عارضی پن؛ ایک وہم خیال کے سوا کیا ہے؟
Storytelling is an important tool because it builds emotional connections, helps people remember information, and fosters empathy. This story in Urdu "عارضی پن؛ ایک وہم خیال کے سوا کیا ہے؟" revolves around an arrogant prince whom a wise sorcerer—using a magical white horse—caused to experience an entire lifetime within a span of just a few minutes of unconsciousness. Upon regaining consciousness, he realized that all the world's luxuries, wealth, and arrogance were merely a fleeting illusion and a deception—much like how worldly life is described in the Holy Quran as *Mata' al-Ghurur* (an illusory enjoyment).
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
عارضی پن؛ ایک وہم خیال کے سوا کیا ہے؟
کہتے ہیں کہ کہیں ایک خطہ زمین پہ ایک ملک تھا؛ جس پہ ایک عادل بادشاہ اور اسکی رحم دل ملکہ حکمران تھے؛ لیکن ان کا بیٹا—جو سلطنت کا ولی عہد بھی تھا—بچپن ہی سے ضدی، سنگ دل اور ظالم تھا۔ بادشاہ اور ملکہ اپنے شہزادے کی اس بات پر سخت پریشان تھے۔ انہوں نے اس کی اصلاح کے لیے بہت کوششیں کیں۔ پھر ان کو ایک دانا جادوگر کا پتہ لگا؛ چنانچہ انہوں نے اس جادوگر کو اپنے محل میں بلایا۔
جادوگر نے ان کی پریشانی سننے کے بعد پوچھا: "عالی جاہ! آپ کے بیٹے کو کس چیز کا سب سے زیادہ شوق ہے؟" بادشاہ نے جواب دیا کہ شہزادے کو صرف گھوڑوں سے لگاؤ ہے۔ جادوگر کو مسئلہ سمجھ آگیا تو محل کے باغ میں شہزادے سے ملنے پر راضی ہو گیا۔
اگلی صبح، وہ اپنے ساتھ ایک شاندار، سحر انگیز اور چمکتا ہوا سفید گھوڑا لے کر آیا۔
بادشاہ، ملکہ اور جادوگر باغ کے ایک کونے میں کھڑے ولی عہد شہزادے کے ردعمل کا انتظار کر رہے تھے۔ جیسے ہی شہزادے کی نظر اس شاندار سفید گھوڑے پر پڑی، اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ گھوڑا غیر معمولی طور پر خوبصورت تھا، اس کی یال ریشم کی طرح نرم اور چال میں ایک عجیب سی شاہانہ شان تھی۔ شہزادہ اسے حاصل کرنے کا شدید خواہش مند ہو گیا۔ شہزادہ لپک کر گھوڑے کے قریب پہنچا اور اس کی لگام تھام لی۔ اس نے گھوڑے کی قیمت پوچھے بغیر اسے لینے کی خواہش ظاہر کی۔ جادوگر نے آگے بڑھ کر جھکتے ہوئے کہا، "عالی جاہ! یہ گھوڑا صرف آپ کے لیے ہے۔ یہ ہوا سے زیادہ تیز دوڑتا ہے اور آپ کو آپ کی ہر پسندیدہ جگہ پر لے جا سکتا ہے۔ لیکن یاد رہے، اس کی پیٹھ پر بیٹھنے والے کو ہمیشہ نرم دلی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، ورنہ"۔۔۔۔
"ورنہ کیا؟" شہزادے نے جادوگر کی بات کاٹتے ہوئے مغرور لہجے میں کہا۔ "میں اس سلطنت کا ولی عہد ہوں، مجھے کسی کی نصیحت سننے کی ضرورت نہیں۔" جادوگر نے مسکرا کر کہا، "عالی جاہ! گھوڑا دینے سے پہلے میں صرف یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ آیا آپ ایسے طاقتور گھوڑے کی سواری کر سکتے ہیں یا نہیں؟"۔۔۔
شہزادے کے غرور کو جیسے چیلنج ملا۔ وہ جادوگر کی بات سنتے ہی فوراً اچھل کر گھوڑے پر سوار ہوا اور اسے تیزی سے دوڑا لے گیا۔ گھوڑا واقعی سحر انگیز تھا؛ وہ ہوا کی رفتار نہ صرف دوڑتا تھا بلکہ اُڑ جاتا بھی تھا؛ اسکی چھلانگ کوسوں میل کے برابر تھی۔ گھوڑا شہزادے کو پہاڑی راستوں اور اونچے پہاڑوں پر سے گزرتا ہوا کہیں دور لے گیا۔۔ شہزادہ اس کی رفتار کے سحر میں ایسا کھویا کہ اسے وقت اور سمت کا اندازہ ہی نہ رہا۔
شام تک شہزادہ بری طرح تھک چکا تھا اور اس دوران وہ اپنا راستہ بھی بالکل بھٹک گیا تھا۔ اس نے ادھر ادھر گھوڑا دوڑایا؛ یہاں وہاں دیکھا، دور دور تک اس کی سلطنت کا کوئی نشان نہ تھا۔ شہزادے کو احساس ہوا کہ اس کی سلطنت ایک محدود علاقہ تھا اور خدا کی زمین بہت وسیع ہے، اتنی وسیع کہ جب وہ تھک ہار کر ایک جگہ رکا تو اندھیرا ہو چکا تھا۔
اندھیرا بڑھنے پر اسے ایک معمولی سی جھونپڑی ملی جہاں ایک غریب لکڑ ہارا اپنی کم عمر بیٹی کے ساتھ رہتا تھا۔ شہزادے نے رعب جماتے ہوئے اپنی سلطنت اور ولی عہد ہونے کا ذکر کیا، لیکن وہ دونوں اس کی سلطنت کا نام نہ پہچان سکے۔ انہوں نے تو کبھی اس سلطنت کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ شہزادہ حیران تھا کہ کیا اس کی سلطنت اتنی غیر معمولی تھی؟ اس کے ذہن میں سوال ابھرا کہ اس دنیا کا اصل بادشاہ کون ہے؟
شہزادے نے کچھ عرصہ تک واپس جانے کا راستہ تلاش کیا، جنگلوں اور پہاڑوں کی خاک چھانی، مگر کچھ ہاتھ نہ آیا۔ ہر گزرتا دن اسے ایک سبق سکھاتا تھا اور اس کے ذہن سے محل اور شہزادگی کا نشہ اترتا رہا اور بالآخر، اس نے اپنی قسمت کو تسلیم کر لیا۔ محل کے عیش و آرام اور شاہی لباس کو بھول گیا، اب زندگی اپنی بقا کے معنوں میں ڈھل گئی چنانچہ وہ اسی لکڑہارے کے ساتھ جنگل سے گزر بسر کرنے لگا۔۔۔ کچھ عرصے بعد وہ عام انسان بن گیا تھا اور اس نے بھی لکڑیاں کاٹنا شروع کر دیں۔
وقت گزرتا گیا اور محل کا مغرور شہزادہ اب ایک عام محنتی انسان بن چکا تھا جس کا غرور مٹی میں مل چکا تھا۔ بالآخر، اسے لکڑ ہارے کی بیٹی سے محبت ہو گئی اور اس نے اس سے شادی کر لی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے ہاں دو خوبصورت بچے—ایک بیٹا اور ایک بیٹی—پیدا ہوئے۔ شہزادہ اب اپنی اس چھوٹی سی دنیا اور خاندان سے بے پناہ محبت کرتا تھا اور اپنی پرانی ظالم زندگی کو بالکل بھول چکا تھا۔
ایک دن، شہزادہ تالاب کے کنارے لکڑیاں کاٹ رہا تھا اور اس کے بچے قریب ہی کھیل رہے تھے کہ اچانک جھاڑیوں سے ایک خوفناک شیر نمودار ہوا۔ شہزادے نے دیکھا کہ شیر اس کے بچوں کا پیچھا کر رہا ہے۔ بچے خوفزدہ ہو کر اس کے پاس سے بھاگے اور جان بچانے کے لیے تالاب میں چھلانگ لگا دی۔ شیر بھی ان کے پیچھے تالاب میں اتر گیا۔ شہزادہ تڑپ کر تالاب کی طرف بڑھا، لیکن وہ دونوں بچے اور شیر کبھی واپس سطح پر نہ آئے۔
یہ ہولناک منظر دیکھ کر اس کی بیوی صدمے سے پاگل ہو گئی اور اس نے بھی چیختے چلاتے ہوئے بچوں کے پیچھے تالاب میں چھلانگ لگا دی۔ شہزادے نے اسے روکنے کی بہت کوشش کی، لیکن وہ بھی کبھی باہر نہ نکلی۔ ایک ہی پل میں شہزادے کی پوری دنیا اجڑ گئی۔ وہ نڈھال ہو گیا۔ اپنی محبت اور بچوں کو کھونے کے غم سے نڈھال ہو کر وہ وہیں زمین پر بے ہوش ہو گیا۔
کچھ دیر بعد، جب اس کی آنکھ کھلی، تو فضا بالکل بدلی ہوئی تھی۔ اس کے سر پر کوئی نرمی سے ہاتھ پھیر رہا تھا۔ اس نے چونک کر دیکھا تو اس کی ماں, یعنی ملکہ، وہاں بیٹھی اس کا سر اپنی گود میں تھامے ہوئے تھیں اور پاس ہی بادشاہ اور جادوگر کھڑے تھے۔ باغ کا وہی سفید گھوڑا بھی وہیں موجود تھا۔
ملکہ نے تشویش سے کہا، "گرمی کی وجہ سے تم کچھ منٹ کے لیے بے ہوش ہو گئے تھے بیٹا! آج دھوپ بہت تیز ہے۔"۔۔
شہزادہ حیران و پریشان رہ گیا اور اپنے کپڑے اور ہاتھ دیکھنے لگا۔ جس واقعے کو اس کے والدین "چند منٹ" کہہ رہے تھے، وہ دراصل اس کے لیے محنت، محبت، شادی، خاندان اور جدائی کے درد پر مشتمل ایک پوری زندگی تھی! برسوں کا طویل سفر سمٹ کر چند لمحوں میں بدل گیا تھا۔ شہزادے کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، لیکن اب ان میں غرور نہیں بلکہ ایک گہرا ٹھہراؤ تھا، کیونکہ وہ سمجھ گیا تھا کہ جادوگر نے اسے زندگی کا سب سے بڑا سبق سکھا دیا ہے اور اسے اپنے سوال کا جواب مل چکا تھا کہ زمین و آسمان کی اصل بادشاہی صرف ایک رب کی ہے۔
📌 حاصلِ کلام (کہانی کا سبق)
یہ کہانی ہمیں کائنات کی اس سب سے بڑی حقیقت سے روشناس کرواتی ہے جسے قرآنِ پاک نے جگہ جگہ انسان کو یاد دلایا ہے:۔
1. دنیا کا فریب اور ناپائیداری:۔
قرآنِ مجید کی سورہ آل عمران (آیت 185) میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:۔
"وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ"
(اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے)
جس طرح شہزادہ چند منٹوں کے خواب میں ایک پوری زندگی جی گیا، اسی طرح یہ دنیا انسان کے لیے ایک خوبصورت فریب اور وہم ہے۔ یہاں کا اقتدار، طاقت، مال اور حسن سب عارضی ہیں، جن پر غرور کرنا انسان کو اندھا کر دیتا ہے۔
2. وقت کا سمٹ جانا:۔
جب انسان اس دنیا سے رخصت ہوگا یا روزِ محشر بیدار ہوگا، تو اسے اپنی یہ طویل ترین زندگی بھی چند لمحوں کی مانند لگے گی۔ قرآنِ پاک کا پیغام ہے کہ اس دن انسان کا یہی گمان ہوگا کہ وہ دنیا میں صرف ایک شام یا ایک صبح ہی رہا تھا۔
3. اصحابِ کہف کی نشانی:۔
وقت کے اس سمٹ جانے اور دنیاوی زندگی کے عارضی پن کی سب سے بڑی مادی اور تاریخی گواہی اصحابِ کہف کا واقعہ ہے۔ جب وہ اللہ کے حکم سے 309 سال تک گہری نیند سو کر اٹھے، تو ان کا گمان بھی یہی تھا کہ:۔
"لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ"
(ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ہی ٹھہرے ہیں)
حقیقی حکمت:۔
زندگی کا اصل سبق صرف اتنا ہے کہ یہ دنیا ناپائیدار اور فانی ہے اور خود انسان محض ایک مسافر ہے۔ لیکن انسان کو جب تک اس دنیا کی ناپائیداری، اپنی محدودیت اور وقت کے سمٹ جانے کا احساس نہیں ہوتا، وہ ظلم اور تکبر میں مبتلا رہتا ہے۔ اس زمین پہ اصل بادشاہی اللہ تعالیٰ کو سزاوار ہے اور خدا کے بندوں کے اندر سے غرور ختم ہو جاتا ہے۔ حقیقت سے آشنا ہو کر انسان پہ حقیقی حکمت، رحم دلی اور ہمدردی کے دروازے کھلتے ہیں اور پھر انسان زندگی کے اصل مفہوم تک پہنچتا ہے۔
معزز قارئین؛ اپنی زندگی پہ نظر ڈالیے۔۔ کہیں ہم اس شہزادے کی زندگی تو نہیں گزار رہے؟ یہ یاد رکھیں کہ کل روزِ قیامت آنکھ کھلے تو حقیقت خوفناک نہ ہو؛ ابھی بھی وقت ہے کہ رجوع کر لیا جائے اور اللہ تعالیٰ کی بندگی اس طرح کریں جیسا کہ حق ہے۔۔