Muhammad Asif Raza 1 month ago
Muhammad Asif Raza #education

"علامہ اقبال : روحِ تیمور و بیداریِ امت"

Allama Dr Muhammad Iqbal was the great mystic Poet of the Sub Continent India-Pakistan. Iqbal is also the philosopher of East and national poet of Pakistan. Allama Muhammad Iqbal has given comprehensive message about "Khudi" in both Urdu & Persian language. This write up in Urdu "علامہ اقبال : روحِ تیمور و بیداریِ امت" is an explanation of the Iqbal's poem (تاتاری کا خواب" ) in his book "بالِ جبریل" with the help of other verses, keeping the main theme in focus.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


علامہ اقبال کی شاعری: روحِ تیمور و بیداریِ امت


حکیم الامت علامہ محمد اقبال کی شاعری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے زوال کا مرثیہ اور ان کی نشاۃِ ثانیہ کا ایک روشن منشور ہے۔ اقبال نے مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے جگانے کے لیے تاریخ کے عظیم کرداروں، استعاروں اور تخیلاتی اسلوب کا سہار لیا ہے۔ زیرِ بحث بند ان کی اسی آفاقی فکر کا عکاس ہے، جہاں وہ سمرقند کی تاریخی زمین اور امیر تیمور جیسے جلیل القدر فاتح کی روح کو بیدار کر کے مسلمانوں کو غیرت، خودی اور اتحاد کا درس دیتے ہیں۔ اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اسلام مٹنے کے لیے نہیں آیا، بلکہ تاریخ کے بدترین حالات اور کفر کے اندھیروں سے ہی اس کی نئی صبح طلوع ہوتی ہے، جیسا کہ انہوں نے خود فرمایا:

ہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سے

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے


تاریخی پس منظر: تاتاریوں کا غلبہ اور سقوطِ بغداد

یہ بند مسلم تاریخ کے اس بھیانک ترین دور کی یاد دلاتا ہے جب تاتاریوں (منگولوں) کے سیلاب نے عالمِ اسلام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ 1258ء میں چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے خلافتِ عباسیہ کے مرکز، بغداد پر حملہ کر کے اسے عبرت کا نشانہ بنا دیا۔ لاکھوں مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا، لائبریریاں جلا دی گئیں اور صدیوں پر محیط مسلم تہذیب و تمدن خاک میں مل گیا۔ بغداد کی اس تباہی نے بظاہر مسلم سلطنت کی کمر توڑ دی تھی اور ایسا لگتا تھا کہ اب اسلام کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ لیکن علامہ محمد اقبال اسی تاریخ کا حوالہ دے کر، اپنی کتاب "بال جبریل" کی نظم "تاتاری کا خواب" سے یاد دلاتے ہیں کہ اسلام مٹنے کے لیے نہیں آیا۔ تاتاریوں کی اسی دھرتی اور نسل سے بعد میں امیر تیمور جیسے فاتحین اٹھے جنہوں نے نہ صرف اسلام قبول کیا بلکہ سمرقند کو علم و حکمت اور شوکت کا گہوارہ بنا کر امت کو ایک نیا عروج بخش۔


تخیلاتی منظر کشی اور روحِ تیمور کا ظہور

بند کا آغاز ایک انتہائی سحر انگیز اور ڈرامائی تخیل سے ہوتا ہے:

یکایک ہِل گئی خاکِ سمرقند

اُٹھا تیمور کی تُربت سے اک نور

شفَق آمیز تھی اُس کی سفیدی

صدا آئی کہ ’’مَیں ہوں رُوحِ تیمور


سمرقند کی خاک کا اچانک لرزنا اور تیمور کی قبر سے ایک شفق آمیز (سرخی مائل) سفید نور کا برآمد ہونا، دراصل مسلم تاریخ کے جاہ و جلال کی واپسی کی علامت ہے۔ اقبال یہاں یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کی تاریخ مٹ نہیں سکتی، بلکہ وہ صرف سوئی ہوئی ہے۔ جب حالات حد سے زیادہ تاریک ہو جائیں، تو ماضی کا شاندار ورثہ امت کو راستہ دکھانے کے لیے ایک مینارِ نور بن کر ابھرتا۔

اللہ کی تقدیر اور مادی محاصرے

تیمور کی روح بیدار ہو کر سب سے پہلے مسلمانوں کو مایوسی کے اندھیروں سے نکالتی ہے:

اگر محصُور ہیں مردانِ تاتار

نہیں اللہ کی تقدیر محصور


علامہ اقبال کا یہ نقطۂ نظر ان کے ایمان کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ تاتار کے بہادر مرد (مسلمان) اس وقت مادی طور پر محکوم، کمزور اور غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں، لیکن خدا کی تقدیر کسی مادی محاصرے یا دنیاوی طاقتوں کی محتاج نہیں ہے۔ ظاہری اسباب مسلمانوں کے خلاف ہو سکتے ہیں، مگر اللہ کا قانونِ عروج و زوال حتمی ہے اور وہ کسی بھی وقت حالات کا رخ بدلنے پر قادر ہے۔ یہ مصرعہ ناامیدی کو کفر قرار دینے کے مترادف ہے۔

اتحادِ امت اور نسلی تفریق پر نوحہ

اس کے بعد اقبال اس اصل بیماری کی نشاندہی کرتے ہیں جس نے مسلمانوں کو زوال کے گڑھے میں گرایا:

تقاضا زندگی کا کیا یہی ہے

کہ تُورانی ہو تُورانی سے مَہجور؟


تیمور کی زبان سے اقبال سوال کرتے ہیں کہ کیا زندگی کا اصل مقصد یہ ہے کہ ایک ہی قوم، ایک ہی نسل اور ایک ہی کلمہ پڑھنے والے (تورانی) ایک دوسرے سے جدا اور بیگانہ ہو جائیں؟ اقبال ہمیشہ جغرافیائی، لسانی اور نسلی قوم پرستی کے سخت مخالف تھے۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کا اصل رشتہ "لا الٰہ الا اللہ" ہے۔ جب تک مسلمان نسلی اور علاقائی عصبیتوں میں بٹے رہیں گے، وہ کبھی ایک عظیم قوت نہیں بن سکتے۔

فلسفۂ خودی اور نئے انقلاب کی دعا

بند کا اختتام علامہ اقبال کے پسندیدہ ترین اور بنیادی فلسفے "خودی" پر ہوتا ہے، جہاں وہ فارسی کے دو لازوال مصرعوں میں خدا کے حضور التجا کرتے ہیں:

’’خودی را سوز و تابے دیگرے دہ

جہاں را انقلابے دیگرے دہ‘‘


یہاں وہ اللہ سے دعاگو ہیں کہ اے باری تعالیٰ! مسلمانوں کی مردہ خودی (عزم، غیرت اور خود شناسی) کو ایک نیا سوز، ایک نئی حرارت اور تڑپ عطا فرما۔ جب اس امت کے افراد کے اندر یہ جذباتی بیداری پیدا ہو جائے گی، تو وہ اس فرسودہ اور ظالمانہ نظامِ دنیا کو بدل کر ایک بالکل نیا، عادلانہ اور اسلامی انقلاب برپا کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

بیسویں صدی کا تناظر اور تحریکِ آزادی

مضمون کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اقبال نے یہ اشعار تقریباً سو سال پہلے لکھے تھے، جب ہندوستان اور دنیا بھر کے مسلمان برطانوی اور دیگر مغربی طاقتوں کی نوآبادیاتی غلامی کا شکار تھے۔ یہ بند دراصل محکوم مسلمانوں کو جھنجھوڑنے کے لیے ایک تاریخی سبق تھا۔ اقبال کا مقصد انہیں یہ سمجھانا تھا کہ اگر تاتاریوں کی عبرت ناک تباہی کے بعد، اللہ تعالیٰ خود ان ہی کی نسل سے اسلام کا جھنڈا بلند کر سکتا ہے اور انہیں عروج دے سکتا ہے، تو اے ہندوستان کے مسلمانوں! تم تو اب بھی زندہ ہو اور تمہارا شاندار ماضی گواہ ہے۔ تم کیوں اپنی خودی کو بلند کر کے غلامی کی زنجیریں نہیں توڑ سکتے اور آزادی حاصل نہیں کر سکتے؟ یہی وہ انقلابی سوچ تھی جس کے تحت آگے چل کر اقبال نے خطبۂ الٰہ آباد (1930ء) میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد مسلم ریاست کا تصور پیش کیا۔

تصور سے حقیقت تک: پاکستان اور ہمارا موجودہ جمود

اقبال کا وہ خواب اور تصور رنگ لایا اور بالاخر قائدِ اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز اور بے مثال قیادت میں دنیا کے نقشے پر ایک آزاد "اسلامی جمہوریہ پاکستان" وجود میں آ گیا۔ لاکھوں قربانیوں کے بعد مسلمانوں نے ایک ایسی دھرتی حاصل کر لی جہاں وہ ایک آزاد اور خودمختار قوم کی حیثیت سے جی سکتے تھے اور ایک جدید اسلامی فلاحی ریاست قائم کرنے کے لیے جو ریاستِ مدینہ ثانی بننا تھا؛ اور جہاں قرآن اور سنتِ رسولﷺ کے مطابق نظم و نسقِ حکومت چلنا تھی۔

لیکن آج جب ہم اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کیا آج کا پاکستان اس مقام پر کھڑا ہے جس کا تصور علامہ اقبال نے دیا تھا؟ کیا ہم اسی نظریاتی اور فلاحی ریاست کی تاکید پر عمل کر رہے ہیں جس کا حکم قائدِ اعظم نے دیا تھا؟ نہیں، بالکل نہیں! ہم آج بھی زوال، اندرونی انتشار، اور فکری غلامی کے اسی گڑھے میں گرے ہوئے ہیں جہاں سے اقبال ہمیں نکالنا چاہتے تھے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جس عظیم اسلامی و فلاحی معاشرے کی تعمیر کا خواب ہمارے اکابرین نے دیکھا تھا، اس سمت میں تو ہمارا حقیقی سفر ابھی شروع ہی نہیں ہوا ہے۔ ہم نے جغرافیائی آزادی تو پا لی، مگر ذہنی اور اخلاقی آزادی اب بھی مفقود ہے۔

حاصلِ کلام: غفلت کا انجام اور ہماری ذمہ داری

علامہ اقبال کے کلام کے یہ اشعار کل ہندوستان کے غلام مسلمانوں کے لیے ایک تازیانہ تھا تو آج پاکستان کے شہریوں کے لیے بھی کوڑے کی طرح ہے؛ اگر سمجھیں۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ماضی کی عظمت پر صرف فخر کرنا کافی نہیں، بلکہ اس عظمت کو دوبارہ پانے کے لیے نسلی تفریق کو مٹانا، اللہ کی تقدیر پر کامل یقین رکھنا اور اپنی خودی کو بیدار کرنا لازم ہے۔ یہ زوال پذیر امتِ مسلمہ کی نشاۃِ ثانیہ اور ایک عالمی انقلاب کا وہ خواب ہے جس کی تعبیر آج بھی امت کی اور بالخصوص پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔


آج ہماری حالتِ زار پر علامہ اقبال کا یہ فرمان صادق آتا ہے:۔

وقتِ فرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے!

نورِ توحید کا اتمام ابھی باقی ہے!

آخر کب تک ہم غفلت میں رہیں گے؟ کیا ہمیں قبر میں جواب دہی کا خوف نہیں ہے؟ یہ ملک، یہ آزادی، اور اقبال و قائد کا یہ فلسفہ ہمارے پاس اللہ کی امانت ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی خودی کو نہ جگایا، اپنی اخلاقی اور ذہنی غلامی کی زنجیروں کو نہ توڑا، اور قرآن و سنت کے نظام کی طرف لوٹنے کا حقیقی سفر شروع نہ کیا، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور نہ ہی ہم خدا کے حضور سرخرو ہو سکیں گے۔ یہ غفلت اب تازیانہ نہیں، ہمارے وجود کے مٹ جانے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

0
239
Royal Air Maroc Barcelona Office

Royal Air Maroc Barcelona Office

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocL6XDxkproK12rbOD5WaT6RYqpsE1jEU2ShXA8ol70ezG4SdQ=s96-c
Fiora Jasmie
5 hours ago

Audio Transformers in Public Address Systems: Why Are They Needed?

Imagine yourself inside an active factory during the first hour of a working shift. You ne...

1775242939.png
CET Technology
6 hours ago
Want More Fun for Less? Get AED 150 Credits for AED 100 at Wanasa Land!

Want More Fun for Less? Get AED 150 Credits for AED 100 at Wanasa Land...

1783766850.jpeg
alexa
6 hours ago
Dish Fitting Near Me: Professional Satellite Dish Installation

Dish Fitting Near Me: Professional Satellite Dish Installation

1792096270_9bovvqpc4u.png
Al Muhit Al Saafi
7 hours ago
Satellite Dish Fitters Near Me | Professional Installation

Satellite Dish Fitters Near Me | Professional Installation

1792096270_9bovvqpc4u.png
Al Muhit Al Saafi
7 hours ago