کی تاریخیں واضح لکھی ہوتی ہیں، مگر قدرت نے انسان کی پیکنگ پر تاریخِ تنسیخ کو پوشیدہ رکھا ہے۔ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ہماری جیب میں عمر کے کتنے سکے باقی ہیں۔

آبائی علاقے کی سیر اور ایک جوان سال بھائی کی گفتگو سن کے راجہ خالد شریف کو زندگی کا آخری پڑاو اب ایک خوفناک مرحلہ نہیں رہا تھا۔ بلکہ یہ احساس اجاگر ہوا تھا کہ "بڑھاپا خوبصورت" بھی ہوسکتا ہے اور موت تو اٹل ہے اور آکر رہنی ہے تو ڈر کیسا؟ انکے دل میں خیال پیدا ہوا کہ کیوں نا وہ اس جامع مسجد مین جاکر جمعہ ادا کریں جہاں کبھی بچپن سے نوجوانی تک انہوں نے جمعہ کی نماز پڑھی تھی۔ سو اگلے ہی جمعہ وہ وہاں پہنچ گئے۔ اور بعد از جمعہ اس علاقے کے بازاروں میں نکل گئے۔ ایک یادوں کا تسلسل تھا جس نے انکو گھیر لیا۔ انہی یادوں کے تسلسل میں انہوں نے دیکھا کہ وہاں جمعی کے بعد دکانیں کھل رہی تھیں اور رش بڑھ رہا تھا، لوگ سودا سلف خرید رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ کچھ لوگ ان دکانوں پہ ہاتھ میں ایک لسٹ پکڑے خریداری کررہے تھے؛ وہ یقینا" مہینہ بھر کا سودا سلدف لینے آئے ہوئے تھے۔ وہیں انہوں نے ایک بینک کے باہربجلی کا بل جمع کرانے والوں کی لگی لمبی قطار دیکھی جہاں ہر شخص اپنے ہاتھ میں کاغذوں کا ڈھیر سنبھالے اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے—بالکل اسی طرح جیسے انسان اپنی زندگی کی باری کا انتظار کرتا ہے۔


چلتے چلتے، راجہ خالد شریف ایک ایسے پراسرار اور لامتناہی بازار کے عین وسط میں پہنچ گئے، جہاں ایک قدیم مٹی کے مکان میں دکان تھی۔ اس دکان کے تھڑے پر ایک نوے یا سو سالہ بوڑھا سوداگر خاموشی سے بیٹھا سامنے پھیلے وسیع میدان میں بچوں کو کھیلتے دیکھ رہا تھا۔ یہ بظاہر ایک عام دکان تھی، مگر اس کا کاروبار کائنات کے ہر کاروبار سے مختلف تھا۔ دکان کے چوبی کواڑ پر دھندلے لفظوں میں لکھا تھا: "انسان کی شیلف لائف"۔

اس منظر کو دیکھ کر ان کے اندر کا حیرت کا جہان بیدار ہو گیا اور انہیں لگا کہ وہ بوڑھا سوداگر وقت کی اسی نقدی کا سودا بیچ رہا تھا؛ جس کا انہوں نے خواب دیکھا تھا۔

وہاں انہیں وہ کالج کا ساتھی ملا جس نے فوج جوائن کرلی تھی اور دشمن سے ایک جھڑپ میں شہید ہوگیا تھا۔ اس نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے پاس بٹھا کر باتیں کرنے لگا۔ اس نے پوچھا کہ کیا اسنے چالیس سال کی عمر کا عہد اور دعا کی تھی؟ تو وہ حیران ہوا کہ وہ کیا ہے؟ تو اس نے بتایا کہ اللہ سبحان تعالی نے قرآن مجید کی‏ سورۃ الاحقاف میں یوں بیان کیا ہے کہ "‏اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا ۔ اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے یہاں تک کہ جب وہ اپنی پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو کہنے لگا اے میرے پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤ ں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اولاد کو بھی صالح بنا ۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے نیک اعمال تو ہم قبول فرما لیتے ہیں اور جن کے بد اعمال سے درگزر کر لیتے ہیں ( یہ ) جنتی لوگوں میں ہیں ۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا ہے" ۔ (الاحقاف:15،16)

راجہ خالد شریف کو اس کا علم نہیں تھا سو انہوں نے انکار کردیا تو اس ساتھی نے کہا کہ اب کرلو؛ اللہ تعالی رحمن و رحیم ہیں اور بھول چوک کو معاف کردیتے ہیں۔ سو تم فورا" سے یہ دعا کرو اور عہد کرلو۔ راجہ صاحب نے فورا" سے حامی بھری اور دعاگو ہوکر عہد کرلیا۔ جیسے ہی انہوں نے یہ کام کیا وہ ساتھی کہیں بھیڑ میں کھو گیا؛ مگر جاتے جاتے اسے سلیم کوثر کا ایک شعر سنا گیا کہ

اب اس کے بعد نئی زندگی کا ہے آغاز

یہ زندگی تو مرے یار ختم ہونے کو ہے

پھر وہ بے مقصد آوارہ گھومنے لگے تو انکا ذہن ایک خیالات سے پُر ہوگیا۔ انہین خیال آیا کہ زندگی کے سفر میں جب ہم بڑھاپے کو پہنچتے ہیں اور ماضی پر نظر دوڑاتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ عمر کی اس نقدی کو خرچ کرنے کی سب سے بھاری قیمت اپنے پیاروں کو الوداع کہنے کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔ چاہے وہ کوئی اسکول کا دیرینہ ساتھی ہو یا سگے رشتہ دار انسان—ان کا بچھڑنا کسی قیامت سے کم نہیں ہوتا۔ اس تلخ حقیقت کو تسلیم کر لینا کہ اب وہ کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے، انسانی وجود کے لیے سب سے مشکل مرحلہ ہے۔ جب تک یہ صدمہ کسی ایسے شخص کو ہم سے نہ چھین لے جو ہماری روزمرہ کی زندگی کا اٹوٹ حصہ ہو، تب تک ہمیں یہی لگتا ہے کہ یہ سب تو بس دوسروں کے ساتھ ہوتا ہے، ہم اس سے محفوظ ہیں۔

مگر جیسے جیسے اس کرۂ ارض پر ہماری اپنی مہلتِ حیات یعنی 'شیلف لائف' کم ہوتی جاتی ہے، ایک عجیب سا تغیر جنم لیتا ہے۔ اب انسان ہر طرح کے اختتام کو ایک ایسے سکون اور ٹھہراؤ کے ساتھ قبول کرنا سیکھ لیتا ہے جو پہلے اس میں نہ تھا۔ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ کل ہم اس زمین پر چل پھر سکیں گے یا ہماری سانسوں کی نقدی باقی رہے گی۔ یہ ایک ایسی برہنہ حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ اپنے پیاروں کو ایک ایک کر کے رخصت ہوتے دیکھ کر انسان یہی سب سے بڑا سبق سیکھتا ہے۔


اس سمے راجہ خالد شریف کو احساس ہوا کہ ایک لحاظ سے، انسان اپنے ان رخصت ہو جانے والے پیاروں کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے سکھایا کہ اپنی باقی ماندہ زندگی کس طرح گزارنی ہے۔ وہ اگرچہ جاتے جاتے ایک گہرا دکھ دے کر گئے، مگر اپنے پیچھے ایک ایسی روشن کرن چھوڑ گئے جو اندھیروں کو منور کرتی ہے۔ کسی پیارے بھائی یا عزیز کا گزر جانا انسان کو سکھاتا ہے کہ وہ اپنے پیچھے ہمارے اندر جو مرہم، نرمی اور ہمدردی چھوڑ گئے ہیں، ہم اس کی قدر کریں۔ اس تجربے سے زندگی کی نازکی کا مزید احساس ہوتا ہے؛ انسان ہر اس شخص سے محبت کرتا ہے اور اس کی موجودگی کا جشن مناتا ہے جو اسے زندگی کی راہوں میں ملتا ہے، اور ان کی ان شاندار خوبیوں کو تسلیم کرتا ہے جو شاید ان کی صحبت کی برکت سے اس کے اپنے اندر بھی منتقل ہو جاتی ہیں۔

یہیں پر زندگی کا فلسفہ خوف سے نکل کر اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں امریکی شاعرہ میری اولیور اپنی نظم "وین ڈیتھ کمز / جب موت آتی ہے" میں کہتی ہیں:۔

"میں حیرت سے بیاہی ہوئی ایک دلہن تھی..."

یہ مصرع سکھاتا ہے کہ جب موت آئے، تو انسان اگر پیچھے مڑ کر دیکھے تو اسے لگے کہ اس کی عمر ایک حیرت کدہ سے شادی میں گزری، جس میں اس کا احترام اور تقدیس روا رکھا گیا۔۔۔ بالکل ویسے ہی جیسے ایک دلہن کا کیا جاتا ہے۔ یعنی انسان اس زمین پر ایک لایعنی وقت کاٹنے کے بجائے ایک حسین دور گزار کر جا رہا ہو۔ وہ کسی خوفزدہ مسافر کی طرح نہیں, بلکہ ایک ایسی دلہن کی طرح موت کا سامنا کرے جس نے زندگی کے ساتھ حیرت، تجسس اور والہانہ محبت کا ایک گہرا، دیرینہ اور فعال رشتہ استوار کیا تھا۔ وہ صرف دنیا کا ایک "مختصر دورے" کی مانند غیر فعال مشاہدہ کرنے نہیں آئی تھیں، بلکہ وہ تو وہ دولہا تھیں جس نے کائنات کو اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا تھا۔


اور تقریباً ایسا ہی پیغام مشہور انگریزی شاعر الفریڈ لارڈ ٹینیسن نے اپنی نظم "کراسنگ دا بار" میں دیا ہے۔ وہ موت کی آمد پر کسی خوف یا ماتم کے بجائے ایک پرسکون سمندری سفر کی خواہش کرتے ہیں، جہاں لہروں کا کوئی شور نہ ہو اور نہ ہی مسافروں کی جدائی کا کوئی نوحہ ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ جب میں اس دنیا کی حد (بار / سرحد) کو پار کر کے ابدیت کے سمندر میں اتروں، تو میرا جہاز سکون سے آگے بڑھے کیونکہ میں اُمید کرتا ہوں کہ میں اپنے "ناخدا" (پائلٹ / خدائے لم یزل) کو آمنے سامنے دیکھ سکوں گا۔

جب عمر کی نقدی ختم ہونے کے قریب ہو، تو انسان آہ و زاری اور پچھتاوے کے بجائے اس اطمینان سے بھرا ہو کہ اس نے زندگی کے ہر لمحے اور ہر درجے کو اس کے پورے حسن اور مخصوص تقاضوں کے ساتھ جی کر دیکھا ہے۔ جو لوگ اس سرمائے کو محبت، علم اور انسانیت کی خدمت میں خرچ کرتے ہیں، ان کی جسمانی شیلف لائف بھلے ایک دن ختم ہو جائے، مگر ان کے اعمال کا ذکر دنیا میں کبھی "ایکسپائر" نہیں ہوتا۔ وہ موت کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے بھی اپنی اس "بے باک اور قیمتی" (وائلڈ اینڈ پریشیس) زندگی کا جشن منا کر رخصت ہوتے ہیں، اور یہی عمر کی نقدی کا بہترین مصرف ہے۔

اس دن کے بعد راجہ خالد شریف کو بڑھاپا خوبصورت محسوس ہوتا تھا کیونکہ قرآن مجید کی سورۃ النحل، آیت نمبر 70 کا پیغام انکو سمجھ آگیا تھا۔ آیت میں فرمانِ الہی ہے کہ

وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّاكُمْ ۚ وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ إِلَىٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ قَدِيرٌ (70)

"اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا پھر وہی تمہیں مارتا ہے، اور کوئی تم میں سے نکمی (یا بدترین / انتہائی بڑھاپے کی) عمر تک پہنچایا جاتا ہے جو سمجھ دار ہونے کے بعد نادان ہو جاتا ہے، بے شک اللہ جاننے والا قدرت والا ہے"۔

اس آیت میں "أَرْذَلِ الْعُمُر" (سب سے کمزور عمر) سے مراد وہ عمر ہے جو چالیس سال کے بعد شروع ہوتی ہے، جب انسان کی جسمانی اور ذہنی قوتیں کم ہونے لگتی ہیں۔ بہت سے مفسرین کے مطابق، "أَرْذَلِ الْعُمُر" سے مراد چالیس سال کی عمر ہے، کیونکہ "چالیس سال" وہ عمر ہے جس کے بعد انسان کی طاقت کم ہونے لگتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب انسان اپنی جوانی اور طاقت کا تجربہ کر چکا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ انسان اس تجربات سے سیکھے اور اللہ کی طرف رجوع کرے۔ یہ آیت انسان کو یہ درس دیتی ہے کہ عمر کی ہر حالت میں اللہ کی حکمت ہے، اور ہمیں چاہیے کہ ہم ہرعمر میں اللہ کی عبادت اور شکرگزاری میں مشغول رہیں۔ کیونکہ "عمر کی نقدی" کا تمام جوہر اللہ تعالی کی بندگی ہے۔ یہ زندگی ایک مستعار لمحہ ہے؛ اور یہ زمین ایک دارالامتحان ہے اور انسان کا اصل گھر جنت میں ہے۔

راجہ خالد شریف کو اب اطمینان حاصل ہوچکا تھا۔ وہ جان گئے تھے کہ زندگی کی اصل قدر و قیمت یہ ہے کہ انسان ہر عمر کے درجوں میں خوب محنت کرے اور زندگی کی کامیابیوں کا جشن منائے اور راستے میں ہونے والے غلیطوں پی خالقِ کُل سے معافی کی درخواست کرے اور توبہ کرکے بہتری کی تلاش میں رہے۔ راجہ صاحب کو اپنا بڑھاپا خوبصورت لگنے لگا تھا۔

Long Read Sequencing Market To Witness Huge Potential In The Future

defaultuser.png
Steve Rey
4 minutes ago

Surgical Tables Market Supply-Demand, Production Cost and Share Analys...

defaultuser.png
Steve Rey
4 minutes ago

Cookware Market Global Insights And Revenue Growth Up To 2033

defaultuser.png
Steve Rey
4 minutes ago

How to Choose Tateossian Bracelets for Black Friday Gift Giving

1792046738_3ujfcvtfwh.png
Johann Paul
21 minutes ago

Ηλεκτρονικά Φαρμακεία στην Ελλάδα: Οδηγός για Ασφαλή Ενημέρωση και Υπε...

defaultuser.png
rxgreece
30 minutes ago