علامہ اقبالؒ کی شاعری اور حضرت امام حسینؑ

The tragedy of Karbala is about Hazrat Imam Hussain (AS) and the unforgettable sacrifices rendered by the clan of Prophet Muhammad (PBUH) in the month of Muharram Ul Haram in 61 AH. Allama Iqbal is our national poet and he has taken the subject in a very sublime way. This essay in Urdu "علامہ اقبالؒ کی شاعری اور حضرت امام حسینؑ" reflects upon Iqbal's impressions about Hazrat Imam Hussain (AS) and how Karbala rejuvenated the religion of Islam?

Jul 06, 2025 - Muhammad Asif Raza

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

 

علامہ اقبالؒ کی شاعری اور حضرت امام حسینؑ

 

علامہ محمد اقبالؒ شاعرِ مشرق ہیں اور مصور و مفکر پاکستان بھی ہیں۔ علامہ محمد اقبالؒ ایک عظیم شاعر، فلسفی اور سیاستدان تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری اور فلسفے کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں میں بیداری اور خودی کا احساس پیدا کیا؛ جب ہندوستان پر برطانی سامراج کی حکومت میں سارا ہندوستان ہی غلامی کی زندگی بسر کررہا تھا۔انہوں نے 1930 میں الہ آباد میں ایک علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا، جو بعد میں پاکستان کے قیام کا باعث بنا۔ علامہ اقبال کا پیغام ایک مسلمان ملک کا قیام ہی نہیں تھا بلکہ ایک اسلامی ریاست کے حصول تھا جہاں ایک ایسی حکومت قائم کی جائے جس کی بنا ریاستِ مدینۃ الرسولﷺ ہو جو اہل اسلام کی حقیقی میراث ہے۔ اس میراث میں خلفائے راشدین کا دور حکومت اور حضرت امام حسینؑ کا کربلا میں چھوڑا ہوا سرمایۂ شبیّری ہے۔

 نواسہ رسول حضرت امام حسینؑ نے کربلا میں حق و باطل کے معرکے میں جو لازوال قربانی دی؛ تاریخ انسانی کا وہ ناقابل فراموش واقعہ ہے جسے کوئی بھی صاحب شعور انسان نظرانداز نہیں کرسکتا۔ اور بھلا کوئی مسلمان اور وہ بھی علامہ محمد اقبالؒ کی سطح کا اعلی فکر و ادراک کا حامل ہو تو کس طرح حضرت امام حسینؑ کی کربلا میں شہادت سے صرفِ نطر کرسکتا تھا۔ بعض اہل علم کے مطابق شعر اور شاعر کا لفظ بھی شعور سے مشتق ہوا ہے لہذا جو جتنا باشعور ہوگا اس کے اشعار میں اتنی ہی گہرائی اور وسعت ہوگی۔ سو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح حضرت امام حسینؑ کی شان کے مطابق علامہ محمد اقبالؒ نے کیا اپنے من میں ڈوب کر کلام کہا ہے۔

 علامہ اقبال کی اردو اور فارسی شاعری میں امام حسینؑ اور کربلا ایک ایسا استعارہ ہے جو ظلم و ستم کے خلاف استقامت اور اسلام کے حقیقی رہبر کی نشاندہی کرتا ہے۔

وہ کربلا اور امام عالی مقام حسینؑ کو حق و وحدت کا دبستان اور حق و باطل کا میزان قرار دیتے ہیں ان کی حق شناس آنکھ کربلا کے واقعہ کو ایک تاریخی واقعہ کے طور پر نہیں دیکھتی بلکہ وہ امام حسینؑ کی صدا کے احتجاج اور ان کی لازوال قربانی کو اسلام کی بقا اور حیات قرار دیتے ہیں۔ آپ بال جبرئیل میں اپنے عقیدے کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ

 

غریب و سادہ و رنگیِں ہے داستانِ حرم

نہایت اس کی حُسینؓ، ابتدا ہے اسمٰعِیلؑ

علامہ محمد اقبالؒ نے اپنی کتاب بالِ جبریل کی ایک غزل "خودی ہو علم سے محکم تو غیرتِ جبریل" میں مندرجہ بالا شعر میں کیا خوب بات کہہ دی ہے اور اس کی تشریح غلام رسول مہر نے کس خوبصورتی سے کی ہے کہ "کعبہ کی سرگزشت بہت ہی نرالی ہے، اگرچہ کہنے میں سادہ ہے، اس کے ساتھ ہی رنگین بھی ہے۔ اس کا آغاز حضرت اسماعیل سے ہوا، حضرت امام حسین اس کے آخری باب ہیں۔ یعنی یہ پوری سرگزشت ایسی قربانیوں سے لبریز ہے جو ہمیشہ اس دنیا میں تازہ و پائندہ رہیں گی اور ان کی یاد سے کائنات کی فضائیں کبھی خالی نہ ہوں گی۔

جناب یوسف سلیم چشتی نے کچھ اس طرح اسے بیان کیا ہے کہ "اسلام کی داستان (تعلیم) بہت انوکھی اور آسان اور دلکش ہے۔ اس کی ابتدا حضرت اسماعیل کی قربانی سے ہوتی ہے اور انتہا حضرت حسین کی قربانی پر ہوتی ہے۔ یعنی اسلام اللہ کی راہ میں جان اور مال دونوں کو قربان کر دینے کا نام ہے۔ پس جو شخص اسلام کا مدعی ہو اسے ان دونوں بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلنا چاہیے"۔

 

صدقِ خلیلؑ بھی ہے عشق، صبر حُسینؓ بھی ہے عشق

معرکۂ وجُود میں بدر و حُنَین بھی ہے عشق

جناب اسرار زیدی نے اس شعر پر رائے دی ہے کہ " یہ عشق ہی تھا جس کی بدولت حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے سچائی اور راست بازی کا رتبہ بلند حاصل کیا ۔ امام عالی مقام حضرت امام حُسینؓ نے کربلا کے میدان میں جو قربانیاں دیں اور تین روز کی بھوک اور پیاس کے باوجود لشکر یزید کے خلاف علم جہاد بلند کر کے سر کٹوایا اور زندگی کے آخری مرحلے تک صبر و شکر کا مظاہرہ کیا تو یہ سارا عمل عشق حقیقی کا ہی مرہون منت تھا ۔ پیغمبر اسلام حضور سرور کائنات نے بدر و حنین کے معرکوں میں کفار کو زیر کر کے جو کامیابیاں حاصل کیں وہ بھی عشق حقیقی کے سبب کیں" ۔



جناب یوسف سلیم چشتی نے اس بابت کہا ہے کہ " اقبال کہتے ہیں دیکھ لو! اسی عشق کی بدولت، حضرت ابراہیم ظالم بادشاہ کے سامنے کلمۂ حق کہہ سکے، اور حضرت امام حُسینؓ کربلا کے میدان میں صبر و استقامت کا بینظیر نمونہ دکھا سکے۔ اور صحابہ کرام جنگِ بدر اور جنگِ حنین میں اس شان کے ساتھ باطل کا مقابلہ کر سکے۔ واضح ہو کہ اس مصرع میں بدر و حنین سے وہ مخصوص غزوات مراد نہیں ہیں جو2 اور 8 ہجری میں واقع ہوئے بلکہ معرکۂ وجود میں کامیابی مراد ہے۔ اور معرکۂ وجود سے حق و باطل میں وہ آویزش (جھگڑا) مراد ہے جو ابتدائے آفرینش(تخلیق) سے چلی آ رہی ہے۔ چنانچہ اقبال بالِ جبریل کی نظم ذوق و شوق میں خود کہتے ہیں کہ معرکۂ حق و باطل جو اس کائنات میں ہمیشہ سے سر گرمِ رہا ہے اور رہے گا۔ 

اک فقر ہے شبیّری، اس فقر میں ہے مِیری

میراثِ مسلمانی، سرمایۂ شبیّری!

 مندرجہ بالا شعر اقبال کی کتاب بالِ جبریل کی نظم " فَقر" سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں اقبال فرماتے ہیں کہ ایک فقر وہ ہے جس کا نمونہ حضرت امام حسینؑ نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ یہی وہ فقر ہے جس کے حصول کے بعد انسان ایک مومن کے مرتبے پر پہنچ سکتا ہے؛ اور ایک مومن ہی دنیا میں سرداری کے مرتبہ کے قابل ہوتا ہے۔ اوردینِ اسلام کے پیروکاروں کے لیے پیغامِ کربلا یہ ہے ایک حقیقی مسلمانوں ہی سرمایۂ شبیری کا وارث ہے۔ اسلام کا منشاء اور مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ مسلمان جناب شبیرؑ؛ حضرت امام حسینؑ کے نقشِ قدم پر چل کر دنیا میں حق و صداقت کے علمبردار بن جائیں۔ اور اپنے حق و سچ کی بنیاد پر ایک ایسا معاشرہ ترتیب دیں جس اللہ سبحان تعالی کی منشاء یعنی قرآن مجید کے اصولوں پر کھڑا ہو اور آقا کریم محمدﷺ کی سیرت پاک کا نمونہ ہو۔

یہاں جو اصطلاح فقر استعمال ہوا ہے؛ یہ فقر کیا ہے؟ فقر کے لغوی معنی احتیاج کے ہیں۔ عام طور پر اس سے تنگ دستی' غربت' مفلسی اور ناداری مراد لی جاتی ہے۔ دینِ اسلام میں " فقر" سے وہ راہ یا وہ طریقہ مراد ہے جو بندے اور اللہ کے درمیان سے تمام حجابات کو ہٹا کر بندے کو اللہ کے دیدار اور وصال سے فیض یاب کرتا ہے۔ ”فقر” دراصل دینِ اسلام کی حقیقت ہے۔ ''فقر'' یعنی روح کے اللہ تعالیٰ سے قرب کی وہ انتہا جہاں روح اللہ کا دیدار اور اللہ سے وصال کی تکمیل پاتی ہے'۔ آقا کریم محمدﷺ نے فرمایا ہے کہ " فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے اور فقر ہی کی بدولت مجھے تمام انبیا و مرسلین پر فضیلت حاصل ہے" ۔ تو امت مسلمہ کو بھی فضیلت فقر کے باعث ہی حاصل ہوگا۔

 

در نواۓ زندگی سوز از حسینؓ

اہل حق حریت آموز از حسینؓ

زندگی کے نغمے میں جو سوز و گداز ہے، وہ حضرت حسینؓ کی بدولت ہے۔ اہلِ حق نے آزادی اور حریت کا سبق حضرت حسینؓ سے سیکھا ہے۔

اس شعر میں علامہ اقبال امام حسین رضی اللہ عنہ کی ذات کو زندگی کی حرارت، جذبے اور آزادی کی اصل روح قرار دیتے ہیں۔زندگی کے نغمے میں جو درد، سوز اور ولولہ ہے، وہ امام حسینؓ کی قربانی اور اُن کے جذبۂ حق کی بدولت ہے۔ انسان کی روح میں جو حرارتِ ایمانی پیدا ہوتی ہے، وہ کربلا کے میدان میں دی گئی عظیم شہادتوں سے جنم لیتی ہے۔ حسینؓ نے زندگی کی معنویت کو ایک نئی جہت دی۔ ایسی زندگی جو صرف جینے کا نام نہیں بلکہ حق اور صداقت کے لیے قربانی دینے کا نام ہے۔ جو لوگ حق کے راستے پر چلتے ہیں، وہ آزادی اور حریت کا سبق امام حسینؓ سے سیکھتے ہیں۔ امام حسینؓ نے یزید کی باطل حکومت کے خلاف قیام کر کے دنیا کو سکھایا کہ سر جھکانے کے بجائے، سر کٹانا بہتر ہے۔ اُن کی حیات اور شہادت اہلِ ایمان کو ظلم کے خلاف کھڑا ہونے، اصولوں پر ڈٹے رہنے، اور قربانی دینے کا حوصلہ دیتی ہے۔یہ شعر امام حسینؓ کے روحانی اور انقلابی کردار کی عظمت کا اعتراف ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ حسینؓ نہ صرف شہیدِ کربلا ہیں، بلکہ وہ زندگی کے سوز، حرارت، اور حریت کی علامت بھی ہیں۔ جو شخص بھی حق کا طالب ہو، اُس کے لیے حسینؓ مشعلِ راہ ہیں۔ [ رموزِ بیخودی، درمعنی ایں کہ سیدۃ النسا فاطمہ الزہراء اسوہ کاملہ ایست براے نساء اسلام]۔

 

حقیقتِ اَبدی ہے مقامِ شبیّری

بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی

بالِ جبریل کے اس شعر میں اقبال یہ کہہ رہے ہیں کہ "حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا مقام اور مرتبہ ایک ہمیشہ قائم رہنے والی حقیقت ہے، جس میں تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا۔ البتہ کوفیوں اور شامیوں کے انداز بدلتے رہتے ہیں۔ کوفیوں اور شامیوں سے مراد یہاں وہ گروہ ہیں جو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ آزما ہوئے تھے، لیکن حقیقت میں اس سے مراد دشمنان حق ہیں، خواہ وہ کہیں ہوں۔ مقام شبیری یہاں حق کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ کہ حق ہمیشہ ایک حال پر قائم رہتا ہے۔ اس کا خاصہ یہ ہے کہ کیسے ہی حالات پیش آ جائیں، اس کے طور طریقے اور انداز یکساں رہیں گے۔ وہ ہر باطل کے مقابلے پر ڈٹ جائے گا اگرچہ انجام کتنا ہی درد ناک ہو۔ یہی حضرت امام حسین کا نمونہ تھا۔ دشمنانِ حق کبھی فوجی قوت کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں اور حق کے لیے میدانِ جنگ کا معاملہ پیش آ جاتا ہے کبھی وہ سامراج کے لیے مختلف بھیس بدل لیتے ہیں اور قوموں کی آزادی پر ڈاکے ڈالتے ہیں کبھی مختلف مضامین کی کتابوں اور مقالوں کے ذریعے سے حق دشمنی کی حرص پوری کرتے ہیں۔ غرض ان کے بہت سے ڈھنگ ہیں۔ حق کا شیوہ ایک ہے، باطل کے مقابلے میں ہر جگہ ڈٹ جانا اور اسے مٹائے بغیر دم نہ لینا، خواہ کوئی صورت پیش آ جائے

 علامہ محمد اقبال نے اپنی کتاب "رموزِ بیخودی" میں ایک قطعہ لکھا ہے؛ فرمایا ہے کہ

ماسوی اللہ را مسلمان بندہ نیست

پیش فرعونی سرش افکندہ نیست

خون او تفسیر این اسرار کرد

ملت خوابیدہ را بیدار کرد

اقبال نے کہا ہے کہ "مسلمان خدا کے سوا کسی کا غلام نہیں ہو سکتا؛ اس کا سر کسی فرعون کے آگے نہیں جھک سکتا؛ امام حسینؑ کے خون نے یہ راز کھول دیا؛ ملت جو سو رہی تھی، اسے جگا دیا"۔

نقش الا الله بر صحرا نوشت

سطر عنوان نجات ما نوشت

علامہ اقبال نے حضرت امام حسینؑ کے کربلا پر کہا ہے کہ امام عالی مقام نے ”الا اللہ “ کا نقش صحرا پر لکھا / کھینچا اور اس طرح ہماری نجات کے عنوان کی سطر لکھ دی۔ اپنی شہادت سے انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود یا طاقت نہیں ہے۔ سو آج کے مسلمان کو چاہیے کہ اپنے دل و دماغ سے خوف کا بت توڑ دے؛ اور جان لے کہ اللہ کے سوا کوئی اس کا پالنہار اور مددگار نہیں ہے؛ اور یہ زندگی محض دور امتحان ہے اور اس دنیا کی کامیابی اطیع اللہ و اطیع الرسول کے سوا کچھ بھی نہیں۔ کربلا میں حضرت امام حسینؑ نے یہی عمل کرکے دکھایا اور اپنی ذات کے ساتھ ساتھ پورا خانوادہ بھی شہید کروایا؛ اور حضرت امام حسینؑ کا یہ عمل امتِ مسلمہ کے لیے نجات کا باعث بن سکتا ہے اگر ہم اسے اپنا حرزِ جان بنالیں۔

 

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو

 ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے، اسے پھیر

پروفیسر حمید اللہ ہاشمی نے اقبال کی کتاب ضربِ کلیم کی نظم " نصیحت"  کے اوپر کے شعر کی کچھ اس طرح تشریح کی ہے کہ "غلاموں کو ہمیشہ کے لیے محکوم رکھنے کا جو طریقہ تلوار سے بڑھ کر کارگر ہے (جو حاکم قوم کے سینے میں محفوظ ہوتا ہے) وہ یہ ہے کہ ان غلاموں کو ایسا نظام تعلیم دو کہ جس سے وہ اپنی شناخت کو بھول کر حاکموں کے طور طریقوں کو اپنا لیں۔ اس طریقہ کار کو فرنگی لارڈ نے ایک ایسا تیزاب کہا ہے کہ جب غلام قوم کے لوگوں کی خودی اس میں ڈالی جائے گی تو وہ ایسی ملائم ہو جائے گی کہ حاکم اسے جس سمت پھیرنا چائے پھر جائے گی۔ اور تعلیم کا یہ تیزاب ان غلاموں کے حق میں تانبے یا مٹی کو سونا بنانے کی بجائے اور الٹ کام کرے گا اور وہ یہ کہ وہ نظام تعلیم ان لوگوں کے مضبوط عقائد اور خود شناس شخصیتوں کے سونے کے ہمالہ کو مٹی کا ڈھیر بنا کر رکھ دے گا اور یہ بات پچھلی ڈیڑھ دو صدی کے انگریزی نظام تعلیم کے حصول سے ثابت بھی ہو چکی ہے اور اس حد تک ثابت ہو چکی ہے کہ سیاسی آزادی کے باوجود بر صغیر کے لوگ مغربی تہذیب، تمدن اور ثقافت کے رنگ میں ڈھل چکے ہیں اور ان کی اپنی آزادانہ شناخت ختم ہو چکی ہے"۔

 ہزار چشمہ ترے سنگِ راہ سے پُھوٹے

خودی میں ڈُوب کے ضربِ کلیم پیدا کر

 اقبالؒ نے ضربِ کلیم میں ایک شعر میں فرمایا ہے کہ "مرد مومن اپنی پہچان، مقام اور مرتبے کے ساتھ خودی، خودشناسی اور قوتِ ایمانی کی صفات سے بہرور ہو کر میدانِ عمل میں آئے تو آج بھی وہ وہی کچھ کر سکتا ہے جو حضرت موسیٰ کلیم اللہ ؑ کے عصا کا اعجاز تھا۔ اقبال ؒکہنا یہ چاہتے ہیں کہ مرد مسلماں خودی کے جذبے سے سرشار ہو کر آج کے دور کے فرعونوں کا ضربِ کلیم بن کر مقابلہ کر سکتا ہے"۔

 ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز

چراغ مصطفوی سےشرارِ بو لہبی

 وجود، منطق اور فلسفہ کی اصطلاح بھی ہے، لیکن یہاں اقبال نے اس لفظ کو کائنات کے معنی میں استعمال کیا ہے۔

 ریگ عراق منتظر، کشت حجاز تشنہ کام

خون حسینؓ باز دہ کوفہ و شام خویش را

عراق کی ریت انتظار کر رہی ہے اور حجاز (مکہ مدینہ) کے کھیت پیاسے ہیں۔ کوفہ اور شام کو پھر سے خونِ حسین کی ضرورت ہے۔ حق کی آواز بلند کرنے والے کی ضرورت ہے

(زبورِ عجم (حصہ اول)، بر سر کفر و دین فشان رحمت عام خویش را، شعر نمبر ۴)

 گرچہ ہر مرگ است بر مومن شکر

مرگِ پورِ مرتضٰیؓ چیزے دگر

اگرچہ مرد مومن کے لیے ہر موت شکر کی طرح شیریں ہے لیکن حضرت علیؓ مرتضٰی کے فرزند (امام حسینؓ جنہوں نے باطل قوت سے ٹکرا کر کربلا میں شہادت پائی ) کی موت کچھ اور ہی چیز ہے۔ ( جاوید نامہ، آں سوۓ افلاک، پیغام سلطان شہید بہ رود کاویری )

 

زندہ حق از قوتِ شبیری است

باطل آخر داغ حسرت میری است

چوں خلافت رشتہ از قرآں گسیخت

حریت را زہر اندر کام ریخت

حق قوّتِ شبّیری (حضرت امام حسینؓ ) سے زندہ ہے

باطل کا انجام آخرکار صرف حسرت اور ناکامی کا داغ ہی ہوتا ہے۔

جب خلافت نے قرآن پاک سے اپنا رشتہ توڑ لیا

تو اس نے حریّت کے حلق کے اندر زہر اُنڈیل دیا

(تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ) حق قوتِ شبیری سے زندہ رہتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ جیسے بزرگ اس کی خدمت انجام دیتے ہیں۔ باطل آخر حسرت کی موت کا داغ بن جاتا ہے (حق کا بول بالا قوت خیر سے ہوتا ہے جبکہ باطل قوتوں کا انجام ذلت و خواری ہے)۔

جب خلافت نے قرآن کریم سے اپنا تعلق/ناطہ توڑ لیا تو حریت/آزادی کے حلق میں زہر انڈیل دیا۔ خلفاۓ راشدہؓ نے قرآن کریم کو خلافت کی بنیاد بنایا تھا، جس کے باعث ہر شخص کو آزادی میسر تھی۔ اس کے تمام حقوق پورے ہو گئے تھے۔ بعد میں خلافت کے نام پر شخصی حکومت قائم کی گئی جس نےعوام کی آزادی چھین لی۔

(خواجہ حمید یزدانی)، (پروفیسر حمید ﷲ شاہ ہاشمی)

رموزِ بیخودی، درمعنی حریت اسلامیہ و سرِّ حادثہ کربلا

بہر آں شہزادہ خیر الملل

دوشِ ختم المرسلین نعم الجمل

سب سے بہتر امت یعنی ملت اسلامیہ کے اس شہزادے حضرت امام حسینؑ کی شان یہ تھی کہ رسولوں کے خاتم حضور اکرم ﷺ کا کندھا مبارک اس کے لیے اچھی سواری قرار پایا۔

آں امامِ عاشقاں پورِ بتولؑ

سروِ آزادے ز بستانِ رسولؐ

وہ حضرت امام حسینؑ عاشقوں کے امام اور پیشوا حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے فرزند ارجمند جنہیں رسول اللہ ﷺ کے باغ میں سروآزاد کی حیثیت حاصل تھی

[رموزِ بیخودی؛ درمعنی حریت اسلامیہ و سرِّ حادثہ کربلا]

 

تیر و سنان و خنجر و شمشیرم آرزوست

بامن میا کہ مسلکِ شبّیرم آرزوست

مجھے تیر، نیزے، خنجر اور تلوار کی تمنا ہے۔ میرے ساتھ مت آ، کیونکہ مجھے حضرت شبیرؑ (امام حسینؑ) کا راستہ عزیز ہے۔ مجھے تیر، نیزہ، خنجر اور تلوار کی آرزو ہے۔ تُو میرے ساتھ مت آ کیونکہ مجھے حضرت امام حسین علیہ السلام کے مسلک کی آرزو ہے۔ مطلب یہ کہ تجھے تو آرام و سکون پسند ہے جبکہ مجھے حق کی خاطر سر کٹوانے کی خواہش ہے، جس طرح کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام نے سر کٹوا لیا۔ میں باطل قوّتوں سے ٹکرانا پسند کرتا ہوں اور تُو اس جذبے سے دور ہے۔ اس لیے تُو میرے ساتھ شامل نہ ہو۔ [ پیامِ مشرق مۓ باقی (غزل) ]

 سر ابراہیم و اسمعیل بود

یعنی آن اجمال را تفصیل بود

آپ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام ) اور حضرت اسماعیل ( علیہ السلام ) کے واقعہ کے سرّ اور اس اجمال کی تفصیل ثابت ہوئے۔ (رموزِ بے خودی)

اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر

معنی ذبحِ عظیم آمد پسر

ان کے والد کا مرتبہ بائے بسم اللہ کا سا تھا اور سیدنا حسین ذبحِ عظیم کی تعبیر ہیں۔ (رموزِ بے خودی)


قلندر میل تقریری ندارد

بجز این نکتہ اکسیری ندارد

از آن کشت خرابی حاصلی نیست


کہ آب از خون شبیری ندارد


قلندر لمبی تقریروں کا میلان نہیں رکھتا ، اسے ایک ہی نکتہ معلوم ہے، جو اکسیر کا کام کرتا ہے۔ ایسی ویران کھیتی سے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا ، جس کی آبیاری خون حسین ( علیہ السلام ) سے نہ کی گئی ہو۔ (ارمغانِ حجاز)

فقر عریاں گرمی بدر و حنین

فقر عریاں بانگ تکبیر حسین

فقر عریاں غزوات بدر و حنین کی گرمی ہے؛ فقر عریاں حضرت حسین ( علیہ السلام ) کی تکبیر کی آواز ہے۔ (پس چہ بائد کرد)

امام حسین علیہ السلام کا گھر کائنات کا رہنما ہے

قوت دین مبین فرمودہ اش

کائنات آئین پذیر از دودہ اش

حضور اکرم (ﷺ) نے انہیں دین مبین کی قوّت فرمایا ہے؛ ان کے خاندان سے کائنات کو قانون ملا ہے۔ (اسرارِخودی)

کائنات میں حسین علیہ السلام جیسا اور کوئی نہیں

قافلۂ حجاز میں ایک حسین علیہ السلام بھی نہیں


گرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات

علامہ محمد اقبالؒ کے نزدیک امام حسین علیہ السلام کی کئی حیثیتیں ہیں۔ اور امام عالی مقام کی یہ تمام حیثیتیں امت محمدﷺ کے لیے نشانِ منزل ہے۔ اقبال ہی نے کہا ہے کہ "کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں"؛ کے مصداق اب یہ ہم پر ہے کہ ہم کیا پالیتے ہیں۔

 

علامہ محمد اقبالؒ امامِ عالی مقام حسین علیہ السلام کو کبھی امامِ عشق کہتے ہیں، کیونکہ جو کام امامِ حسین علیہ السلام نے کیا یہ اہلِ عقل کا نہیں ہو سکتا بلکہ اہلِ عشق کا ہی ہو سکتا ہے۔

کبھی وارثِ علوم قرآن کہتے ہیں۔

کبھی حق و باطل کے لیے ابدی معیار قرار دیتے ہیں۔

کبھی انسانیت کو فقرِ حسینی علیہ السلام اپنانے کا درس دیتے ہیں۔

کبھی رسمِ شبیری کی ادائیگی کو رازِ حیات گردانتے ہیں۔

کبھی حسین علیہ السلام کو امت کی وحدت کا نمائندہ قرارد یتے ہیں۔

کبھی حیاتِ حسین علیہ السلام کو اسوۂ کامل قرار دیتے ہیں۔


کبھی حسین علیہ السلام کو خلافتِ راشدہ کی قدروں کا محافظ کہتے ہیں۔

کبھی غمِ حسین علیہ السلام میں روتے ہیں اور رلاتے ہیں۔

کبھی حسین علیہ السلام کی فکری بلندی کی بات کرتے ہیں۔

کبھی حسین علیہ السلام کو بنائے لاالہ قرار دیتے ہیں۔

کبھی حسین علیہ السلام کے پیرو کاروں کی عظمت کا بیان کرتے ہیں۔

کبھی موت کو حسین علیہ السلام کی بارگاہ میں دست بستہ کھڑا دیکھتے ہیں۔

اقبال ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ ذکرِ حسین علیہ السلام محض اجر و ثواب کی نیت سے نہ کرو، وہ تو ملے گا ہی،

ذکرِ حسین علیہ السلام کا اصل جوہر تحرک، باطل سے عدمِ سمجھوتہ، دانش و بینش، دور اندیشی ہیں۔

ذکرِ حسین علیہ السلام سے یہ جواہر حاصل کرو۔

پیغامِ حسین علیہ السلام میں حیاتِ نو ہے، اسے حاصل کرو۔۔۔

پیغامِ حسین علیہ السلام میں انقلاب ہے، اسے حاصل کرو۔۔۔ پیغامِ حسین علیہ السلام میں جہدِ مسلسل ہے،

اسے حاصل کرو۔۔۔

پیغامِ حسین علیہ السلام میں جذبۂ ایثار و قربانی ہے،


اسے حاصل کرو۔۔۔

پیغامِ حسین علیہ السلام میں روحِ اسلام ہے، اسے حاصل کرو۔

 وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ


یہ تحریر آزاد ویب نیٹ پر موجود مختلف ذرائع سے دستیاب مواد کی مدد سے مرتب کی گئی

More Posts