عقلمند کچھوا اور مقدس شرابِ پام

Storytelling is the social and cultural activity of sharing stories, sometimes with improvisation, theatrics or embellishment. Such a story is a mean of education, entertainment, cultural preservation and stirring minds in a certain direction for enhancing societal values. This write up "عقلمند کچھوا اور مقدس شرابِ پام" is also aiming the said purposes by reflecting upon importance and ways of seeking wisdom.

Jul 30, 2025 - Muhammad Asif Raza

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

 

عقلمند کچھوا اور مقدس شرابِ پام

 عمدہ شراب: ایک حکایت عقلمند کچھوے کی جس کی عمر مقدس پام وائن کی طرح ہے

اس حکایت کو شیئر کرنے کا مقصد " حکمت و دانائی " کی اصطلاح کی وضاحت کرنا ہے اور کہانی کے آخر میں بتائے گئے دیگر اسباق کے ساتھ یہ کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے؟

 

حکمت و دانائی علم، تجربے اور فہم کی بنیاد پر بصیرت اور عام فہم کے ساتھ مل کر درست فیصلے کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس میں نہ صرف علم کا ہونا شامل ہے بلکہ یہ جاننا بھی ہے کہ اسے مختلف حالات میں مؤثر اور مناسب طریقے سے کیسے حاصل اور مستعمل کرنا ہے؛ اکثر اس بات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہ کیا صحیح اور فائدہ مند ہے؟ حکمت و دانائی پیچیدہ حالات میں گھومنے پھرنے / فائدہ مند آوارگی یا سیاحت، انسانی فطرت کو سمجھنے، اور ایسے فیصلے کرنے کی صلاحیت کا بھی احاطہ ہے جو ذاتی بہبود اور وسیع تر بھلائی دونوں پر انسان کو آمادہ کرتا ہے۔

 کہاوت ہے کہ " حکمت و دانائی وقت کے ساتھ بڑھتی ہے " اس خیال کو اجاگر کرتا ہے کہ حقیقی حکمت مسلسل سرگرمی یا بیرونی توثیق کے حصول کے بجائے عکاسی، تجربے اور سوچ سمجھ کر حاصل ہوتی ہے۔ یہ تجویز کرتا ہے کہ خود کو خاموشی اور خود شناسی میں غرق کرنے سے گہری تفہیم اور سیکھنے کی اجازت ملتی ہے، جب کہ ضرورت سے زیادہ بیرونی شور پریشان کن اور عقل کی نشوونما کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔

 "پرانے، بوڑھے، ضعیف کی قدر ان کی چلنے یا کام کرنے کی رفتار میں نہیں، بلکہ ان کی زندگی کے سفر سے حاصل دولت یا ثمرات کے حاصل کرنے میں ہے"۔ اقتباس اس بات پر زور دیتا ہے کہ عمر کی اصل قدر جسمانی رفتار یا تیز رفتاری کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ زندگی کے سفر کے دوران حاصل کیے گئے تجربات کی گہرائی اور بھرپوریت ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ دانشمندی، سمجھ بوجھ اور اچھی زندگی بسر کرنے کے لیے تیز رفتاری یا جوان عمر ہونے سے زیادہ اہم ہے۔

اقتباس نقطہ نظر میں تبدیلی کو نمایاں کرتا ہے، جوانی کے جوش و خروش پر توجہ مرکوز کرنے سے ہٹ کر عمر کے ساتھ جمع شدہ علم اور نقطہ نظر کی تعریف کرتا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ زندگی کا "سفر"، اپنے تمام اتار چڑھاو کے ساتھ، وہی ہے جو واقعی ایک فرد کو تشکیل دیتا ہے اور اسے اہمیت دیتا ہے۔ یہ نقطہ نظر اکثر حکمت اور زندگی کی گہری تفہیم سے منسلک ہوتا ہے۔

 "کھجور کی شراب کی طرح، کچھ چیزوں کو ان کی اصل قیمت کو ظاہر کرنے کے لیے عمر رسیدہ یا پرانا ہونا ضروری ہے" ایک عام اظہار ہے جو اس خیال کو اجاگر کرتا ہے کہ کچھ چیزیں وقت اور تجربے کے ساتھ بہتر ہوتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ایک عمدہ شراب وقت کے ساتھ ساتھ مزید پیچیدہ ذائقے اور خصوصیات پیدا کرتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ حقیقی قدر یا معیار فوری طور پر ظاہر نہیں ہو سکتا اور اسے مکمل طور پر محسوس ہونے کے لیے پختگی کی مدت درکار ہوتی ہے۔

FB Page: Hope for Eternal Life; "Fine Wine."

اب آئیے ایف بی پیج "امید برائے ابدی زندگی" سے لی گئی تمثیل کو پڑھیں۔


 کہیں زمین پر ایک جگہ "اوکپانچی" نام کی تھی جس کی دھوپ سے ڈھکی ہوئی پہاڑیوں میں، جہاں کھجور کے درخت خاموش ڈھول کی طرح کھڑے تھے اور ہوا کے جھونکے پکے ہوئے پھلوں کی خوشبو لیے لیے پھرتے تھے۔ وہاں "نواگو" نام کا ایک بوڑھا کچھوا رہتا تھا۔ اس کا اوپر کا خول جگہ جگہ سے پھٹ چکا تھا؛ اور اس کے قدم دھیمے سے بھی کم تھے؛ اور اس کی آواز شام کی ہوا کی طرح نرم تھی۔ پھر بھی؛ جب وہ بولتا تھا، تو مغرور ترین جانور بھی اسے سننے کے لیے جھک کر ہمہ تن گوش ہوجاتے تھے۔

 "نواگو" کسی کی بھی گنتی سے زیادہ موسموں کو گزار چکا تھا۔ اس نے تین بادشاہوں کا زوال دیکھا تھا؛ اس نے ایسے پانچ سیلاب بھی دیکھ رکھے تھے جو وادیوں کو بہالے گئے تھے؛ اور ایسے دو قحط بھی گذارے تھے جنہوں نے زمین کو اجاڑ دیا تھا۔ لیکن پھر بھی، اس نے کبھی اقتدار کی طلب نہیں کی، نہ ہی کبھی چوپال کےمشورہ میں آواز اٹھائی؛ یہاں تک کہ ایک دن گاؤں کے چوپال میں جھگڑا شروع ہو گیا۔

 وہ جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب اوبیلو نامی ایک نوجوان مینڈھے نے بلند آواز سے کہا، "بوڑھوں کا کیا فائدہ؟ انہیں سائے میں بیٹھ کر سونے دو۔ دنیا مضبوط، تیز، نوجوان لوگوں کی ہے"۔

 اس کی بات نے قہقہے جگائے؛ کہ بندروں نے تالیاں بجائیں؛ پرندوں نے بھی اتفاق میں چہچہاہت بلند کی۔

لیکن "نواگو"؛ جو کھجور کے پرانے درخت کے نیچے بیٹھا تھا، آہستہ آہستہ مڑا اور کچھ نہیں بولا۔ وہ چلا گیا۔ خاموش۔ جیسے پرکاہ فرق نہ پڑتا ہو۔

 اسی ہفتے، ایک مسافر کھجور کی شراب کی ٹوکریاں ایک چھکڑے پر لے کر پہنچا۔ ان میں سے ایک دھول دار، بغیر لیبل والا کالاباش کپڑے میں لپٹا تھا۔

"یہ میرے دادا کی جوانی کے زمانے کا ہے،" مسافر نے اعلان کیا۔ "پینے کے لیے بہت پرانا، شاید خراب بھی ہو گیا ہو۔"

 مگر اس دن، "نواگو"، اپنی آنکھوں میں چمک کے ساتھ، آگے بڑھا؛

"میں اسے پیوں گا،" اس نے کہا۔

وہ اس پرانے شراپ کی پیپا کو گاؤں کے بیچ میں لے آیا اور سب کو چکھنے کی دعوت دی۔ ایک تجسس نے ہجوم کو اسکی طرف متوجہ کیا۔ کچھ کو کھٹا پن، کچھ کو سڑا ہوا اور باقی کچھ بھی توقع کے بغیر تھے۔

 لیکن وہاں کچھ اور ہی ہوا؛ جیسے ہی "نواگو" نے ایک پیالے میں کچھ انڈیلا تو وہ گاڑھا، سنہری، اور وقت کے ساتھ یادداشت میں کھب جانے والی خوشبودار مدھر تھا۔ سب نےایک گھونٹ لیا اور مجمع خاموش ہوگیا۔

"اس کا ذائقہ غروب آفتاب اور حکمت جیسا ہے،" بوڑھی بکری نے کہا۔

"یہ پیٹ کو سچ کی طرح گرم کرتا ہے،" بگلا نے سرگوشی کی۔

 

"نواگو" نے مسکرا کر اوبیلو کی طرف دیکھا۔

اور اس نے کہا، "جوانی تیز دوڑ سکتی ہے، لیکن علم و حکمت عمر بڑھنے کے ساتھ حاصل ہوتی ہے۔ جس طرح کھجور کی شراب کو شاندار ہونے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، اسی طرح حکمت بھی آہستہ آہستہ ملتی ہے۔ جو کچھ پرانا ہوتا جاتا ہے وہ بیکار نہیں ہوتا؛ تجربہ اُسے خمیرزدہ کرتا جاتا ہے"۔

اس دن کے بعد؛ جانور مشورہ کے لیے "نواگو" کے پاس مشورے کے لیے آئے۔ وہ محبت، جنگ، خاندان اور خوف کے بارے میں سوالات لائے۔ اس نے انہیں گرجدار لہجے کے ساتھ نہیں بلکہ کہانیاں سنا کر سبق دیا۔

جب اوبیلو بڑا ہوا اور اسے اپنی غلطیوں کا سامنا کرنا پڑا؛ جو ہم سب کرتے ہیں؛ تو یہ "نواگو" تھا جو اس کے پاس بیٹھا، اسے گرم شکرقندی کے ٹکڑے اور نرم الفاظ پیش کرتا تھا۔

اور جب "نواگو" نے آخر کار اسی کھجور کے درخت کے نیچے اپنی آنکھیں بند کر لیں جہاں اس نے کبھی ہوا کی آواز سنی تھی تو پورا جنگل جمع ہو گیا۔ وہ روئے نہیں بلکہ انہوں نے کھجور کی شراب اٹھائی؛ اپنے پیالے اٹھائے اور خاموشی سے پیا۔

 اس کی آرام گاہ کے اوپر، انہوں نے نقش کیا:-۔

"شاندار شراب کی طرح، اس کا بوڑھاپا شاندار تھا۔

بلند آہنگ نہیں۔ تیز نہیں۔ لیکن پر اثرگہرائی"۔"

ثمرِ اسباق:Hope for Eternal Life

 1. حکمت، وقت کے ساتھ بڑھتی ہے، شور سے نہیں۔

 2. ضعیف کی قدر ان کی رفتار میں نہیں، بلکہ ان کی دولت یا ثمر حاصلِ سفر ہے۔

 3. کھجور کی شراب کی طرح، کچھ چیزوں کی حقیقی قدر گذرتے وقت کے ساتھ ہی ظاہر ہوتی ہے۔

More Posts