عالم اسلام میں فکری؛ عقلی اور اخلاقی انحطاط
Muslim nations are in a turmoil for last 200 years and there are many reasons given by so called experts. Pakistan; a leading Muslim country came into being on the basis of "Two Nation Theory". However, the country has not traveled on the way to make Pakistan an Islamic welfare state as per the aspirations of the founding fathers. This write up in Urdu "عالم اسلام میں فکری؛ عقلی اور اخلاقی انحطاط" has been written to indicate the way forward in light of Iqbal's poetry and sunnah of Prophet Muhammad (PBUH).
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
عالم اسلام میں فکری؛ عقلی اور اخلاقی انحطاط
علامہ محمد اقبالؒ مملکتِ خداداد پاکستان کے قومی شاعر ہیں اور انہیں حکیم الامت ؛ شاعرِ مشرق؛ مصور و مفکر پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ اور اسکی وجہ انکی شاعری اور سیاسی پس منظر ہے۔ اقبال کی شاعری صرف شاعری نہیں تھی بلکہ ایک مکمل فلسفہ تھا جس نے ہندوستان میں بسنے والی مسلمان نئی نسل میں انقلابی روح پھونکی اور انکو عظمت رفتہ کی اہمت سے روشناس کیا۔
یہ مضمون علامہ محمد اقبالؒ کی کتاب ضربِ کلیم کی ایک نظم "ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام" کے حوالے سے مرتب کیا گیا ہے۔ یہ نظم تقریبا" ایک سو سال قبل لکھی گئی تھی۔ اس وقت ہندوستان سمیت تقریبا" سارا عالم اسلام ہی نوآبادیاتی غلامی کا شکار تھی۔ اس نظم سے یہ واضع ہوتا ہے کہ علامہ محمد اقبالؒ کی شاعری اک مخصوص نظام فکر سے روشنی حاصل کرتی ہے، جو انھوں نے مشرق و مغرب کے سیاسی، تہذیبی، معاشرتی اور روحانی حالات کا گہرا مشاہدہ کرنے کے بعد مرتب کیا تھا اور محسوس کیا تھا کہ اعلیٰ انسانی قدروں کا زوال دونوں جگہ مختلف انداز میں انسانیت کو جکڑے ہوئے ہے۔
علامہ محمد اقبالؒ نے مسلم دنیا کی فکری؛ عقلی اور اخلاقی انحطاط کو جانچ لیا تھا؛ اور مسلم عظمتِ رفتہ کی نشاطِ ثانیہ کے لیے مضطرب تھے۔ اس زوال سے ابھرنے کے لیے نسخہ تجویز کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ " اقوام مشرق کو یہ محسوس کر لینا چاہئے کہ زندگی اپنی حویلی میں کسی قسم کا انقلاب نہیں پیدا کر سکتی جب تک اس کی اندرونی گہرائیوں میں انقلاب نہ پیدا ہو اور کوئی نئی دنیا اک خارجی وجود نہیں حاصل کر سکتی، جب تک اس کا وجود انسانوں کے ضمیر میں متشکّل نہ ہو"۔
علامہ محمد اقبالؒ کے فلسفے اور شاعری نے ہندوستان کے مسلمانوں کو بیدار کیا اور ان کی مشکلات پر قابو پانے کے لیے رہنمائی فراہم کی. علامہ اقبال مصور پاکستان کہلائے کیونکہ انہوں نے ہند کے مسلمانوں کے لیے سرزمینِ ہندوستان کے شمال مغرب میں آزاد وطن کا جواز پیش کیا۔ اور یہ اعجاز اور اعزاز اللہ تعالی نے قائدِ اعظم محمد علی جناح کو عطا کیا کہ انکی بےلوث قیادت میں پاکستان قائم ہوا اور وہ بابائے قوم کہلائے۔
پاکستان قائم ہوا تو اس کی بنیاد ایک تصور؛ ایک فلسفہ اور ایک نظریہ بنا؛ جسے وقت نے دو قومی نظریہ کا نام دیا جو آسان الفاظ میں یوں بیان کیا جاتا ہے کہ " پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ"۔ لیکن ظلم یہ ہوا کہ ملک قائم ہوگیا؛ آزادی مل گئی؛ مگر ہم آزاد قوم نہیں بن سکے۔ ہماری روح آزاد نہیں ہوسکی اور ہم پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست نہیں بناسکے ہیں۔ اور ستم بالائے ستم ہم آج بھی مغربی تہذیب کی فکری اور عقلی غلامی کا شکار ہیں۔
ضربِ کلیم میں شامل یہ نظم "ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام" اگرچہ علامہ اقبال نے ایک فلسفہ زدہ سیّد زادے کے نام اُس کے خیالات کی اصلاح کے لیے لکھی تھی۔ [ فلسفہ زدہ اُس شخص کو کہتے ہیں جو وحی کے مقابلہ میں عقلِ انسانی کی برتری کا قائل ہو ]۔ لیکن یہ معاملہ صرف اس سید زادے تک محدود نہیں تھا۔ اس زمانہ کے تقریبا" سارے ہی مسلمان جو انگریزی نظام تعلیم سے بہرامند ہوئے تھے، متاثر تھے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس وقت کے مسلمان جو مغربی فلسفہ کی مرعوبیت کا شکار تھے؛ اس نظم سے سبق حاصل کرتے؛ مگر ایسا ہوا نہیں؛ بلکہ اس نے ایک بیماری کی شکل بنا لی جس نے کسی آشوب کی طرح پھیلاو کیا اور نتیجتا" آج آزادی کے اٹھتر78 سال بعد بھی؛ فکری؛ عقلی اور اخلاقی انحطاط ایک طاعون کی طرح پھیلا ہوا ہے۔
علامہ محمد اقبالؒ سے ایک سید زادے نے فلسفیانہ موضوع پر گفتگو کے دوران یورپ کے بعض فلاسفہ کے افکار پر دلیلیں بیان کیں تھیں۔ اقبال نے اس گفتگو کے اثر کے تحت اس کے لیے خصوصاً اور دوسرے فرنگی فلسفیوں کے اثرات قبول کرنے والوں کے لیے عموماً یہ نظم لکھی تھی؛ تو آئیے اس نظم کو پرھتے ہیں:-۔
علامہ محمد اقبالؒ کی کتاب ضربِ کلیم : نظم "ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام"۔
تو اپني خودي اگر نہ کھوتا
زناري برگساں نہ ہوتا
ہيگل کا صدف گہر سے خالي
ہے اس کا طلسم سب خيالي
محکم کيسے ہو زندگاني
کس طرح خودي ہو لازماني!
آدم کو ثبات کي طلب ہے
دستور حيات کي طلب ہے
دنيا کي عشا ہو جس سے اشراق
مومن کي اذاں ندائے آفاق
ميں اصل کا خاص سومناتي
آبا مرے لاتي و مناتي
تو سيد ہاشمي کي اولاد
ميري کف خاک برہمن زاد
ہے فلسفہ ميرے آب و گل ميں
پوشيدہ ہے ريشہ ہائے دل ميں
اقبال اگرچہ بے ہنر ہے
اس کي رگ رگ سے باخبر ہے
شعلہ ہے ترے جنوں کا بے سوز
سن مجھ سے يہ نکتہ دل افروز
انجام خرد ہے بے حضوري
ہے فلسفہ زندگي سے دوري
افکار کے نغمہ ہائے بے صوت
ہيں ذوق عمل کے واسطے موت
ديں مسلک زندگي کي تقويم
ديں سر محمد و براہيم
''دل در سخن محمدي بند
اے پور علي ز بو علي چند!۔
چوں ديدہ راہ بيں نداري
قايد قرشي بہ از بخاري ''
پہلے ذیل میں ان اشعار کی آسان اور سادہ معنی سمجھ لیتے ہیں۔
اے سید زادے تو جو برگساں کے افکار کا قائل ہے اس کا سبب صرف اور صرف یہ ہے کہ تو خودی سے بیگانہ ہے ۔
تو ہیگل سے بھی متاثر ہے ۔ وہ تو افلاطونی باتیں زیادہ کرتا ہے اور شیروں کو گوسفندی سکھاتا ہے ۔ اس کا سیپ بھی موتی سے خالی ہے ۔ اس کا تجھ پر یونہی جادو چل چکا ہے ۔ تجھ پر اس کے خیالی جادو کا اثر ہو گیا ہے اس سے نکل آ ۔
اے نوجوان! تُو اپنے دین (اسلام) سے بیگانگی کے باعث اہنی خودی کو تباہ نہ کردیتا تو کبھی برگساںؔ جیسے حکمائے مغرب کے خیالاتِ باطلہ کا پیرو نہ ہوتا۔ تُو اپنی معرفت سے دُور رہا جس کے باعث فلسفہ دانوں کو اپنا رہنما سمجھتے ہوئے حق سے بھی اور اپنی اصلی حیثیت سے بھی دُور ہوگیا۔ یہاں خودی سے اسلامی زندگی مراد ہے اور برگساں سے مغربی حکماء کی جماعت مراد ہے۔
اصل بات یہ سمجھنے کی ہے کہ آدمی کی زندگی مضبوط کیسے بنے اور اس کی خودی زمانے کی حدود و قیود سے آزاد کیسے ہو ۔ ان باتوں کا جواب نہ برگساں کے پاس ہے اور نہ ہیگل کے پاس ۔ تو کیوں ان کے جادو میں اسیر ہے ۔ ان کے اثرات زائل کر کے خود کو پہچان.
جس فلسفی (ہیگلؔ) کا تُو پیروکار ہے اُس کی سیپی میں کوئی موتی نہیں، اس کے فلسفے کا تمام جادو خیال پر مبنی ہے۔ حقائق سے کوئی رشتہ نہیں رکھتا۔ اس نے جو خیالات ظاہر کیے ہیں اُن کی حقیقت طلسم سے زیادہ نہیں۔ اس کا فلسفہ بظاہر بہت عظیم الشان نظر آتا ہے لیکن جب اس کے خیالات کا تجزیہ کرتے ہیں تو کچھ پلے نہیں پڑتا۔ گویا کیا برگساںؔ اور کیا ہیگلؔ، بڑے بڑے فلسفہ دانوں نے جو کچھ انسانیت کے لیے کیا ہے، وہ محض بے فائدہ اور بیکار ہے۔ اُنہوں نے انسانوں کو حق کی طرف لانے اور اُن کی بقا کا سامان کرنے کی بجائے مادیات ہی کی طرف متوجہ رکھا، لہذا اُن کی تصانیف میں دلچسپی لینا اپنی حقیقت و حیثیت سے ہاتھ دھونا ہے۔
ہیگلؔ، برگسانؔ اور دوسرے فلسفی زور ازکار باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن اس سوال کا ان کے پاس کوئی جواب ہے نہ حل کہ زندگی کس طرح مستحکم ہوسکتی ہے۔
مثلاً کانٹ کہتا ہے کہ کائنات کا وجود حقیقی ہے۔۔ اس کے مقابلہ میں ہیگلؔ کہتا ہے کہ غیر حقیقی ہے۔ یہ اور اسی قسم کے صدہا فلسفیانہ مسائل ذہنی دلچسپی کا سامان تو بہم پہنچا سکتے ہیں لیکن ان مسائل سے حیاتِ انسانی مستحکم نہیں ہوسکتی۔ اسی لیے اسلام نے ہمیں ان مسائل میں الجھانے کی بجائے زندگی کو محکم کرنے کے طریقے بتائے ہیں۔
آدمی تو چاہتا ہے کہ اسے استحکام نصیب ہو ۔ اسے زندگی کا ایک ایسا طریقہ یا دستور العمل ہاتھ آئے جس سے اس کی زندگی صحیح طور پر بسر ہو ۔ تیری اس طلب کو یہ فلسفی پورا نہیں کر سکتے ۔ اسے اسلام اور قرآن پورا کر سکتے ہیں ۔
ان
سان کو جس بات کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ اسے اثبات کسیے حاصل ہو نیز وہ زندگی بسر کرنے کا بہترین نظام چاہتا ہے۔ جن مسائل میں حکماء منہمک رہتے ہیں۔ مثلاً زمانہ موجود ہے یا معدوم ہے؟ اور حقیقی ہے یا غیر حقیقی ہے؟ ان سے ہمارے تمدنی، اقتصادی، معاشی، سیاسی، عمرانی مسائل نہیں ہوسکتے۔
اس کی مثال یوں سمجھیے کہ ایک شخص بھوکا ہے۔ وہ آپ کے پاس آکر روٹی کا طالب ہوا۔ آپ نے اس سے کہا کہ تو صرف روٹی کے طالب ہو۔ میں تم کو یہ بتا سکتا ہوں کہ گیہوں کے عناصرِ ترکیبی کیا ہیں۔ چنانچہ آپ نے پہلے گیہوں کے اجزاء کی تشریح کی۔ پھر علمِ نباتات پر لیکچر دیا۔ اور اس کے بعد یہ بتایا کہ روٹی جب معدہ میں جاتی ہے تو اس کا نشاستہ مٹھاس میں کس طرح تبدیل ہوجاتا ہے اور جگر کیا فعل کرتا ہے۔ پھر اس سے اخلاطِ اربعہ بنتے ہیں و غیر ذالک۔
\و سوال یہ ہے کہ کیا آپ کی تقریر سے اس کی بھوک کا مسئلہ حل ہوگیا؟ کیا اس کا خالی پیٹ بھر گیاَ؟ اب پڑھیے اس شعر کو:-
؎ آدم کو ثبات کی طلب ہے
دستُورِ حیات کی طلب ہے
اس عمل سے دنیا کی تاریکی جھٹ کر روشنی پیدا ہو سکتی ہے وہ ان فلسفیوں کے افکار میں نہیں بلکہ مومن کہ ہمہ گیر اور عالمگیر اذان کی آواز میں ہے جس میں اللہ کی توحید اور نبی کریمﷺ کی رسالت کا ذکر ہے ۔
علامہ محمد اقبالؒ کے باپ دادا چونکہ کشمیری برہمن تھے اس شعر میں علامہ نے فرمایا ہے کہ میں اصل کا برہمنوں کے خاندان سے تعلق رکھتا ہوں ۔ میرے باپ دادا کا سومنات کے ہندو اور لات اور منات جیسے بت پوجنے والوں سے واسطہ رہا ہے اس کے باوجود میں مسلمانی طور طریقے، اسلام کے دستور اور نبی ﷺ کے افکار کو بلند کرتا ہوں ۔ لیکن تو مسلمانوں کے گھر پیدا ہو کر غیر مسلموں کے خیالات رکھتا ہے ۔
اے سید زادے تُو تو نبی کریم ﷺ کے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور میرا بدن برہمنوں کے گھر پیدا ہوا ہے۔ میں تو اس برگساں اور ہیگل سے متاثر نہیں لیکن تو ہاشمی ہوتے ہوئے ان سے متاثر ہے ۔ فلسفہ سے میں بھی واقف ہوں لیکن مجھے فلسفہ کی حقیقت کا اور اس کی اچھائی برائی کا پتہ ہے ۔ برہمن زادہ ہو کر میں تو یہ سب کچھ جانتا ہوں لیکن ہاشم زادہ ہو کر حیرت ہے تو ا س سے ناواقف ہے ۔
میں فلسفہ سے ناواقف نہیں ہوں ۔ یہ میرے جسم میں سمایا ہوا ہے ۔ میرے دل کی رگوں میں بسا ہوا ہے لیکن میں تو اس کی اچھائی اور برائی سے واقف ہوں لیکن تو واقف نہیں ہے ۔ افسوس ہے تجھ پر جو فلسفہ کی برائی کو اپنائے ہوئے ہے ۔
اقبال یہاں کسر نفسی سے کام لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں ا گرچہ کوئی ہنر نہیں جانتا لیکن فلسفہ کی رگ رگ سے ضرور واقف ہوں ۔ میں جانتا ہوں کہ یہ آدمی کو اصلیت اور حقائق سے دور لے جاتا ہے اور اس کی خودی کی نفی کرتا ہے ۔
اے نوجوان! جس بات سے دنیا کی تاریکی دور ہوسکتی ہے یعنی انسانی مشکلات کا خاتمہ ہوسکتا ہے وہ فلسفہ نہیں ہے (کہ وہ محض ظن و تخمین کا نام ہے) بلکہ مومن کی اذان یعنی نکتۂ توحید ہے یعنی ایسا دستورِ حیات جس سے دُنیا کی تاریکی اُجالے میں بدل جائے اور وہ صرف مومن کی پکار میں مضمر ہے، وہ پکار جو ساری دنیا کی آواز بن جائے یعنی جسے کائنات تسلیم کرلے۔
انجامِ خِرد ہے بے حضوری؟ یعنی عقل کی بھاگ دوڑ خدا کی بارگاہ تک رسائی حاصل نہیں کرسکتی۔ اللہ کے علوم جاننے کے لیے قلب کی بیداری شرط ہے۔ کیونکہ فلسفہ انسان کو زندگی سے دُور لے جاتا ہے۔۔ فلسفے کا تعلق صرف عقل سے ہے، دِل سے نہیں۔۔ جبکہ دِل عقل پر غالب ہے۔ دِل کی منزل تک عقل نہیں پہنچ سکتی، وہ تو چار قدم تھک کر بیٹھ جاتی ہے۔ عقل میں کھوئے ہوئے انسان ایمان و یقین کی دولت سے محروم رہتے ہیں اور فلسفیوں کی مختلف مسائل سے متعلق بحثیں زندگی کی حقیقتوں سے بہت دور اور بے جا قسم کی ہوتی ہیں۔
اے فلسفہ زادہ! تیرے جنون عشق کا شعلہ تپش نہیں رکھتا کیونکہ تیرا جنون ، عشق پر نہیں عقل پر اعتقاد کیے ہوئے ہے ۔ آ میں تجھے دل کو عشق سے روشن کرنے والی باریک بات بتاؤں ۔
عقل اور فلسفہ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ تجھ کو زندگی کی حقیقتوں سے دور کر دیتا ہے ۔ اس کا انجام حضوری یعنی انجام تک رسائی نہیں بلکہ اس سے دوری ہے ۔
فلسفہ کے افکار کو یوں سمجھیں جیسے کہ وہ ایسے نغمے ہوں جن میں کوئی آواز نہیں ۔ یہ زندگی کو عمل نہیں بے عملی سکھاتے ہیں ۔ انسان میں جو عمل کچھ کرنے کا اور حقیقت تک پہنچنے کا ذوق ہوتا ہے اس کو یہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیتے ہیں ۔
اے فلسفہ زدہ سید زندگی کی جنتری زندگی گزارنے کا نظام الاوقات فلسفہ نہیں ہے دین اسلام ہے ۔ یہ آخری نبی حضرت محمد ﷺ اور حضرت ابراہیم کا بھید ہے ۔ فلسفہ کو چھوڑ اور اس بھید کو سمجھ، تاکہ زندگی کی حقیقت ہاتھ آئے ۔
ا
پنا دل محمدﷺ کے کلام سے لگا ۔ تو تو علی کا بیٹا ہے کب تک بو علی سینا کے فلسفے سے متاثر رہے گا ۔ یعنی اے سید فلسفہ زدہ تو تو حضرت علی کی اولاد میں سے ہے ۔ تو حضرت علی کا پیرو کار بن بو علی جیسے فلسفی کے پیچھے کیوں چلتا ہے ۔ کب تک تو اس عمل کو اپنائے رکھے گا اپنا دل اسلام کے پیغمبر، حضرت محمد مصطفیﷺ کی باتوں میں لگا ۔ جو کچھ انھوں نے حدیث میں کہا ہے یا جو کچھ ان پر نازل شدہ آسمانی کتاب قرآن میں آیا ہے اس پر عمل کر ۔
اے
شخص جب تو راستہ دیکھنے والی آنکھ نہیں رکھتا تو تیرے لیے یہ بہتر ہے کہ تو قرشی (حضرت محمد مصطفی ﷺ) کو اپنا قائد بنا لے اور بخاری (بو علی فلسفی) کو چھوڑ دے ۔ ہاں اگر تجھے میری طرح زندگی کے راستے کا پوری طرح علم ہو جائے اور فلسفہ کی اونچ نیچ کا پتہ چل جائے تو پھر بو علی سینا کو پڑھنا نقصان دہ نہ ہو گا کیونکہ تجھے علم ہو جائے گا کہ عقل نے کہاں ڈنڈی ماری ہے ۔
آخر
میں علامہ محمد اقبالؒ اس نوجوان کو واسطے سے مسلمان نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ اگر “دیدۂ راہ بیں” حاصل نہ ہو یعنی اگر تمہیں اسلامی علوم سے آگاہی نہ ہو تو پھر تمہارے لیے محفوظ راستہ یہ ہے کہ تم بخاری کی بجائے قرشی کو اپنا رہنما بناؤ۔ بخاری کے لغوی معنی ہیں بخارا کا رہنے والا، مرادی معنی ہیں بو علی بن سینا کیونکہ وہ مدتوں امیرِ بخارا کا طبیب رہا ۔ قرشی کے لغوی معنی ہیں قبیلہ قریش سے تعلق رکھنے والا، مرادی معنی ہیں دینِ اسلام کا جاننے والا۔۔
یعنی جب تُو راستہ دیکھنے والی آنکھ سے محروم ہے تو اس صورت میں تیرے لیے یہی بہتر ہے کہ تُو بو علی سینا کی بجائے حضور اکرم ﷺ کو اپنا رہنما بنا لے تاکہ تُو صحیح معنوں میں ایک مردِ مومن بن سکے۔
ںظم سے حاصل سبق
یہ بڑی سبق آموز نظم ہے اور اس میں علامہ محمد اقبالؒ نے دین اور فلسفہ دونوں کا بہت عمدگی کے ساتھ موازنہ کیا ہے اور اس ضمن میں اپنا زاویہ نگاہ بھی واضح کردیا ہے۔ علامہ محمد اقبالؒ نے پہلی جنگِ عظیم دیکھ لی تھی اور دوسری جنگِ عظیم کی ابتداء سے ذرا قبل رحلت فرما گئے تھے۔ چنانچہ ایک ایسی مکر و فریب کی تہزیب کی پیدائش کا مشاہدہ یقینا" کرلیا تھا جس نے اس دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینا تھا۔ اس تہذیب کی فکری پس ماندگی اور مادیت پرستی کو علامہ محمد اقبالؒ نے سمجھ لیا تھا؛ اور وہ جانتے تھے کہ مسلم قوم کا زوال جہاں فکری مغالطہ بنے گا وہاں مادیت پرستی مسلم تہذیب کو کھوکھلا کردی گی۔ چنانچہ علامہ اقبال نے نشاندہی کردی اور واضع پیغام ایسے دیا کہ
سبب کچھ اور ہے، تُو خود کو سمجھتا ہے زوال
زوالِ بندۂ مومن کا، بے زری سے نہیں
مندرجہ بالا شعر علامہ محمد اقبالؒ کی کتاب "ضربِ کلیم" کی نظم "مسلمان کا زوال" کا حصہ ہے؛ جس میں وہ مسلمان کو اس کی حقیقی قدر و منزلت یاد دلاتے ہیں۔
علامہ اقبال اس شعر میں قومِ مسلم کی زوال پذیری کا اصل سبب دولت کی کمی نہیں بلکہ اس کی فکر، یقین اور خودی کی کمزوری ہے۔ جہادِ زندگانی میں مسلم کا اصل سرمایہ ایمان، بلند کردار، غیرت اور جہدِ مسلسل ہے۔
"سبب کچھ اور ہے، تُو خود کو سمجھتا ہے زوال"
اقبال اس مصرعے میں مسلمانوں سے مخاطب ہیں جو اپنے پستی اور تنزلی کو دولت، طاقت یا مادی وسائل کی کمی کی وجہ سمجھتے ہیں۔ وہ انہیں یہ بتاتے ہیں کہ تمہاری موجودہ حالت کی وجہ یہ نہیں ہے جو تم سمجھ رہے ہو۔ تمہارا اصل مسئلہ کچھ اور ہے۔
"زوالِ بندۂ مومن کا، بے زری سے نہیں"
دوسرے مصرعے میں اقبال اس اصل وجہ کو واضح کرتے ہیں۔ "بے زری" کا مطلب ہے غربت یا دولت کی کمی۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ ایک سچے مسلم کا زوال اس کی غربت یا مال و دولت کی کمی کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ مسلم کی طاقت اور کامیابی کا راز اس کے ایمان، کردار، اور اخلاقی قوت میں پوشیدہ ہوتا ہے، نہ کہ اس کے پاس موجود مادی وسائل میں۔ اس شعر کا مکمل مفہوم یہ ہے کہ مسلمان قوم کا زوال اس لیے نہیں ہوا کہ وہ مالی طور پر کمزور ہو گئی ہے، بلکہ یہ زوال اس لیے آیا ہے کہ اس نے اپنے ایمان، روحانیت، اور اخلاقی اقدار کو چھوڑ دیا ہے۔
تاجِ برطانیہ نے جب ہندوستان کو چھوڑا تو ایک مضبوط طوقِ غلامی پہناکے گیا تھا۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ آج بھی پاکستان؛ بنگلہ دیش اور بھارت سب ہی مغربی تہذیب کو سجدہ ریز ہیں اور اس کی وجہ انگریز کا چھوڑا ہوا؛ مسلط تعلیمی نظام؛ قانون اور انصاف کا نظام؛ بابو شاہی کا انتظامی جکڑبند اور کاروبار اور صنعت کا نظام؛ سب ہی تاجِ برطانیہ کا بنایا ہوا ہے۔ بھارت کیا کرتا ہے؛ شاید مسلم تہذیب کا مسئلہ نہیں مگر کیا ایک ایسا ملک جس کی بنیاد الہی حاکمیتِ اعلی اور نظام مصطفیﷺ کا قیام ہو؛ اس غلامی کے حالات میں کامیابی کا سفر جاری رکھ سکتا ہے؟ علامہ محمد اقبالؒ نے کتنی خوبصورتی سے اپنی کتاب "رموز بےخودی" کی نظم "عرض حال مصنف با حضور رحمتہ للعالمین" میں فرمادیا کہ "مسلمان رسول اللہ ﷺ کی تعلیم سے بے بہرہ ہو گیا؛ یہ حرم پاک پھر بت خانہ بن گیا "۔
مسلم از سر نبی بیگانہ شد
باز ایں بیت الحرم بتخانہ شد
علامہ محمد اقبالؒ کہتے ہیں کہ جب مسلمان رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ اور تعلیماتِ نبوی سے بیگانہ اور غافل ہو گیا تو اس کی روحانی بنیادیں کمزور ہوگئیں۔ نبی کریم ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم ہی دراصل ایمان کی اصل اور توحید کا سرچشمہ ہے۔ اگر مسلمان اس سرچشمے سے رُوگردانی کرے تو اس کی عبادت محض ظاہری رسومات کا مجموعہ بن جاتی ہے، جس میں اخلاص اور روحانی حرارت باقی نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال فرماتے ہیں کہ اگرچہ بیت اللہ اپنی جگہ موجود ہے، مگر جب اس کے زائرین نبی ﷺ کی سنت اور تعلیمات سے دور ہو جائیں تو وہی مرکزِ توحید، بت خانہ کی مانند ہو جاتا ہے۔ یہاں "بت خانہ" سے مراد وہ حالت ہے جب دل و نگاہ اللہ کی طرف متوجہ نہ ہوں اور عبادت محض جسمانی حرکات و سکنات تک محدود ہو جائے۔ یوں ظاہر کی تعمیر باقی رہتی ہے مگر باطن کی روح فنا ہوجاتی ہے۔ علامہ محمد اقبالؒ اس شعر کے ذریعے جھنجھوڑ رہے ہیں کہ اصل اسلام ظاہری عبادات میں نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی سیرت اور تعلیمات کو زندگی کے ہر شعبے میں اپنانے میں ہے۔ جی ہاں؛ زندگی کے ہر شعبہ حیات میں لازم کرلیں۔
NOTE: یہ تحریر آزاد ویب نیٹ پر موجود مختلف ذرائع سے دستیاب مواد کی مدد سے مرتب کی گئی
اختتامی کلمات
عالم اسلام میں فکری؛ عقلی اور اخلاقی انحطاط کی وجہ امتِ مسلمہ کا مغربی تہذیب کے آگے سجدہ ریز ہونا ہے۔ اور مادیت پرستی میں ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرنے کا چلن ہے۔ مسلم دنیا کو اس زوال سے ابھرنا ہے تو مغرب کی غلامی سے آزاد ہونا ہوگا۔ کیونکہ مغربی تہذیب اس دنیا کو جنت کے فوائد کی آمجگاہ بنانے پر تلی ہوئی ہے جب کہ قرآن بتاتا ہے کہ یہ زندگی محض کھیل تماشہ ہے اور اصل زندگی تو جنت کی زندگی ہے۔
اللہ سبحان تعالی نے ﴿سورۃ النساء ،آیت ۱۱۵﴾ میں فرمایا ہے کہ
اور جو شخص اپنے سامنے ہدایت واضح ہونے کے بعد بھی رسول (ﷺ)کی مخالفت کرے، اور مؤمنوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرے، اس کو ہم اسی راہ کے حوالے کردیں گے جو اس نے خود اپنائی ہے، اور اسے دوزخ میں جھونکیں گے، اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے"۔ قرآن حکیم کی اس صاف اور سادہ اصول اور ہدایت کے بعد اور کیا بیان کیا جائے کہ ہم سمجھ لیں؛ اور سدھر جائیں۔ "وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ" ؛ "اور ہم پر صاف صاف پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں"۔