عقل ہےتیری سپرعشق ہے شمشیرتری مرے درویش خلافت ہےجہاں گیرتری

Allama Dr Muhammad Iqbal was the great mystic Poet of the Sub Continent India. Iqbal is also the philosopher of East and national poet of Pakistan. This write up in Urdu "عقل ہےتیری سپرعشق ہے شمشیرتری؛ مرے درویش خلافت ہےجہاں گیرتری" is an explanation of the Iqbal's verse with the help of various verses of Iqbal, keeping the main theme in focus.

Oct 25, 2025 - Muhammad Asif Raza

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

 

عقل ہےتیری سپرعشق ہے شمشیرتری

مرے درویش خلافت ہےجہاں گیرتری

ماسویٰ اللہ کےلیےآگ ہے تکبیرتری

تو مسلماں ہوتوتقدیر ہےتدبیر تری

(جواب شکوہ)

مندرجہ بالا قطعہ حکیم اُلامت علامہ محمداقبالؒ کی کتاب " بانگِ درا" کی نظم "جواب شکوہ" سے لیا گیا ہے۔ لیکن اس پر گفتگو کرنے سے پہلے ذرا دیکھیں تو سہی کہ آج کا فرد اور ملت کس صورتحال سے نبرد آزما ہے؛ کیونکہ اس قطعہ میں دیا گیا پیغام فرد کے لیے بھی اور امت کے لیے بھی؟

 

 ہماری بصارت کی حد تک کائنات میں ہماری زمین وہ واحد سیارہ ہے جہاں زندگی بسی ہوئی ہے۔ زندگی کی نیرنگی حیران کن ہے اور اس حیرت کدہ میں ہم انسان بطور اشرف المخلوقات آباد ہیں۔ اے وطنِ عزیز کے لوگو؛ علامہ محمد اقبالؒ نے ایک صدی قبل غلام ہندوستان کے مسلمان کے لیے "مثنوی پس چه باید" کی نظم " فقر، " میں کہا تھا کہ "اس ملک کا مسلمان اپنے آپ سے نا امید ہے — عمر گذر گئی مگر انہوں نے کوئی باخدا مرد نہیں دیکھا"۔ مزید کہا ہے کہ " لا محالہ وہ دین کی قوت سے بدظن ہے— وہ خود ہی اپنے کاروان کے لیے رہزن بنا ہوا ہے"۔ حکیم نے بیماری کا سبب بیان کیا کہ " تین سو سال [اب چار سو سال ہوگئے] سے یہ امت زبوں حال ہے — اور بغیر اندرونی سوز و سرور کے دن بسر کر رہی ہے"۔ اور پھر وجہ بھی بتا دی کہ " مسلمان پست فکر ، کم ہمت اور کور ذوق ہو چکا ہے — اس کے تعلیمی ادارے اور علما سب شوق سے محروم ہیں"۔

  علامہ محمد اقبالؒ نے سارا کلام غلام ہندوستان میں رہتے ہوئے سارے عالمِ اسلام کے دگرگوں حالات کے مشاہدے سے وجود پذیر ہوا تھا مگر کیا آج تقریبا" محمد اقبالؒ کی رحلت کے ستاسی سال بعد بھی عالم اسلام اُسی حالت غلامی میں مگن مسرور اورمست ہیں۔ فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ پہلے ملک ہی غلام تھا؛ اب آزاد ہے مگر فرد اور قوم غلاموں سے بھی بدتر زندگی جی رہے ہیں۔ کیا یہ درست نہیں ہے؟

اب چلتے ہیں اپنے نفسِ مضمون قطعہ پر جو محمد اقبالؒ کی انتہائی مشہور نظم "جواب شکوہ" سے لیا گیا ہے؛ جو انکی کتاب بانگِ درا میں موجود ہے۔

’’اے مومن؛ اے مسلم مرد اور ملت ! عقل تیری ڈھال ہے اور عشق تیری تلوار ہے۔ اے مرے درویش! تیری خلافت ساری دنیا پر محیط ہے۔ اللہ کے سوا ہر شے کے لیے تیری تکبیر آگ کی تاثیر رکھتی ہے؛ تو اگر حقیقی معنوں میں مسلمان بن جائے تو تیری تدبیر ہی تیری تقدیر بن سکتی ہے۔"۔

 علامہ محمد اقبالؒ نے نظم شکوہ میں ایک مسلم فرد اور قوم کی جانب سے اللہ تعالی کے حضور فریاد کرتے ہوئے حرماں نصیبی کا ذکر کیا تھا اور پھر جواب شکوہ میں اللہ سبحان تعالی کی جانب سے اس کا جواب پیش کیا تھا۔ یہ جواب فرد کے لیے بھی تھا اور ملت و قوم کے لیے بھی۔ نفسِ مضمون قطعہ میں محمد اقبالؒ نے لفظ "درویش" استعمال کیا ہے؛ جس کے معنی ہوتے ہیں " فقیر، گدا، بھکاری، مسکین، محتاج، مفلس؛ اور صوفیانہ اصطلاح میں؛ سالک، صوفی، زاہد، قلندر، گوشہ نشین کو بھی درویش کہا جاتا ہے۔ اس وقت کے ہندوستان کے حساب سے اقبال شاید دونوں اصطلاحوں میں مخاطب ہیں اور ستم تو یہ ہے کہ تقریبا" سو سال کے بعد بھی قوم اور ملت اسلامیہ اس حال میں ے کہ آج بھی درویش کی اصطلاح میں ساری مسلم امت مخاطب ہے۔ 

 علامہ محمد اقبالؒ کا پیغام تو بہت سادہ ہے کہ اے دنیاوی لحاظ سے قعر مذلت میں گرے ہوئے مفلس و مسکین؛ اور اپنے حال میں مست صوفی؛ اللہ تعالی نے تو تجھے عشق کی تلوار اور عقل کی ڈھال سے نواز کر دنیا کی خلافت پر متمکن کیا تھا کہ تو امام بن کر اقوام عالم کی رہنمائی کرے گا۔ جو تو نعرہ تکبیر بلند کرے تو اللہ تعالی تیری تدبیر کو تیری تقدیر بنا دے۔ کیونکہ "ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ؛ غالب و کار آفريں ، کارکشا ، کارساز"؛ یعنی ہر مسلمان کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ اللہ سبحان تعالی نے اسے اس تقدیر کا حامل بنایا ہے کہ وہ سچے دل سے اللہ تعالی کی حاکمیت اعلی کو نافذ کرنے کی ٹھان لے تو اللہ کریم اس کے ہاتھوں دنیا کا نقشہ بدل دیں اور اسے خلافت ارضی کا تاج پہنادیں۔ اور ایسا ہونا کوئی اچنبھا نہیں کیونکہ طارق بن زیاد اور صلاح الدین ایوبی ایسا کرکے دکھا چکے ہیں؛ یہاں آقا کریم محمدﷺ کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کو ذکر نہیں کہ وہ بے مثال انسان تھے اور ان جیسا اعمال والے کوئی اور انسان شاید ممکن ہی نہیں۔

 

علامہ محمد اقبالؒ نے بالِ جبریل کی نظم "پرواز" میں دو کرداروں کے مکالمے اور ان کی ذاتی صلاحیت کی بنیاد پر یہ سکھانے کی کوشش کی ہے کہ جو شخص سطحی نظر کا حامل ہوتا ہے وہ عملی طور پر نہ ترقی کر سکتا ہے نا ہی زندگی میں عروج حاصل کر سکتا ہے کہ بلند پروازی کے لیے بلند حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے ۔

چار اشعار کی اس مختصر نظم میں علامہ محمد اقبالؒ نے ایک درخت اور مرغ صحرا کے مابین مکالمے کو یوں نظم کیا ہے ۔ جیسا کہ بعض مقامات پر بتایا گیا ہے کہ علامہ اقبال نے اپنے افکار و نظریات کے اظہار کے لیے کہیں کہیں انسان کے بجائے مختلف اشیاء کے حوالے سے بات کی ہے ۔

اس نظم "پرواز" میں بھی علامہ محمد اقبالؒ نے ایک درخت اور ایک جنگلی پرندے کے مابین ایسا مکالمہ نظم کیا ہے جس کی اساس خود ان کی حکمت و دانش پر ہے ۔ فرماتے ہیں ۔ ایک درخت نے جنگلی پرندے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالم رنگ و بو جس میں ہم زندگی گزار رہے ہیں دیکھا جائے تو اس کی اساس ظلم و ستم پر قائم ہے ۔

 تیری طرح اگر میں بال و پر رکھتا تو اڑ کر بلندی پر پہنچ سکتا تھا اور اس جہان کی چہل پہل اور شگفتگی میں مزید اضافہ ہو جاتا یعنی میں بھی ترقی کی منازل طے کر سکتا۔ درخت کی بات سن کر جنگلی پرندہ حیرت زدہ ہوئے بغیر یوں بولا! کہ مجھے اس امر پر یقینا تعجب ہوا کہ تو انصاف اور حق پرستی کو ظلم و ستم سمجھ رہا ہے مگر اس نکتے سے آگاہ نہیں۔ یہ جان لے کہ سطحی سوچ اور نظر رکھنے والا کبھی بلند مقام حاصل نہیں کر سکتا۔ نا ہی ایسا فرد اس استحقاق کا روادار ہو سکتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ درخت کی نشوونما تو اسی صورت میں ممکن ہے کہ اس کی جڑیں مٹی میں پیوست ہوں۔ اگر یہ جڑیں مٹی سے باہر آ جائیں تو درخت مرجھا کر رہ جاتا ہے یہی عمل اسے لذت پرواز سے محروم رکھتا ہے۔ چنانچہ اسے ظلم و ستم سے تعبیر کرنا کسی طرح مناسب نہیں ۔ پرواز کا حق تو اسی کو ہوتا ہے جو خود کو مٹی سے آزاد کر لے۔

 کہا درخت نے اک روز مرغِ صحرا سے

ستم پہ غمکدہَ رنگ و بو کی ہے بنیاد

خدا مجھے بھی اگر بال و پر عطا کرتا

شگفتہ اور بھی ہوتا یہ عالمِ ایجاد

دیا جواب اُسے خوب مرغِ صحرا نے

غضب ہے داد کو سمجھا ہوا ہے تو بیداد

جہاں میں لذتِ پرواز حق نہیں اس کا

وجود جس کا نہیں جذبِ خاک سے آزاد

کیا پیغام ہے؟ انسان مٹی کا مادھو یا پتلا ہے لیکن ساتھ ساتھ روح امر ربی سے سرفراز ہے؛ یعنی انسان رہے تو زمین سے جڑا ہوا؛ یعنی سادہ زندگی گذارے مگر سوچ اعلی رکھے اور اعلی بلندیوں کی جانب پرواز رکھے۔ تو ایسا انسان کون ہوتا ہے؟ اقبال نے اپنی مثنوی "پس چه باید" کی نظم "مرد حر" میں تمثیلا" فرمایا ہے کہ مرد حر کلمہ طیبہ لا الہ سے روشن ضمیر ہوتا ہے، وہ کسی سلطان اور امیر کا غلام نہیں ہوتا؛ یعنی دنیاوی لالچ اور جاہ پرست نہیں ہوتا ۔ وہ بوجھ اٹھاتا ہے اور کانٹے کھا کر گزارا کرتا ہے۔ یعنی اپنے اعمال سے خود کو رہنما ثابت کرتا ہے اور اس کے لیے معاوضہ نہیں لیتا۔ وہ (رہ حیات میں) اتنی مضبوطی سے قدم رکھتا ہے کہ — اس کے سوز سے راستے کی نبض تیز ہو جاتی ہے۔ یعنی وہ معاشرے کی چال بدل سکتا ہے۔ موت سے اس کی جان اور پائیندہ ہو جاتی ہے — اس کی بانگِ تکبیر، الفاظ اور آواز میں نہیں سماتی۔ پھر اقبال کہتے ہیں کہ اس جہانِ بے ثبات میں صرف اس کو ثبات ہے — موت اس کے لیے زندگی کے مقامات میں سے ایک مقام ہے۔ یعنی حیات ابدی کا ستارہ اس جہان میں اس طرح روشن ہوتا ہے کہ کہ موت اسے زمین پرثابت کرکے آتی ہے؛ جیسے قائد اعظم محمد علی جناح۔

نظم مردِ حر

مرد حر از لااله روشن ضمیر

می نگردد بندهٔ سلطان و میر

مرد حر کا ضمیر لاالہ سے روشن ہے — وہ کسی بادشاہ یا امیر کا غلام نہیں ہوتا۔

مرد حر چون اشتران باری برد

مرد حر باری برد خاری خورد

مرد حر اونٹ کی طرح بوجھ اٹھاتا ہے — وہ بوجھ اٹھاتا ہے اور کانٹے کھا کر گزارا کرتا ہے۔

پای خود را آنچنان محکم نهد

نبض ره از سوز او بر می جهد

وہ (رہ حیات میں) اتنی مضبوطی سے قدم رکھتا ہے کہ — اس کے سوز سے راستے کی نبض تیز ہو جاتی ہے۔

جان او پاینده تر گردد ز موت

بانگ تکبیرش برون از حرف و صوت

موت سے اس کی جان اور پائیندہ ہو جاتی ہے — اس کی بانگِ تکبیر، الفاظ اور آواز میں نہیں سماتی۔

در جهان بی ثبات او را ثبات

مرگ او را از مقامات حیات

اس جہانِ بے ثبات میں صرف اس کو ثبات ہے — موت اس کے لیے زندگی کے مقامات میں سے ایک مقام ہے۔

 

علامہ محمد اقبالؒ نے اسی نظم میں مسلم فرد کا مسئلہ بیان کردیا جب فرمایا کہ ہم صبح و شام رزق کی فکر میں رہتے ہیں — ہمارا انجام کیا ہے؟ موت کی تلخی۔ یعنی یہ زندگی ہم انسانوں کو خاص طور پر مسلم فرد کو محض صبح و شام کی روٹی روزی کے بندوبست کے لیے پیدا نہیں کیا گیا۔ یہ زندگی خلافت ارضی کے لیے مستعار ملی ہے اور اگر اس جانب سفر نہ کیا تو عمر بھر کی ریاضت رائیگاں ہی رہے گی۔

صبح و شام ما به فکر ساز و برگ

آخر ما چیست؟ تلخیهای مرگ

 قرآن پاک کی ایک آیت میں اللہ سبحان تعالی نے تو مومن کو خوشخبری سنا دی ہے۔

وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ۔

’’اور تم ہمت نہ ہارو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب آؤ گے اگر تم (کامل) ایمان رکھتے ہو۔‘‘ (سورۃ آل عمران، آیت 139)

 

کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

 اگر تو نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے وفا کی؛ یعنی سنت رسول کی پیروی کی؛ تو ہم بھی تیرے ہیں۔ یہ جہاں تو کوئی شے ہے ہی نہیں بلکہ لوح و قلم بھی تیرے ہو جائیں گے۔ یعنی ساری دنیا تیرے سامنے سرنگوں ہو جائے گی۔

جوابِ شکوہ کے آخری حصے میں علامہ اقبالؒ مسلمانوں کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ اُن کی قوت کا راز جذبۂ عشق میں پوشیدہ ہے۔ عشقِ حقیقی کی دولت عشقِ رسول ﷺ کی بدولت ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ اقبال اس حصے میں اس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ کی ہستی ہی کائنات کی تخلیق کا باعث ہے اور قیامت تک حضورنبی کریم ﷺ کا اسم مبارک دنیا کے کونے کونے میں سر بلند رہے گا۔ اقبال کا مرکزی پیغام عمل ہے اور اس دعوتِ عمل کا مرکزی نکتہ عشقِ رسول ﷺ ہے۔ نظم کے آخری بند میں اقبال عقل و عشق کے ہتھیاروں سے لیس ہونے کی ترغیب دیتے ہیں کہ مردِ مومن کا مقصود خلافتِ الٰہی ہے اور مومن کا سب سے بڑا اثاثہ عشقِ رسول ﷺ ہے۔ اسی لیے اقبال مسلمانوں کو اُسوۂ حسنہ کی پیروی کرنے کی تلقین کرتے ہیں:

 علامہ محمد اقبالؒ نے جواب شکوہ کے آخری شعر میں دریا کو کوزے میں بند کرتے ہوئے پیغام دیا ہے کہ اگر مسلمان حضورنبی کریم ﷺ سے وفا کریں اور آپﷺ کے اسوہ حسنہ پر کماحقہ عمل کریں تو صرف یہ دنیا ہی نہیں بلکہ پوری کائنات مسلمانوں کے آگے جھک جائے گی۔ علامہ محمد اقبالؒ کو پختہ یقین تھا کہ کامیابیوں کی ضمانت اسوہ حسنہ کو اختیار کرنے میں ہے۔ اقبال زندگی کے ہر معاملہ میں حضرت محمد مصطفی ٰﷺ کی اتباع کرنے کی کوشش کا ہیغام دیتے رہے ہیں۔

پھلا پھُولا رہے یا رب! چمن میری اُمیدوں کا

جگر کا خون دے دے کر یہ بُوٹے مَیں نے پالے ہیں

اے خدائے ذوالجلال! تجھ سے بس اتنی دعا ہے کہ میری آرزووَں اور تمناؤں کو پھلا پھولا رکھ ۔ اس لیے کہ ان کی پرورش کے لیے میں نے اپنا خون دیا ہے ۔

یہ اللہ سبحان تعالی کا احسان ہے کہ ہمیں آقائے دوجہاں، شافع محشر، امام المرسلین، رحمت اللعالمین محمدﷺ کا امتی بنایا، اور یہ احسان بھی کیا کہ ہمیں آزادی کی نعمت کے ساتھ ریاست اسلام کا شہری پیدا کیا۔ اب ضرورت صرف اس ریاست کو اللہ تعالی کی حاکمیت اعلی یعنی قرآن اور سنتِ رسولﷺ کے تابع کرنا ہے۔ اللہ رب کریم ہمیں آقا محمدﷺ کی کامل غلامی عطا فرمائے؛ ہمیں اغیار کی فکری اور معاشی غلامی سے نجات عطا فرمائے؛ اور اس قابل فرمائے کہ کل روز قیامت اللہ تعالی کےحضور آپنے آقا محمدﷺ کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔ اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین ثم آمین

اللهم صل على محمد و على آل محمد كما صليت على ابراهيم و على آل ابراهيم انك حميد مجيد 🌹

اللهم بارك على محمد و على آل محمد كما باركت على ابراهيم و على آل ابراهيم انك حميد مجيد 🌹

NOTE: یہ تحریر آزاد ویب نیٹ پر موجود مختلف ذرائع سے دستیاب مواد کی مدد سے مرتب کی گئی

 


More Posts