عہدِ ازدواج؛ خوشگوار زندگی کا راستہ

Marriage has been a central institution in human societies for millennia, providing a foundation for family life, child-rearing, and societal stability and peace. Marriage builds a strong family and helps society grow by creating stable homes, supporting children, and sharing life duties. This write up in Urdu "عہدِ ازدواج؛ خوشگوار زندگی کا راستہ" is an opinion about the importance of married life.

Jul 24, 2026 - Muhammad Asif Raza

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


عہدِ ازدواج؛ خوشگوار زندگی کا راستہ


آقا کریم محمدﷺ کا فرمان ہے: "النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي، فَمَنْ لَمْ يَعْمَلْ بِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي"۔۔۔

نکاح میری سنت ہے، پس جس نے میری سنت پرعمل نہیں کیا وہ مجھ سے (یعنی میرے طریقے پر) نہیں۔ صحیح بخاری [5063] اور سنن ابن ماجہ [1846]

اے بردرانِ اسلام؛ اس پر غور کرتے ہیں کہ آقا کریمﷺ نے کس شے کو اپنی سنت قرار دیا اور یہ تنبیہ بھی کی ہے کہ جس امتی نےاس سنت پر عمل نہیں کیا وہ کیا امتی کے اعزاز سے محروم ہوگیا؟

اسلام میں شادی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے اورعہدِ ازدواج مرد اور عورت کے درمیان ایک مقدس اور پکا معاہدہ ہے، جو باہمی سکون، محبت اور قانونی و اخلاقی ذمہ داریوں کی بنیاد پر استوار ہوتا ہے۔ یہ رشتہ دو انسانوں کو زندگی بھر کے لیے جوڑتا ہے۔ مقاصد نکاح میں سنت پر عمل کے ذریعے انسان کا گناہوں سے بچنا ہے، نسلِ انسانی کی بقا ہونا ہے، اور معاشرے میں پاکیزگی قائم رکھنا ہے۔

انسانی جوڑا بننے کا مقصد، نکاح کے حصار میں رہتے ہوئے، دل کا سکون اور ذہنی اطمینان حاصل کرنا؛ اخلاقی اور قانونی حدود میں رہتے ہوئے خاندان کی تشکیل کرنا؛ اور زندگی کے ہر موڑ پر ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوتا ہے۔ اس رشتے کا توازن یہ ہے کہ ازواج کے بندھن میں دونوں اپنےشریکِ حیات کے ساتھ مخلص رہیں؛ ایک دوسرے کے باہمی رشتوں اور روابط میں مددگار بنیں اور معاشی، مالی، نفسیاتی؛ ازدواجی اور سماجی حقوق کا خیال رکھیں؛ اور یوں مستل مزاجی سےزندگی کی سفر میں پیش آنے والے مشکلات میں صبر اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔

نکاح اور شادی کیا ہے؟

جدید تہذیب نے جہاں انسانوں کو بہت سے آسانیاں فراہم کردی ہیں وہاں کچھ ایسے مغالطے بھی ابھرآئے ہیں؛ جو انسانی نسل کی بنیاد کو کمزور کررہے ہیں۔ ایک انتہائی نقصان دہ عمل شادی بیاہ کو کھیل تماشہ بنادینا ہے۔ یہ ہمیشہ یاد رکھیں کہ نکاح کا بندھن شادی شدہ زندگی کا آغاز ہی نہیں بلکہ اک مذہبی عبادت ہے جس کا آغازبھی دینکا راستہ ہوتا ہے اور تمام معاملات بھی دین ہی کا راستہ ہے۔ اس لیے ہمیشہ یہ جان رکھیں کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے نکاح کو سکون کا ذریعہ بنایا اور میاں بیوی کے درمیان محبت، رحمت اور تحفظ کا جذبہ پیدا کیا۔

اللہ تعالی نے قرآن الحکیم میں فرمایا ہے؛

کہ " اور یہ (بھی) اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان کی طرف سکون پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی، بیشک اس (نظامِ تخلیق) میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں"۔ سورۃ الروم آیت 21۔۔

اور مزید یہ بھی فرمایا ہے؛

کہ " اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتداء) ایک جان سے کی، پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا، اور ڈرو اس اللہ سے جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور قرابتوں (میں بھی تقوٰی اختیار کرو)، بیشک اللہ تم پر نگہبان ہے"۔

سورۃ النساء آیت 1۔

مندرجہ بالا آیات میں قابل غور معاملہ یہ ہے کہ اللہ سبحان تعالی نے ہم سے کیا کہا ہے؛ فرمایا ہے "ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں"؛ اور "بیشک اللہ تم پر نگہبان ہے"۔ تو ہہمیں یہ یاد رکھنا ہے؛ جو ہمارے سارے ہوش و حواس پر یہ غالب ہو کہ زندگی کے سب معاملات میں ہم پہ اللہ تعالی خود نگہبان ہے۔ اور تعلقِ ازدواج کے سارے ادوار اور مراحل میں سارے معاملات اس طرح عمل پزیر ہوں کہ ہم اللہ تعالی کی پکڑ سے بھاگ نہیں سکتے۔ یعنی اللہ تعالی کے حکم پہ عمل پیرا ہوں۔


اے مسلمانو! شریف گھرانے بھی ایسے حالات سے مبرا نہیں ہوتے جو حلم اور صبر کا امتحان لیتے ہیں اور باہمی تعلقات میں حسنِ سلوک کا تقاضا کرتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت تھی کہ ایسے واقعات خود انبیاء علیہم السلام کے گھرانوں میں بھی پیش آئیں، تاکہ اختلافِ رائے کے وقت ان کا اسوہ لوگوں کے لیے درست طرزِ عمل کی رہنمائی کرنے والی روشنی کا کام دے۔ تاہم، ان کی نفوس کی عظمت، کردار کی بلندی اور بصیرت و فہم کی پختگی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ایسے عارضی واقعات پرسکون انداز میں گزر جائیں اور باہمی محبت کا وقار نیز حسنِ سلوک کا اثر برقرار رہے۔

رحمت کا بھی اپنا مقام ہے؛ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معاملات کو حکمت سے سنبھالتے اور جذبات کو نرمی کے ساتھ اپناتے تھے۔ آپؐ نے ایک بار حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے فرمایا "میں جانتا ہوں کہ تم مجھ سے کب خوش ہوتی ہو اور کب ناراض۔" انہوں نے پوچھا: "اے اللہ کے رسولؐ! آپ کو یہ کیسے معلوم ہوتا ہے؟" آپؐ نے جواب دیا: "جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو: 'نہیں، محمدؐ کے رب کی قسم'؛ لیکن جب مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: 'نہیں، ابراہیمؑ کے رب کی قسم'۔" انہوں نے کہا: "بے شک—اللہ کی قسم اے اللہ کے رسولؐ!—میں صرف آپؐ کا نام ہی چھوڑتی ہوں۔

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جذبات کو رحمت کی نظر سے دیکھتے تھے؛ نہ تو آپ غصے کی آگ کو بھڑکاتے تھے اور نہ ہی جذباتی اشتعال کے جواب میں ویسا ہی ردعمل ظاہر کرتے تھے، بلکہ حکمت اور نرمی کے ساتھ صورتِ حال کو سنبھال لیتے تھے۔ ازدواجی خوشی کا آغاز باہمی سمجھ بوجھ سے ہوتا ہے اور اس کا تسلسل ردعمل میں اعتدال برتنے سے قائم رہتا ہے؛ درحقیقت، شریکِ حیات کے ساتھ حسنِ سلوک اور نرم رویہ ہی اعلیٰ کردار اور مردانگی کے کمال کا حقیقی معیار ہے۔

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "تم میں سے بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنے اہل و عیال کے حق میں بہترین ہیں، اور میں اپنے اہل و عیال کے معاملے میں تم سب سے بہتر ہوں"۔

اور اللہ تعالیٰ کے فرمان کی تعمیل کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ الہامی حکم کو احترام اور قدردانی سے بھرپور عملی رویوں اور طرزِ عمل میں ڈھال لیا جائے۔ اور نبی محترم محمدﷺ کے صحابہ سے سیکھیں ؛ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اللہ عنہما) نے فرمایا: "میں اپنی بیوی کے لیے اسی طرح بن سنور کر رہنا پسند کرتا ہوں جیسے میں یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ میرے لیے بن سنور کر رہے"۔۔

اور اللہ تعالی نے ایک جگہ یوں کہا ہے کہ "اور دستور کے مطابق عورتوں کے بھی مردوں پر اسی طرح حقوق ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر، البتہ مَردوں کے لیے اُن سے بھی ایک گُنا زیادہ ذمہ داری ہے، اور اللہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے"؛ سورۃ البقرہ آیت 228 کا ایک ٹکڑا۔۔


اس طرح ہمیں یہ پوری طرح سمجھنا ہے کہ ازدواجی زندگی کا استحکام حقوق کی باہمی پابندی اور میاں بیوی کے درمیان اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے سے پہلے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی دوڑ پر منحصر ہے۔ اس طرح، پیار بڑھتا ہے، اعتماد مضبوط ہوتا ہے، اور جھگڑے کے اسباب بڑھنے سے پہلے ہی ختم ہو جاتے ہیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ گھر ہم آہنگی اور سکون سے بھرے رہیں۔ اللہ تعالی نے معاملات کو بہتر کرنے میں مردوں کو ایک درجہ زیادہ ذمہ داری ڈالی ہے۔

پس اے بندگانِ خدا؛ اللہ تعالی سے ڈرتے رہیں؛ اور یقین رکھیں کہ میاں بیوی کے درمیان حسن سلوک ایک نیک عمل ہے جس کا ہمہیں اجر دیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ پاک کا سورہ النحل میں فرمان ہے؛

کہ "جو کوئی نیک عمل کرے (خواہ) مرد ہو یا عورت جبکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے ضرور پاکیزہ زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے، اور انہیں ضرور ان کا اجر (بھی) عطا فرمائیں گے ان اچھے اعمال کے عوض جو وہ انجام دیتے تھے"۔ سورہ النحل آیت 97۔۔


اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور جان لیجئے کہ ازدواجی زندگی کا سکون محض اتفاق یا قسمت پر منحصر نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک ایسی مستحکم عمارت ہے جو دونوں شریکِ حیات کی باہمی آگاہی اور ذمہ داری کے احساس سے تعمیر ہوتی ہے۔ اپنے گھروں کو ان مسائل سے محفوظ رکھنے کے لیے جو پریشانی کا باعث بنتے اور خاندان کو بکھیر دیتے ہیں، یہاں قرآن و سنت کی روشنی میں کچھ اقدامات بیان کیے جا رہے ہیں جو خوشی کے متلاشی افراد کے لیے ایک رہنما اصول ہیں۔

ان میں سے پہلا یہ ہے "دانشمندانہ چشم پوشی" کا اصول نبی کریم ﷺ کے اس ارشادِ مبارک میں مضمر ہے: "کوئی مومن مرد کسی مومنہ خاتون سے بغض نہ رکھے؛ اگر وہ اس کی کسی عادت کو ناپسند کرتا ہے تو کسی دوسری خوبی پر خوش بھی ہوتا ہے۔"

اس نبوی رہنمائی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ازدواجی خوشی، خامیوں سے شریفانہ درگزر کرنے، خوبیوں پر توجہ مرکوز کرنے اور شریکِ حیات کے بارے میں مثبت نقطہ نظر اپنانے سے پروان چڑھتی ہے۔ ایک مومن اپنے شریکِ حیات میں اچھے اوصاف تلاش کرتا ہے اور انہیں باہمی محبت کو مستحکم کرنے کی بنیاد بناتا ہے؛ اس سے دیرپا ہم آہنگی قائم رہتی ہے اور معمولی کوتاہیوں کے اثرات کم ہو جاتے ہیں، کیونکہ ازدواجی زندگی کا حسن اور تکمیل عارضی غلطیوں کے مقابلے میں رفاقت کی خوبیوں کو ترجیح دینے ہی سے حاصل ہوتی ہے۔

ازدواجی زندگی کے استحکام کا دوسرا اصول اس کے رازوں کی حفاظت، پردہ داری کا پاس اور اسے عوامی محفلوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے دور رکھنا ہے؛ کیونکہ جب کوئی راز گھر سے باہر نکلتا ہے تو اس کا دائرہ کار وسیع ہو جاتا ہے اور اس کے نتائج سنگین تر ہو جاتے ہیں—جنہیں اکثر قیاس آرائیاں ہوا دیتی ہیں، دوسروں سے موازنہ بھڑکاتا ہے اور ذاتی خواہشات و خیالات بگاڑ کا شکار کر دیتے ہیں۔

اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے دن اللہ کے نزدیک بدترین مقام رکھنے والوں میں وہ شخص بھی شامل ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ خلوت میں ملتا ہے—اور وہ بھی اس کے ساتھ—پھر وہ (مرد) اس کے رازوں کو ظاہر کر دیتا ہے۔"

آدابِ زندگی کا یہ معاملہ میاں بیوی کے درمیان ایک امانت کی حیثیت رکھتا ہے؛ ہر ایک دوسرے کے لیے امانت دار ہے، اپنے گھر کے تقدس کا محافظ ہے اور اس کے سکون و اطمینان کا معمار ہے۔

تیسرا اصول—اے اللہ کے بندو!—ازدواجی گھرانے میں مشترکہ ایمانی ماحول کا قیام ہے: جس میں قرآن کی تلاوت نماز کی ادائیگی، اللہ کا ذکر اور اس سے مغفرت طلب کرنا شامل ہو۔ جس گھر میں یہ کیفیت پائی جائے، وہاں سے شیطان دور بھاگ جاتا ہے اور اس گھر پر سکون و اطمینان کا نزول ہوتا ہے۔

رحمتِ عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں: "اللہ اس مرد پر رحم فرمائے جو رات کو نماز کے لیے اٹھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی نماز کے لیے جگاتا ہے؛ اگر وہ انکار کرے تو وہ اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتا ہے۔ اور اللہ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو نماز کے لیے اٹھتی ہے اور اپنے شوہر کو بھی نماز کے لیے جگاتی ہے؛ اگر وہ انکار کرے تو وہ اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتی ہے"۔۔۔

اختتامی کلمات

زندگی کے طویل سفر میں ہم انسانوں کو کم از کم ایک ساتھی، ہمدم، غمگسار اور رازداں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور کاروانِ حیات میں جیون ساتھی کی شمولیت اس کو ازدواجی سفر میں بدل دیتا ہے۔ ازدواج کا سفر خاندان کی اکائی کے طور پر تمام معاشروں میں بنیادی ڈھانچہ ہوتا ہے۔ اور اسی کے ذریعہ قدریں پرورش پاتیں ہیں اور آئندہ نسلوں میں منتقل ہوتیں ہیں۔

عہدِ ازدواج کو تجدید کی ضرورت ہوتی ہے جو باہم مسلسل رابطہ وگفتگو یعنی کمیونیکیشن سے ممکن ہوتا ہے۔ شریک حیات کو جاننا اور مسلسل دریافت کرنا جذبوں کی تڑپ اور تسکین کا باعث ہوتا ہے۔ ایک توانا خاندان میں شوہر اور بیوی کا ایک دوسرے کے ساتھ جی بھر گفتگو کرنا اہم ہوتا ہے۔ ازدواج میں آسودگی اور یگانگت کوئی معجزہ نہیں ہوتا بلکہ ایک خوشگوار زندگی کا راستہ ایک دوسرے کو سننا، سمجھنا اور برداشت کرنے کا سفر ہے۔

خوشگوار ازدواجی زندگی کا دارومدار باہمی محبت، اعتماد اور اخلاص پر ہے. اس راستے کے اہم ستون باہمی احترام، بہترین مواصلات اور ایثار ہیں۔ اور آخرمیں یوں کہنا ضروری ہے کہ رشتہ ازدواج اللہ تعالی کی خاص مہربانی ہے اور اس عہدِ ازدواج میں تیسرا اللہ تعالی خود ہوتا ہے۔ یوں ایک خوشگوار صحتمند اور خوشحال خاندانی زندگی اللہ سبحان تعالی کی خاص مہربانی ہوتی ہے۔

More Posts