Muhammad Asif Raza 14 hours ago
Muhammad Asif Raza #education

علامہ اقبال کی فارسی نظم "تنہائی"۔

Allama Dr Muhammad Iqbal was the great mystic Poet of the Sub Continent India-Pakistan. Iqbal is also the philosopher of East and national poet of Pakistan. Allama Muhammad Iqbal has given various comprehensive messages through his poetry for common man. This write up in Urdu "علامہ اقبال کی فارسی نظم "تنہائی"۔" is an explanation of the Iqbal's persian poem on loneliness.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


علامہ اقبال کی فارسی نظم "تنہائی"۔


علامہ محمد اقبال کے کلام میں ’’تنہائی‘‘ کے موضوع پر دو نظمیں ملتی ہیں۔ ایک اردو میں اور دوسری فارسی ہیں۔۔۔ ہمارا موضوع علامہ اقبال کی فارسی نظم ہے جو مخمس ہے۔ مخمس پانچ مصرعوں والی نظم کو کہا جاتا ہے۔ اقبال کی فارسی نظم "تنہائی" کے چار بند ہیں اور یہ آج سے تقریباً ایک سو سال پہلے ’’پیام مشرق‘‘ میں شائع ہوئی، جس کا پہلا ایڈیشن 1923ء میں طبع ہوا تھا۔ آئیے پہلے نظم پڑھتے ہیں۔


بہ بحر رَفتَم و گُفتَم بہ موجِ بیتابے

ہمیشہ در طَلَب استی چہ مشکلے داری؟

(میں سمندر کے پاس گیا اور ایک تڑپتی ہوئی موج سے پوچھا: تو ہمیشہ جستجو میں رہتی ہے، تجھے کیا مشکل ہے؟)

ہزار لُولُوے لالاست در گِریبانت

درونِ سینہ چوں من گوہرِ دِلے داری؟

(تیرے دامن (سینے) میں ہزاروں موتی ہیں، کیا تو میرے دل کی طرح اپنے اندر بھی کوئی درد مند دل رکھتی ہے؟)

تپید و از لبِ ساحل گُزشت و ہیچ نہ گفت

(وہ لہر تڑپی، ساحل کو پار کر گئی اور کچھ نہ بولی)


بہ کوہ رَفتَم و پُرسیدَم ایں چہ بیدردیست؟

رَسَد بگوشِ تو آہ و فغانِ غم زدئی؟

اگر بہ سنگِ تو لعلے ز قطرۂ خون است

یکے در آ بَسُخن با مَنِ ستم زدئی

بخود خَزید و نَفَس در کَشید و ہیچ نَگُفت

میں پہاڑ پر گیا اور اس سے پوچھا، یہ کیا بیدردی ہے، (تیری اتنی اونچائی ہے کہ) کیا کبھی تیرے کان تک کسی غم زدہ کی آہ و فغاں بھی پہنچی ہے؟ اگر تیرے بے شمار قیمتی پتھروں میں میرے دل جیسا کوئی لعل ہے تو پھر ایک بار مجھ ستم زدہ سے کوئی بات کر۔

وہ اپنے آپ میں چھپا، سانس کھینچی اور کچھ نہ کہا۔


رَہِ دَراز بَریدَم ز ماہ پُرسیدَم

سَفَر نصیب، نصیبِ تو منزلیست کہ نیست

جہاں ز پرتوِ سیماے تو سَمَن زارے

فروغِ داغِ تو از جلوۂ دلیست کہ نیست

سوئے ستارہ رقیبانہ دید و ہیچ نَگُفت

میں نے لمبا سفر کیا اور چاند سے پوچھا، تیرے نصیب میں سفر ہی سفر ہے لیکن کوئی منزل بھی ہے کہ نہیں۔ جہان تیری چاندنی سے سمن زار بنا ہوا ہے لیکن تیرے اندر جو داغ ہے اسکی چمک دمک کسی دل کی وجہ سے ہے یا نہیں ہے؟

اس نے ستارے کی طرف رقیبانہ نظروں سے دیکھا اور کچھ نہ کہا۔


شُدَم بَحَضرَتِ یزداں گُذَشتَم از مہ و مہر

کہ در جہانِ تو یک ذرّہ آشنایَم نیست

جہاں تہی ز دِل و مُشتِ خاکِ من ہمہ دل

چَمَن خوش است ولے درخورِ نوایَم نیست

تَبَسّمے بَلَبِ اُو رَسید و ہیچ نَگُفت

میں چاند اور سورج سے گزر کر خدا کے حضور پہنچا اور کہا کہ تیرے جہان میں ایک بھی ذرہ میرا آشنا نہیں ہے۔ تیرا جہان دل سے خالی ہے اور میں (مشتِ خاک) تمام کا تمام دل ہوں۔ تیرا دنیا کا چمن تو اچھا ہے لیکن میری نوا کے لائق نہیں کہ میرا کوئی ہم زباں نہیں۔

اسکے لبوں پر ایک مسکراہٹ پھیلی اور اس نے کچھ نہ کہا۔

اقبال کی فارسی نظم تنہائی کا اردو ترجمہ جنابِ اخترؔ عُثمان صاحب نے کیا ہے

میں سُوئے بحر گیا اور لہر سے یہ کہا

عجب تلاش ہے تُجھ کو یہ کیسی مُشکل ہے

ہزار لعل و گُہر ہیں تِرے گریباں میں

مِری طرح تِرے سینے میں کیا دُرِ دل ہے ؟

کنارہ چھوڑ ہوئی وہ تپاں ٬ پہ کُچھ نہ کہا


میں کوہسار کی جانب گیا ٬ کہا ٬ بے درد !

سُنائی دیتا ہے نالہ بھی تُجھ کو غم زدہ کا؟

جو تیرے پتھروں میں کوئی لعلِ دل بھی ہے ؟

تو تھوڑی دیر کو آ ٬ حال سُن ستم زدہ کا

سمٹ کے خود میں ہُوا دم کشاں ٬ پہ کُچھ نہ کہا


طویل گام کیئے اور چاند سے پُوچھا

مُسافرا ! تیری منزل بھی کوئی ہے کہ نہیں ؟

جہاں کو تُو نے سمن زار کردیا ٬ تیرا

یہ جلوہ داغ سے ہے ٬ دل بھی کوئی ہے تیرا ؟

سُوئے ستارہ کیئے دیدگاں ٬ پہ کُچھ نہ کہا


میں ماہ و مہر سے یزداں کے پاس جا پہنچا

کہا کہ مُجھ سے شناسا جہاں کا ذرہ نہیں

جہان دل سے تہی اور میں سراپا دل

یہ باغ خُوب ہے لیکن مِری صدا کا نہیں

ہُوا وہ سُن کے تبسّم کناں ٬ پہ کُچھ نہ کہا


علمہ محمد اقبال اس نظم میں جو بات کہنا چاہتے ہیں، وہ آسان اور سادہ نہیں ہے۔ تنہائی کا عالم کاٹنا بقولِ غالب ’’جوئے شیر‘‘ لانا ہے۔ تنہائی کی سخت جانی، گویا جگرکھودنے اور اس پر کھرپے چلانے کے برابر ہے۔

علامہ محمد اقبال اس عام انسان، جو ذرا بھی حساس دل کا حامل ہو، کی طرح زندگی کے میلے میں کبھی کبھار تنہائی کا شکار ہوجاتا ہے؛ تو بے چین ہوجاتا ہے اور جدید لغت کے مطابق ڈپریشن سے مارا جاتا ہے۔ علامہ اقبال ایسے ہی انسان کوایک راستہ دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ تنہائی کی کیفیت میں اکیلے پن سے گھبرا کر مظاہرِ فطرت کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ فطرت کے واضع مظاہر میں ہماری زمین پر بہتا پانی ہے؛ جو چشموں سے نکلتا ہے؛ بارش میں برستا ہے، دریاوں میں رواں ہوتا ہے؛ سمندروں میں ٹھاٹیں مارتا ہے۔ اس زمین پر کھڑے پہاڑ ہیں؛ جو آسمان کے تاروں سے شرگوشیاں کرتے ہیں؛ اور سب سے اوپر ہے؛ نیلا آسمان جسکے کمانوں سے چمکتا ہے سورج؛ اور زمین کو زندگی بخشتا ہے۔ اور رات اترتی ہے تو تارے دمک اٹھتے ہیں اور چاند نکلتا ہے تو زمین کو مسحور کردیتا ہے۔

علامہ محمد اقبال ایک شاعر ہی نہیں تھے چنانچہ وہ انکے مظاہر ہی تک محدود نہیں رہے؛ چنانچہ انہوں نے وہ دیکھا جس کو ہر آنکھ نہیں دیکھتی؛ انہوں نے دیکھا کہ فطرت کے تمام شوخ اور واضع عناصر تنہا ہیں، اکیلے ہیں۔ لیکن پھر بھی چپ چاپ اپنا کام کئے جا رہی ہے۔۔۔ گویا فطرت کا پیغام یہ ہے کہ اپنے دھن میں مگن اپنے کام میں مصروف رہنا چاہیے۔ فطرت کے پیغام کو اقبال نے اس فارسی نظم میں مضمون باندھا ہے۔ انسان کی تنہائی اور خاموشی کا سبب ہوسکتا ہے مگر فطرت تو قدرت کا شاہکار ہے اور شاید مزاجا" تنہا ہے۔

علامہ محمد اقبال اپنی اس فارسی نظم میں پہلے سمندر کی طرف رخ کرتے ہیں، پھر پہاڑ کی جانب جاتے ہیں، پھر آسمان پر نظر ڈال کر چاند سے سوال کرتے ہیں کہ ان سب کی پُراسرار خاموشی اور بے تابی کا اصل سبب کیا ہے۔ سمندر، پہاڑ اور چاند جب اقبال کا سوال سنتے ہیں تو کچھ نہیں کہتے، کوئی تبصرہ نہیں کرتے اور کوئی جواب نہیں دیتے۔ آخر اقبال خدا کے حضور حاضر ہوتے ہیں تو خدا کا جواب بھی ’’خاموشی‘‘ ہے۔۔۔ یعنی اقبال کہنا یہ چاہتے ہیں کہ نہ صرف انسان، بلکہ فطرت کی ہر شے حتیٰ کہ خود خدا بھی تنہائی پسند ہے۔۔۔

سب سے پہلے میں سمندر کی طرف گیا تو دیکھا کہ اس کی موجیں آپس میں گتھم گتھا ہو رہی ہیں اور بھاگتی چلی جا رہی ہیں۔ میں نے ایک بے قرار موج سے پوچھا: ’’تم ہمیشہ کس چیز کی طلب میں رہتی ہو؟ کیا تلاش کرتی ہو؟

کیا تکلیف ہے تمہیں ؟ تمہارے اپنے اندر ہزاروں قیمتی موتی سیپیوں میں موجود ہیں۔ لیکن یہ بتاؤ کہ ان لاتعداد موتیوں میں کوئی میرے دل جیسا لعل و گہر بھی ہے؟‘‘ ۔۔۔ موج میرا یہ سوال سن کر پیچ و تاب کھانے لگی اور ساحل سے دور بھاگ گئی۔۔۔ اور منہ سے کچھ بھی نہ کہا۔

اس کے بعد میں سمندر سے رخصت ہو کر ایک پہاڑ پر چڑھ گیا۔ وہ بہت بلندتھا، لیکن جب میں اس کی چوٹی پر پہنچا تو اس سے سوال کیا:’’ اس بلندی پر ہوتے ہوئے کیا تمہیں کسی غمزدہ اور مظلوم کی فریاد بھی سنائی دیتی ہے یا نہیں؟ تمہاری چٹانوں میں جو زمرد اور لعل چھپے ہوئے ہیں وہ اگر خون کا کوئی منجمد قطرہ ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ تم میں خون ہے۔

اور خون زندگی بھی ہے اور تم بات بھی کر سکتے ہو۔ تو دیکھو مجھ سفر نصیب کے ساتھ کبھی دو چار باتیں ہی کر لو۔ اور میری فریاد و فغاں ہی سن لو!‘‘۔۔۔ پہاڑ نے یہ سنا تو دَڑ وَٹ گیا۔جہاں تھا وہیں کھڑا رہ گیا۔ اس کے اندر کی سانس اندر اور باہر کی باہر رہ گئی اور اس نے۔۔۔ کچھ بھی نہ کہا

سمندر اور پہاڑ سے مایوس ہو کر میں نے آسمان کا رخ کیا۔ بہت طویل سفر کاٹا تو چاند کا سامنا ہوا۔ میں نے چاند سے سوال کیا:’’تو ہمیشہ گردش میں رہتا ہے۔ تیری سفید دودھیا چاندنی کا عکس جب میری زمین پر پڑتا ہے تو وہ چنبیلی کے سفید پھولوں کا باغ بن جاتی ہے۔ تمام منظر سفید چادر اوڑھ لیتا ہے۔ کیا یہ سب سفید جلوے اس سیاہ داغ کی وجہ سے ہیں جو تمہارے سینے میں لگا دیکھتا ہوں؟

۔۔۔ کیا یہی داغِ دل ہے؟۔۔۔ کیا اسی داغِ دل سے میری ساری زمین نقرئی اور سفید نظر آتی ہے؟‘‘۔۔۔ چاند نے یہ سنا تو ستارے کی طرف ایک رقیبانہ نظر سے دیکھا۔۔۔ اور کچھ بھی نہ کہا۔

میں نے جب یہ دیکھا کہ چاند ستارے، آفتاب، شجر ہجر، بحر و بر خاموش ہیں اور کچھ نہیں بولتے تو آخر خدا کے حضور جا حاضر ہوا اور اس سے پوچھا: ’’اے خدا وند ذوالجلال! تمہاری اس بھری پُری دُنیا میں ایک ذرہ بھی ایسا نہیں جو میرا درد سمجھ سکے۔ان سارے مظاہر میں دل نام کی کوئی چیز ہی موجود نہیں اور میں ہوں کہ سراپا دل ہوں۔ تمہاری دنیا کا یہ چمن بہت خوبصورت ہو گا لیکن، میں اس میں کسی سے بات کروں؟

کس کو اپنا دُکھ بتاؤں؟ اور کون ہے جو میرا ہمراز بنے؟‘‘۔۔۔ یزداں کے ہونٹوں پر ایک تبسم سا آیا اور کچھ نہ کہا ۔ (اگرچہ حضرت یزداں نے میری معروضات کے جواب میں کچھ ارشاد نہیں فرمایا لیکن اس کے تبسم نے میری معروضات کی تصدیق کر دی ۔ اشارہ اس طرف ہے کہ اس جہان میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور انسان کا غم خوار نہیں ۔ خالق کائنات نے انسان کے علاوہ اور کسی مخلوق کے سینہ میں جذبہ عشق ودیعت ہی نہیں کیا) ۔


اقبال کہنا یہ چاہتے ہیں کہ کائنات کا ہر ذرہ خواہ وہ پُرشور ہے خواہ خاموش، خواہ سراپا فریاد ہے، خواہ سراپا سکوت۔۔۔ وہ از سر تا پا اکیلا اور تنہا ہے۔۔۔ اور شوریدہ ہونے کے باوجود خلوت گزینی پر مجبور ہے۔ اقبال اس نظم کے ذریعے یہ فلسفہ سمجھاتے ہیں کہ خوبصورتی اور زندگی کا اصل راز مسلسل جدوجہد اور جستجو میں پوشیدہ ہے۔ موج کی طرح بے قرار رہنا اور آگے بڑھتے رہنا ہی کامیابی کی علامت ہے، اور درد مند دل ہی انسان کی اصل دولت ہے۔

علامہ اقبال کی نظم "تنہائی" کا خلاصہ یہ ہے کہ رات کی خاموشی، چاندنی اور تاروں کے جھرمٹ میں جب کائنات سو رہی ہوتی ہے، تب ایک حساس دل انسان کی تنہائی جاگ اٹھتی ہے۔ اس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ خلوت اور خاموشی انسان کو اپنے باطن سے جوڑتی ہے اور یہ تنہائی محض محرومی نہیں، بلکہ خود شناسی، گہرے غور و فکر اور اللہ تعالیٰ سے روحانی تعلق استوار کرنے کا بہترین زینہ ہے۔


یہ تحریر آزاد ویب نیٹ پر موجود مختلف ذرائع سے دستیاب مواد کی مدد سے مرتب کی گئی تاکہ قارئین لطف اندوز ہوسکیں۔ اور اس کا مقصد علمی مواد کی ترسیل ہے۔

Ramadan Gathering Boxes: Elevate Your Iftar Celebrations with Yamanote...

Celebrate Ramadan with Yamanote Atelier's special Gathering Boxes filled with sweet and sa...

defaultuser.png
kinoye
12 seconds ago

Buy YouTube Account Fraud Cases: The Ultimate Expert Guide

Buy YouTube Account Fraud Cases: The Ultimate Expert Guide YouTube has become one of the...

defaultuser.png
[email protected]
23 seconds ago

Buy Ready Verified Binance Account Risks: The Complete Expert Guide

Buy Ready Verified Binance Account Risks: The Complete Expert Guide Cryptocurrency exchan...

defaultuser.png
[email protected]
35 seconds ago
Reliable Business Tools: Buy Amazon Pay Number Fast

Reliable Business Tools: Buy Amazon Pay Number Fast

defaultuser.png
pvaseozone
44 seconds ago

Buy YouTube Account Legality: A Complete Expert Guide

Buy YouTube Account Legality: A Complete Expert Guide YouTube is one of the most influent...

defaultuser.png
[email protected]
47 seconds ago